Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعظم  سے ورلڈ اکنامک فورم کی مینیجنگ ڈائریکٹر کی ملاقات

    وزیراعظم سے ورلڈ اکنامک فورم کی مینیجنگ ڈائریکٹر کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے مینیجنگ بورڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر اور رکن محترمہ سعدیہ زاہدی نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ پاکستان کی مضبوط اور دیرینہ شراکت داری کا اعادہ کیا اور سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے سالانہ اجلاسوں کے ذریعے ڈبلیو ای ایف کی پاکستان کے ساتھ مسلسل روابط کو سراہا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے محترمہ زاہدی کو پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں ملک میں نمایاں معاشی بحالی کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خاص طور پر اقتصادی ترقی، صنفی شمولیت، پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیجیٹائزیشن کے شعبوں میں WEF کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید تقویت دینے میں پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ مینیجنگ ڈائریکٹر ورلڈ اکنامک فورم نے بھی اس امر میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

    محترمہ سعدیہ زاہدی نے اپنے دورے کے دوران پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی مثبت معاشی رفتار کو سراہا اور وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کی کوششوں کو سراہا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے پائیدار ترقی کے حصول کے لیے پاکستان اور ورلڈ اکنامک فورم کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

  • باجوڑ   آپریشن ، مقامی آبادی کے جان ومال کو حکومت تحفظ فراہم کرے،خالد مسعود سندھو

    باجوڑ آپریشن ، مقامی آبادی کے جان ومال کو حکومت تحفظ فراہم کرے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ باجوڑ میں آپریشن کے دوران مقامی آبادی کے جان ومال کو حکومت تحفظ فراہم کرے،ریاست اپنی رٹ ضرور قائم کرے لیکن مقامی آبادی کو نقصان پہنچا کر نہیں،بیرونی عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے والے دہشتگردوں کو بھی چاہئے کہ وہ سرنڈر کریں ،پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں،ملک کو امن کا گہوارہ اتحاد و یکجہتی سے ہی بنایا جا سکتا ہے.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں آپریشن جاری ہے اس دوران حکومت کو مقامی آبادی کا خیال رکھنا ہو گا،خواتین اور بچوں سمیت مقامی افراد کو تحفظ فراہم کرنا اور انکے جان و مال کا خیال رکھنا حکومت کی ہی ذمہ داری ہے،آپریشن کے دوران اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی بے گناہ شہری کو نقصان نہ پہنچے،دہشت گرد عناصر اس حقیقت کو سمجھیں کہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے، اور اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا نہ صرف ریاست کے خلاف بغاوت ہے بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہے۔پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے ریاست کے سامنے سرنڈر کریں اور پاکستان کو ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، فورسز کے جوانوں کی طرح عام شہری بھی شہید ہوئے،اب وقت ہے کہ جس اتحاد ویکجہتی کے ساتھ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تھا اسی طرح متحد ہوکر پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے.

  • بلوچستان کابینہ نے میانی ہور کو پاکستان کا تیسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے دیا

    بلوچستان کابینہ نے میانی ہور کو پاکستان کا تیسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے دیا

    بلوچستان کابینہ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے میانی ہور کو پاکستان کا تیسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے دیا ہے، جس کا مقصد اس خطے کے نازک ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کرنا ہے۔

    ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ترجمان کے مطابق، میانی ہور کا یہ اعلان ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک سنگ میل ہے، کیونکہ یہ علاقہ اپنی نوعیت میں نہایت منفرد ہے اور پاکستان کے ساحلی علاقوں میں حیاتیاتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔بلوچستان کی حکومت نے اس سے قبل بھی ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ 2017 میں آسٹولا آئی لینڈ کو پاکستان کا پہلا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دیا گیا تھا، جبکہ 2024 میں چرنا آئی لینڈ کو دوسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا بنایا گیا۔ یہ دونوں مقامات حیاتیاتی تنوع اور مرجان کیچڑ کے جنگلات کی اہم آماجگاہیں ہیں جو قدرتی ماحول کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

    ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق، میانی ہور ملک کے چند ایسے علاقوں میں شامل ہے جہاں قدرتی مینگروز کے جنگلات بہت ہی بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد مقام ہے جہاں مینگروز کی تین مختلف اقسام قدرتی طور پر پائی جاتی ہیں۔ مینگروز کے جنگلات سمندری حیات، پرندوں، اور دیگر جانداروں کے لیے محفوظ رہائش فراہم کرتے ہیں اور ساحلی خطے کو ماحولیاتی خطرات جیسے سیلاب اور سمندری طوفانوں سے بچاتے ہیں۔میانی ہور ضلع لسبیلہ میں واقع پاکستان کی سب سے بڑی لگون بھی ہے، جہاں مختلف قسم کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان پرندوں کی اقسام کی بنیاد پر میانی ہور کو مئی 2001 میں رامسر سائٹ کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا، جو اس مقام کی عالمی ماحولیاتی اہمیت کا ثبوت ہے۔ علاوہ ازیں، ستمبر 2022 میں حکومت بلوچستان نے میانی ہور کے مینگروز جنگلات کو "محفوظ جنگلات” قرار دے کر ان کی حفاظت کو مزید تقویت دی تھی۔

    ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر رب نواز نے اس حوالے سے کہا کہ میانی ہور کا نازک میرین ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع اس وقت کئی ماحولیاتی خطرات کا شکار ہے۔ انہوں نے وفاقی اور دیگر ساحلی صوبوں کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان حکومت کے اس اقدام کو اپناتے ہوئے مزید میرین پروٹیکٹڈ ایریاز کے قیام پر توجہ دیں تاکہ پاکستان کے سمندری وسائل اور حیاتیاتی ورثے کو تحفظ دیا جا سکے۔

  • مودی سرکار کا نام نہاد فالس فلیگ” آپریشن مہادیو”  بری طرح بے نقاب

    مودی سرکار کا نام نہاد فالس فلیگ” آپریشن مہادیو” بری طرح بے نقاب

    پہلگام ہو یا مہادیو فالس فلیگ آپریشن، مودی کے سیاسی ایجنڈے کو سہارا دینے کی ناکام کوشش جاریں

    مودی سرکار نے "آپریشن سندور” کی ناکامی چھپانے کے لیے ” آپریشن مہادیو” کا ڈرامہ رچایا،مودی کی لوک سبھا میں تقریر سے ایک دن قبل فیک انکاونٹر، سیاسی اسٹیج تیار کرنے کی کوشش ہے،فالس فلیگ آپریشنز، ہندوتوا سرکار کی ریاستی پالیسی بن چکے ،آپریشن سندور پر پارلیمانی بحث سے ایک دن قبل پہلگام حملے کے دہشتگرد ہلاک ہو جانا محض اتفاق نہیں ہے ،گودی میڈیا نے بغیر کسی ثبوت کے دہشتگردوں کو پاکستان سے جوڑ کر پاکستان دشمنی کا ثبوت دے دیا

    بھارتی میڈیا وی آن نیوز کے مطابق؛”آپریشن مہادیو میں بھارتی فوج نے پہلگام حملے سے منسلک تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا”سری نگر کے قریب کارروائی میں مارا گیا ایک مقامی شخص دہشتگردوں کا سرغنہ تھا، بھارتی فوج نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے لاشوں کے ساتھ بڑی مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد کیا، برآمد شدہ اسلحے میں سوویت ساختہ اے کے-47 رائفل، امریکی ساختہ کاربائن، سترہ رائفل گرینیڈ اور دیگر ساز و سامان شامل ہے،

    حسب روایت مودی سرکار نے دہشتگردوں کی شناخت اور شواہد سےقبل ہی دہشتگردوں کو پاکستان سے جوڑ دیا ہے،لوک سبھا میں عسکری ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے فالس فلیگ آپریشن اور پاکستان پر الزام تراشی مودی کا پرانا حربہ ہے،ماہرین کے مطابق جاری کی گئی ہلاک دہشتگردوں کی تصاویر میں واضح ہے کہ ان کے پاس موجود ہتھیار ہی غیر فعال تھے، رائفل کی بیرل میں کپڑا موجود، حقیقی مقابلے میں ایسا غیر فعال ہتھیار کیسے ہو سکتا ہے؟ پرانے جعلی مقابلوں کی تصاویر مودی کی تقریر سے ایک دن پہلے جاری کرنا مودی کی سیاسی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش ہے،اگر دہشتگرد پاکستانی تھے تو ان کے شواہد عالمی فورمز پر کیوں پیش نہیں کیے جاتے؟ہر بار پرانی AK-47 دکھا کر دہشتگردی کا ڈرامہ رچانا بھارتی نااہل خفیہ اداروں کی پرانی عادت ہے،بھارت کو فالس فلیگ ڈراموں کے لیے بہتر اسکرپٹ رائٹرز چاہییں، ایسی غلطیاں بھارتی سازش بے نقاب کر دیتی ہیں،بھارت میں ہر فالس فلیگ کے پیچھے ایک سیاسی بحران یا الیکشن قریب ہونا محض اتفاق نہیں ہو سکتا

  • ملتان، معصوم بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا گرفتار

    ملتان، معصوم بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا گرفتار

    ملتان میں معصوم بچی عبیر فاطمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا .

    ترجمان پولیس کے مطابق مورخہ 15.07.2025کو المصطفیٰ کالونی رشید آباد علاقہ تھانہ BZمیں بوقت 11:34بجیدن کو ایک نامعلوم شخص نے عبیر فاطمہ نامی بچی کے ساتھ گلی میں جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی اور موقع سے فرار ہو گیا جس پر تھانہ BZملتان میں مقدمہ نمبر 2669/25بجرم 377Bت پ درج رجسٹر ہوا۔ مقدمہ ہذا کی تفتیش CCDملتان کے سپرد ہوئی ۔ امروز مورخہ 30.07.2025ٹیم CCDملتان کواطلاع موصول ہوئی کہ مقدمہ متذکرہ بالا کا ملزم ایک خفیہ مقام پر موجود ہے جس پر ٹیم CCDملتان نے بسلسلہ گرفتاری ملزم متذکرہ بالا ریڈکیا تو ملزم مذکور نے بخوف گرفتاری پولیس پارٹی پر جان سے مار دینے کی نیت سے فائرنگ کردی اور عجلت وجلد بازی میں آکر اپنی شرم گاہ پر فائر کردیا اور موقع پر زخمی ہوگیا۔ زخمی ملزم کو برائے طبی امدادو علاج معالجہ نزد نشترہسپتال لایا گیا۔ ملزم مذکور کی شناخت بذریعہ CROسسٹم کی گئی جس نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ وہی ملزم ہے جو عبیر فاطمہ نامی معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے کیس میں ملوث تھا۔مزید کریمنل ریکارڈ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ ملزم مذکور نے سال 2023 میں اپنے سگے بھائی قتل کردیا تھا جس کا مقدمہ نمبر 1631/2023بجرم 302ت پ تھانہ BZ ملتان میں درج رجسٹر ہے۔

  • پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح حکومتی توقعات سے کم رہنے کا خدشہ

    پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح حکومتی توقعات سے کم رہنے کا خدشہ

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک اپ ڈیٹ رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں پاکستان سمیت عالمی معیشت کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ہدف 4.2 فیصد سے کم رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ موجودہ مالی سال میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جو حکومتی توقعات سے تقریباً 0.6 فیصد کم ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار مجموعی عالمی معیشت کی شرح نمو سے بہتر ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب، عالمی معیشت کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں عالمی معیشت کی شرح نمو 3 فیصد اور 2026 میں 3.1 فیصد متوقع ہے۔ رپورٹ میں عالمی سطح پر مہنگائی کی شرح میں کمی اور مالیاتی حالات میں بہتری کے آثار دیکھنے کو مل رہے ہیں، جو عالمی اقتصادی استحکام کے لیے خوش آئند ہیں۔تاہم، رپورٹ میں کچھ خطرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ممکنہ بلند ٹیرف (Product Taxes)، بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کو عالمی معیشت کے لیے بڑے خطرات قرار دیا گیا ہے، جو عالمی معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

    آئی ایم ایف نے عالمی معیشت میں اعتماد کی بحالی اور سازگار اقتصادی حالات کو پالیسی سازوں کے لیے اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مؤثر حکومتی پالیسیاں اور عالمی تعاون عالمی معیشت کی مثبت سمت میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

  • کلفٹن جوڑا قتل،مقتول ساجد کے والد نے   5 افراد پر شک ظاہر کر دیا

    کلفٹن جوڑا قتل،مقتول ساجد کے والد نے 5 افراد پر شک ظاہر کر دیا

    کراچی: کلفٹن کے علاقے میں قتل کیے گئے ساجد کے والد عارف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل میں بیٹے کا دوست احتشام اور بہو کے بھائی سمیت پانچ افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔ عارف نے بتایا کہ ان کا بیٹا ساجد 14 جولائی کو گھر سے نکلا اور اس کے بعد اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

    عارف نے بتایا، "احتشام میرے بیٹے کا دوست تھا، جو گوجرانوالہ سے ہی ہمارے ساتھ نکلا تھا۔ اگلے ہی دن ثنا کے گھر کی دیگر خواتین ہمارے گھر آ کر ہمیں دھمکیاں دینے لگیں، جس کے باعث ہم خوفزدہ ہو کر اپنے گھر چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو گئے۔”ان لوگوں نے ہمارے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ہم آج پولیس کے پاس بھی گئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے،

    مقتول کے والد نے کہا کہ سوشل میڈیا اور رشتہ داروں کی مدد سے انہیں لاشوں کے حوالے سے معلومات ملیں، جس کے بعد وہ جناح اسپتال پہنچے جہاں بیٹے کی شناخت کی۔

    کراچی پولیس کے مطابق کلفٹن کے بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں واقع چائنہ پورٹ کے قریب جوڑے کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ جوڑے کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا، اور دونوں کو سر کے پچھلے حصے میں گولیاں ماری گئی تھیں۔ جائے وقوع سے ملنے والے موبائل فون میں سم کارڈ موجود نہیں تھا، جس سے قاتلوں کی شناخت مشکل ہو رہی ہے۔حکام نے مقتول جوڑے کا نکاح نامہ بھی جاری کیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ ساجد مسیح نے 22 جولائی کو اسلام قبول کیا تھا اور دونوں نے اسی دن کورٹ میرج کی تھی۔ مقتولہ کا نام ثنا آصف ہے اور دونوں کا تعلق گوجرانوالہ سے بتایا گیا ہے۔

    دوسری جانب مقتولہ ثنا آصف کے بھائی وقاص علی کی مدعیت میں گوجرانوالہ کے تھانہ تتلے علی میں 17 جولائی 2025 کو ساجد مسیح کے خلاف اغواء کا مقدمہ بھی درج ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ، جمشید دستی کی نااہلی، این اے 175 میں ضمنی انتخاب کا شیڈول معطل

    لاہور ہائیکورٹ، جمشید دستی کی نااہلی، این اے 175 میں ضمنی انتخاب کا شیڈول معطل

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جمشید دستی کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر اہم سماعت کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 175 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کا شیڈول معطل کر دیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں جمشید دستی کی نااہلی کے خلاف درخواست زیر سماعت تھی، جس پر عدالت نے ضمنی انتخاب کے شیڈول کو معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان، اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔عدالت نے تمام فریقین کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد حلقہ این اے 175 میں ضمنی انتخاب مؤخر ہو گیا ہے جب کہ پی ٹی آئی کے رہنما جمشید دستی کی نااہلی سے متعلق کیس کی مزید سماعت کی جائے گی۔

    کیس کی سماعت کے بعد جمشید دستی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ چیف جسٹس آف پنجاب لاہور ہائیکورٹ میڈم عالیہ نیلم صاحبہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمشید احمد خان دستی کی نا اہلی کیس کی سماعت کی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکم بابت نااہلی کو معطل کرکے جمشید احمد خان دستی کو بطور MNA حلقہ NA175 مظفرگڑھ بحال کرکے ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کا حکم جاری کر دیا

  • ندا صالح پاکستان کی پہلی خاتون ٹرین ڈرائیور بن گئیں

    ندا صالح پاکستان کی پہلی خاتون ٹرین ڈرائیور بن گئیں

    پاکستان کی ٹرانسپورٹیشن کی دنیا میں خواتین کے لیے ایک سنگ میل عبور کرتے ہوئے ندا صالح نے پہلی بار بطور خاتون ٹرین ڈرائیور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

    لاہور کی اورنج لائن میٹرو ٹرین کی ڈرائیونگ میں تربیت حاصل کرنے والی ندا نے نہ صرف اپنے جذبے اور محنت کی بدولت یہ مقام حاصل کیا بلکہ اس سنگِ میل نے پاکستانی خواتین کے لیے تکنیکی اور روایتی طور پر مردوں کے لیے مخصوص شعبوں میں نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ندا صالح نے اس تاریخی کامیابی کے لیے چینی اور پاکستانی ماہرین کی جانب سے فراہم کردہ جدید تربیتی پروگرام میں شرکت کی، جس میں انہیں میٹرو ٹرین کے تمام فنی، تکنیکی اور حفاظتی پہلوؤں کی مکمل جانکاری دی گئی۔ اورنج لائن میٹرو کے اس جدید ٹرانزٹ نظام میں تربیت حاصل کرنا آسان نہیں تھا، تاہم ندا نے اپنے عزم اور ہنر کے ذریعے اس چیلنج کو کامیابی میں بدل دیا۔

    ندا صالح نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچپن سے ہی انہیں ریل گاڑیوں اور ان کی ڈرائیونگ کا گہرا شوق تھا۔ انہوں نے ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ میں گریجویشن مکمل کی اور اورنج لائن منصوبے میں انجینئرنگ کے شعبے میں ملازمت کے لیے درخواست دی۔ جب انہیں پتہ چلا کہ میٹرو ٹرین ڈرائیورز کی تربیت جاری ہے تو انہوں نے چینی انتظامیہ سے درخواست کی کہ خواتین کو بھی اس تربیتی پروگرام میں شامل کیا جائے، جس پر مثبت ردعمل آیا اور انہیں اس پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔ندا نے بتایا کہ شروع میں ان کے اہلِ خانہ نے اس غیر روایتی پیشے میں ان کے شامل ہونے پر کچھ تشویش ظاہر کی، مگر ان کے عزم، محنت اور سنجیدگی کو دیکھ کر انہوں نے مکمل حمایت کی اور آج ندا اس میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوئیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ٹرین چلانا بظاہر آسان کام نظر آتا ہے مگر یہ ایک انتہائی ذمہ داری کا کام ہے جو مکمل توجہ، نظم و ضبط اور حفاظتی معیار کی پابندی کا متقاضی ہے۔ ندا روزانہ ٹرین آپریٹ کرنے سے پہلے ذاتی طور پر تمام سروسنگ اور مینٹیننس ایریاز کا معائنہ کرتی ہیں تاکہ مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    ندا صالح کی یہ کامیابی نہ صرف خواتین کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے بلکہ پاکستان میں خواتین کو ٹیکنیکل اور غیر روایتی شعبوں میں بڑھانے کی حکومت اور سماجی تنظیموں کی کوششوں کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ندا کی اس کامیابی سے اور زیادہ خواتین اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے حوصلہ پائیں گی۔

  • بچے پیدا کریں اور سالانہ 500 ڈالر لیں،والدین کو پیشکش

    بچے پیدا کریں اور سالانہ 500 ڈالر لیں،والدین کو پیشکش

    چین نے شرح پیدائش میں مسلسل کمی کے باعث ایک نیا مالی امدادی منصوبہ متعارف کروا دیا ہے جس کا مقصد والدین کو سہولت فراہم کرنا اور نئی نسل کی افزائش کو فروغ دینا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تین سال سے کم عمر بچوں کے والدین کو سالانہ 3,600 یوان (تقریباً 500 امریکی ڈالر) فی بچہ دیے جائیں گے۔

    یہ اسکیم چینی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ پہلا قومی سطح کا وظیفہ ہے، جو ملک کی گرتی ہوئی آبادی کو روکنے اور بچوں کی تعداد میں اضافے کی ترغیب دینے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اسکیم 2024ء کے آغاز سے نافذ العمل ہوگی اور اس میں 2022ء سے 2024ء کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کے والدین بھی شامل ہو سکیں گے، جو جزوی سبسڈی کے لیے درخواست دے سکیں گے۔چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد بچوں کی پرورش کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے تاکہ والدین زیادہ تعداد میں بچے پیدا کرنے پر آمادہ ہوں۔ اس اسکیم کے ذریعے ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ خاندانوں کو مالی مدد فراہم کی جائے گی، جس سے بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔

    چین کے شمالی شہر ہوہوٹ نے مارچ میں پہلے ہی تین یا اس سے زائد بچوں والے خاندانوں کو فی بچہ ایک لاکھ یوان (تقریباً 14 ہزار امریکی ڈالر) دینے کا اعلان کیا تھا، جو کہ بچوں کی تعداد بڑھانے کی حکومتی کوششوں کی ایک اور مثال ہے۔چین کی یووا پاپولیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایک بچے کو 17 سال کی عمر تک پالنے میں اوسطاً 75,700 امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جو دنیا میں بچوں کی پرورش کے سب سے زیادہ اخراجات میں شامل ہے۔ یہ مالی بوجھ چینی والدین کے لیے بڑا چیلنج ہے اور اس کا براہ راست اثر شرح پیدائش پر پڑ رہا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024ء میں چین کی آبادی مسلسل تیسرے سال کم ہوئی ہے۔ گزشتہ سال ملک میں 9.54 ملین بچے پیدا ہوئے، جو پچھلے سال کی نسبت معمولی اضافہ تھا لیکن اس کے باوجود کل آبادی میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔چین کی 1.4 ارب کی آبادی تیزی سے نہ صرف کم ہو رہی ہے بلکہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، جو ملک کے لیے ایک بڑا سماجی و معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی سے محنت کش طبقہ کم ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق، والدین کو مالی مدد دینے کے علاوہ بھی دیگر سماجی اور اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ شرح پیدائش کو بہتر بنایا جا سکے اور چین کی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔