Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست دائر

    سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست دائر

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نوازکھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ کے سیکشن 2،2کے مطابق فل کورٹ تشکیل کا فیصلہ قانون کےمطابق ہے، رجسٹرار یا کوئی اور اتھارٹی کمیٹی کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتی،درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ کمیٹی کے فیصلے پرچیف جسٹس کی وضاحت عملدرآمد نہ کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی، ایکٹ میں ہونے والی ترامیم آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتیں،درخواست میں پریکٹس اینڈپروسیجر کمیٹی کے 31 اکتوبر کے اکثریتی فیصلے پر عملدرآمد کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے سے متعلق انتظامی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی نے 31اکتوبرکو 26 ویں آئینی ترامیم پرفل کورٹ تشکیل دینےکافیصلہ کیا تھا۔

  • وزیراعظم سے چینی وزیر برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملاقات

    وزیراعظم سے چینی وزیر برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چین کے وزیر صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی لی لیچینگ نے آج بیجنگ میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے چین کے ساتھ صنعت، زراعت، تجارت، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور معدنیات میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے پاکستان کے وژن کا اعادہ کیا۔ انہوں نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کا مرکزی ستون قرار دیا اور اس کے فیز II میں اس کی مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کو سراہتے ہوئے وزیر لی نے اس بات پر زور دیا کہ چین پاکستان کو ایک آہنی بھائی اور آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنر سمجھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو تعاون اور اشتراک کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے چین کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

  • پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اورمؤثرملٹری ڈپلومیسی عالمی افق پرکامیابیوں کی نوید

    پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اورمؤثرملٹری ڈپلومیسی عالمی افق پرکامیابیوں کی نوید

    عالمی منظر نامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ منظرعام پر آ گئی

    بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق ’’امریکی ترجیحات میں تبدیلی آئی اور اس کاجھکاؤبھارت کی بجائے پاکستان کی جانب واضح ہے‘‘ پاکستان امریکا کے لیے جنوبی ایشیاو مشرقِ وسطیٰ میں اہم کردارکاحامل ہے، حالیہ پاک بھارت تنازعہ نے بھی امریکہ کے اندازے عسکری طاقت کے حوالےسےیکسر بدل دیے ہیں، بدلتےحالات کے پیش نظربھارت کیلئےنیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کا کرداربھی ادا کرنامشکل نظر آرہا ہے،امریکہ پاکستان تعلقات کے فروغ سے مشترکہ مفادات کی ہم آہنگی مزیدبہترہو گئی ہے، امریکااب بھارت کو جنوبی ایشیا میں متبادل شراکت دارکےطورپر نہیں دیکھ رہا ،امریکی ترجیحات میں تبدیلی بھارت کے لیے پریشانی کاباعث ہے ، گزشتہ کئی سالوں سے بھارت امریکی ترجیحات میں شامل تھا مگر اب وہ دورختم ہوچکاہے، پاکستان بھارت کےساتھ تعلقات بہترکرنے کے لیےآمادگی دکھاتارہا ہے، پاکستان کے مطابق بھارت نے امن کی پیش کش کاجواب ہمیشہ کشیدگی بڑھا کر دیا،بھارت نے بلوچستان میں خفیہ مداخلت بڑھائی اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ مہم چلائی، مئی 2025 میں پاک بھارت تنازعے نے ایٹمی تصادم کے خدشات کو بڑھا دیا، امریکہ نے پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کیا،

    بھارت کا مذاکرات سے مسلسل انکار امریکا کے ساتھ تعلقات میں مستقل بے یقینی اور بگاڑ پیدا کر رہا ہے،

  • لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا  گرفتار

    لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر دھمکیاں دینے والا گرفتار

    تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس کی دبنگ کاروائی، لڑکیوں کے کالج کے باہر راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا شخص اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا

    مدعی مقدمہ کے مطابق ایک شخص نےمیری بیٹی کا راستہ روک کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں،ڈی ایس پی تلہ گنگ یاسر مطلوب کیانی کی ہدایت پر ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نےواقعہ کا فوری مقدمہ درج کیا، ڈی ایس پی تلہ گنگ کی زیر نگرانی ملزم کی گرفتاری کے لئیے ایس ایچ او صدر تلہ گنگ راجہ عماد نے خصوصی ٹیم تشکیل دی، تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے مزکورہ شخص کو فوری اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا،ڈی پی او چکوال لیفٹیننٹ ریٹائرڈاحمد محی الدین کا کہنا ہے کہ بچوں اور خواتین کے حراساں کرنے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ،

  • خطے میں امن واستحکام، قطر کی پاکستان کے کردار کی تعریف

    خطے میں امن واستحکام، قطر کی پاکستان کے کردار کی تعریف

    قطر کی سول و عسکری قیادت کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے ذمے دارانہ کردار کو سراہا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت برائے دفاعی امور سے ملاقات کی، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے قطر کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل جاسم محمد سے بھی ملاقات کی۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے قطر کے سرکاری دورے پر ہائر ملٹری کوآپریشن کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں شرکت کی۔ قطر آرمڈ فورسز ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر جنرل ساحر شمشاد مرزا کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا کی قطر کی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں خطے کی بدلتی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ملاقاتوں میں علاقائی و عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا اور دفاعی و سکیورٹی شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر بات چیت کی گئی۔

    شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک قطر تاریخی برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا جبکہ قطری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کی تعریف کی۔

  • ایک سال میں چینی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ،کوئی جواب دینے والا؟شاہد خاقان عباسی

    ایک سال میں چینی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ،کوئی جواب دینے والا؟شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہوتیں، انہیں عوام کی نہیں اپنی جیب کی فکر ہوتی ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمت 200 کے قریب فی کلو تک چلی گئی، مارکیٹ کو انتظامی کوششوں سے چلانے والا وقت ختم ہوگیا،چینی کی قیمت میں ایک روپے اضافہ ہوتا ہے تو عوام کی جیب سے 7 ارب روپے جاتا ہے، چینی کی قیمت بڑھنے سے 3 سے 4 سو ارب روپے شوگر ملز مالکان کو ملے، شوگر ملز مالکان کو اضافی فائدہ پہنچایا گیا،کابینہ کی ایک شوگر مانیٹرنگ کمیٹی ہے، کم از کم 7، 8 کمیٹیاں ہیں جن کا کام ملک میں چینی کی قیمت کو کنٹرول کرنا ہے، اتنی کمیٹیوں کے باجود چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جب ملک میں چینی کی اتنی مقدار نہیں تھی تو ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی، آج بھی ایک ارب روپے یومیہ عوام کی جیب سے شوگر ملز مالکان کو جا رہا ہے، حکومت، پارلیمان اور چینی کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں ناکام ہیں،ہ آٹے کا معاملہ تو اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے، ملک میں گورننس کی یہ حالت ہے، ایک سال میں چینی کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، کوئی جواب دینے والا ہے؟ کم از کم غلطی تو مان لیں ناں.

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اب اجازت دی گئی کہ چینی امپورٹ کی جائے، چینی ایکسپورٹ پرائیویٹ سیکٹر کر رہا ہے، امپورٹ حکومت کر رہی ہے، حکومت نے چینی مارکیٹ سے زائد قیمتوں میں خریدی، حکومت نے انٹرنیشنل مارکیٹ سے بھی زائد قیمت میں چینی خریدی.حکومت نے چینی کی قیمت میں سیلز ٹیکس پر چھوٹ دے دی، حکومت نے اس چینی کو مارکیٹ میں نہیں آنے دیا۔ مشروبات اور دیگر فیکٹریوں کو یہ چینی خریدنے کے لیے مجبور کیا، مارکیٹ میں وہ امپورٹ شدہ چینی آتی تو عوام کا فائدہ ہوتا ہے، چینی کی درآمدات میں بھی چینی ملز مالکان کا خاص خیال رکھا گیا، چینی مل کے مالکان کو اس میں بھی ریلیف دیا گیا۔

  • بھارت نے اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کے لئے پہلگام ڈرامہ رچایا : تجزیہ کار

    بھارت نے اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کے لئے پہلگام ڈرامہ رچایا : تجزیہ کار

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور اس کے بعد آپریشن سندور کے پیچھے کارفرما بھارتی مذموم منصوبہ ایک تیزی سے بے نقاب ہو رہا ہے۔ بھارت پہلے سے ترتیب دیے گئے منصوبے کے تحت اب آپریشنل ضرورت کی آڑ میں اربوں ڈالر کی دفاعی خریداری کر رہا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے دانستہ طور پر پہلگام کا کھیل کھیلا تاکہ ایک طویل عرصے سے تیار اسلحہ خریداری کی سکیموں پر عملدرآمد کیا جاسکے۔ جرمن دفاعی کمپنی تھیسن کرپ میرین سسٹمز (ٹی کے ایم ایس) نے رواں ہفتے بھارتی فرم VEM ٹیکنالوجیز کے ساتھ بھارتی بحریہ کے لیے ہیوی ویٹ ٹارپیڈو کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بھی بھارت کا یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے اور وہ اب متعدد بین الاقوامی سپلائرز روس، فرانس، اسرائیل، برطانیہ اور اب جرمنی کے ساتھ اسلحہ خریداری کے معاہدے کر رہا ہے۔بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے "ڈرون جنگجووں” اور "ڈرون کمانڈوز” کو تربیت دینے کے لیے مدھیہ پردیش کے ٹیکن پور میں ڈرون وارفیئر سکول کا بھی قائم کیا ہے۔ بی ایس ایف کی قیادت نے واضح طور پر اس پروگرام کو آپریشن سندور سے جوڑا ہے اور ڈرونز کو پاکستان کے خلاف لڑائی میں فیصلہ کن کے طور پر پیش کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی اقدام سرحدی دفاع کے بارے میں کم جبکہ ڈرون جنگ کے حوالے سے زیادہ ہے۔درآمدات کی مطابقت پذیر رفتار – جرمن ٹارپیڈو ، فرانسیسی رافیل ، روسی جنگجو ، اسرائیلی ڈرون ، اور برطانوی پروپلشن سسٹم – ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک طویل مدتی خریداری کا روڈ میپ ہے۔

    مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اسلحہ خریدار ی میں بھارتی کی پھرتی اسکے مذموم ارادوں کا پتہ دیتی ہے ، بھارت آپریشن سندور کی شکست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ اپنے پڑوسیوں پر فوجی برتری ثابت کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

  • ملزم ہسپتال سے گرفتار، سپریم کورٹ کا پولیس پر اظہار برہمی

    ملزم ہسپتال سے گرفتار، سپریم کورٹ کا پولیس پر اظہار برہمی

    ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن شدہ مریض کو سوات پولیس کی جانب سے اسپتال سے گرفتار کرنے پر سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے مریض کی گرفتاری سے قبل اسپتال یا ڈاکٹر سے اجازت لی؟ کیا پولیس بستر پر موجود مریض کو ایسے گرفتار کر سکتی ہے؟ ملزم کا ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ملزم چل نہیں سکتا،جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے پی پولیس نے رپورٹ میں لکھا کہ ملزم آپریشن کے بعد صحتیاب نہیں تھا، ملزم برا انسان ہوگا لیکن اس کے کچھ حقوق بھی ہیں۔

    سرکاری وکیل نے کہا کہ آج کل تو آپریشن کے دوسرے دن مریض چلنے پھرنے لگ جاتا ہے،جس پر جسٹس شہزاد ملک نے وکیل سے کہا کہ وکیل صاحب ہر کوئی سلطان راہی نہیں ہوتا، ایسا فلموں میں ہوتا ہے جہاں گولیاں لگنے کے بعد بھی ہیرو اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے،عدالت نے درخواست ضمانت پر ملزم کی فرانزک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔

  • بھارت میں امریکی محصولات کے دباؤ کے پیش نظر جی ایس ٹی میں بڑی کمی

    بھارت میں امریکی محصولات کے دباؤ کے پیش نظر جی ایس ٹی میں بڑی کمی

    نئی دہلی: بھارت نے معاشی دباؤ اور امریکی محصولات کے منفی اثرات کے پیش نظر مختلف گھریلو مصنوعات پر ٹیکسز میں نمایاں کمی کر دی ہے۔

    بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گھریلو سطح پر استعمال ہونے والی متعدد اشیاء پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد داخلی معیشت کو سہارا دینا اور گھریلو طلب میں اضافہ کرنا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے صابن، ضروری گھریلو سامان اور چھوٹی گاڑیوں سمیت کئی اشیاء پر ٹیکس کم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے بھارت سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے، جس کے باعث بھارتی برآمدات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔رپورٹس کے مطابق نئی ٹیکس اصلاحات کے تحت اب صرف دو جی ایس ٹی سلیب — 5 فیصد اور 18 فیصد — نافذ رہیں گی۔ اس فیصلے کے بعد 12 فیصد اور 28 فیصد ٹیکس سلیب کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا جی ایس ٹی ڈھانچہ 22 ستمبر سے نافذ العمل ہوگا۔

  • وزیراعظم پاکستان کی چینی پریمئیر سے ملاقات

    وزیراعظم پاکستان کی چینی پریمئیر سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے آج بئیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کے پریمیئر لی چیانگ سے ملاقات کی۔ وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد چینی وزیر اعظم کی طرف سے وزیر اعظم کے اعزاز میں ایک پروقار ظہرانہ دیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے غیر متزلزل حمایت پر چینی قیادت اور قوم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم کے درمیان 2 ستمبر 2025 کو ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے کی بنیاد پر، وزیر اعظم لی اور وزیر اعظم شہباز شریف دونوں نے پاکستان اور چین کے درمیان آہنی پوش، ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ مشترکہ ایکشن پلان۔(2024-2029) پر دستخط کو اس سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی انتھک اصلاحاتی کوششوں کے امید افزا نتائج صرف چین کی بھرپور حمایت کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ انہوں نے جلد ہی چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کی فراہمی کے پاکستان کے ارادے کا بھی اظہار کیا۔

    اقتصادی محاذ پر، وزیر اعظم نے گزشتہ دہائی میں پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں صدر شی کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا ایک اہم منصوبے، چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی اہم شراکت کو اجاگر کیا، اور قراقرم ہائی وے اور ریلوے میں لائین-1 کو دوبارہ ترتیب دینے اور گوادر پورٹ کی آپریشنلائزیشن کے جلد نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈڈ/ فیز 2 اور بشمول اس کے 5 نئے کوریڈروز کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں فریقوں نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈ شدہ کے اگلے مرحلے پر اس کے پانچ نئے کوریڈورز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ بزنس ٹو بزنس تعاون اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے چینی وزیر اعظم کو بئیجنگ میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کے بارے میں بتایا جس میں 300 سے زائد پاکستانی کمپنیاں اور 500 چینی کمپنیاں شریک ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زراعت، کان کنی و معدنیات، ٹیکسٹائل، صنعتی شعبے اور آئی ٹی کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی تعاون کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے عالمی گورننس انیشی ایٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو سمیت کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک اگلے سال پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائیں گے۔دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں جیسا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے فیز 2 کی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، میڈیا اور زراعت، میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے شرکت کی۔