Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • باغی ٹی وی،اپووا کے اشتراک سے یومِ آزادی کے موقع پر تحریری مقابلہ کا اعلان

    باغی ٹی وی،اپووا کے اشتراک سے یومِ آزادی کے موقع پر تحریری مقابلہ کا اعلان

    باغی ٹی وی اور آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے اشتراک سے یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے ایک اہم اور قومی جذبے سے بھرپور تحریری مقابلے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مقابلے کا موضوع "شانِ پاکستان” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد ملک کے نوجوان لکھاریوں اور ادب دوست طبقات کو اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا اور حب الوطنی کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے۔

    مقابلے میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ کم از کم 1000 الفاظ پر مشتمل ایک غیر نقل شدہ، اصل اور تخلیقی تحریر تیار کریں اور مقررہ وقت میں جمع کروائیں۔تحریر جمع کروانے کی آخری تاریخ 8 اگست 2025 مقرر کی گئی ہے۔ تمام تحریریں واٹس ایپ کے ذریعے درج ذیل نمبر پر ارسال کی جا سکتی ہیں.
    0303-0204604

    مقابلے کے اختتام پر موصول ہونے والی تحریروں کو ماہرینِ ادب اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی جیوری کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو معیارِ تحریر، زبان و بیان، تخلیقی انداز اور موضوع سے ہم آہنگی کی بنیاد پر بہترین تحریروں کا انتخاب کرے گی۔منتخب ہونے والی تین نمایاں تحریروں کے مصنفین کو 14 اگست 2025 کو "شانِ پاکستان ایوارڈ” سے نوازا جائے گا۔ ایوارڈ کی تقریب آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آزادی کے دن کی مناسبت سے خصوصی انداز میں استحکام پاکستان کانفرنس کے عنوان سے منعقد کی جائے گی، جس میں معروف ادبی، صحافتی اور سماجی شخصیات شرکت کریں گی۔

    باغی ٹی وی اور اپووا کی اس مشترکہ کاوش کا مقصد صرف ایک تحریری مقابلہ نہیں بلکہ ایک مثبت بیانیہ کی ترویج اور نوجوان نسل کو قومی شناخت سے جوڑنے کی عملی کوشش ہے۔مزید معلومات اور اپ ڈیٹس کے لیے باغی ٹی وی کے آفیشل پلیٹ فارمز اور اپووا کے سوشل میڈیا پیجز پر رابطہ رکھا جا سکتا ہے۔

  • انڈیگو کی پرواز میں تاخیر،مسافروں کا ہنگامہ،ایئر ہوسٹس ہاتھ جوڑنے پر مجبور

    انڈیگو کی پرواز میں تاخیر،مسافروں کا ہنگامہ،ایئر ہوسٹس ہاتھ جوڑنے پر مجبور

    ممبئی سے وارانسی جانے والی انڈیگو کی پرواز میں گزشتہ شب تکنیکی خرابی کے باعث پرواز میں تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی، جس کے بعد ہوائی جہاز کے اندر ہنگامہ خیزی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔

    ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، اس میں مسافر فلائٹ کے روانگی کے وقت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، جبکہ کیبن عملہ انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اپنی نشستوں پر بیٹھے رہنے کی درخواست کر رہا ہے۔ ویڈیو میں ایک ایئر ہوسٹس بھی ہاتھ جوڑ کر ایک مسافر سے اپنی نشست پر بیٹھنے کی درخواست کرتی نظر آتی ہے، جو فلائٹ میں تاخیر پر احتجاج کر رہا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ ماہ احمد آباد میں AI 171 فلائٹ کے حادثے کے بعد فضائی سفر کے حوالے سے مسافروں میں خدشات اور بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کورونا کے بعد ہوائی سفر کے کرایوں میں اضافے کے ساتھ اب سیکیورٹی اور حفاظت کے مسائل بھی مسافروں کو پریشان کر رہے ہیں۔

    وارانسی جانے والی انڈیگو کی فلائٹ کو روانگی سے کچھ دیر قبل تکنیکی مسئلہ سامنے آنے کی وجہ سے پرواز ملتوی کی گئی۔ اس دوران گراؤنڈ اسٹاف جہاز کی جانچ پڑتال میں مصروف رہا جبکہ دوسری پروازوں کو رن وے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ چیکنگ مکمل ہونے کے بعد، 176 مسافروں کو لے کر انڈیگو کی یہ پرواز ممبئی سے روانہ ہوئی۔فلائٹ ٹریکر "flightradar24” کے مطابق، پرواز نمبر 6E 5028 کی روانگی مقررہ وقت 7:45 بجے کی بجائے رات 9:53 بجے ہوئی، جبکہ یہ وارانسی میں رات 11:40 بجے اتری۔ مقررہ وقت پر آمد 9:45 بجے تھی۔

    ویڈیو میں کیبن عملہ مسافروں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہہ رہا ہے اور زمین پر کام کرنے والے عملے سے جہاز کی جانچ مکمل ہونے تک انتظار کرنے کی تاکید کر رہا ہے۔ ایک ایئر ہوسٹس ویڈیو بنانے والے مسافر سے درخواست کرتی ہے کہ "سر، ویڈیو بنانا منع ہے، براہ کرم ویڈیو بند کریں۔” جس پر مسافر سخت احتجاج کرتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ "ہماری جان کی کوئی قدر نہیں؟” ایک اور مسافر پوچھتا ہے، "جہاز کے اندر بٹھانے کے بعد جانچ کرنا مناسب ہے؟ اگر پرواز کے دوران کچھ ہوا تو ذمہ داری کون لے گا؟”مسافروں میں غصہ اور بے یقینی دیکھنے میں آ رہی تھی، کئی افراد ویڈیو بنا رہے تھے اور عملے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ متبادل حل پیش کریں۔ ایک مسافر کہتا ہے، "آپ ہم سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں، تو آپ کو بھی ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔”

    جہاز کی خاتون پائلٹ، کیپٹن اروشوی، غصے میں آئے ہوئے مسافروں کو ان کی نشستوں پر بیٹھنے کی درخواست کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "آئیے بات کرتے ہیں لیکن براہ کرم بیٹھ جائیں۔ ہم دروازہ اس وقت تک بند نہیں کریں گے جب تک آپ مطمئن نہ ہوں۔ ہم آپ کے تمام سوالات کے جوابات دیں گے۔”ایک اور ویڈیو میں کیپٹن اروشوی مسافروں کو یقین دلاتی ہیں کہ تاخیر اس لیے کی گئی تاکہ ہر نظام کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔ وہ کہتی ہیں، "ہم دس منٹ میں روانگی کے لیے تیار ہیں۔ اگر آپ خلفشار نہ کریں تو میں یقین دلاتی ہوں کہ ہم سب خوش و خرم وارانسی پہنچ جائیں گے۔”اس موقع پر کچھ مسافر "ہر ہر مہا دیو” کا نعرہ لگاتے ہیں اور پائلٹ بھی اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں، "آئیے مثبت رہیں اور اچھی فلائٹ کی توقع کریں۔ اگر کوئی مسئلہ ہوتا تو میں کبھی جہاز نہیں اُڑاتی۔ یہ جہاز فلائٹ کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ہمیں وارانسی خوشگوار اور محفوظ طریقے سے پہنچنا ہے، براہ کرم پریشان نہ ہوں۔”

  • سنو نیوز میں دو ماہ سے تنخواہیں نہ آئیں،ملازمین پریشان

    سنو نیوز میں دو ماہ سے تنخواہیں نہ آئیں،ملازمین پریشان

    لاہور: سنو نیوز کے لاہور دفتر کے ملازمین دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، کئی بار انتظامیہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے رابطہ کیا گیا لیکن ہر بار انہیں "اگلے ہفتے” کا وعدہ دیا جاتا رہا، مگر اس کے باوجود تنخواہیں نہیں ملیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ محنت اور وقت پر کام انجام دیتے ہیں مگر اس کے بدلے انہیں اپنی محنت کی کمائی نہیں ملتی۔ بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں، گھروں کے کرائے، اور دیگر روزمرہ کے اخراجات کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی اور مالی طور پر بے حد متاثر ہیں۔

    سنو نیوز کے ایک ملازم نے، جو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے، باغی ٹی وی کو بتایا، "ہم بہت پریشان ہیں، سنو نیوز کی انتظامیہ سے کئی بار درخواست کی مگر کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ کیا بلیو ورلڈ سٹی کی طرح سنو نیوز بھی کسی سیلابی ریلے کی نذر ہو رہا ہے؟ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہماری محنت کا صلہ ہمیں کیوں نہیں دیا جا رہا۔”

    ملازمین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سنو نیوز کے اس بحران پر توجہ دیں اور انتظامیہ کو ہدایت کریں کہ وہ فوری طور پر تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائے تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات پورے کر سکیں اور معاشی بدحالی سے نکل سکیں۔

    سنو نیوز انتظامیہ اس خبر پر اپنامؤقف دینا چاہے تو من و عن شائع کیا جائےگا.

  • بھارت،خواتین امدادی اسکیم میں مردوں کا عورت بن کر لاکھوں روپے کا فراڈ

    بھارت،خواتین امدادی اسکیم میں مردوں کا عورت بن کر لاکھوں روپے کا فراڈ

    بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں خواتین کی مالی امداد کے لیے شروع کی گئی اسکیم میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ہزاروں مردوں نے خود کو خواتین ظاہر کر کے امدادی رقم وصول کی، جس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔گزشتہ سال مہاراشٹرا حکومت نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کی مالی معاونت کے لیے ایک اسکیم ‘لڑکی بہن یوجنا’ شروع کی تھی۔ اس اسکیم کے تحت 21 سے 65 سال کی عمر کی خواتین کو ماہانہ 1500 روپے کی امداد دی جانی تھی، تاکہ ان کے معیار زندگی میں بہتری آئے۔تاہم، ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (WCD) کی تازہ رپورٹ میں حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اس اسکیم کا غلط استعمال ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکیم میں رجسٹرڈ 14 ہزار 298 افراد دراصل مرد تھے جنہوں نے خود کو خواتین ظاہر کر کے 21 کروڑ 44 لاکھ روپے کی امداد حاصل کی۔

    مزید برآں، اسکیم میں ہر خاندان سے صرف دو خواتین کو رجسٹرڈ کرنے کی اجازت تھی، مگر تقریباً 8 لاکھ سے زائد خواتین نے ایک ہی خاندان کی تیسری یا چوتھی ممبر بن کر بھی رجسٹریشن کرائی، جس سے حکومت کو تقریباً 1196 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی 2 لاکھ سے زائد خواتین کی عمر 65 سال سے زائد تھی، جبکہ 1 لاکھ 62 ہزار خواتین ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں جن کے پاس گاڑیاں موجود تھیں، جس کے باعث وہ اسکیم کے اہل نہیں تھیں۔

    اس بڑے مالیاتی نقصان اور فراڈ کے انکشاف کے بعد مہاراشٹرا حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مردوں کے عورت بن کر امداد لینے کے معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داروں کو قانونی کارروائی کے ذریعے سزا دی جا سکے۔مہاراشٹرا میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے بنائی گئی اسکیم میں اس نوعیت کی بدعنوانی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور اس سے اس اسکیم کے اصل مستحق افراد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

  • ٹرمپ کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان

    ٹرمپ کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے اعلان کردیا۔

    اسکاٹ لینڈ میں یورپی کمیشن کی سربراہ اُرسلا وان سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ ہوگیا، معاہدہ سب کو مبارک ہو،ہم ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں جو سب کے لیے اچھا ہوگا، یورپی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا اور یورپی یونین امریکی فوجی ساز و سامان خریدے گا،یورپی یونین امریکی توانائی شعبے سے 750 ارب ڈالر کی خریداری کرے گا جبکہ یورپی یونین امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدہ اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہے، معاہدہ گاڑیوں کے لیے بہت اچھا ہوگا اور اس سے زراعت پر بھی بڑا اثر پڑے گا۔

    یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان نے کہا کہ تجارتی معاہدہ استحکام لائے گا، تمام شعبوں میں 15 فیصد ٹیکس کا نفاذ ہوگا،معاہدہ کے تحت یورپی یونین اور امریکا نے کچھ مصنوعات پر صفر ٹیرف کا بھی فیصلہ کیا ہے، دونوں ممالک نے جن اشیا کی تجارت پر صفر ٹیرف کا فیصلہ کیا ہے ان میں، طیارے، کچھ کیمیکلز، سیمی کنڈکٹر آلات، کچھ زرعی مصنوعات اور ضروری خام مال شامل ہے۔

    یہ معاہدہ یورپی یونین کے لیے تجارتی معاہدہ کرنے کی یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل ہوا ہے جس کے بعد یورپی یونین پر 30 فیصد ٹیرف عائد ہوسکتا تھا،ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے یورپی یونین پر مختلف مواقعوں پر ٹیرف عائد ہوچکے ہیں، اس وقت گاڑیوں پر یہ ٹیرف 25 فیصد جبکہ اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد ہے،تاہم امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے میں اسٹیل پر عائد ٹیرف کو برقرار رکھا گیا ہے۔

  • بچوں کے لکھاری اظہر عباس کی وفات پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

    بچوں کے لکھاری اظہر عباس کی وفات پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

    امیدِ روشنی فورم پاکستان اور گلوبل فورم پاکستان کے زیرِاہتمام، وفائے پاکستان ادبی فورم کے تعاون سے معروف اور ہر دلعزیز لکھاری، دانشور اور سماجی کارکن،بچوں کے معروف ادیب اور نوے کی دہائی سے لے کر موجودہ دور تک ادبِ اطفال کی مختلف تحریکوں کے روح رواں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز چائلڈ رائٹر اظہر عباس کی یاد میں ایک پُراثر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد لاہور میں کیا گیا۔

    اس تعزیتی ریفرنس میں مختلف ادبی، سماجی اور فکری حلقوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے شرکت کی اور اظہر عباس کی علمی و ادبی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔مقررین نے اظہر عباس کی شخصیت کو خلوص، محبت، اخلاص اور انسان دوستی کا پیکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات صرف ادبی دنیا کا نہیں، بلکہ انسانیت اور فکری اقدار کا ایک بڑا نقصان ہے۔اظہر عباس نہ صرف بچوں کے لیے دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں اور نظمیں تخلیق کرتے تھے بلکہ انہوں نے بچوں کی تربیت، اخلاقی اقدار اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے لیے کئی دہائیوں پر محیط ادبی سفر طے کیا۔ ان کی تحریریں پاکستان بھر کے رسائل، اخبارات اور درسی کتب میں شامل رہیں اور ہزاروں بچوں نے ان کی تحریروں سے نہ صرف علم حاصل کیا بلکہ کردار سازی کی بنیاد بھی رکھی۔مقررین کا کہنا تھا کہ اظہر عباس کی وفات چراغِ علم کے بجھنے کے مترادف ہے۔ ان کا تخلیقی سرمایہ نئی نسل کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنا رہے گا، اظہر عباس کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ بچوں کے لیے لکھنے والے چند سنجیدہ اور معیاری لکھاریوں میں سے تھے جنہوں نے کبھی سطحی پن کو اپنے قلم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ اظہر عباس کی وفات یقینی طور پر اردو ادب، بالخصوص بچوں کے ادب کے افق پر ایک خلا چھوڑ گئی ہے، جسے پُر کرنا آسان نہ ہوگا۔ مگر ان کا نام، ان کی تحریریں اور ان کے اصول ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے،اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

    تعزیتی ریفرنس میں اختر عباس ، اشفاق احمد خان ، ایم ایم علی ، اشرف سہیل ، سہیل قیصر ہاشمی ، عبدالصمد مظفر پھول بھائی ، علی عمران ممتاز ، غلام زادہ محمد نعمان صابری ، کاشف بشیر کاشف ، محمد وسیم کھوکھر ، محمد نادر کھوکھر ، محمد قاسم کھوکھر ، حاجی محمد لطیف کھوکھر ، محمد ناصر زیدی ، احمد عدنان طارق ، ڈاکٹر طارق ریاض خان ، ابوالحسن طارق ، محمد ندیم اختر ، امجد نذیر ، غلام مصطفیٰ قادری ، سرفراز اجمل، علی رضا ترابی ، شہباز اکبر الفت نے شرکت کی، یہ ریفرنس نہ صرف اظہر عباس کی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنا، بلکہ ادب، محبت اور انسان دوستی کے جذبے کو ایک نئے عزم کے ساتھ فروغ دینے کا پیغام بھی بن گیا۔

  • بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ کے سیاحتی مقام پر خیبر نیوز کی معروف اینکر پرسن شبانہ اپنے شوہر لیاقت علی اور چار بچوں سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں۔ یہ خاندان 21 جولائی کو سیاحت کے لیے بابوسر ٹاپ گیا تھا، جس کے بعد سے ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ لاپتہ افراد میں شبانہ، ان کے شوہر لیاقت علی، دو بیٹیاں ایمل اور ایمان، اور دو دیگر بچے شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اہل خانہ کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد ریسکیو اداروں نے علاقے میں تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ مشکل جغرافیائی حالات اور موسم کی خرابی کے باوجود سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، سراغ رساں کتوں اور مقامی گائیڈز کی مدد سے سرچ آپریشن کو تیز کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت، فیض اللہ فراق نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دیامر کے علاقے میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے کی وجہ سے ایک اور فیملی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتہ ہونے والے چھ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور انہیں آخری بار بابوسر ٹاپ کے قریب دیکھا گیا تھا۔”پولیس، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پاک فوج، جی بی اسکاؤٹس اور ریسکیو ٹیمیں مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ سیلابی پانی اور سخت موسم کی وجہ سے کارروائی میں دشواری کا سامنا ہے، تاہم ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”

    مقامی عینی شاہدین کے مطابق، 10 سے 15 سیاح حالیہ دنوں میں شاہراہ بابوسر پر آنے والے اچانک سیلابی ریلوں میں بہہ گئے تھے۔ ان میں سے کچھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بھی اسی علاقے میں لودھراں سے پکنک منانے کے لیے آنے والی ایک فیملی حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ سیلابی ریلے میں بہہ کر 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ، ان کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی اور دیور فہد اسلام شامل تھے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا عمل آئندہ چند روز تک جاری رکھا جائے گا اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ لاپتہ افراد کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد،گدھوں کے گوشت برآمدگی کی تحقیقات،مقامی مارکیٹ میں سپلائی کے شواہد نہ ملے

    اسلام آباد،گدھوں کے گوشت برآمدگی کی تحقیقات،مقامی مارکیٹ میں سپلائی کے شواہد نہ ملے

    اسلام آباد: تھانہ سنگجانی کی حدود سے گدھے کے گوشت کی برآمدگی کے معاملے پر سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ پولیس اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی مشترکہ کارروائی میں خفیہ سلاٹر ہاؤس کا سراغ لگایا گیا جہاں گدھوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت اور کھالیں مبینہ طور پر بیرونِ ملک بھیجی جا رہی تھیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق سنگجانی کے علاقے میں قائم ایک خفیہ سلاٹر ہاؤس میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گدھوں کو ذبح کیا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ سلاٹر ہاؤس غیر ملکی باشندوں نے ایک مقامی شخص کے ساتھ مل کر قائم کیا تھا، جہاں گوشت محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج کی سہولت بھی موجود تھی۔ذرائع نے بتایا کہ سلاٹر ہاؤس میں گدھوں کو ذبح کرنے کے لیے ایک غیر ملکی قصائی کو بیرونِ ملک سے بلایا گیا تھا، جو خاص مہارت رکھتا تھا۔

    اسلام آباد فوڈ اتھارٹی اور پولیس کی جانب سے مشترکہ کارروائی کے دوران سلاٹر ہاؤس سے 14 ذبح شدہ گدھوں کی باقیات اور 45 زندہ گدھے برآمد کیے گئے۔ کارروائی کے دوران دو غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں پولیس نے حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس گوشت کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کے شواہد نہیں ملے، تاہم یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ گوشت پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کو فراہم کیا جاتا تھا یا اسمگلنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوایا جا رہا تھا۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے ترنول کے علاقے میں چھاپہ مار کر گوشت کو قبضے میں لیا تھا، جس کے بعد یہ شبہ مضبوط ہوا کہ گدھے کے گوشت کی غیر قانونی سپلائی کا ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق موقع پر موجود ایک غیر ملکی شہری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث مقامی سہولت کاروں تک بھی پہنچا جا سکے۔

  • بھارت میں غیراخلاقی مواد اپلوڈ کرنے پر یوٹیوبر گرفتار

    بھارت میں غیراخلاقی مواد اپلوڈ کرنے پر یوٹیوبر گرفتار

    بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر مرادآباد میں پولیس نے معروف یوٹیوبر محمد عامر کو غیراخلاقی اور متنازعہ مواد اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، محمد عامر پر ہندو مذہبی لباس پہن کر گالیاں دینے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری ایک مقامی شہری امان ٹھاکر کی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ شکایت میں کہا گیا کہ محمد عامر نے جان بوجھ کر ایک ایسی ویڈیو بنائی جس میں وہ ہندوؤں کے مذہبی لباس میں ملبوس ہو کر گالیاں دیتا نظر آتا ہے، جو کہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔صرف یہی نہیں، بلکہ محمد عامر پر اپنے یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر غیراخلاقی، غیر مہذب اور گالیوں سے بھرپور مواد شائع کرنے، فروغ دینے اور اس کی تشہیر کا بھی الزام ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ان کے خلاف سائبر کرائم اور مذہبی نفرت پھیلانے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    محمد عامر بھارت کے مشہور سوشل میڈیا شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کے انسٹاگرام پر 50 لاکھ فالوورز جبکہ یوٹیوب پر بھی 50 لاکھ سبسکرائبرز ہیں۔ ان کے ویڈیوز زیادہ تر کامیڈی اور روزمرہ کے مسائل پر مبنی ہوتے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں ان کے مواد پر تنقید بڑھتی جا رہی تھی۔گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ افراد نے محمد عامر کے مواد کو فحش اور معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف ہے اور یہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی ایک کوشش ہے۔پولیس حکام کے مطابق، محمد عامر سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس قسم کا مواد جان بوجھ کر یا کسی ایجنڈے کے تحت پھیلایا جا رہا تھا۔

  • باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے وادی تیراہ کے علاقے باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پرامن شہریوں پر خوارج کی فائرنگ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کےمکروہ عزائم ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے،دہشت گردوں اور دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی تیراہ واقعے پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تیراہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ مکمل ہمدردی ہے اور واقعے کے بعد قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں کا جرگہ پشاور طلب کرلیا۔ان کا کہنا تھاکہ جرگہ طلبی کا مقصد مقامی جذبات اور تحفظات کو سننا ہے، ضلعی انتظامیہ اور ادارے نظم و ضبط برقرار رکھیں۔وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کیلئے ایک ایک کروڑ اور زخمیوں کیلئے 25، 25 لاکھ روپے پیکج کا اعلان کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پائیدارامن، عوامی تحفظ اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، آل پارٹیزکانفرنس میں اِنہی واقعات اورمعاملات کو حل کرنے پرسنجیدگی سے غور کرکے تجاویز مرتب کیں، عمائدین اور مشران کے ساتھ جرگوں کا سلسلہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر اگلے ہفتے سے شروع ہوگا۔