معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے میٹرک امتحانات میں شاندار کامیابی اور نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے کہا حقیقی کامیابی کےلئے والدین کی عزت اور اساتذہ کا احترام بے ضروری ہے ۔ نوجوان نسل ملک کا روشن مستقبل اور بہترین سرمایہ ہے، جو اپنی محنت، استقامت اور صلاحیتوں کے ذریعے وطن عزیز کا نام روشن کر رہی ہے۔ یہ نتیجہ نہ صرف طلبہ کی محنت کا ثمر ہے بلکہ والدین اور اساتذہ کی مسلسل رہنمائی اور دعاﺅں کا بھی نتیجہ ہے۔انھوں نے امتحانات میں کامیاب ہونے والے تمام طلبہ و طالبات کو نصیحت کی کہ وہ اپنی کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کریں اور مستقل مزاجی و دیانت سے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھیں۔آج کے نوجوانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ محنت کی بجائے کامیابی کےلئے شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں جبکہ دنیا میں حقیقی کامیابی کےلئے کوئی شارٹ کٹ ماسوائے محبت کے ۔لہذا میں نوجوانوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ محنت کرے والدین کی عزت کریں اور اساتذہ کا احترام کریں۔ آج کے یہ کامیاب نوجوان مستقبل میں پاکستان کی قیادت، تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ “یقیناً یہ وقت نہ صرف طلبہ و طالبات کے لیے بلکہ ان کے والدین اور اساتذہ کے لیے بھی بے حد فخر کا لمحہ ہے۔ جدید دنیا میں تعلیمی کامیابیاں نوجوانوں کے سوچنے سمجھنے کے انداز اور صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں، اس لیے مثبت سوچ اور اخلاقی اقدار کے ساتھ آگے بڑھنا ناگزیر ہے۔انہوں نے خصوصی طور پر ان تمام والدین اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی۔ امید ظاہر ہے یہ ہونہار نوجوان آئندہ بھی محنت کا سفر جاری رکھیں گے اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ جدید علم، ہنر اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ کریں گے ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کامیاب طلبہ و طالبات کو مزید کامیابیاں اور کامرانی نصیب فرمائے اور یہ پاکستان کے تابناک مستقبل کے علمبردار ثابت ہوں۔
Author: ممتاز حیدر
-

جعفر ایکسپریس شکار پور کے قریب حادثے کا شکار
پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس شکار پور کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی ہے.
ڈی ٹی او پاکستان ریلویز کے مطابق سلطان کوٹ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا ،دھماکےکی وجہ سے مسافر ٹرین کی تین بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں ،حادثے کے نتیجے میں ایک مسافر زخمی ہوا ہے ،ٹریک کو بھی نقصان پہنچا ہے،زخمی کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں اور حادثے کا جائزہ لیا جا رہا ہے.
-

نوشہروفیروز: مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی جرگہ فیصلے کے انتظار میں پراسرار طور پر جاں بحق
سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کے علاقے محبت ڈیرو میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی، جو فیصلے کے لیے وڈیرے کے پاس لے جائی گئی تھی، پراسرار طور پر انتقال کر گئی۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
ڈی ایس پی نوشہروفیروز کے مطابق دو ہفتے قبل لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد فریقین روایتی پنچایت (جرگہ) کے ذریعے فیصلہ کروانے کے لیے مقامی وڈیرے کے پاس گئے۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ جرگے کے فیصلے تک متاثرہ لڑکی کو وڈیرے کے گھر پر رکھا گیا تھا۔پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی نانی نے اپنی پوتی کی موت پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے قریبی رشتہ داروں پر قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک لڑکی کی موت کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں، اور اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہوں گے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرگہ یا وڈیرے کے نظام کے ذریعے انصاف کے بجائے اکثر متاثرین کو مزید اذیت اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے بھی بلوچستان کے علاقے سنجیدی ڈیگاری اور راولپنڈی کے پیر ودھائی میں دو خواتین کو جرگے کے فیصلوں کے نتیجے میں قتل کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔پولیس نے لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے اور ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ڈی ایس پی کے مطابق تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
-

مودی کا "میک اِن انڈیا” کا نعرہ، مگر میدان میں روسی ملبہ اور "بھارتی جگاڑ کلچر” کا راج
مودی کی دفاعی خود انحصاری کا کھوکھلا نعرہ، ناقص پالیسیوں کی بدولت بھارت دفاعی بحران کا شکار ہے
بھارت کا دفاعی نظام زوال پذیر، 62 سال پرانے جنگی جہازوں پر انحصارکیا جا رہا ہے، مودی کے میک اِن انڈیا کی قلعی کھل گئی، سوویت دور کے مگ 21 جنگی طیاروں پر آج بھی انحصار کیا جا رہا ہے،مودی کا دفاعی ماڈل فیل ,میک اِن انڈیا نہ ہتھیار لا سکا، نہ پرانا نظام بدل سکا , صرف ایک کھوکھلا سیاسی نعرہ ثابت ہوا ، دی وائر کی رپورٹ کے مطابق "میگ 21 کے آخری اسکواڈرن کی ریٹائرمنٹ تقریب 19 ستمبر کو چندی گڑھ میں منعقد ہوگی”بھارتی فوج کی "جگاڑ” سے مگ 21 طیارے 62 سال تک چلتے رہے ،جگاڑ بھارتی فوج کی منفرد ثقافت ہے جس میں فوری حل، جدت، اور انجینئرنگ کے طریقے شامل ہیں، اب تک بھارت میں تقریباً 450 MiG-21 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں 170 سے زائد پائلٹ جاں بحق ہوئے، بھارتی میڈیا میں MiG-21 کو ‘اڑتا ہوا تابوت’ اور ‘بیوائیں بنانے والا’ جیسے نام دیے گئے ہیں،تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حادثات کی وجوہات میں پائلٹ کی غلطی کے ساتھ پرانے جہاز، انجن کی خرابی، اور بوسیدہ ٹیکنالوجی شامل ہیں ،حادثات کے باوجود MiG-21 طیارے صرف مجبوری کے تحت چلائے گئے تاکہ اسکواڈرن کی تعداد برقرار رکھی جا سکے.مقامی لڑاکا طیاروں میں تاخیر اور متبادل کی سست خریداری نے MiG-21 کی تکنیکی عمر بڑھا کر اسے اصل صلاحیت سے کہیں زیادہ کاموں پر مجبور کیا .مگ-21 کی طویل سروس کی اہم وجہ مقامی لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (LCA) منصوبے میں مسلسل تاخیر تھی، جو 1983 میں اس کی جگہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا، عارضی حل کے طور پر 1990 کی دہائی کے آخر میں 125 MiG-21 ‘Bis’ طیارے کو ‘Bison’ معیار تک اپ گریڈ کیا گیا، جس میں بھارتی، روسی، فرانسیسی اور اسرائیلی ریڈار و ایویونکس شامل کیے گئے ،اپ گریڈ شدہ MiG-21 Bison طیارے ستمبر میں آخرکار ریٹائر کیے جا رہے ہیں، جس سے بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد 29 رہ جائے گی ،یہ کمی مجاز 42.5 اسکواڈرنز کی سطح سے کہیں کم ہے، جو آپریشنل کارکردگی پر بڑھتے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے
مودی سرکار کا "میک اِن انڈیا” صرف میڈیا گِمک ہے زمینی حقائق صفر ہیں ، مودی حکومت کی دفاعی پالیسی میں سنگین ناکامیاں سامنے آ گئیں،ڈیڑھ دہائی پرانا LCA منصوبہ اب تک صرف فائلوں میں قید ہے،بھارتی فوج کا "جگاڑ کلچر” قومی سلامتی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے
-

بی جے پی کی ریاستی حکومتوں میں بنگالی شہری ظلم و جبر کا شکار
انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے نے بی جے پی کی سرپرستی میں بنگالیوں کی نسل کشی کا پول کھول دیا
وزیرِ اعلیٰ بنگال ممتا بینرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،ممتا بینرجی نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا حوالہ دے کر بنگالیوں پر بی جے پی کے ظلم کی تصدیق کر دی کہا،انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں وہی بات کہی جو ہم برسوں سے دہرا رہے ہیں، ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارتی شہری بھی صرف بنگالی زبان کی بنیاد پر نشانہ بنائے جا رہے ہیں،بی جے پی حکومتیں لسانی تعصب کی بنیاد پر اقلیتوں کو غیرقانونی مہاجر کہہ کر ملک بدر کر رہی ہیں، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق یہ ظلم بی جے پی کی مرکزی ہدایت پر منظم انداز میں ہو رہا ہے، یہ ہدایات امیت شاہ کی سربراہی میں بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئیں،
ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن کا کہنا تھا کہ؛ بی جے پی بنگالی بولنے والے افراد، حتیٰ کہ بھارتی شہریوں کو بھی بلاوجہ نکال کر امتیازی سلوک کو ہوا دے رہی ہے،ممتاز بینر جی کا کہنا تھا کہ اب بین الاقوامی ادارے بھی بھارت میں لسانی دہشت گردی کا نوٹس لے رہے ہیں،
ہراسانی، جبر اور بے دخلی مودی سرکار کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسی کا حصہ ہے،زبان کی بنیاد پر ملک بدری، بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 19 کی صریح خلاف ورزی ہے،بی جے پی بھارت کو نام نہاد سیکولرزم سے ہٹا کر ہندو اکثریتی ریاست میں بدل رہی ہے،بنگالیوں کی بے دخلی بی جے پی کا ہندو ووٹ بینک بڑھانے کا ہتھکنڈہ ہے،بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ نے مودی سرکار کی اقلیت دشمن پالیسیوں پر عالمی سوالات کھڑے کر دیے ،اقلیتوں کو ختم کر کے ہندوتوا نظریے پر آمریت قائم کرنا بی جے پی کی سازش ہے
-

مودی راج میں ریاستی سرپرستی میں عورتیں غیرمحفوظ
مودی کے دور اقتدار میں ریاستی ناکامیوں کا شکار خواتین ایک بار پھر ظلم کے نشانے پر ہیں
ہندوستان میں عصمت دری کا ایک اور واقعہ مودی کی مسلسل ریاستی ناکامی ہے،سرکاری ایمبولینس میں زیادتی، ریاستی اہلکاروں کی موجودگی مودی سرکار کی ناکامی کا ثبوت ہے،این ڈی ٹی وی کے مطابق؛ بہار میں 26 سالہ خاتون کو ایمبولینس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا خاتون گارڈ بھرتی کے دوران جسمانی ٹیسٹ دیتے ہوئے بے ہوش ہو گئی تھیں،متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ نیم بے ہوشی کے دوران ایمبولینس میں 3 سے 4 افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے ایمبولینس کے روٹ اور وقت کی تصدیق کر لی گئی
رکنِ پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے بہار میں جرائم کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا ،چراغ پاسوان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے، چراغ پاسوان کے مطابق ریاستی انتظامیہ مجرموں کے سامنے جھک چکی ہے، چراغ پاسوان نے کہا کہ قتل، عصمت دری ، چوری، ڈکیتی جیسے جرائم مسلسل ہو رہے ہیں،
یہ صرف زیادتی نہیں بلکہ مودی کی سرپرستی میں ایک مکمل ادارہ جاتی ناکامی ہے،یہ واقعہ کسی سنسان گلی میں نہیں، بلکہ سرکاری بھرتی کے دوران پیش آیا ہے،ناقِص انتظامات کے باعث پیش آنے والے واقعے نے مودی سرکار کی نااہلی کو بے نقاب کر دیا ہے،مودی سرکار کے ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ جیسے نعرے محض سیاسی دکھاوا ہیں،
-

نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کا چکوٹھی سیکٹر کا دورہ
نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چکوٹھی سیکٹر کا دورہ کیا، جہاں پاک فوج کے افسران نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس اہم دورے کا مقصد شرکاء کو ملکی سرحدوں کے دفاع سے متعلق زمینی حقائق سے آگاہ کرنا اور ان کے قومی و دفاعی شعور میں اضافہ کرنا تھا۔
دورے کے دوران پاک فوج کی جانب سے شرکاء کو ایک جامع بریفنگ دی گئی جس میں چکوٹھی سیکٹر کی جغرافیائی اہمیت، دفاعی حکمتِ عملی، سیکورٹی اقدامات اور بھارتی افواج کی جانب سے درپیش خطرات کے تناظر میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر روشنی ڈالی گئی۔بریفنگ کے دوران افسران نے بتایا کہ چکوٹھی سیکٹر میں پاک فوج نے کئی مواقع پر جانفشانی، قربانی اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی جارحیت کو مؤثر انداز میں روکا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ یہاں تعینات افواج ہر دم مستعد اور ہمہ وقت دفاعِ وطن کے لیے تیار ہیں۔
شرکاء نے دورے اور بریفنگ کو نہایت معلوماتی، متاثرکن اور آنکھیں کھول دینے والا تجربہ قرار دیتے ہوئے پاک فوج کے جوانوں کے جذبۂ قربانی، عزم، حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دورے قومی یکجہتی اور دفاعی شعور کو فروغ دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے اس دورے کو ایک مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملک کی سرحدوں کی اصل صورتحال اور محافظوں کی لازوال قربانیوں سے براہ راست آگاہی حاصل ہوئی۔یہ دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہری، خصوصاً بلوچستان کے نمائندے، وطنِ عزیز کے دفاع میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ملک کی سالمیت و خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک پُرعزم سوچ رکھتے ہیں۔
-

وزیرداخلہ کی میجر زیاد سلیم شہید کے گھر آمد
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں شہید ہونے والے میجر زیاد سلیم کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ شہید کی والدہ اور دیگر اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ، بہن اور بھائیوں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خاندان کا قربانیوں کا قرض قوم نہیں اتار سکتی، شہید میجر زیاد سلیم کی بے مثال قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ نے کہا کہ شہادت سے کچھ عرصہ قبل ہی بیٹے کی شادی ہوئی تھی، وطن سے عشق جنون کی حد تک تھا،زخمی ہونے کے باوجود زیاد ساتھیوں کو بچاتے رہے، زخموں کی بھی پروا نہیں کی، شوہر کے بعد اب بیٹا بھی وطن پر قربان ہو گیا، ہمیشہ وطن اور پاک افواج کے ساتھ کھڑی رہی ہوں اور رہوں گی۔
-

پی آئی اے طیارے کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں خاتون مسافر کا موبائل گر گیا
پی آئی اے کے بوئنگ 777 طیارے کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں خاتون مسافر کا موبائل گر گیا
پی آئی اے کا انجینئرنگ عملہ 13 دن تک موبائل کو جہاز کے ایئروینٹی لیشن سسٹم سے باہر نہ نکال سکا ،خاتون مسافر کا کہنا تھا کہ جہاز کا عملہ کئی روز تک موبائل کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں موجود ہونے سے انکار کرتا رہا، موبائل 6 جولائی کو جدہ سے اسلام آباد آتے ہوئے گر کر سیٹ کے نیچے کھلے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں گر گیا تھا، خاتون مسافر موبائل کی گمشدگی پر مسلسل موبائل لوکیشن سے جہاز کیساتھ موبائل کا سفر مانیٹر کرتی رہی،خاتون نے موبائل جہاز کےائیروینٹی لیشن سسٹم میں گرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل کردی
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ عملے نے جہاز کا فرش کھول کر موبائل 19 جولائی کو مسافر کے حوالے کیا تھا، پی آئی اے انتظامیہ مسلسل خاتون مسافر کے ساتھ رابطے میں تھی، شیڈولڈ پروازوں کی وجہ جہاز کا فرش فوری کھول کر موبائل نہیں نکالا جاسکتا تھا، خاتون کے اہل خانہ نے پی آئی اے کے خلاف وفاقی محتسب کو بھی درخواست دے دی
-

پہلگام حملہ، سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا
بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم نے پہلگام میں ہونے والے حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی حکومت کے دعوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کرے کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔
مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں حالیہ فائرنگ کے واقعے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم پی چدمبرم نے ان الزامات کو سیاسی مفروضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "آخر بھارتی حکومت کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے؟ کیا حکومت نے ان کے پاکستانی ہونے کی کوئی شناخت ظاہر کی ہے؟”انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی اطلاعات اور تحقیقاتی اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حملہ آور بھارتی شہری تھے اور انہوں نے بھارت کے اندر ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔”یہ ایک اندرونی سکیورٹی ناکامی ہے جسے حکومت بیرونی دشمن پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل ذمہ داروں سے توجہ ہٹائی جا سکے،”
پی چدمبرم کے بیان نے بھارتی سکیورٹی اداروں اور حکومت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے اس واقعے کی فوری مذمت کی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ چاہے تو پاکستان اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ اس کے باوجود، بھارت کی جانب سے اب تک پاکستان پر الزامات دہرائے جا رہے ہیں جبکہ تحقیقات میں کوئی واضح پیشرفت سامنے نہیں آئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چدمبرم جیسے سینئر سیاستدان کی جانب سے ایسے بیانات حکومت کی ساکھ پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق:”جب ملک کا سابق وزیر داخلہ خود یہ کہے کہ ثبوت موجود نہیں، تو حکومت کو سنجیدگی سے اس پر غور کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ بغیر ثبوت کے الزام تراشی کی جائے۔”
