Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکی صدر ٹرمپ کا گرپتونت سنگھ  کو خط، بھارتی حکومت کو سفارتی سطح پر ایک اور جھٹکا

    امریکی صدر ٹرمپ کا گرپتونت سنگھ کو خط، بھارتی حکومت کو سفارتی سطح پر ایک اور جھٹکا

    امریکی صدر ٹرمپ کا گرپتونت سنگھ کو خط، بھارتی حکومت کو سفارتی سطح پر ایک اور جھٹکا

    بھارت کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر خالصتان تحریک کو کچلنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں،اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے بھارت کے موقف کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا،بھارت کی ناکام سفارتکاری کا بڑا ثبوت امریکی صدر ٹرمپ کا گرو پتونت سنگھ کو خط ہے،یہ خط بھارت کی سفارتی حکمت عملی کی ناکامی اور خالصتان تحریک کی عالمی بازگشت کا ثبوت بن چکا ہے،اب تک 27 بار پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا دعویٰ صدر ٹرمپ پہلے ہی کرچکے ہیں،امریکی صدر ٹرمپ نے خالصتان کی حامی تنظیم سکھ فار جسٹس کے رہنما گروپتونت سنگھ پنن کو خط لکھ دیا

    امریکی صدر ٹرمپ کے خط نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،گروپتونت سنگھ پنن کو بھارتی حکومت2020ء میں دہشتگرد قرار دے چکی ہے،امریکی صدر کی جانب سے موصول خط کو خالصتان تحریک کے لئے خاص اہمیت اختیار کر گیا،خط میں امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ "میں اپنے شہریوں، اپنی قوم اور اپنی اقدار کو سب سے پہلے رکھتا ہوں”جب امریکہ محفوظ ہوگا، تبھی دنیا بھی محفوظ ہوگی،میں اپنے شہریوں کے حقوق اور سلامتی کے لیے لڑنا کبھی نہیں چھوڑوں گا،

    صدر ٹرمپ کا خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 17 اگست کو واشنگٹن میں خالصتان تحریک کا ریفرنڈم ہونا ہے،ریفرنڈم سے چند ہفتے قبل صدر کا یہ خط نہ صرف سیاسی بلکہ سفارتی حلقوں میں بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے،صدر ٹرمپ کے خط میں تجارت، ٹیرف، دفاعی اخراجات، اور امریکی اقدار پر مبنی پالیسیوں پر زور دیا گیا ہے

    صدر ٹرمپ نے خط میں مزید لکھا ہے کہ بطور صدر، وہ ان اقدار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں "جو ہمیں امریکی بناتی ہیں.خط کے مندرجات میں امریکہ کی خارجہ پالیسی، فوجی تیاری، اور عالمی امداد سے متعلق فیصلے بھی شامل ہیں

  • پی اے سی نے شوگر ملز مالکان کے نام مانگ لئے

    پی اے سی نے شوگر ملز مالکان کے نام مانگ لئے

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی کی امپورٹ اور قیمتوں میں اضافے پرایف بی آر حکام سے ملز مالکان کے نام مانگ لیے۔

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہوا جہاں چینی بحران پر بحث ہوئی جب کہ سیکرٹری صنعت و پیداوار نے چینی بحران پر بریفنگ دی،اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ریاض فتیانہ نے کہا کہ چینی کی قیمت کی مد میں قوم کے ساتھ 287 ارب روپے کا دھوکا کیا گیا ہے، اس کی نشاندہی کرنے والے پنجاب کےکین کمشنر زمان وٹوکو ہٹاکرکھڈے لائن لگا دیا گیا، کبھی کہتے ہیں کہ چینی سرپلس ہے اور کبھی شارٹ فال کا بتایا جاتا ہے،سیکرٹری صنعت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شوگر انڈسٹری کو صوبائی حکومتیں ریگولیٹ کرتی ہیں، شوگرایڈوائزری بورڈمیں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، بورڈ میں شوگر انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں اور بورڈ چینی کے موجودہ اسٹاک اور ضروریات کا جائزہ لیتا ہے، کرشنگ سیزن 15 نومبر سے 15 مارچ تک ہوتا ہے، چینی کے موجودہ اسٹاک اور متوقع پیداوار کا ڈیٹا صوبائی حکومتیں فراہم کرتی ہیں۔

    اس موقع پر چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کہا کہ شوگر ملز مالکان کو برآمد کے لیے سبسڈی کیوں دی گئی؟ ریاض فتیانہ نے پوچھا کیا وجہ تھی کہ راتوں رات ایس آراو جاری کر کے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی؟ اجلاس کے دوران کمیٹی ممبر معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ شوگر مافیا حکومتوں کا حصہ ہے، چیئرمین پی اے سی نے سیکرٹری صنعت سے کہا ہم نے آپ سے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کی تھیں؟کہاں ہیں تفصیلات؟ اس پر سیکرٹری نے جواب دیا ہمارے پاس شوگر ملز کی فہرست ہے، جنید اکبر نے کہا شوگر ملز نہیں مالکان اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی دیں۔

    حکام وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ اس سال 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ چینی سرپلس رہی، 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی اگلے سال کیلئے ریزرو رکھی گئی، وفاقی کابینہ اور ای سی سی نے 3 مراحل میں7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کرنےکی اجازت دی، چینی برآمد کرکے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ کمایا گیا،حکام نے مزید بتایا کہ جب چینی ایکسپورٹ کی گئی تو مقامی مارکیٹ میں قیمت 143 روپے کلو تھی اور اب قیمت 173 روپے فی کلو ہے، مارکیٹ میں قیمت بڑھنے پر وزیراعظم نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارکی سربراہی میں کمیٹی قائم کی۔، پی اے سی اجلاس میں چینی کی امپورٹ سے متعلق ایف بی آر کا ایس آراو بھی زیربحث آیا اور رکن کمیٹی ثناء اللہ مستی خیل نے پوچھا کن کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایف بی آر نے ایس آر او جاری کیا، چینی کی ایک روپیہ قیمت بڑھانے سے 44 ارب کمائے جاتے ہیں، برسوں سےچوہے بلی کا کھیل جاری ہے،خدارا ہمیں معاف کر دیں، مل مالکان ساری ملز پاکستانیوں کے حوالے کردیں ہم چلا لیں گے۔

    رکن کمیٹی معین عامر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستانیوں کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں، شوگر ایڈوائزری بورڈ سارے فساد کی جڑ ہے اس میں عوامی نمائندے ہونے چاہئیں، بتایا جائے کہ چینی کی امپورٹ سے ہمارے کتنے ڈالرز ضائع ہونگے،رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے چینی ایکسپورٹ کرنے والی ملز کے مالکان کون کون ہیں،ایف بی آر حکام نے جواب دیا آپ جب حکم کریں گے ہم مالکان کے ناموں کی تفصیلات دے دیں گے، اس پر کمیٹی چیئرمین جنید اکبر نے کہا کہ میں نے حکم دیا تھا لیکن آپ مالکان کے نام نہیں لائے.بعد ازاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر سے ملز مالکان کے نام طلب کر لیے

  • ڈیلٹا ایئرلائنز کا کوپائلٹ  بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات میں گرفتار

    ڈیلٹا ایئرلائنز کا کوپائلٹ بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات میں گرفتار

    سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتوار کی صبح تقریباً 7:05 بجے ایک ڈیلٹا ایئرلائنز کے کو-پائلٹ رستم بھاگواگر کو گرفتار کر لیا گیا۔ 34 سالہ رستم پر بچوں سے جنسی زیادتی کا الزام ہے۔

    حکام کے مطابق، ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کے ایجنٹس نے فوری طور پر ڈیلٹا فلائٹ 2809 کے بوئنگ 757-300 طیارے میں ک پٹ میں چھاپہ مار کر رستم کو حراست میں لیا۔ یہ فلائٹ منی پولس سے سان فرانسسکو آئی تھی۔ گرفتاری اس وقت عمل میں آئیں جب مسافر ابھی طیارے سے اترنے کی تیاری کر رہے تھے، عینی شاہدین کے مطابق تقریباً 10 ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایجنٹس نے طیارہ گراونڈ پر اترتے ہی فوراً کاک پٹ تک رسائی حاصل کی اور کو-پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ایک مسافر نے سان فرانسسکو کرانیکل کو بتایا، "افسران اور ایجنٹس نے اپنے بیجز، ہتھیاروں اور مختلف ایجنسیوں کے نشانات کے ساتھ راہ بنا کر کاک پٹ میں داخل ہو کر کو-پائلٹ کو گرفتار کیا اور پھر اسے لے گئے۔”

    رستم بھاگواگر کے شریک پائلٹ نے کہا کہ وہ اس گرفتاری سے بالکل لاعلم تھا اور اسے گرفتار کیے جانے کی اطلاع نہیں دی گئی تاکہ وہ بھاگواگر کو خبردار نہ کر سکے اور گرفتاری بغیر کسی رکاوٹ کے عمل میں آئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی ٹیم اپریل 2025 سے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد تحقیقات کر رہی تھی۔ ملزم کے خلاف وارنٹ گرفتاری حاصل کیا گیا تھا۔رستم بھاگواگر کو اپریل میں ایک کیس میں 10 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ پانچ مرتبہ زبانی جنسی زیادتی کے الزامات کے تحت شناخت کیا گیا تھا۔

    ڈیلٹا ایئرلائنز نے سی بی ایس نیوز کو ایک بیان میں کہا، "ڈیلٹا غیر قانونی حرکتوں کو بالکل برداشت نہیں کرتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ ہمیں گرفتاری سے متعلق رپورٹ سن کر بہت افسوس ہوا ہے، اور متعلقہ فرد کو تفتیش کے دوران معطل کر دیا گیا ہے۔”

  • فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب

    فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب

    فتنہ الہندوستان اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کاگٹھ جوڑبے نقاب ہو گیا

    نام نہادلاپتہ افراد کی آڑمیں دہشت گردی کے ناقابل تردیدشواہدمنظرعام پر آگئے، سیکورٹی ذرائع کے مطابق قلات آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل ہے،اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد نام نہاد لاپتہ افرادکی لسٹ میں شامل تھے،مارچ 2024 کوگوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل تھا، اسکے علاوہ نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا،ماہ رنگ لانگو نے ہمیشہ نام نہاد لاپتہ افراد کابیانیہ اپنے مضموم عزائم اور ریاست کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا، ہلاک دہشتگرد صہیب لانگو کی ماہ رنگ لانگو کے ساتھ مظاہروں میں کئی تصاویر اورویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں، نام نہاد لا پتہ افراد وہی ہیں جو فتنہ الہندوستان کے آلہ کاربن کر کر نہتے اور معصوم پاکستانیوں پر دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہیں،

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق 21 جولائی 2025 کو قلات آپریشن کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کا دہشتگرد صہیب لانگو جہنم واصل ہوا، فتنہ الہندوستان نے دہشتگرد صہیب لانگو عرف عامر بخش کی ہلاکت اور خودسے وابستگی کو تسلیم کیا، فتنہ ہندوستان سے منسلک میڈیا پلیٹ فارم پانک اور بھام نے دہشتگردصہیب لانگو کو 25 جولائی 2024 کولاپتہ قرار دیا تھا، بام نے یہ دعوی کیا تھا کہ دہشت گرد صہیب لانگو کو 24 جولائی 2024 کو کلی سریاب کوئٹہ سے جبرا گمشدہ کیا گیا، ماہ رنگ لانگو اور اس کے سہولت کاروں نے نہتے اور معصوم پاکستانیوں پرفتنہ الہندوستان کے دہشتگردانہ حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی،مستند شواہد سے واضح ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی دراصل فتنہ الہندوستان کی پراکسی ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہروں میں منہ چھپائے لوگ اصل میں دہشتگردوں کے آلہ کار اور سہولت کارہیں،حقائق سے واضح ہے کہ جن لوگوں کو لاپتہ افراد بنا کر پیش کیا جاتا ہے وہ اصل میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردہیں،

  • جیل انتظامیہ حکم نہیں مان رہی ،علیمہ خان

    جیل انتظامیہ حکم نہیں مان رہی ،علیمہ خان

    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہےکہ عمران خان کا کیس 30 سیکنڈ کےلیے کیس سنا اور 12 تاریخ دےدی گئی کہ اس کے درمیان کوئی ٹائم نہیں ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ان کو پتا ہوگا کہ سلمان صفدر ملک سے باہر ہیں تو 24گھنٹے کے اندرکیس لگادیا، یہ سوچ رہے تھے کہ وکیل پیش نہیں ہوسکیں گے لیکن سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے، عمران خان کا کیس 30 سیکنڈ کےلیے کیس سنا اور 12 تاریخ دےدی گئی کہ اس کے درمیان کوئی ٹائم نہیں ہے، آج عمران خان سے اہلخانہ کی ملاقات کا دن ہے اور ہم نے عدالت سے بھی حکم نامہ لیا ہوا ہے، آج توشہ خانہ کیس کی سماعت بھی ہے، گزشتہ سماعت پرپراسیکیوشن کے 12 وکلا اور عملہ ملا کر 20 کے قریب افراد جاتے تھے، ہماری جانب سے جیل انتظامیہ صرف ایک وکیل کو جانے دیتی ہے، ہمارے وکلاکی ٹیم کو اڈیالا کے اندر نہیں جانے دیا جاتا اور نہ ہی فیملی کو جانے دیتے ہیں۔

    علیمہ خان نے مزید کہاکہ اڈیالہ میں ملاقاتوں اور کیس کے حوالے سےجج کی نہیں سنی جارہی، جج نے کہا کہ اہل خانہ اور وکلا کو بلائیں لیکن جیل انتظامیہ حکم نہیں مان رہی تھی،یہ ٹرائل کے تقاضے بھی پورے نہیں کر رہے، یہ اوپن ٹرائل ہے ہی نہیں، ہم یہی چاہتے ہیں کہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

  • سیلابی موسم کے دوران غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے ٹک ٹاک کی ہدایات جاری

    سیلابی موسم کے دوران غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے ٹک ٹاک کی ہدایات جاری

    ٹِک ٹاک نے پاکستان میں جاری مون سون کے سیلابی موسم کے دوران صارفین کو مستند اور تازہ ترین معلومات تک رسائی فراہم کرنے کی غرض سے ایک نئی سرچ گائیڈ متعارف کرائی ہے۔ یہ اقدام پلیٹ فارم پر تحفظ اور حقائق پر مبنی آگاہی کو فروغ دینےکے لیے ٹِک ٹاک کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت قدرتی آفات سے متعلق غلط معلومات کے رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے تصدیق شدہ معلومات فراہم کی جائیں گی۔

    ٹِک ٹاک پر جب صارفین سیلاب سے متعلق معلومات تلاش کریں گے، تو اُنہیں ایک بینر نمایاں طور پر نظر آئے گا جو معتبر ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرنے کی ترغیب دے گا۔ یہ گائیڈ صارفین کو براہِ راست نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی تک رسائی دیتی ہے، جہاں سے پاکستان میں قدرتی آفات سے متعلق تصدیق شدہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس گائیڈ میں ٹِک ٹاک کے سیفٹی سینٹر پردستیاب وسائل کا بھی لنک شامل ہے، اور اسی کے ساتھ ٹِک ٹاک کے ”ٹریجک ایونٹ سپورٹ“ گائیڈ کا براہِ راست لنک بھی فراہم کیا گیا ہے، جو پریشان کن واقعات سے متاثرہ افراد کے لیے عملی مدد فراہم کرتا ہے۔

    ٹِک ٹاک کی یہ گائیڈ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ”سانحہ“ کس قسم کے واقعات کو کہا جاتا ہے ، جن میں قدرتی آفات سے لے کر ذاتی نقصانات تک شامل ہیں۔ یہ گائیڈ صارفین کو ذہنی صحت کی معاونت حاصل کرنے کے طریقوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتی ہے، اور ایسے واقعات سے متعلق کانٹنٹ کو ذمہ داری سے شیئر کرنے یا رپورٹ کرنے کے اُصول بھی بتاتی ہے۔

    پاکستان میں ٹک ٹاک کے پبلک پالیسی اینڈ گورنمنٹ ریلیشنز کے سربراہ فہد محمد خان نیازی نے کہا:”ہم سمجھتے ہیں کہ بحران کے موقع بروقت اور درست معلومات تک رسائی انتہائی اہم ہوتی ہے۔ہم ان اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، جو براہِ راست آفات سے نمٹنے کے عمل سے وابستہ ہیں، اور اُن وسائل کو اپنی کمیونٹی کے لیے زیادہ نمایاں بنا کر، باخبر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں اور صارفین کی حفاظت کو یقینی بنانا ہمارا مقصد ہے۔“

    اس گائیڈ کو ٹِک ٹاک کے وسیع تر اہداف کی بنیاد پر متعارف کرایا گیا ہے، جن میں معتبر معلومات کو فروغ دینا اور اپنی کمیونٹی کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول تخلیق کرنا شامل ہے۔ ان ٹولز کو براہِ راست صارف کے تجربے میں شامل کر کے، ٹِک ٹاک اپنی کمیونٹی کو بامعنی معاونت اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک ایسے ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے جہاں لوگ باخبر رہ سکیں، اپنی فلاح و بہبود کا خیال رکھ سکیں، اور اہم لمحات میں ذمہ داری سے مشغول ہو سکیں۔

  • آپریشن سندور میں مودی سرکار کی ناکامی اور خاموشی پر کانگریس رہنماؤں کی کڑی تنقید

    آپریشن سندور میں مودی سرکار کی ناکامی اور خاموشی پر کانگریس رہنماؤں کی کڑی تنقید

    آپریشن سندور میں بدترین ناکامی نے مودی سرکار کی نااہلی اور جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا

    نہ وضاحت نہ جواب دہی، آپریشن سندور نے مودی سرکار کی کھوکھلی قیادت کی قلعی کھول دی ،کانگریس رہنما، سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پہلگام حملے اور آپریشن سندور کے حوالے سے مودی سرکار کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ،چدمبرم نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی خاموشی اور شفافیت پر بھی اعتراض کیا، چدمبرم کے مطابق”وزیراعظم مودی تین ماہ بعد بھی آپریشن سندور پر خاموش ہیں، عوام کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے”پہلگام حملے کے اصل دہشتگرد نہ گرفتار ہوئے نہ ہی انکی شناخت ہوئی، حکومت کیوں خاموش ہے؟حکومت نے صرف پناہ دینے والوں کی گرفتاری کی خبر دی، حملہ آور اب بھی لاپتہ ہیں،این آئی اے نے کئی ہفتوں میں کیا پیش رفت کی، حکومت یہ بتانے سے گریز کر رہی ہے، دہشتگردوں کی شناخت نہیں ہوئی وہ ملک کے اندر سے بھی ہو سکتے ہیں، مودی حکومت کیوں چھپا رہی ہے؟ پاکستان سے آئے دہشتگردوں کا کوئی ثبوت موجود نہیں، محض دعوؤں سے کام نہیں چلے گا، این آئی اے کی تحقیقات پر پردہ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ دہشتگردی پر خاموشی سوالات کو جنم دیتی ہے،اگر امریکی صدر ٹرمپ نے سیزفائر کرایا تو مودی حکومت تسلیم کیوں نہیں کر رہیڈی جی ایم اوز کی کال ریکارڈ ضرور ہوئی ہوگی، اگر نہیں تو یہ اور بھی بڑی غفلت ہے، آپریشن سندور میں انٹیلیجنس ایجنسیاں بری طرح ناکام رہیں، نقصان کو چھپانا عوام کے ساتھ دھوکا ہے،

    28 جولائی کو لوک سبھا میں آپریشن سندور پر سیشن کے دوران کانگریس رکنِ پارلیمنٹ دیپیندر سنگھ ہُوڈا نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ،کہا”اگر پاکستان گھٹنوں پر تھا اور مودی کے مطابق دنیا یہ مان رہی تھی کہ بھارت کا جنگ میں ہاتھ اوپر تھا تو سرکار نے سیز فائر کیوں کیا؟”مودی سرکار عوام کے سامنے رکھیں کہ سیز فائر کی کیا شرائط تھیں؟ بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان اور اس کی آرمی کو کلین چٹ دی،مودی سرکار کی جانب سے جنگ بندی پر رضامندی کیوں دی اگر حالات مودی کے قابو میں تھے؟

    بھارتی اپوزیشن اور عوام مودی کی سیاسی چالوں سے واقف ہو چکے ہیی،

  • مودی کا جنگی جنون، ہتھیاروں کی دوڑ ، خطے کو ایٹمی تصادم کی جانب دھکیلنے کی سازش

    مودی کا جنگی جنون، ہتھیاروں کی دوڑ ، خطے کو ایٹمی تصادم کی جانب دھکیلنے کی سازش

    مودی کا بڑھتا ہوا جنگی جنون بھارت کو ایک انتہا پسند فوجی ریاست میں بدل رہا ہے

    جنوبی ایشیا میں عسکری دباؤ بڑھانے کے لیے مودی سرکار ہائپرسانک میزائلوں جیسے مہلک ہتھیاروں پر اندھا دھند سرمایہ لگا رہی ہے،تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل سے منہ موڑ کر مودی سرکار اپنی ناکامیوں کو اسلحے کے ڈھیر میں چھپانے کی کوشش میں مصروف ہے،بھارتی دفاعی تحقیقاتی ادارے (IDRW) نے براہموس 2 منصوبے کی تفصیلات جاری کر دیں، رپورٹ کے مطابق؛بھارت اور روس براہموس 2 ہائپر سونک میزائل کی مشترکہ تیاری کے لیے سرگرم ہے،روسی صدر پیوٹن کے دورہ بھارت کے دوران براہموس 2 کی منظوری اور ٹیکنالوجی شیئرنگ پر فیصلہ متوقع ہے،براہموس 2 روس کے "زرکون” میزائل پر مبنی ہوگا جس کی رفتار میک 8 اور رینج 1500 کلومیٹر تک ہوگی، براہموس 2 ہائپر سونک میزائل زمین اور سمندر دونوں پر اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا، بھارت میں براہموس 2 کی تیاری ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت ہو رہی ہے، براہموس 2 کی ٹیکنالوجی بھارتی تیار کردہ سکیم جیٹ انجن اور روسی ڈیزائن کا امتزاج ہوگی جو بھارت کے "میک ان انڈیا” منصوبے کا حصہ ہے، براہموس 2 صرف بھارت اور روس کے لیے مخصوص رہے گا اور اس کی برآمد کی اجازت نہیں ہوگی، بھارت کی پالیسیوں کا مرکز اب عوامی بہبود نہیں بلکہ اسلحے کی دوڑ اور خطے میں فوجی غلبے کا خطرناک جنون ہے،امن کو روند کر مودی سرکار جنوبی ایشیا کو ایٹمی تصادم کی دہلیز پر لے جا رہی ہے

  • ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا لاڑکانہ سے انتخابی میدان میں اترنے کا اعلان

    ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا لاڑکانہ سے انتخابی میدان میں اترنے کا اعلان

    میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اپنی سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے لاڑکانہ سے اپنا پہلا انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ کسی سیاسی اتحاد یا جماعت کا حصہ بنے بغیر عوامی طاقت سے اقتدار میں آنے کے خواہاں ہیں۔

    دادو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار جونیئر نے کہا "ہمیں امیروں کی طرح سیاست نہیں کرنی چاہیے، ہم شہید مرتضیٰ بھٹو کے نظریے کو نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ سندھ کی زمینوں اور قدرتی وسائل پر جو لوٹ مار اور قبضے ہو رہے ہیں، انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔”انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کسی روایتی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے، بلکہ عوامی حمایت اور قوت کے ذریعے نظام کو بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا "ہم نئی نسل کو ایک نیا سیاسی وژن دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں پرانی اور فرسودہ سیاست سے آگے بڑھنا ہوگا۔”

    ذوالفقار جونیئر نے لاڑکانہ سے الیکشن لڑنے کا باقاعدہ اعلان کیا، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کی کس مخصوص نشست سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔

    لاڑکانہ بھٹو خاندان کا گڑھ رہا ہے۔یہاں سے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، اور حالیہ انتخابات 2024 میں بلاول بھٹو زرداری بھی کامیاب ہو چکے ہیں۔لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی 2 نشستیں،صوبائی اسمبلی کی 4 نشستیں ہیں۔

  • اگر زرداری ایوان صدر میں نہ ہوتے تو نظام چھ ماہ نہ چلتا،گورنر پنجاب

    اگر زرداری ایوان صدر میں نہ ہوتے تو نظام چھ ماہ نہ چلتا،گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے سابق صدر آصف علی زرداری کے سیاسی کردار اور قومی سیاست میں ان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آصف زرداری ایوان صدر میں نہ ہوتے تو یہ سسٹم چھ ماہ بھی نہ چل پاتا۔

    لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سردار سلیم حیدر نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران جس کامیابی کا مظاہرہ کیا، اس کے پیچھے چین کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے اس حمایت کا کریڈٹ آصف زرداری کو دیا اور بتایا کہ زرداری نے اپنے دور صدارت میں چین کے 13 سے 14 دورے کیے، جن کی بدولت دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے نہ صرف بیرونی محاذ پر پاکستان کی سفارتی پوزیشن مستحکم کی بلکہ داخلی سیاسی نظام کو بھی بچایا۔ ان کا کہنا تھا، ’’زرداری اگر ایوان صدر میں نہ بیٹھے ہوتے تو یہ نظام چھ ماہ نہیں چل سکتا تھا۔ انہوں نے مفاہمت کی سیاست کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو جوڑ کر ملک کو غیر یقینی صورتحال سے نکالا۔‘‘

    دوسری جانب سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری کو ’’مفاہمت کا بادشاہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ زرداری کے ناقدین کو ان پر تنقید سے پہلے مکمل تحقیق کرنی چاہیے، کیونکہ زرداری کا سیاسی تجربہ اور حکمت عملی ملک کو کئی بار بحرانوں سے نکال چکی ہے۔راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ آصف زرداری کی سیاسی بصیرت اور تدبر کا کوئی ثانی نہیں۔ وہ ایسے سیاستدان ہیں جو دشمن کو بھی دوست بنا کر آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔