Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ: جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر وفات پا گئیں

    گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ: جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر وفات پا گئیں

    گلگت بلتستان، گزشتہ چند روز قبل گلگت بلتستان کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے والی جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر کا آج انتقال ہوگیا ہے۔ یہ افسوسناک خبر گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے۔

    بتایا جاتا ہے کہ 28 جولائی کو دو جرمن خواتین کوہ پیما، جن میں لورا ڈاہلمائر اور کروس مرینہ ایوا شامل تھیں، لیلیٰ پیک کی چوٹی سر کرنے کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہوئیں۔ اس حادثے میں کروس مرینہ ایوا کو گزشتہ روز ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم 31 سالہ لورا ڈاہلمائر لاپتہ تھیں۔ کئی روز کی تلاش کے بعد ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔لورا ڈاہلمائر جرمنی کی انتہائی کامیاب اور نامور ایتھلیٹس میں شمار کی جاتی تھیں۔ انہوں نے 2018 کے پیونگ چانگ ونٹر اولمپکس میں دو طلائی تمغے جیتے تھے اور مجموعی طور پر 7 عالمی چیمپئن شپ ٹائٹل حاصل کیے تھے، جو ان کی کھیلوں میں مہارت اور کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی زندگی اور خدمات کو عالمی کھیلوں کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    گلگت بلتستان کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے لورا ڈاہلمائر کے انتقال پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کریں گے تاکہ سیاحوں اور کوہ پیماوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • لندن کی فضائی حدود مبینہ "تکنیکی خرابی” کی وجہ سے بند،پروازیں معطل

    لندن کی فضائی حدود مبینہ "تکنیکی خرابی” کی وجہ سے بند،پروازیں معطل

    لندن کی فضائی حدود میں ایک بڑا خلل پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے برطانیہ کے اہم ہوائی اڈے ہیتھرو اور گیٹ وک پر پروازیں معطل ہو گئی ہیں۔ برطانیہ کی فضائی ٹریفک کنٹرول اتھارٹی نے بتایا ہے کہ یہ مسئلہ ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے سامنے آیا

    لندن ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی کے باعث ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر طیاروں کی روانگی اور آمد روک دی گئی ہے۔ حکام نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ پروازوں کا معمول کب بحال ہو گا۔سوشل میڈیا اور فلائٹ ریڈار کی رپورٹس کے مطابق، لندن کے ایئرپورٹس پر بڑی تعداد میں طیارے رن ویز پر کھڑے ہیں، جبکہ جنوبی انگلینڈ کی فضائی حدود میں ہوائی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ متعدد مسافروں نے رن وے پر پھنسے ہوئے مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کیے ہیں۔ ہیتھرو، جو کہ برطانیہ کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے، نے تصدیق کی ہے کہ ان کی طرف سے کوئی پرواز روانہ نہیں ہو رہی کیونکہ NATS کے تکنیکی مسائل کی وجہ سے فضائی ٹریفک کنٹرول محدود کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح، لندن کے دوسرے بڑے ہوائی اڈے گیٹ وک نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس وقت وہاں سے تمام روانگی کی پروازیں روک دی گئی ہیں۔گیٹ وک ایئرپورٹ کا کہنا ہے کہ وہ NATS کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ پروازوں کو جلد از جلد معمول پر لایا جا سکے۔ جبکہ آمد پروازیں ابھی بھی لینڈ کر رہی ہیں، مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پرواز کی حالت جاننے کے لیے ایئرلائن سے رابطہ کریں۔

    اس تکنیکی مسئلے نے ملک کے شمال تک بھی اثر ڈالا ہے۔ ایڈنبرا ایئرپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ تمام روانگی کی پروازیں فی الحال معطل ہیں

    NATS نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بیان جاری کیا ہے کہ ان کے انجینئرز نے متأثرہ نظام کو بحال کر دیا ہے اور اب لندن کے علاقے میں فضائی ٹریفک کو معمول کے مطابق بحال کرنے کا عمل جاری ہے۔ NATS نے مسافروں اور ہوائی کمپنیوں سے تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا اور معذرت کی کہ اس خرابی کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم، NATS نے واضح کیا ہے کہ نظام بحال ہونے کے باوجود پروازوں کا فوری آغاز نہیں ہو گا اور خلل کچھ دیر تک جاری رہ سکتا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ صورتحال کب تک مکمل طور پر معمول پر آئے گی، لیکن NATS اور متعلقہ ہوائی اڈے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    مسافروں کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اپنے فلائٹ کی صورتحال کے بارے میں ایئرلائنز سے رابطہ کریں۔ہوائی اڈوں پر پہنچنے سے قبل تازہ ترین اپ ڈیٹس حاصل کریں۔ممکنہ تاخیر یا منسوخی کے لیے تیار رہیں۔

    ایک پرواز کے مسافر نے بتایا کہ کپتان نے اعلان کیا "لندن کی فضائی حدود بند ہیں، اس لیے ہم روانہ نہیں ہو سکتے۔”ایک اور مسافر نے بتایا کہ پائلٹ نے خبردار کیا ہے کہ "جب بھی فضائی حدود دوبارہ کھلے گی، طیاروں کی ایک لمبی قطار لینڈنگ کے لیے انتظار میں ہو گی۔”

  • جماعت اسلامی کا "حق دو بلوچستان” لانگ مارچ،لاہور میں دھرنا دے دیا

    جماعت اسلامی کا "حق دو بلوچستان” لانگ مارچ،لاہور میں دھرنا دے دیا

    جماعت اسلامی کی جانب سے بلوچستان کے عوام کے آئینی، معاشی اور انسانی حقوق کے لیے جاری "حق دو بلوچستان” لانگ مارچ آج لاہور میں منصورہ سے لاہور پریس کلب تک پہنچا، جہاں یہ دھرنے میں تبدیل ہو گیا۔

    مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان نے کی، جب کہ لاہور میں امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ اور جماعت کی ضلعی قیادت نے شاندار استقبال کیا۔استقبالیہ جلسے اور دھرنے سے مولانا ہدایت الرحمان، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ، اظہر بلال، انجینئر اخلاق احمد، وقاص احمد بٹ، چوہدری محمد شوکت، عبدالعزیز عابد سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا۔مولانا ہدایت الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اسلام آباد جانا چاہتے تھے تاکہ بلوچستان کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور عوام کے حقوق کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچا سکیں، لیکن پنجاب حکومت اور ظالم نظام ہمارے راستے میں رکاوٹ بنے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور بلوچستان کے حکمران سن لیں،جب تک ہمارے 8 نکاتی مطالبات منظور نہیں ہوتے، احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی رکاوٹیں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ ہم یہاں سے واپس نہیں جائیں گے جب تک بلوچستان کے عوام کو ان کا حق نہیں ملتا۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے اہل لاہور اور جماعت اسلامی لاہور کے کارکنان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے عوام اور جماعت کے غیور کارکنان نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے لیے پیش کیے گئے 8 نکاتی مطالبات وہاں کے عوام کے جائز حقوق کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی لاہور ان مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔انہوں نے مولانا ہدایت الرحمان کی عوامی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے عوام کی آواز بن کر ابھرے ہیں۔پریس کلب کے باہر جاری دھرنا پُرامن ہے اور ملک بھر میں بلوچستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

  • اظہر عباس ادب اطفال پاکستان کی شان تھے، اختر عباس

    اظہر عباس ادب اطفال پاکستان کی شان تھے، اختر عباس

    ادبِ اطفال کے ممتاز ادیب، دانشور اور سماجی کارکن اظہر عباس کی وفات پرامیدِ روشنی فورم پاکستان اور گلبل فورم پاکستان کے زیرِاہتمام، وفائے پاکستان ادبی فورم کے تعاون سے ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف ادیب و تربیت کار اختر عباس نے کہااظہر عباس نے ادبِ اطفال میں جو بے مثال خدمات انجام دی ہیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ بچوں کے لیے سنجیدہ اور معیاری لکھنے والے ان چند گنے چنے اہل قلم میں سے تھے جنہوں نے کبھی سطحی پن کو اپنے قلم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔اس موقع پر اشفاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا اظہر عباس کی وفات صرف ادبی دنیا کا نہیں بلکہ انسانیت، فکر اور اخلاقی اقدار کا ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ نہایت مخلص، محبت کرنے والے، خالص انسان اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک تحریک تھے۔ ان کی تحریریں نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔مرحوم اظہر عباس کے صاحبزادے برہان اظہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا میرے والد نہ صرف ہمارے لیے ایک شفیق والد تھے بلکہ قوم کے بچوں کے لیے ایک روحانی رہنما تھے۔ ان کا مشن بچوں کی تربیت اور کردار سازی تھا، جسے ہم ان شاء اللہ جاری رکھیں گے۔

    تقریب میں شریک دیگر ادبی، سماجی اور فکری حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی اظہر عباس کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا اور ان کی شخصیت کو محبت، خلوص اور انسان دوستی کا نمائندہ قرار دیا۔ایم ایم علی، اشرف سہیل، سہیل قیصر ہاشمی، عبدالصمد مظفر پھول بھائی، علی عمران ممتاز، غلام زادہ محمد نعمان صابری، کاشف بشیر کاشف، محمد وسیم کھوکھر، محمد نادر کھوکھر، محمد قاسم کھوکھر، حاجی محمد لطیف کھوکھر، محمد ناصر زیدی، احمد عدنان طارق، ڈاکٹر طارق ریاض خان، ابوالحسن طارق، محمد ندیم اختر، امجد نذیر، غلام مصطفیٰ قادری، سرفراز اجمل، علی رضا ترابی، شہباز اکبر الفت و دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ یہ تعزیتی ریفرنس نہ صرف اظہر عباس مرحوم کی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ ادب، اخلاق، محبت اور انسان دوستی کے پیغام کو ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ فروغ دینے کا سبب بھی ثابت ہوا۔ اس موقع پر دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اظہر عباس کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

  • استحکام پاکستان کانفرنس کی تیاریاں،ایم ایم علی کی سینئر وائس چیئرمین اپووا ملک یعقوب اعوان سے ملاقات

    استحکام پاکستان کانفرنس کی تیاریاں،ایم ایم علی کی سینئر وائس چیئرمین اپووا ملک یعقوب اعوان سے ملاقات

    لاہور کے معروف تجارتی و ثقافتی مرکز ایم ایم عالم روڈ پر واقع آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن ،اپوو،ا کے مرکزی دفتر میں تنظیم کے بانی و صدر ایم ایم علی اور سینئروائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کے درمیان ایک تفصیلی اور اہم ملاقات ہوئی۔

    اس ملاقات میں اپوواکی موجودہ صورتحال، کارکردگی، اور مستقبل کے اہداف پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر آئندہ ہونے والے ایونٹ، یعنی "استحکام پاکستان کانفرنس و تقریب تقسیم شان پاکستان ایوارڈ” کے حوالے سے خصوصی مشاورت کی گئی۔تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے مکمل لائحہ عمل مرتب کیا گیا، جس میں دعوت ناموں کی تقسیم، مہمانانِ خصوصی کا انتخاب، میڈیا کوریج، اور سیکیورٹی انتظامات سمیت دیگر اہم امور شامل تھے۔

    ایم ایم علی اور ملک یعقوب اعوان نے ملاقات کے بعد کہا کہ ان شاء اللہ، یہ ایک تاریخی اور شاندار پروگرام ہوگا جو ملک و قوم کے لیے ایک مثبت پیغام لے کر آئے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ اپووا کے پلیٹ فارم سے عوامی فلاح، قومی ہم آہنگی، اور نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم اپنی فلاحی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گی اور سماجی ترقی کے لیے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ ملاقات میں آئندہ کے پروگرامز، ورکشاپس،دفاتر کے افتتاح،اضلاع میں کوآرڈینیٹر کی تقرری پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی تاکہ اپووا کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

    14 اگست کو لاہور کے مقامی ہوٹل میں استحکام پاکستان کانفرنس میں ممتاز قومی شخصیات شریک ہوں‌گی، شان پاکستان ایوارڈ ان افراد کو دیا جائے گا جنہوں نے اپنے شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔

  • حمیرا اصغرکیس، فلیٹ سے لیےگئے سیمپلز کی رپورٹ  آگئی

    حمیرا اصغرکیس، فلیٹ سے لیےگئے سیمپلز کی رپورٹ آگئی

    کراچی، ڈیفنس فیز 6 کے فلیٹ میں مردہ پائی جانے والی اداکارہ حمیرا اصغر کےکیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    نجی ٹی وی جیو نیوز نے اداکارہ حمیرا اصغر کے فلیٹ سے لیےگئے مختلف سیمپلز کی رپورٹ حاصل کرلی ہے۔رپورٹ کے مطابق اداکارہ حمیرہ اصغر کےگھر سے 6 سیمپل اکٹھےکیےگئے تھے، سیمپل جائے وقوعہ سے ملنے والے پانچ پیالوں سے حاصل کیےگئے تھے۔رپورٹ کے مطابق چھٹا سیمپل کچن میں رکھے نمک کا تھا جب کہ پانچ پیالوں میں سے ملنے والا سفوف سمندری نمک ہے۔ گھرکےکچن سے ملنے والا نمک پیالوں سے ملنے والے نمک سے مختلف ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ سمندری نمک بدبو کو کم کرنے اور کیڑے بھگانے کے کام آتا ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہےکہ رپورٹ سے تفتیش میں مزید پیشرفت ہوگی۔

    خیال رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی،لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہےکہ اداکارہ کی موت تقریباً 8 ماہ پرانی ہے،تفتیشی حکام کے مطابق لگتا ہے حمیرا اصغر مالی طور پر پریشان تھیں، انہوں نے ستمبر 2024 میں آخری کمرشل شوٹ کیا تھا اور وہ کام سے متعلق اکتوبر2024 میں لوگوں سے رابطے میں تھی۔

  • وفاقی کابینہ اجلاس، حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کی منظوری

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا

    وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی 2025 کی منظوری دےدی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ حجاج کرام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے آئندہ برس حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن خوش آئند ہے.حجاج کرام کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی. وزارت مذہبی امور حج پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائے گی

    اجلاس کو حج پالیسی 2026 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی. بتایا گیا کہ آئندہ برس پاکستان کا مجموعی ملکی حج کوٹا 70 فیصد حکومتی اور 30 فیصد نجی کوٹے کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا، گزشتہ برس نجی شعبے کی غفلت کی وجہ سے حج سے محروم رہ جانے والے افراد کا حج نجی کمپنیاں2026 میں یقینی بنائیں گی.نئی پالیسی کے تحت سرکاری اسکیم و نجی کمپنیوں کے تحت حج آپریشن کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے گی.پالیسی میں حج کے دوران حاجیوں کی سہولیات کے ساتھ ساتھ انہیں انکی رقوم کے متوازی سروسز فراہم کرنا شامل ہے.پالیسی میں آئندہ برس ایک ہزار نشستیں ہارڈ شپ کیسز کے تحت مختص کی گئی ہیں.پالیسی کے تحت کسے بھی نجی کمپنی کے لیے حاجیوں کی کم از کم تعداد 2 ہزار رکھی گئی ہے.نجی کمپنیوں کی حج آپریشن کے دوران کڑی نگرانی کی جائے گی ،پالیسی کے اطلاق کے بعد نجی کمپنیوں کے تحت درخواست گزاروں کی رقوم و پراسیس کی ریئیل ٹائم مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی. حج 2026 کیلئے گزشتہ برس کی طرح معاونین کا انتخاب شفاف انداز سے ٹیسٹ کے ذریعے ہوگا،حجاج کیلئے موبائل سمز، ڈیجیٹل رسٹ بینڈز، بہترین رہائش و طعام اور کسی بھی ہنگامی و حادثاتی صورتحال کے نتیجے میں معاوضے کو یقینی بنایا جائے گا.ادائیگیوں، تربیت، شکایات و دیگر سروسز کیلئے پاک حج موبائل ایپلی کیشن کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا رہا ہے.

    وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی. کابینہ ارکان نے تمام متعلقہ وزارتوں و اداروں سمیت پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا. وزیرِ اعظم نے وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی. حکومت نے پاکستان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، عام آدمی کی آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی تک رسائی، ملک میں مکمل اے آئی ایکوسسٹم کے قیام اور اس حوالے سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری بھی دی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہپاکستان کی نوجوان افرادی قوت ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، نوجوانوں کو اے آئی کے میدان میں ضروری تعلیم و تربیت اور یکسان ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.حکومت ایف بی آر اصلاحات میں اے آئی کے ذریعے پہلے سے ہی ملکی آمدن میں اضافے اور نظام کی بہتری پر کام کر رہی ہے. ملکی ترقی کے لیے اے آئی سے استفادہ حاصل کرنے کے حوالے سے بروقت پالیسی سازی کیلئے وزارت آئی ٹی اور متعلقہ اداروں کے اقدامات لائق تحسین ہیں ،

    وفاقی کابینہ کو نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی.اجلاس کو 2030 تک دنیا بھر میں اے آئی کے ذریعے آنے والے ممکنہ انقلاب اور عالمی معیشت پر اسکے مالی اثرات کے تخمینے سے آگاہ کیا گیا. نیشنل اے آئی پالیسی پاکستان میں پبلک سروز کی بہتری، پیداور بشمول زرعی شعبے کی پیداوار، معاشی شمولیت، ہنر و تربیت اور روزگار کی فراہمی میں بھرپور معاونت فراہم کرے گی. نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی تشکیل میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول سرکاری، صنعتی، تعلیمی شعبوں اور سول سوسائٹی سے مشاورت یقینی بنائی گئی ہے. نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کے تحت ملک میں آرٹیفیشل انٹیلیجینس کا ایک مکمل ایکو سسٹم تشکیل دیا جارہا ہے.اے آئی انوویشن فنڈ (AI Innovation Fund) اے آئی وینچر فنڈ (AI Venture Fund) کے ذریعے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی. ملک گیر آگاہی کے ساتھ ساتھ اے آئی میں تعلیم و تربیت، آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور خواتین و خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی اس ٹیکنالوجی تک رسائی یقینی بنائی جائے گی.سائبر سیکیورٹی، نیشنل ڈیٹا سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ پالیسی کے تحت سرکاری شعبے میں اے آئی کے استعمال میں اضافے اور اسکے ماحولیاتی اثرات کیلئے اقدامات بھی پالیسی میں شامل ہیں. بین الاقوامی شراکت داریاں، اے آئی کے عالمی سطح پر رائج ضوابط کو بھی پالیسی کی تشکیل میں مدنظر رکھا گیا ہے،2030 تک اے آئی کے شعبے میں 10 لاکھ تربیت یافتہ افراد، 3 ہزار سالانہ وظائف، ایک ہزار مقامی اے آئی مصنوعات، آئندہ 5 سالوں میں 50 ہزار اے آئی شہری منصوبے، ایک ہزار تحقیقی منصوبوں کیلئے اقدامات پالیسی میں شامل ہیں.پالیسی پر عملدرآمد کیلئے اے آئی کونسل اور ماسٹر پلان و ایکشن میٹرکس کا قیام عمل میں لایا جائے گا. وفاقی کابینہ نے نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی.

    کابینہ نے نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 8 جولائی 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ کابینہ نے قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 17 جولائی 2025 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔

  • مبشر لقمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    مبشر لقمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

    سینئر صحافی و اینکر پرسن، سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے

    مبشر لقمان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ان کی رہائش گاہ پر ہوئی،ملاقات میں ملکی و بین الاقوامی امور پر بات چیت کی گئی، پاک فوج کی جانب سے بھارت کو آپریشن بنیان مرصوص میں منہ توڑ جواب دینے پر بھی بات چیت کی گئی،

    اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات ہوئی ہے اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ بھی موجود تھے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج نے ملک کے لیے تاریخی فتح حاصل کی ہے، جس پر پوری قوم فخر کرتی ہے۔ دنیا ہماری جانب دیکھ رہی ہے اور اب ہمیں اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ملک میں اقتصادی اصلاحات لانا ہوں گی، موجودہ حالات میں معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔

    ملاقات کے دوران ذمہ دارانہ صحافت اور سچ کا بول بال کرنے ،آپریشن بنیان مرصوص کے دوران حقائق پر مبنی وی لاگز کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے مبشر لقمان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بھارتی بیانیے کا جس انداز میں بروقت رد کیا وہ قابل تحسین ہے.

  • کراچی میں حساس اداروں اور سی ٹی ڈی کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن: 4  گرفتار

    کراچی میں حساس اداروں اور سی ٹی ڈی کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن: 4 گرفتار

    حساس اداروں اور سندھ پولیس کے خصوصی ادارے سی ٹی ڈی نے کراچی میں انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے چار خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان نے ٹرین کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی تھی لیکن سی ٹی ڈی کی بروقت کارروائی نے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

    گرفتار ملزمان میں محمد سجاد عرف شاوو، عبید علی عرف عبیدی، محمد عمیر اصغر اور شکیل احمد شامل ہیں۔ سی ٹی ڈی کے مطابق یہ ملزمان 18 مئی 2025 کو ضلع بدین میں ایک سنگین قتل کے واقعے میں ملوث تھے، جس کا مقدمہ تھانہ بدین میں نمبر 117/2025 کے تحت درج تھا۔کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے، جو فرانزک تحقیق کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ملزمان نے قتل کی واردات سے قبل حیدرآباد میں قیام کیا اور واقعے کی مکمل ریکی بھی کی تھی، جس سے ان کی منصوبہ بندی کا اندازہ ہوتا ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات میں کالعدم علیحدگی تنظیم کے ملوث ہونے کے واضح شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ گرفتار ملزمان متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم سے بتایا گیا ہے۔گرفتاری تکنیکی شواہد اور باریک بینی سے کی گئی انٹیلیجنس کی بنیاد پر ممکن ہو سکی، جسے سی ٹی ڈی نے اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ سندھ پولیس کے آئی جی نے سی ٹی ڈی کی کارروائی کرنے والی ٹیم کو انعام اور تعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔سی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات جلد منظر عام پر آنے کی توقع ہے، جس سے اس کیس کی گہرائی اور ملزمان کے دیگر ممکنہ ساتھیوں کا پتا چل سکے گا۔

  • مودی کی لوک سبھا تقریر، آپریشن سندور کی خفت مٹانے کی ناکام کوشش

    مودی کی لوک سبھا تقریر، آپریشن سندور کی خفت مٹانے کی ناکام کوشش

    لوک سبھا میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آپریشن سندور پر جھوٹ کے انبار لگا دیے

    امریکی صدر اور عالمی میڈیا کی بارہا تصدیق کے باوجود مودی نےآپریشن سندور کا حقیقی انجام ماننے سے انکار کر دیا، آپریشن سندور پر جاری لوک سبھا اجلاس میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی رہنما نے بھارت سے آپریشن روکنے کا مطالبہ نہیں کیا،9 مئی کی رات کو امریکی نائب صدر نے مجھ سے 3 سے 4 بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، امریکی نائب صدر نے خبردار کیا کہ پاکستان کی طرف سے بڑا حملہ ہو سکتا ہے،اگر پاکستان بھارت پر حملہ کرے گا تو ہمارا جواب اُس سے کہیں بڑا ہو گا، ہم گولی کا جواب توپ سے دیں گے،

    مودی کا کہنا تھا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات کو ہم نے پاکستان کی طاقت تباہ کر دی، آج پاکستان کو اندازہ ہو گیا ہے کہ بھارت کا ہر جواب پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع ہوتا ہے، اگر آئندہ ضرورت پیش آئی تو بھارت پاکستان کو جواب دینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، میں ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ آپریشن سندور اب بھی جاری ہے،

    نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے دوبارہ ایسی غلطی کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا،

    بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص نے مودی کا جنگی جنون زمین بوس کر دیا بھارت کی جانب سے کرنل صوفیہ کا جنگ بندی کا اعلان، لوک سبھا میں مودی کے جھوٹے دعوے بے نقاب ہو گئے،بھارتی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نےبھی اودھم پور، آدم پور، بھج اور پٹھان کوٹ ایئر بیسز کی تباہی کا اعتراف کر لیا،آپریشن سندور میں پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی نے مودی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا

    امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز کے مطابق پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دے کر ان کے جنگی طیارے ان کی ہی حدود میں مار گرائے،بی بی سی کے ریجنل ایڈیٹر اینبرسن اتھر جان نے بھی پاکستان کی دفاعی برتری کا اعتراف کیا ، اینبرسن اتھر جان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا مگر پھر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،بین الاقوامی میڈیا سی این این کے مطابق امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرائی،

    امریکی صدر نے29 سے زائد بار پاک بھارت کشیدگی روکنے اور خطے کو نیوکلیئر جنگ سے بچانے کا اعتراف کیا،بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے بھی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی سفارتی کامیابی کو تسلیم کیا،عالمی سطح پر ہزیمت کے باوجود مودی کے جنگی جنون نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے