Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • صدر مملکت  کا سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار

    صدر مملکت کا سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں جاری سیلاب اور شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ اس قدرتی آفت سے جو تکالیف اور مشکلات پیش آئیں وہ قابلِ فہم ہیں۔صدر زرداری نے کسانوں کی فصلوں اور مویشیوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان پر خاص طور پر افسوس کا اظہار کیا اور اس امر کو قومی غم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان کے نقصان کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے، لہٰذا حکومت سندھ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کریں۔انہوں نے سندھ حکومت کو خاص ہدایت کی کہ وہ ممکنہ بڑے سیلابی ریلے کے حوالے سے فوری اور مؤثر تیاری کرے تاکہ آگے کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔ صدر مملکت نے پاکستانی قوم کی یکجہتی، حوصلے اور عزم کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ہمیشہ مشکلات کا بہادری اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے۔

    آصف زرداری نے کہا کہ 2010 اور 2022 کے سیلابوں کی طرح اس بار بھی ہم قوم مل کر اس آزمائش کو سرخرو ہو کر عبور کریں گے۔ انہوں نے افواج پاکستان کی بھی تعریف کی جو ہمیشہ کی طرح اس مشکل گھڑی میں عوام کی خدمت اور مدد میں پیش پیش ہیں، اور انہوں نے مشکل حالات میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو مثالی خدمات انجام دی ہیں وہ قابلِ تحسین ہیں۔صدر مملکت نے تمام متعلقہ اداروں، عوام، اور رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر متاثرین کی مدد کریں اور ملک کو اس قدرتی آفت سے بحالی کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • پی سی بی کا نوجوان کھلاڑیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کا فیصلہ

    پی سی بی کا نوجوان کھلاڑیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نوجوان کرکٹرز کی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی اور خوش آئند پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت وہ نہ صرف انڈر 15 سے لے کر انڈر 19 تک کے بچوں کو کرکٹ کی تربیت فراہم کرے گا بلکہ ان کی تعلیمی ذمہ داریاں بھی اٹھائے گا۔

    ذرائع کے مطابق، پی سی بی اب انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 کی سطح پر منتخب ہونے والے نوجوان کھلاڑیوں کو سال بھر مختلف اکیڈمیز میں تربیت فراہم کرے گا اور ساتھ ہی ان کی تعلیم کے تمام اخراجات بھی برداشت کرے گا۔ یہ فیصلہ پاکستان میں نوجوان کرکٹرز کو بہتر مستقبل فراہم کرنے اور کھیل کے ساتھ تعلیم کو یکجا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان اور کراچی میں قائم کی جانے والی مختلف اکیڈمیز میں نوجوان کھلاڑی نہ صرف کرکٹ کی مہارتیں سیکھیں گے بلکہ ان کے تعلیمی حوالے سے بھی مکمل انتظامات کیے جائیں گے۔ سیالکوٹ اکیڈمی خاص طور پر انڈر 15 کیٹیگری کے بچوں کے لیے مختص ہوگی جبکہ فیصل آباد اکیڈمی میں انڈر 17 اور ملتان میں انڈر 19 کے کھلاڑیوں کی تربیت کی جائے گی۔

    ہر اکیڈمی میں کرکٹ کے ساتھ تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی، اور بورڈ کی جانب سے تمام تعلیمی اخراجات بشمول اسکول و کالج میں داخلہ، کتابیں، یونیفارم اور دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ان اکیڈمیز کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کا انتخاب ریجنل کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ بہترین ٹیلنٹ کو موقع دیا جا سکے اور ملک کی کرکٹ کے مستقبل کو سنوارا جا سکے۔کراچی اکیڈمی کو خاص طور پر پاکستان ویمن کرکٹرز، شاہینز اور اے ٹیموں کی سرگرمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین کرکٹرز کو بھی اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملے گا۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نوجوان کھلاڑیوں کو صرف کھیل کے میدان تک محدود نہ رکھ کر ان کی تعلیمی اور معاشرتی ترقی پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ پی سی بی کا یہ اقدام ملک میں کرکٹ کی ترقی اور نوجوانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل

    دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل

    دریائے راوی میں شاہدرہ پر پانی میں اضافے کے بعد اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 45 ہزار 160کیوسک ہو گیا ہے۔

    کمشنر لاہور کا کہناہے کہ شاہدرہ سے 1 لاکھ60 ہزار کیوسک ریلے کا امکان ہے ، ابھی تک راوی میں سیلابی صورتحال قابو میں ہے۔ دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50ہزارکیوسک ہے۔ضلعی انتظامیہ سمیت تمام محکموں کی تیاری مکمل ہے اور ہائی الرٹ پرہیں،دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر سیلاب کا زور کم ہونے لگا ہے، پانی کا بہاؤ ایک لاکھ52 ہزار کیوسک پر آگیا۔

    رائیونڈ، لاہور، دریائے راوی کا پانی چوہنگ، سندر، مانگا منڈی کے قریب آبادیوں میں داخل ہو گیا، لوگوں نے نقل مکانی کے ساتھ ساتھ اذانیں دینا شروع کردیں،خواتین، بچے سب نے گھروں سے نقل مکانی شروع کر دی ہے، امدادی ٹیمیں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں

    دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادر آباد پر پانی کے بہاؤ میں کچھ کمی آنا شروع ہوئی مگر صورتحال اب بھی غیر معمولی ہے۔ ہیڈ خانکی پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 10 لاکھ کیوسک سے کم ہو کر 9 لاکھ 5 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔ہیڈ قادر آباد پر بھی غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے۔ وہاں پانی کا بہاؤ 10 لاکھ 45 ہزار 601کیوسک ہو گیا۔

    دوسری جانب دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک سے زائد ہے اور یہاں بھی غیر معمولی سیلاب ہے۔اسی طرح ہیڈ مرالہ پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 40 ہزار لاکھ کیوسک ہے جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور ستلج میں سلیمانکی پر درمیانے درجے کے سیلاب ہیں۔

  • پاک فوج کا سیلاب متاثرین کے لیے کوٹ مومن میں ریلیف آپریشن

    پاک فوج کا سیلاب متاثرین کے لیے کوٹ مومن میں ریلیف آپریشن

    پاک فوج نے سیلاب متاثرین کے لیے کوٹ مومن میں ریلیف آپریشن کیا ہے

    پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح سیلابی صورتحال سے کوٹ مومن بھی شدید متاثر ہے،پاک فوج نےکوٹ مومن میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ریلیف آپریشن شروع کیا ہے،پاک فوج کے جوانوں نے گورنمنٹ ہائی سکول لکسیاں میں ریلیف کیمپ قائم کردیا،پاک فوج کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی عوام کے لئے ریلیف آپریشن میں شریک ہے،پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل تین ریسکیو ٹیمیں مڈ رانجھا طالب والا اور ہلال پور میں تعینات ہیں،ریسکیو ٹیموں میں ماہر تیراکوں کو بھی شامل کیا گیا ہے،ہر ریسکیو ٹیم کے پاس دو کشتیاں 30 لائف جیکٹس و دیگر سامان موجود ہے،سیلاب متاثرین کیلئے خیمے بھی نصب کردیئے گئے جہاں انہیں ہر طرح کی سہولیات دی جا رہی ہیں،متاثرین سیلاب نے پاک فوج کے اس جذبہ خدمت کو سراہا ہے،پاک فوج مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • پشاور کے خواجہ سرا پولیس سے پریشان

    پشاور کے خواجہ سرا پولیس سے پریشان

    پشاور: صدر ٹرانسجینڈر خیبرپختونخوا، آرزو خان نے پشاور میں خواجہ سراؤں کو درپیش سنگین مسائل اور جرائم پیشہ گروپوں کی جانب سے بھتہ خوری کے حوالے سے تشویشناک الزامات عائد کیے ہیں۔

    خواجہ سرا آرزو خان کا کہنا تھا کہ پشاور میں کم از کم 15 ایسے جرائم پیشہ گروپ سرگرم عمل ہیں جو خواجہ سراؤں سے بھتہ وصول کرتے ہیں، جبکہ پولیس بھی بھتہ نہ دینے پر انہیں مزید مشکلات میں ڈالتی ہے،خواجہ سراؤں کے خلاف ہونے والے جرائم میں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے ان کی حفاظت اور حقوق کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ خاص طور پر خواجہ سرا تتلی قتل کیس میں نامزد ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوا جبکہ گلبہار علاقے کے ایس ایچ او نے ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کرنے سے انکار کیا۔صدر ٹرانسجینڈر آرزو نے مزید بتایا کہ حال ہی میں فقیر آباد تھانے میں ان کی رپورٹ تک نہیں لی گئی، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ان کے تحفظات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔

    انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ خواجہ سراؤں کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے باعزت روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکیں۔آرزو خان کے مطابق، "خواجہ سراؤں کو مسلسل دباؤ اور استحصال کا سامنا ہے، ہمیں فوری طور پر قانونی اور سماجی سطح پر تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ ہم بھی معاشرے کا فعال اور باوقار حصہ بن سکیں۔”

  • پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف

    پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف

    جعلی ڈگری والے 7 پائلٹس اور36انجینئرنگ عملہ کام کررہاہے ، آڈٹ رپورٹ
    جعلی ڈگریوں پر ملازمین کی بھرتی سے پی آئی اے کو 9کروڑ72لاکھ روپے کانقصان ہوا
    آڈٹ رپورٹ میں جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی
    پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹس اور انجینئرزسمیت دیگر ملازمین کے کام کرنے کاانکشاف ہواہے ،جعلی ڈگریوں پر ملازمین کی بھرتی سے پی آئی اے کو 9کروڑ72لاکھ روپے کانقصان ہواہے ،پی آئی اے نے سپریم کورٹ کے حکم کے باجود جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف ایکشن نہیں لیا،جعلی ڈگری کے 7 پائلٹس عدالت سے اسٹے آرڈر لے کر کام کر رہے ہیں،جعلی ڈگری والے 52 انجینئرنگ عملہ/افسران میں سے36اب بھی سروس میں ہیں،آڈٹ نے جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کردی ۔

    آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ2024-25 کے مطابق پی آئی اے کوجعلی ڈگریوں پر افسران / عہدیداروں کی تقرری سے 9کروڑ72لاکھ روپے نقصان ہواہے ۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان نے 8 مارچ 2011 کو ہدایت دی کہ تمام وفاقی حکومت کے ملازمین کی ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق ان کے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے کی جائے اور غیر ملکی ڈگریوں کی تصدیق ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے کی جائے، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے (2009 SCR 1492)میں جعلی ڈگری کے مقدمات کی سنگینی پر زور دیا گیا تھا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) کے پرسنل پالیسی مینول کے پیرا 75 (aj) اور پیرا 76 (h) کے مطابق، غلط معلومات فراہم کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کے نام، عمر، والد کے نام، تعلیمی یا پیشہ ورانہ کوائف، پچھلی خدمات یا تجربے کی غلط تفصیلات دینا شامل ہے۔ یہ misconduct ہے، چاہے یہ کارپوریشن میں شمولیت کے وقت ہو یا دورانِ ملازمت، اور اس کی سزا برطرفی ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL)، اسلام آباد اسٹیشن کے 2021-2023 کے سالانہ آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انتظامیہ نے مختلف ادوار میں مختلف عہدوں پر 27ملازمین کو جعلی ڈگریوں پر تقرری کی۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمٹیڈ(PIACL) کی 2008-2017 کی خصوصی آڈٹ کے دوران بھی یہ بات سامنے آئی کہ 458 ملازمین کی ڈگریاں / اسناد جعلی تھیں، جن میں سے 208 ملازمین کو برطرف / ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔458 جعلی ڈگر ی والے ملازمین 16 پائلٹس بھی شامل تھے جس میں سے7 پائلٹس اب بھی عدالت کے اسٹے آرڈر کی وجہ سے کام کر رہے ہیں، 52 انجینئرنگ عملہ/افسران شامل تھے جن میں سے 36 اب بھی کام کررہے ہیں ۔67افسران (AM سے DGM تک)اور 33 ایئرہوسٹسز بھی جعلی ڈگری والوں میں شامل تھیں۔ آڈٹ کاکہنا ہے کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اہم اور حساس عہدوں پر جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کو تعینات کیا گیا اور ان کی اسناد کو بروقت انتظامیہ کی جانب سے تصدیق نہیں کروایا گیا۔

    مزید برآں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق جعلی ڈگریوں والے 42 افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔آڈٹ کا کہناہے کہ جعلی ڈگریوں پر تقرریوں کی جاری رکھنے سے انتظامیہ کی غفلت ظاہر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں 97.200 ملین روپے کی غیر قانونی تنخواہ کی ادائیگی ہوئی۔ انتظامیہ نے ان ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے جعلی ڈگریاں / اسناد فراہم کیں۔آڈٹ نے سفارش ہے کہ انتظامیہ جعلی ڈگریوں والے ملازمین کے خلاف کارروائی کرے۔ترجمان پی آئی اے کاکہناہے کہ جعلی ڈگریوں والے پائلٹ جہاز نہیں چلارہے اور نہ ہی نوکری پر ہیں ۔

  • پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کی بحالی میرا مشن ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کی بحالی میرا مشن ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے خود شاہدرہ پہنچ گئیں ۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے دریائے راوی میں طغیانی کا مشاہدہ کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے شاہدرہ راوی پل پر دریاکے پانی کے لیول کا بھی مشاہدہ کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حفاظتی بنداور دیگر اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو دریائے راوی میں پانی کے ممکنہ بہا ¶ کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دریا کے گزرگاہوں سے آبادی اور مویشیوں کا انخلا مکمل بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ڈپٹی کمشنر لاہور نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو دریا ئے راوی میں طغیانی اور متاثرہ علاقوں کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی ہدایت پر پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لئے گرینڈ ریسکیواینڈ ریلیف آپریشن جاری کردےاہے۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار تین دریاؤں میں سیلاب کی وجہ سے صوبے میں سب سے بڑا اور غیر معمولی ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن شروع کیا گیا۔دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے پنجاب کے کل 769 موضع جات کے 6 لاکھ ایک ہزار 126 شہری متاثرہوئے ۔سیلاب متاثرین کی مدد اور دیکھ بھال کے لئے 263 ریلیف کیمپ، 161 میڈیکل کیمپ قائم، خوراک، علاج اور عارضی پناہ گاہیں فراہم کردی گئیں ۔سمبڑیال، سیالکوٹ اور پسرور سمیت سیلاب متاثرین میں خوراک، پانی اور دیگر اشیاءکی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔قصور، ننکانہ، چنیوٹ، پلکھو نالہ وزیرآباد سمیت دیگر سیلاب زدہ علاقوں سے شہریوں کی منتقلی کا بڑا آپریشن کیاگیا ۔پاک فوج، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور دیگر ادارے مشترکہ طورپر ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں شریک ہیں ۔دیہی علاقوں میں پالتو جانوروں کو بھی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا ۔سیلاب سے بے گھر ہونے والوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔سیلاب متاثرین کے علاج معالجے کے لئے ہنگامی طبی کیمپ بھی قائم، ملحقہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ کردیاگیا ۔دریائے چناب کے کنارے آباد کل 333 موضع جات میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں ۔سیالکوٹ میں 133، وزیرآباد میں16،گجرات میں 20، منڈی بہاو ¿الدین میں 12، چنیوٹ میں 100 اور جھنگ میں 52 موضع جات سیلاب سے متاثر ہوئے ۔متاثرین کی مدد اور دیکھ بھال کے لئے78 ریلیف کیمپس اور28 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں ۔دریائے راوی کے کنارے آباد 101 موضع جات کے 70 ہزار 358 لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ۔دریائے راوی کے کنارے متاثر ہونے والے شہروں میں نارووال، ننکانہ، قصور اور ساہیوال شامل ہیں ۔دریائے راوی میں سیلاب سے متاثرین کی مدد اور دیکھ بھال کے لئے 81 ریلیف کیمپ اور 28 میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں ۔دریائے ستلج کے کنارے آباد 335 موضع جات کے 3 لاکھ 80 ہزار768 شہری سیلاب سے متاثر ہوئے۔دریائے ستلج کے سیلاب متاثرین کی مدد اور دیکھ بھال کے لئے 104 ریلیف کیمپ اور 105 میڈیکل کیمپ کام کررہے ہیں۔دریائے ستلج میں سیلاب سے متاثر ہونے والے شہروں میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، ملتان، وہاڑی، بہاولنگر اور بہاولپور شامل ہیں۔وزیراعلی پنجاب مرےم نوازشرےف نے پاک فوج سمیت ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں شریک اداروں، افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پےش کےا ۔وزےراعلیٰ مرےم نوازشرےف نے کہا کہ پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کی بحالی میرا مشن ہے۔بے گھر وں کی اُن کے گھروں میں آباد ہونے تک پوری مدد کریں گے۔

  • سندور میں شرمناک ناکامی کے بعد مودی سرکار کی ایک نیا محاذ کھولنے کی تیاری

    سندور میں شرمناک ناکامی کے بعد مودی سرکار کی ایک نیا محاذ کھولنے کی تیاری

    بھارتی حکومت، خاص طور پر بی جے پی، ایک بار پھر پاکستان مخالف بیانیہ کو ہوا دے کر اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آپریشن سندور میں ہونے والی شرمناک ناکامی کے بعد مودی سرکار نے ایک نیا محاذ کھولنے کی تیاری کر لی ہے، جس کا مرکز اس بار مبینہ پاکستانی ڈرونز بنے ہیں۔

    بھارتی اخبار "دی ہندو” نے دعویٰ کیا ہے کہ پونچھ میں پاکستانی ڈرونز کی موجودگی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ یہ ڈرونز مینڈھر کے علاقوں بالاکوٹ، لنگوٹ اور گرسائی نالہ میں اتوار کی رات نو بج کر پندرہ منٹ پر دیکھے گئے۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ ڈرونز بہت اونچائی پر پرواز کر رہے تھے اور فوری طور پر پاکستانی علاقے میں واپس چلے گئے۔بھارت میں موجود گودی میڈیا اور حکومتی بیانات کو دیکھ کر یہ تاثر تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ بی جے پی حکومت ایک بار پھر عوام کو پاکستان مخالف جذبات کے ذریعے ورغلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی حکومت نے پاکستان کا نام اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا ہو۔ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ جعلی جھڑپوں، فالس فلیگ آپریشنز اور غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف داخلی سیاست کے لیے خطرناک ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی بدحالی، کسان تحریکیں اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نے مودی حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں جنگی جنون کو ہوا دینا اور پاکستان دشمنی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بی جے پی کا آزمودہ نسخہ بن چکا ہے،مبصرین اس تمام صورتِ حال کو ایک منظم پروپیگنڈا مہم قرار دے رہے ہیں، جس میں حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا بھی بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈرونز کی یہ حالیہ "کہانی” اسی مہم کا تسلسل معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کو خوفزدہ کرنا ہے بلکہ انہیں ایک خیالی دشمن کے خلاف اکسا کر سیاسی فوائد حاصل کرنا بھی ہے۔

  • پاکستان رینجرز (پنجاب) کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان رینجرز (پنجاب) کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان رینجرز (پنجاب) کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے

    پاکستان رینجرز (پنجاب) دیگر اداروں کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ سرحدی علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے،ضلع قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا کے گردونواح میں رینجرز کے جوانوں نے سیلاب میں گھِرے 6890 افراد اور 1024 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا،دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث سرحدی علاقے کے 30 دیہات زیر آب آ چکے ہیں ،سیلاب سے متاثرہ اس علاقے میں پاکستان رینجرز (پنجاب) کا دیگر اداروں کے ہمراہ کشتیوں پر ریسکیو آپریشن جاری ہے

    پنجاب رینجرز کے جوان ریسکیو 1122 کے عملے کو دور دراز دیہاتوں تک رسائی میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں ، پنجاب رینجرز کے دستے راستوں کی بحالی اور سڑکوں کی مرمت میں بھی ضلعی انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں،پاکستان رینجرز (پنجاب) سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئیے ضلعی انتظامیہ، پولیس، ہائی وے ڈیپارٹمنٹ، ریسکیو 1122، محکمہ صحت اور آبپاشی سے مسلسل رابطے میں ہے

  • مقبوضہ کشمیر،بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ،30 افراد کی موت

    مقبوضہ کشمیر،بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ،30 افراد کی موت

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہر کٹرا کے قریب ویشنو دیوی مندر کے علاقے میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا، جس نے قریبی علاقوں کو شدید متاثر کیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ امدادی کارکنوں نے ریکوری اور زخمیوں کی طبی امداد کے لیے ہنگامی طور پر کام کیا۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد زائرین کی ہے جو ویشنو دیوی مندر کی زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے۔

    زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور امدادی ٹیمیں ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے مصروف عمل ہیں۔

    ادھر محکمہ موسمیات نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مزید گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ موسمی محکمے نے شہریوں اور زائرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ موسمی حالات پر نظر رکھیں اور بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اپنائیں۔محکمہ موسمیات نے پہاڑی اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں تاکہ لینڈ سلائیڈنگ یا دیگر حادثات سے بچا جا سکے۔ علاوہ ازیں، حکام نے ریسکیو آپریشنز کو تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔