Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وائرل تصویر،سرفراز نواز نے اپنی صحت بارے وضاحت جاری کر دی

    وائرل تصویر،سرفراز نواز نے اپنی صحت بارے وضاحت جاری کر دی

    سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے اپنی وائرل تصویر کے حوالے سے اپنی صحت کے بارے میں وضاحت پیش کردی ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سرفراز نواز کی ایک تصویر خوب گردش کر رہی تھی جس میں انہیں طبی معائنہ کے دوران دیکھا جا رہا تھا۔ اس تصویر کی وجہ سے کئی افراد میں تشویش پائی جا رہی تھی کہ کہیں ان کی صحت خراب تو نہیں۔

    سرفراز نواز نے اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ وائرل ہونے والی تصویر درحقیقت ان کے دل کے سالانہ چیک اپ کے دوران کی ہے۔ انہوں نے مداحوں اور فالوورز کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور اس تصویر کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی طبیعت خراب ہے،سالانہ چیک اپ ان کی صحت کے معمول کا حصہ ہے اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ ایسے چیک اپز ہر سال ہوتے رہتے ہیں تاکہ صحت کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے، اس لیے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

  • بھارتی جنگی جنون،بھارتی فضائیہ کا پاک بھارت سرحد کے قریب فوجی مشقوں کا اعلان

    بھارتی جنگی جنون،بھارتی فضائیہ کا پاک بھارت سرحد کے قریب فوجی مشقوں کا اعلان

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی فضائیہ نے جنگی تیاریاں زور شور سے شروع کرتے ہوئے آج سے راجستھان میں بڑے پیمانے پر پاک بھارت سرحد کے ساتھ تین روزہ بڑی فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے اس سلسلے میں جمعہ کے روز تک ایئر مین کو نوٹس (NOTAM) جاری کیا گیا ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری طیارہ اس مخصوص فضائی حدود سے نہیں گزر سکے گا۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ راجستھان میں باڑمیر سے جودھ پور تک کے علاقوں میں ایک بڑی فوجی مشق کررہی ہے۔  یہ مشق بھارتی فضائیہ کی باقاعدہ جنگی آپریشنل تیاری کی مشقوں کا حصہ ہے جس میں IAF کے تین کمانڈز حصہ لے رہے ہیں۔ اس بڑی مشق میں فرنٹ لائن لڑاکا طیارے بشمول رافیل، میراج 2000، اور سخوئی 30 طیارے مکمل فضائی دفاعی نظام اور سپورٹ سسٹم کے ساتھ شامل ہوں گے۔ اس مشق میں رات کو کئے جانے والے آپریشن کے دوران اختیار کی جانے والی تیاری بھی شامل ہوگی۔

    یہ مشق پاک بھارت سرحد پر سخت سیکیورٹی کے درمیان کی جارہی ہے جس میں بھارتی فضائیہ اسٹریٹجک تیاریوں اور فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ مشق کے دوران کسی بھی سول طیارے کو مذکورہ فضائی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

    چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سمیت پورے ملک میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی کو موثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات لیے جا رہے ہیں، سیف سٹی منصوبے اس بڑھتی ہوئی استعداد کی بہترین مثال ہیں،پورے ملک میں عالمی معیار کے مطابق سیف سٹی منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں،چین ہمارا دوست ملک ہے، چین کے ساتھ بھائی چارے پر مبنی ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان اور چین کا انتہائی اہم مشترکہ منصوبہ ہے،چین پاکستان اقتصادی راہداری اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس میں دونوں ممالک کے مابین بزنس ٹو بزنس طرز پر معاملات طے کیے جائیں گے،چین پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی کے تناظر میں پاکستان میں چینی باشندوں کا تحفظ مزید اہمیت کا حامل ہو چکا ہے، ہم ملک میں چینی برادری کے لیے ایک محفوظ اور کاروبار دوست ماحول تعمیر کر رہے ہیں،پاکستانی معیشت میں چینی کمپنیوں کا اعتماد ہمارے معاشی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے،پورے ملک میں ہوائی اڈوں پر چینی باشندوں کی آمد و رفت سہولت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات لیے جائیں،

    اجلاس میں وزیراعظم کو پورے ملک میں چینی باشندوں کے لیے خصوصی سیکیورٹی انتظامات کی پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،اجلاس میں وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو پورے ملک میں سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر چینی باشندوں کی خصوصی سیکیورٹی کے انتظامات نافذ العمل ہیں،وفاق اور تمام صوبے اس ضمن میں بھرپور تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں، پورے ملک میں سیف سٹی منصوبے زیر تعمیر ہیں،چینی باشندوں کو سفر کے لیے سیکیورٹی ایسکورٹ کی سہولت دی جا رہی ہے، تمام نئے رہائشی منصوبوں میں سیف سٹی کے معیار کے کیمرے نصب کیے جائیں گے،

    اجلاس میں وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت طلال چوہدری, وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

  • پنجاب سے منشیات کا جلد خاتمہ ہوجائیگا،وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب سے منشیات کا جلد خاتمہ ہوجائیگا،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے جوانوں کو دیکھ کر بے حد مسرت ہوئی۔ کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کی صورت میں پاکستان اورپنجاب کا مستقبل محفوظ نظر آرہا ہے۔ ڈی جی سی این ایف بریگیڈئرمظہرنے نہایت کم عرصے میں ایک بہترین سپیشلائزڈ فورس قائم کر کے دکھائی جس پر انہیں شاباش دیتی ہوں۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سی این ایف فور س کی باڈی لینگویج سے نظر آتا ہے کہ پنجاب سے منشیات کا جلد خاتمہ ہوجائے گا۔ پاکستان کی آبادی 65فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں منشیات سے بچانا ہے۔ آبادی تب ہی ملک کی طاقت بنتی ہے جب منشیات سے دور ہوکر تعلیم اور صحت پر توجہ دے۔پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے قیام پر بہت خوش ہوں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ قلیل مدت میں مضبوط انسداد منشیات فورس کا قیام لائق تحسین ہے۔ اینٹی نارکوٹکس کے ذریعے جلد پورے پنجاب سے منشیات کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا تو والدین کی طرف سے درخواستیں آئیں کہ ہمارے بچوں کو منشیات سے بچایا جائے۔ المیہ ہے کہ منشیات ہر گلی، ہر محلے،ہر یوینورسٹیوں اور ہر سکول تک بھی پہنچ رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ منشیات کے کنٹرول کے لئے ایک سپیشلائزڈ فورس کا قیام نا گزیر تھا۔ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس میں بہترین لوگوں کو سو فیصد میرٹ پر سیلکٹ کیا گیا ہے۔ پنجاب کے تمام ڈویژن میں پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس فنکشنل ہو چکی ہے اوربہت جلد تمام اضلاع میں سی این ایف فنکشنل ہو جائے گی۔ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے لئے 12 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 850 جوان و افسران سیلکٹ ہوے۔ سی این ایف کا حصہ بننے والے تمام افسران اور جوانوں اور انکے والدین کو مبارکباد دیتی ہوں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جیسے ہر بیماری کا علاج پینا ڈول سے نہیں ہوتا اسی طرح جرم کا خاتمہ ایک ہی فورس سے نہیں ہو سکتا۔ بڑی آبادی کے مسائل کے حل کے لئے ایک سپیشلائزڈ ڈیپارٹمنٹس کی ضرورت تھی۔پنجاب میں کوئی بھی مشکلات آتیں ہیں تو کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کو کہا جاتا ہے، جس پر وہ تمام کام چھوڑ کر ایک کام کی طرف ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف پیرا جیسا ادارہ قائم کیا ہے۔ پیرا نے لاہور ڈویژن کے اندر کام شروع کر دیا ہے۔ پنجاب میں ہر مسئلے کے خاتمے کے لیے سپیشلائزڈ فورسز قائم کررہے ہیں۔پنجاب پولیس میں ایک سپیشلائزڈ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے چند ہفتوں میں کرائم پر کنٹرول کیا ہے۔ سی سی ڈی کی وجہ سے کرئمینل معافیاں مانگ رہے اور مساجد میں اعلانات کررہے ہیں۔سی سی ڈی کی بدولت پورے پنجاب میں کرائم کی شرح نیچے جارہی ہے۔ بعض اضلاع میں روزمرہ ہونے والے کرائم بہت کم ہوگئے ہیں۔ بڑی آبادی میں جرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے سپیشلائزڈ ڈیپارٹمنٹ کی اشد ضرورت تھی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس گلی محلے اور شہروں کو منشیات پاک کریں گے۔ کسی خاندان میں ایک بھی منشیات کا عادی جوان پورے خاندان کے لئے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ پرامید ہوں کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس پوری ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے جوان گلی، محلوں، ڈسٹرکٹ، شہر اور پورے صوبے سے منشیات کے زہر کو نکال باہر پھنکیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے جوانوں کو لالچ اور کمزوری نہ د کھانے کی ہدایت بھی کی۔ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے آنے والے نسلوں کو بچانا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پرامید ہوں اور دعاگو ہوں کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس اپنے ملک اور پنجاب کا فخر بنے گی۔اب پنجاب میں مسائل پر مصلحت نہیں ہوگی بلکہ حل ہوگا، سی این ایف کے کندھوں پر نسل کو بچانے کی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔

  • تعلیمی اداروں میں طلبہ کے موبائل استعمال پر پابندی کی قرارداداسمبلی میں جمع

    تعلیمی اداروں میں طلبہ کے موبائل استعمال پر پابندی کی قرارداداسمبلی میں جمع

    لاہور: پنجاب اسمبلی میں اسکولوں میں طلبہ کے موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی قرارداد جمع کرادی گئی ہے۔ یہ قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی ہے۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بے تحاشا استعمال کی وجہ سے طلبہ کے ذہنی نشوونما اور اخلاقی اقدار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات ڈالے ہیں بلکہ ان کی سماجی زندگی اور رویوں میں بھی گہرے نقصانات پہنچائے ہیں۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر اس کے حل کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کرے۔ خاص طور پر اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ طلبہ کی توجہ تعلیم اور نصاب پر مرکوز ہو سکے۔اس کے علاوہ، قرارداد میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے مناسب قانون سازی کی جائے تاکہ ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور غیر مناسب مواد سے ان کی حفاظت کی جا سکے۔

    راحیلہ خادم حسین نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ طلبہ کے ذہنی اور اخلاقی معیار کی حفاظت بھی ممکن ہو سکے گی۔

    یہ قرارداد آنے والے اجلاس میں مزید بحث کے لیے پیش کی جائے گی، جہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان بھی اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

  • زیادتی کی شکار کئی خواتین کی لاشیں خاموشی سے دفن کیں اور جلائیں،ملزم کا اعتراف

    زیادتی کی شکار کئی خواتین کی لاشیں خاموشی سے دفن کیں اور جلائیں،ملزم کا اعتراف

    بھارتی ریاست کرناٹکا کے تاریخی اور مذہبی حوالے سے معروف دھرماستھلا مندر میں ایک ایسا راز سامنے آیا ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مندر کے سابق ملازم، جو صفائی کا کام کرتے تھے، نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اسکول کی طالبات سمیت کئی خواتین کی لاشوں کو جلانے اور دفنانے پر مجبور کیا گیا تھا۔

    مذکورہ شخص نے بتایا کہ یہ واقعات 1998 سے لے کر 2014 کے درمیان دھرماستھلا اور اس کے قریبی علاقوں میں پیش آئے۔ ان خواتین کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا، اور لاشوں کو چھپانے کے لیے انہیں آگ لگائی گئی یا زمین میں دفن کر دیا گیا۔ یہ اعتراف ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے پیچھے اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے کھڑا ہونا چاہتا ہے اور متاثرہ خواتین کے حق میں آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔
    کناٹکا پولیس نے 3 جولائی کو دفعہ 211(a) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ملزم نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے، اور عدالت سے اجازت ملنے کے بعد کیس کو رجسٹر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس شخص نے اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے بھی درخواست دی ہے کیونکہ انہیں موت کے دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔

    اس سابق ملازم نے پولیس کو اپنی شکایت کے ساتھ ساتھ ان لاشوں کی باقیات کی تصاویر بھی فراہم کی ہیں جو اس نے دفن کی تھیں۔ اس کے بیان کے مطابق "میں نے 1995 سے دسمبر 2014 تک دھرماستھلا مندر میں صفائی کا کام کیا۔””ابتدائی طور پر میں نے لاشوں کو خودکشی یا حادثاتی موت سمجھا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ بیشتر پر جنسی زیادتی کے نشانات تھے۔””1998 میں میرے سپروائزر نے مجھے خفیہ طور پر لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا حکم دیا، جب میں نے انکار کیا تو مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔””میں نے تقریباً 11 سال پہلے اپنے خاندان سمیت دھرماستھلا چھوڑ دیا کیونکہ ہمیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہیں۔”

    سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کے وی دھننجے نے اس کیس کی تحقیقات کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ شکایت 4 جولائی کو درج ہوئی ہے، تو ان معاملات میں فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ سنسنی خیز انکشاف بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی، عصمت دری اور قتل کے سنگین جرائم کے خلاف ایک نئی بحث کو جنم دے گا۔ عوام اور حقوقِ انسانی کے کارکنان کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس کیس میں سخت اور فوری کاروائی کرے اور متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرے۔

  • پولیس افسران کو تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔وزیراعظم

    پولیس افسران کو تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کےافسران و اہلکار دہشت گردی کے خاتمے کےلیے پرعزم ہیں ، عوام کے جان ومال کا تحفظ اور عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی پولیس کا نصب العین ہے،میرٹ پرعملدرآمد ایک شاندارمعاشرے کے قیام کےلئے باوقار معیار ہے، نیشنل پولیس اکیڈمی میں معیاری تربیت اور رہائش کی بہترین سہولیات کی فراہمی کےلیے بھرپورتعاون کریں گے،تربیت کے لئے افسران کو چین بھی بھجوایا جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیر تربیت پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں وفاقی وزیر دخلہ سید محسن نقوی،وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اعلیٰ پولیس افسران بھی موجو د تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ پولیس افسران نے تربیت کے بعد میدان عمل میں ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عام لوگو ں کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے، ان کی جان ومال کا تحفظ کرنا ہوتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ کی تربیت کا معیار بہترین ہو اور اس کےلیے پولیس افسران کوتمام تر سہولیات مہیا کی جائیں اور تربیت کے نصاب کا بنیادی مقصد عام لوگوں کی حفاظت اور انہیں انصاف مہیا کرنا ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کےلئے یہ تمام عوامل انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، اہداف کا حصول تبھی ممکن ہے جب آپ کی تربیت اور بہترین سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں بطوروزیراعلیٰ ہم نے ایلیٹ فورس قائم کی تھی اوراس پولیس فورس کے قیام کا مقصد اشرافیہ کی حفاظت نہیں بلکہ دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کرنا ہے ،اسی طرح ہم نے پاکستان اورخطے کے پہلے سیف سٹی پراجیکٹ کا نفاذ عمل میں لایا جب دہشت گردی عروج پر تھی اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایاجارہا تھا تو انسداد دہشت گردی کا ادارہ قائم کیا گیا،یہ ایک مایہ ناز ادارہ ہے ،اسی طرح لاہور میں ملک کی پہلی فرانزک لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا گیا،یہ ادارے دہشت گردی اور سماج دشمن عناصر کے خاتمے کےلئے سرگرم کردار ادا کررہے ہیں ، سب اداروں نے مل کر عام آدمی کی جان ومال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے پولیس افسران کو اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں ،پولیس اکیڈمی میں معیاری تربیت اور رہائش کی بہترین سہولیات کی فراہمی کےلئے بھرپورتعاون کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں ان کی وزارت اعلی ٰ کے دور میں پولیس اہلکار میرٹ پربھرتی کیے گئے ، اگرمجھے کوئی شکایت بھی ملی تو ذمہ دار افسران کومعطل کیا گیا، میرٹ پرعملدرآمد ایک شاندارمعاشرے کے قیام کےلیے باوقار معیار ہے، وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم اس مقصد کے لیے دن رات محنت کررہی ہے ،وہ انشاء اللہ قوم کی امیدوں پر پور ا اتریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے ماحول کو بہتر بنانا ہے، وزیرداخلہ نیشنل پولیس اکیڈمی کی مکمل تزئین و آرائش کا فیصلہ کرچکے ہیں ، اکیڈمی میں ایسا ماحول قائم ہوگا جو کسی بھی تربیت گاہ میں ہونا لازم ہے،پولیس اکیڈمی میں ماسٹرز کی ڈگری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 25ایکڑ پرمحیط نیشنل پولیس اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے،جس طرح بیدیا ں لاہور میں ایلیٹ ٹریننگ سکول قائم کیا گیا ہے اسی طرح اسلام آباد میں بھی اس سے بھی بہتر ایلیٹ ٹریننگ سکول قائم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ فائرنگ رینج بھی بنائی جائے گی،زیر تربیت افسران کےلئے ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائے گا،پولیس افسران کو ایک ماہ کی تربیت کےلئے چین بھی بھجوایا جائے گا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ زیر تربیت پولیس افسران قوم کے مایہ ناز بیٹے اور بیٹیا ں ہیں ، ان کا تعلق پنجاب ، سندھ ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے ہے، وزیر داخلہ گلگت بلتستان کے کوٹے پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ شہداء میں ہمارے پولیس کے افسران اورجوان بھی شامل ہیں ، جہلم میں ایک پولیس اہلکار لوگو ں کی جانیں بچاتے ہوئے خود شہید ہوگیا، اسی طرح پولیس کے افسران اورجوان فر ض کی ادائیگی ، عوام کے جان ومال کے تحفظ اور مادر وطن کی حفاظت کےلیے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اس سے بڑ ی اور کوئی قربانی نہیں ہوسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ہماری بہادر افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، رینجرز اور ایف سی بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں ، اپنے بچوں کویتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں ۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے زیر تربیت پولیس افسران میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے اور زیر تربیت پولیس افسران کو سہولیات کی فراہمی اور تربیت کے معیار کی بہتری کیلئے فائرنگ رینج اور ہاسٹل کی تعمیر کے دو منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

    قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے اکیڈمی کا دورہ کیا تھاتو اس کی حالت بہت خستہ تھی، اکیڈمی میں کوئی سٹاف ممبر نہیں تھا بلکہ یہ ایک ڈمپنگ سٹیشن بن چکی تھی، وزیراعظم سے اکیڈمی کی تزئین و آرائش سے متعلق بات کی، پی ایم اے طرز پر پولیس اکیڈمی اور تربیت کا معیار بہتر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی میں دوسرے ممالک کے لوگ تربیت کیلئے آتے تھے، اب اکیڈمی میں اقوام متحدہ اپنا پروگرام بھی شروع کرے گا، سائبر کرائم، کریمنالوجی جیسے جدید نئے کورسز متعارف کرائے جائیں گے، تربیت دینے والے افسران کو مناسب تنخواہیں دی جائیں گی ، ہمارا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی جدید تربیت کو فروغ دینا ہے ، اسسٹنٹ کورس کمانڈرز بھی دیئے جائیں گے تاکہ بہترین افسران تیار کئے جا سکیں، اب نیشنل پولیس اکیڈمی ڈمپنگ سٹیشن نہیں رہے گی۔

  • پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری

    پاک فوج اور ایف ڈبلیو او کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت بلتستان میں شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں کے باعث متعدد اہم شاہراہیں متاثر ہو گئی ہیں۔ ان حالات میں پاک فوج اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    ایف ڈبلیو او اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی مشترکہ ٹیمیں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ اہم سڑکوں کی بحالی اور راستے کھولنے میں مصروف ہیں تاکہ علاقے کی رابطہ کاری بحال ہو سکے۔ قراقرم ہائی وے پر پاک فوج اور انتظامیہ کے تعاون سے ملبہ ہٹانے اور راستے کھولنے کے کام جاری ہیں۔قراقرم ہائی وے کے مختلف حصوں پر خاص طور پر تھلیچی سے چلاس تک کئی مقامات کو کلیئر کر دیا گیا ہے، جہاں ملبہ اور سیلابی ریلے نے راستے بند کر رکھے تھے۔ اس کے علاوہ تتہ پانی اور جلی پور میں بھی روڈ کلیرئنس کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔گندالو نالہ پر تین مقامات بند ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کو مشکل پیش آ رہی ہے، تاہم بھاری مشینری جلد ہی وہاں روانہ کی گئی ہے تاکہ روڈ کو کلیئر کیا جا سکے۔ پاسو گاؤں میں بھی تباہ شدہ روڈ کی بحالی کے لیے کام جاری ہے، تاکہ لوگوں کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

    جگلوٹ سے سکردو جانے والی روڈ کو مکمل کلیئر کر دیا گیا ہے اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے، جو علاقے کی رابطہ کاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔پاک فوج، ایف ڈبلیو او، این ایچ اے اور انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو آپریشنز جاری ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں مدد ملی ہے بلکہ متاثرہ شاہراہوں کی جلد از جلد بحالی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔

  • نومئی کیس،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو 10 سال قید کی سزا

    نومئی کیس،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو 10 سال قید کی سزا

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے کوٹ لکھپت جیل میں 9 مئی کو شیر پاؤ پل پر ہونے والے اشتعال انگیز جلسے اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر کو 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کے تحت دیگر ملزمان کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اہم فیصلے کا اعلان کیا۔ عدالت میں ملزمان کے وکلاء اور سرکاری وکیل نے حتمی دلائل پیش کیے جن کے بعد مقدمے کا جیل ٹرائل مکمل کیا گیا۔

    عدالت نے ایم این اے احمد چھٹہ سمیت تمام دیگر کارکنوں کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔ تاہم فیصلے کے وقت اپوزیشن لیڈر ملک احمد بھچر سمیت کوئی بھی ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔

    مزید برآں، انسداد دہشت گردی عدالت نے بتایا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کل صبح 10 بجے مزید دلائل دیں گے جس کے بعد ان کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا۔ عدالت نے اس کیس میں دیگر 14 ملزمان کے خلاف بھی ٹرائل مکمل کیا ،اس مقدمے میں 61 سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جو عدالت میں پیش کیے گئے۔ یاد رہے کہ میانوالی میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے کیس کے بیشتر ملزمان ضمانت پر ہیں۔

  • سیلابی صورتحال پر پی ٹی اے  کی ٹیلی کام کمپنیوں کو ایڈوائزری جاری

    سیلابی صورتحال پر پی ٹی اے کی ٹیلی کام کمپنیوں کو ایڈوائزری جاری

    ملک کے مختلف حصوں میں سیلابی صورتحال پر پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو ایڈوائزری جاری کر دی ہے

    ٹیلی کام سروسز کی مانیٹرنگ کے لئے قومی ایمرجنسی ٹیلی کمیونیکیشن کوآرڈینیشن سینٹر بھی قائم کر دیا گیا، پی ٹی اے نے کہا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں کشمیر گلگت بلتستان سمیت صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیاریاں یقینی بنائیں،ٹیلی کام کمپنیاں سیلابی صورتحال میں سروسز کی بلاتعطل فراہمی کے متبادل منصوبے مرتب کریں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل، انٹرنیٹ سروس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے،پی ٹی اے نے حساس علاقوں میں ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کو محفوظ بنانے کی ہدایت کی اورکہا کہ بڑی فنی خرابی کی صورت میں پی ٹی اے ہیڈکوارٹر کو فوری اطلاع دی جائے،خرابی بروقت دور کرنے کے لئے سپئیر پارٹس اور فیول کی دستیابی یقینی بنائیں،ٹیلی کام آپریٹرز ہر چھ گھنٹے بعد سروس کی بحالی سے متعلق رپورٹ پیش کریں .