Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سول سروسز اسٹرکچر کی بہتری کیلیے وزیراعظم نے کمیٹی قائم کر دی

    سول سروسز اسٹرکچر کی بہتری کیلیے وزیراعظم نے کمیٹی قائم کر دی

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سول سروسز کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، سول سروسز اسٹرکچر کی بہتری اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی

    کمیٹی ایک ماہ میں تفصیلی مشاورت کے بعد اصلاحات پر مبنی جامع سفارشات پیش کرے. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی میرٹ پر بہترین ٹیلنٹ کی بھرتی، ترقی کیلئے مخصوص اہداف پر مبنی کے پی آئیز، اے سی آر نظام کی بہتری و مؤثر متبادل کے حوالے سے سفارشات مرتب کرکے پیش کرے. جدید ٹیکنالوجی و جدید نظام کے حوالے سے افسران کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے لائحہ عمل بھی سفارشات کا حصہ ہو.ایسی سفارشات مرتب کی جائیں جو پائیدار نظام کی بنیاد بنیں، گورننس کی بہتری اور سول سروسز کو عصری تقاضوں سے متواتر ہم آہنگ کرنے کا مستقل نظام قائم کریں. وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سول سروسز میں عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے اور اسکا معاون بنانے کیلئے اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت سول سروسز کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر، طارق باجوہ، ڈاکٹر جہانزیب خان سیکریٹری ایپکس کمیٹی ایس آئی ایف سی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.اجلاس کو سول سروسز اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سول سروسز میں بھرتی، ٹریننگ، کارکردگی کے جائزے، تنخواہوں کی بہتری اور ترقی کے حوالے سے مشاورت کے بعد تجاویز مرتب کی جارہی ہیں. اجلاس کو خطے کے دوسرے ممالک میں سول سروسز کی اصلاحات کا پاکستان کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ گورننس کی بہتری، عام شہری کی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بہترین ٹیلنٹ کی میرٹ پر بھرتیوں کو سول سروسز اصلاحات کا محور رکھتے ہوئے سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی.

  • سپریم کورٹ،خواتین کے بانجھ پن پر مہر یا نان و نفقہ سے انکار غیر قانونی قرار

    سپریم کورٹ،خواتین کے بانجھ پن پر مہر یا نان و نفقہ سے انکار غیر قانونی قرار

    سپریم کورٹ نے خواتین کے بانجھ پن پر مہر یا نان و نفقہ سے انکار کو غیر قانونی قرار دیدیا۔

    چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے نان و نفقہ کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے شوہر کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا اور درخواست گزار صالح محمد پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ شوہر نے بیوی پر بانجھ پن اور عورت نہ ہونے کا الزام لگایا تھا، تاہم بانجھ پن حق مہر یا نان و نفقہ روکنے کی وجہ نہیں، خواتین پر ذاتی حملے عدالت میں برداشت نہیں ہوں گے، شوہر نے بیوی کو والدین کےگھر چھوڑ کر دوسری شادی کر لی، پہلی بیوی کے حق مہر اور نان و نفقہ سے انکار کیا، عورت کی عزت نفس ہر حال میں محفوظ ہونی چاہیے،خواتین کی تضحیک معاشرتی تعصب کو فروغ دیتی ہے، بیوی کی میڈیکل رپورٹس نے شوہر کے تمام الزامات رد کی، خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے، 10 سال تک خاتون کو اذیت اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔

    عدالت عظمیٰ نے جھوٹے الزامات لگانے اور وقت ضائع کرنے پر ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے اور درخواست گزار شوہر پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے اس کی درخواست مسترد کردی۔

  • راجہ بشارت کو پولیس نے گرفتار کر لیا

    راجہ بشارت کو پولیس نے گرفتار کر لیا

    پولیس نے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت کو گرفتار کرکے تھانہ نیو ٹاؤن منتقل کر دیا ہے۔ راجہ بشارت این اے 55 کے ضمنی انتخاب سے متعلق کیس میں الیکشن ٹربیونل میں پیشی کے لیے آئے تھے، جہاں سے انہیں گاڑی سمیت تھانہ نیو ٹاؤن منتقل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل پولیس کی بھاری نفری سابق صوبائی وزیر کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے قیام گاہ پر پہنچ گئی تھی۔ اس موقع پر پولیس نے الیکشن کمیشن کے دفتر کا بھی گھیراؤ کر لیا تاکہ مقدمے سے متعلق کارروائی کو ممکن بنایا جا سکے۔راجہ بشارت پر الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں کیس درج ہے جس کی سماعت الیکشن ٹربیونل میں جاری ہے۔ گرفتاری اور تھانہ منتقلی کے بعد پولیس نے مزید قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

  • وزیر اعظم سے ورلڈ بنک کے ریجنل نائب صدر مسٹر عثمان ڈیون کی ملاقات

    وزیر اعظم سے ورلڈ بنک کے ریجنل نائب صدر مسٹر عثمان ڈیون کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے ریجنل نائب صدر مسٹر عثمان ڈیون نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ طویل شراکت داری پر عالمی بینک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر عالمی بینک کے صدر جناب اجے بنگا اور پاکستان کے لئے عالمی بینک کے سابق کنٹری ڈائریکٹر جناب ناجی بنہسین کا پاکستان کے لیے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے پاکستان کی ترقی کی ترجیحات بالخصوص توانائی، انسانی وسائل ، موسمیاتی تبدیلی اور گورننس اصلاحات کے شعبوں میں CPF (Country Partnership Framewok) کے اسٹریٹجک کردار کو سراہا۔وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے جیسے اہم بین الاقوامی معاہدے کو نقصان پہنچانے کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی روشنی میں پاکستان کے جائز مؤقف کے لیے عالمی بینک کی اصولی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری، خوشحالی کے حصول اور علاقائی امن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران عالمی بینک کی بروقت اور فراخدلانہ مدد پر شکریہ ادا کیا، جس نے پاکستان کو فوری امدادی سرگرمیاں شروع کرنے اور تعمیر نو اور بحالی کے اقدامات شروع کرنے میں مدد کی۔جناب عثمان ڈیون نے پاکستان کے دورے کے دوران پر تپاک مہمان نوازی پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی دیرینہ شراکت داری اور معیشت کے اہم شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا اور وسعت دینے کے لیے عالمی بینک کے عزم کا اعادہ کیا۔جناب ڈیون نے پاکستان کی جاری میکرو اکنامک بحالی کی تعریف کی اور ملک کو مالیاتی استحکام اور پائیدار ترقی کی طرف لے جانے پر وزیر اعظم کی حکومت کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر موجودہ انتظامیہ کے اصلاحاتی ایجنڈے کی تعریف کی، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف کی مضبوط قیادت کو ادارہ جاتی جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں اہم قرار دیا۔

    ملاقات کے اختتام پر حکومت پاکستان اور ورلڈ بنک کی جانب سے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے حصول اور پاکستان کے عوام کے لیے ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لئے، آنے والے سالوں میں دونوں کے مابین تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا.

  • عارف علی شاہ بخاری چل بسے

    عارف علی شاہ بخاری چل بسے

    پاکستان کے معروف بزنس مین،چیئرمین کسب گروپ عارف علی شاہ بخاری ولد مرحوم خادم علی شاہ بخاری وفات پا گئے، مرحوم اپنی بے مثال خدمات اور خلوص کے باعث معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

    عارف علی شاہ بخاری کی نماز جنازہ آج سہ پہر بعد نماز عصر، سکینہ مسجد، ڈی ایچ اے فیز 8، خیابان شاہین میں ادا کی جائے گی۔ سوگواران میں ان کی محترمہ بیوی صبیہ عارف بخاری، بھائی ناصر علی شاہ بخاری، بیٹے محمد علی شاہ، مبشر علی شاہ، محب علی شاہ، اور دیگر خاندان کے افراد شامل ہیں۔خواتین کے لیے تعزیتی تقریب عارف بخاری کے گھر، 8/2 اے اسٹریٹ، آف خیابان شاہین، فیز 5، ڈی ایچ اے کراچی میں منعقد ہوگی۔مرحوم کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔

  • سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے شخص کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری

    سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے شخص کی لاش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں شدید بارش کے باعث آئے سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے ایک شخص کی لاش مل گئی ہے، تاہم اس کی بیٹی کی تلاش تیسرے روز بھی جاری ہے۔

    اسلام آباد میں گزشتہ چند روز سے جاری موسلا دھار بارش نے کئی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اسی دوران ریٹائرڈ کرنل اسحاق اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے تھے کہ اچانک ان کی گاڑی خراب ہو گئی۔ اس دوران سیلابی پانی کا ریلہ آ گیا، جس میں وہ دونوں گاڑی سمیت بہہ گئے۔ واقعے کے بعد دونوں لاپتہ ہو گئے تھے۔گزشتہ دو روز سے ریسکیو ٹیمیں ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر واقع برساتی نالے میں پہلے سرچ آپریشن مکمل کیا گیا تھا، لیکن وہاں سے کچھ خاص کامیابی نہیں ملی۔ بعد ازاں سرچ آپریشن دریائے سواں کے داخلی اور خارجی راستوں پر منتقل کر دیا گیا۔ریسکیو حکام نے گزشتہ روز گاڑی کا بمپر اور سائیڈ مرر تو دریائے سواں سے برآمد کر لیے تھے، تاہم پوری گاڑی یا دونوں افراد کا سراغ نہیں ملا تھا۔ اس کے بعد پانی کی سطح میں کمی کے ساتھ سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

    آج ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ گاڑی کا بونٹ اور دروازہ دریائے سواں پل کے نیچے سے بھی مل گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ گاڑی اس جگہ سے گزر کر سیلابی پانی میں بہہ گئی تھی۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے رکنے اور پانی کی سطح کم ہونے کے باعث آج سرچ آپریشن مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ لاپتہ افراد کو جلد بازیابی ممکن ہو۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر اسلام آباد میں موسمی تبدیلی اور نا مناسب نکاسی آب کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے، جس کے باعث شہر کے کئی حصے سیلاب کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  • روس میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، تمام 49 افراد ہلاک

    روس میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، تمام 49 افراد ہلاک

    روس کے علاقے امر ریجن میں ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس میں سوار تمام 49 افراد ہلاک ہو گئے۔ روسی ایئر ٹریفک کنٹرول حکام نے تصدیق کی ہے کہ طیارے سے اچانک رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور اس کے بعد اسے ریڈار سے غائب ہو گیا تھا

    خبر رساں اداروں کے مطابق، حادثہ انگارہ ایئر لائن کا ایک AN-24 مسافر طیارہ پیش آیا، طیارے میں کل 49 افراد سوار تھے جن میں 43 مسافر شامل تھے، جن میں 5 بچے بھی تھے، اور 6 عملے کے رکن بھی موجود تھے۔امر ریجن کے گورنر، واسیلی اورلوف نے بتایا کہ طیارہ آخری بار رادار پر امر ریجن کے قریب دیکھا گیا اور اس کے بعد اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ حکام نے فوری طور پر ایک Mi-8 ہیلی کاپٹر اور زمینی ٹیموں کو ریسکیو اور تلاش کے کام کے لیے روانہ کر دیا ہے۔روسی حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ابھی تک حادثے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے خصوصی امدادی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔

    یہ حادثہ روس کی فضائی تاریخ میں ایک المناک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے اور پوری قوم اس افسوسناک خبر سے گہرے صدمے میں مبتلا ہے۔

  • بھارتی اداروں میں بی جے پی کی بے جا مداخلت، مذہبی خودمختاری پر حملہ

    بھارتی اداروں میں بی جے پی کی بے جا مداخلت، مذہبی خودمختاری پر حملہ

    سکھوں کے جائز مطالبات کو دبانے کے لیے انہیں ‘خالصتانی’ اور ‘ملک دشمن’ قرار دینا مودی سرکار کا وطیرہ بن چکا ہے

    1984کے مظلوم سکھوں کو انصاف دلانے کی بجائے مودی سرکار قاتلوں کو بچانے میں مصروف عمل ہے، این ڈی ٹی وی کے مطابق؛دہلی کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے 1984 سکھ فسادات کی رپورٹ طلب کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا،رپورٹ میں فسادات میں سابق وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش کمل ناتھ کی گوردوارہ پر موجودگی کا ذکر ہے،این ڈی ٹی وی کے مطابق ہائی کورٹ میں دائر درخواست کا موقف ہے کہ؛
    ہجوم نے کمل ناتھ کی قیادت میں 2 سکھوں، اندر جیت سنگھ اور منموہن سنگھ، کو گوردوارہ رکاب گنج صاحب میں زندہ جلا دیا تھا ،ہائی کورٹ کے 2022 کے حکم پر مرکز نے جو حلف نامہ داخل کیا، اُس میں کمل ناتھ کے کردار کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا، وکیل ایچ ایس پھولکا کے مطابق پولیس ریکارڈ اور کئی اخبارات میں کمل ناتھ کی جائے وقوعہ پر موجودگی کے شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے تمام ملزمان کو یہ کہہ کر بری کر دیا کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے،

    پولیس ریکارڈز اور صحافی سنجے سوری کی عینی شاہد رپورٹ کے باوجود کمل ناتھ کی موجودگی کو نظر انداز کرنا مودی کی قیادت اور جانب دار عدالتی نظام پر بڑا سوال ہے، بی جے پی سرکار نے 1984 کے فسادات میں کمل ناتھ کے کردار کو حلف نامے میں چھپا کر انصاف پر سوال کھڑے کر دیے،گرفتاریوں اور میڈیا بلیک آؤٹ کو جواز فراہم کرنے کے لیے بی جے پی سکھ کارکنوں کو دانستہ طور پر "خالصتانی” کہہ کر پکارتی ہے،گردوارہ بورڈز کی تشکیلِ نو سے لے کر دہلی ایس جی پی سی کے استعفوں تک بی جے پی کی منظم کوششوں کا نتیجہ ہے،محض پی آر اقدامات کے ذریعے مودی سرکار سکھ برادری میں حکمران جماعت کے خلاف اجنبیت کم نہیں کر سکتی،1984 سکھ نسل کشی میں ملوث افراد کو بچانا مودی حکومت کی اقلیت دشمن پالیسی کی عکاسی کرتا ہے

  • پاک یو اے ای تجارتی تعاون، معاشی تعلقات کی  بحالی کی علامت

    پاک یو اے ای تجارتی تعاون، معاشی تعلقات کی بحالی کی علامت

    ایس آئی ایف سی کی موثر پالیسیوں کے بدولت پاک -یواے ای مشترکہ تعاون کے فروغ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دو طرفہ تجارت 20.24 فیصد اضافے کے ساتھ 10.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی،حال ہی میں پاک-یو اے ای مشترکہ وزارتی کمیشن کے 12ویں اجلاس کا انعقاد کیا گیا ،اجلاس کے موقع پر دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، ہوا بازی، آئی ٹی اور توانائی پر تبادلہ خیال کیا گیا،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تجارت اور صنعتی شراکت داری سے پاکستان کا درآمدی بل کم اور روزگار میں اضافہ ممکن ہے، نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے اور کسٹمز ہم آہنگ کرنے سے باہمی تجارت پانچ سال میں دوگنی ہو سکتی ہے، ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئی ٹی اور فِن ٹیک شعبے خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے خاصے پرکشش ہیں، کاروباری مشیر فیضا ن مجید کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافے کیلئے "دبئی فری زونز” کا استعمال اور تجارتی سہولت مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے،

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دو طرفہ تعاون علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوگا

  • مودی راج میں ریاستی انتخابات سے قبل انتخابی نظام کی ساکھ خطرے میں

    مودی راج میں ریاستی انتخابات سے قبل انتخابی نظام کی ساکھ خطرے میں

    مودی سرکار نے بہار میں نیا این آر سی بغیر قانون سازی کے نافذ کر کے منظم دھاندلی کی تیاری مکمل کرلی

    مودی کی سر پرستی میں الیکشن سے قبل مسلم اکثریتی ریاست بہار میں انتخابی فہرست کی خصوصی نظرِ ثانی جاری کر دی گئی،مودی سرکار نےدستاویزی ابہام کا سہارا لے کر لاکھوں افراد کو ووٹر لسٹ سے نکالنے کا منصوبہ تیارکر لیا،سپریم کورٹ کی ہدایت کے برعکس بھارتی الیکشن کمیشن نے عام شناختی دستاویزات مسترد کر دیں،بھارتی اخبار دی وائر کے مطابق بہار الیکشن سے قبل سپریم کورٹ میں بھارتی الیکشن کمیشن کا شہریت کا ثبوت طلب کرنے کا اختیار حاصل ہونے کا دعویٰ کر دیا،آدھار، ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈز کو شہریت کا ثبوت ماننے سے الیکشن کمیشن نے انکارکر دیا،الیکشن کمیشن کی اختلاف رائے کے باوجود سپریم کورٹ نے شہریت کے تعین کو وزارتِ داخلہ کا اختیار قرار دے دیا

    سپریم کورٹ کے مطابق، شہریت کا تعین بھارت کے الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ وزارت داخلہ کا دائرہ اختیار ہے، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت صرف اہل افراد کا اندراج اور غیر اہل افراد کا اخراج ہماری آئینی ذمہ داری ہے، مودی سرکار این آر سی کی طرز پر کیے جانے والے ان اقدامات سے مسلم اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنانے کی تیاری میں ہے،شہریت کی بنیاد پر رائے دہی کا حق چھیننے کی کوشش، بھارت کے نام نہاد جمہوری عمل پر کاری ضرب ہے ،مودی سرکار کی سربراہی میں ان اقدامات نے انتخابی ادارے کی غیرجانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ،اقتدار کی خاطر بی جے پی کے انتہا پسند ایجنڈے نے شفاف انتخابات کے تقاضے پامال کر دیے

    عالمی سطح پر سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا دعوے دار بھارت اقلیتوں کے جمہوری حقوق سلب کرکے اقتدار پر قابض ہے،بھارتی الیکشن کمیشن کے اقدامات آئینی حدود سے تجاوز اور اقلیتوں کے لیے غیر منصفانہ رویے کے عکاس ہیں