Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خزانے کی تلاش میں مزار کی کھدائی کرنیوالی خاتون سمیت ساتھی گرفتار

    خزانے کی تلاش میں مزار کی کھدائی کرنیوالی خاتون سمیت ساتھی گرفتار

    بہاولپور کے علاقے گوٹھ محراب میں خزانے کی تلاش کے دوران پولیس نے کراچی سے آنے والی ایک خاتون اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، خاتون اور اس کے ہمراہ افراد نے مقامی مزار یتیم شاہ کے مقام پر غیر قانونی کھدائی کی کوشش کی، جس کا مقصد مبینہ طور پر خزانہ تلاش کرنا تھا۔

    خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے علم اور معلومات کی بنیاد پر یقین تھا کہ اس جگہ خزانہ دفن ہے، اس لیے وہ یہاں پہنچی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون اور اس کے ساتھیوں نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر مزار کی قبروں کے پاس کھدائی شروع کر دی تھی، جو مقامی لوگوں کی شدید ناراضگی اور احتجاج کا باعث بنی۔علاقہ مکینوں نے قبروں کے پاس غیر قانونی کھدائی کو مذہبی جذبات کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پولیس نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خزانے کی تلاش کے نام پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی کھدائی برداشت نہیں کی جائے گی، اور عوام کو بھی اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ علاقے میں امن و امان قائم رہے،مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کی مکمل تہہ تک پہنچا جا سکے۔

  • بارشیں،سیلابی صورتحال،جانی و مالی نقصانات پر مرکزی مسلم لیگ کا اظہار افسوس

    بارشیں،سیلابی صورتحال،جانی و مالی نقصانات پر مرکزی مسلم لیگ کا اظہار افسوس

    سیاحتی علاقوں میں قبل از وقت حفاظتی اقدامات کو فعال کیا جائے ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے اسلام آباد،راولپنڈی، دیامر اور مری میں شدید بارشوں، سیلابی صورتحال اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی خاندان کے افراد کی موت اور سیلاب سے دیگر علاقوں میں ہونے والے نقصانات پر قوم غمزدہ ہے، ہم تمام متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔”

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے اور لاپتا افراد کی فوری تلاش کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں،ہاؤسنگ سوسائٹیز اور شہری ادارے بارشوں اور نالوں کی نکاسی کے مؤثر انتظامات کریں تاکہ ایسے دلخراش واقعات دوبارہ نہ ہوں،سیاحتی علاقوں میں قبل از وقت حفاظتی اقدامات، ٹریفک کنٹرول، اور موسم کی پیشگی اطلاع کے نظام کو فعال کیا جائے تاکہ سیاح محفوظ رہ سکیں، قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن مؤثر حکمت عملی، بروقت اقدامات اور ریاستی اداروں کی فعال موجودگی سے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے، ضلعی اور صوبائی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ مزید جانیں نہ جائیں،قومی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر فوری نظرِثانی کی جائے،تمام حساس علاقوں میں ہنگامی ریسکیو و ریلیف کےمراکز قائم کیے جائیں،سیاحتی علاقوں میں موبائل وارننگ سسٹم، وائرلیس الرٹس اور موسمی ایپلی کیشنز کو فعال کیا جائے۔

  • دیامر،ڈاکٹر میاں بیوی سمیت 3 سیاح جاں بحق، متعدد زخمی اور لاپتہ

    دیامر،ڈاکٹر میاں بیوی سمیت 3 سیاح جاں بحق، متعدد زخمی اور لاپتہ

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید سیلابی ریلے نے تباہی مچادی ہے۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں لودھراں کے رہائشی ڈاکٹر میاں بیوی سمیت کم از کم 3 سیاح جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی اور لاپتہ ہیں۔

    جاں بحق جوڑے کی شناخت ڈاکٹر میاں بیوی کے طور پر ہوئی ہے، جو تفریحی دورے پر اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ دیامر آئے تھے۔ ان کے والد بھی سیلاب میں زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین سالہ بچہ ابھی تک لاپتہ ہے۔ فیملی ذرائع نے بتایا ہے کہ حادثے میں متاثرہ خاندان کے دیگر افراد محفوظ ہیں۔ موسم کے بہتر ہوتے ہی میتوں اور اہل خانہ کو دیامر سے لودھراں منتقل کیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلاؤڈ برسٹ سے دیامر کے 15 مختلف مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ خاص طور پر بابو سر سے نیچے تھک کے مقام پر کلاؤڈ برسٹ کی شدت زیادہ تھی جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور بابو سر روڈ بند ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلے نے 7 سے 8 کلومیٹر روڈ مکمل طور پر تباہ کردیا ہے اور تقریباً 10 سے 15 گاڑیاں سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ تین سیاحوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں پایا گیا ہے۔ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں اور حکام جلد متاثرین کو ریلیف پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

    متاثرہ خاندان کے افراد تفریحی مقاصد کے لیے گلگت بلتستان گئے تھے اور گزشتہ روز اسکردو سے واپسی کے دوران دیامر میں سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشنز کے بعد حالات بہتر ہوتے ہی متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔علاقہ مکینوں اور حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور سیلاب زدہ علاقوں میں جانے سے گریز کریں تاکہ مزید جانوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔ امدادی تنظیمیں اور مقامی انتظامیہ متاثرین کی فوری مدد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہیں۔

  • سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ،  سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں شدید بارش اور لینڈسلائیڈنگ میں پھنسے سیاحوں کو پاک آرمی نے ریسکیو کرلیا

    پاک آرمی کے فوری ریسکیو آپریشن کو سیاحوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے،خاتون سیاح کا کہنا تھا کہ ہم کراچی سے سکردو آئے تھے، دیوسائی کے مقام پر سیلاب کے باعث ہماری گاڑیاں ڈوب گئیں،الحمد اللہ پاک آرمی نے فوری طور پر ہمیں ریسکیو کیا، میری اور میرے ساتھ آئی خاتون کی طبعیت کافی خراب ہو گئی تھی، پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہمیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، پاک آرمی نے اس ایمرجنسی میں جس طرح کی خدمات سرانجام دیں وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتیں، پاک فوج ریسکیو کئے گئے سیاحوں کو طبی امداد اور کھانا بھی فراہم کر رہی ہے، ہمیں مکمل بھروسہ ہے کہ کسی طرح کی بھی ناگہانی آفت میں ہماری آرمی ہمیں ریسکیو کرلے گی،

  • راولپنڈی:  کار سوار 2 افراد برساتی نالے میں بہہ گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    راولپنڈی: کار سوار 2 افراد برساتی نالے میں بہہ گئے، ریسکیو آپریشن جاری

    راولپنڈی کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 5 میں شدید بارش کے باعث ایک کار سوار دو افراد برساتی نالے میں بہہ گئے۔ حادثے کے موقع پر دونوں افراد نے گاڑی سے مدد کے لیے بار بار آوازیں لگائیں، تاہم تیز پانی کے بہاؤ کی وجہ سے وہ کار سمیت نالے میں بہہ گئے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کار سوار افراد برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، جس کے نتیجے میں دونوں افراد کار سمیت نالے میں بہہ گئے۔ ریسکیو حکام نے فوری طور پر افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔بارش کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ خاص طور پر راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ڈی ایچ اے فیز 8 میں پانی داخل ہو گیا ہے، جبکہ ملحقہ دیہات بھی شدید بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ گاؤں میں باغ راجگان، کھڑکن اور سوہاوہ شامل ہیں جہاں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

    ٹریفک پولیس نے بھی بتایا ہے کہ اڈیالہ سرکل اور بسکٹ فیکٹری چوک پر بارش کے پانی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے پیش نظر عوام کو احتیاط برتنے اور نشیبی علاقوں میں جانے سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ریسکیو حکام اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ شہری بھی محکمہ موسمیات کی وارننگز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حفاظتی اقدامات کریں۔

  • جموں : دہائیوں پرانے کیس میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا

    جموں : دہائیوں پرانے کیس میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا

    بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں جموں کی ایک عدالت نے دہائیوں پرانے ایک جھوٹے مقدمے میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پرنسپل سیشن جج رام بن دیپک سیٹھی نے محمد ممتاز اور فاروق احمد کو 20 سال سے زائد عرصہ قبل درج کئے گئے اغوا اور قتل کے جھوٹے مقدمے میں عمرقید کی سزا سنائی۔ جج نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ کیس کے بارے میں معلوم ہونے پر دونوں افراد رضاکارانہ طور پر خود عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اُنہوں نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر بھی چھوڑ دیا تھا۔اس اعتراف کے باوجود ، عدالت نے دونوں کو مجریہ ہند کی دفعہ 302 کے تحت عمرقید اور دفعہ 364 کے تحت دس سال قید کی سزا سنائی۔قانونی ماہرین نے عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قانونی اور عسکری اداروں کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کو قانون کی آڑ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طویل عرصے سے زیرالتوا مقدمات سیاسی اختلاف پر کشمیریوں کو سزا دینے اور آزادی پسند جذبات کو کچلنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی عدلیہ اورمودی کی ہندوتو حکومت کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آزادی پسند کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔

  • مودی کا چوتھی بڑی معیشت کا فریب بے نقاب، عوام بھوک اور قرض سے خودکشیوں پر مجبور

    مودی کا چوتھی بڑی معیشت کا فریب بے نقاب، عوام بھوک اور قرض سے خودکشیوں پر مجبور

    مودی کا چوتھی بڑی معیشت کا فریب بے نقاب، عوام بھوک اور قرض سے خودکشیوں پر مجبورہو چکی ہے

    مودی سرکار کا ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ صرف اڈانی و امبانی کا وکاس ثابت ہوا،عام بھارتی عوام غربت، مہنگائی اور پسماندگی کا شکار ہے،مودی راج کے معاشی ترقی کے جھوٹے دعووں کو بھوک، قرض اور خودکشیوں کی حقیقت نے بےنقاب کر دیا،مودی راج میں قرض، بھوک اور معاشی ناہمواری نے عام بھارتی شہریوں کو اجتماعی خودکشی جیسے فیصلوں پر مجبور کر دیا

    مودی راج کے گجرات میں بھوک و قرض سے تنگ ایک خاندان نے اجتماعی خودکشی کرلی،این ڈی ٹی وی کے مطابق؛”20 جولائی کو گجرات کے ضلع احمد آباد میں میاں بیوی اور تین بچوں کی لاشیں گھر سے برآمد ہوئیں”والدین نے مبینہ طور پر دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو زہر دے کر خودکشی کر لی، ویپل وگھیلا واحد کفیل تھا، جو آٹو رکشہ چلا کر گھر چلا رہا تھا اور بھاری قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، تین سال میں 1866 خودکشیاں ہوئیں جن میں 19 فیصد مالی دباؤ اور غربت تھی،

    ویپل وگھیلا کی کہانی مودی کے فریب زدہ گجرات ماڈل کی خوفناک حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے،گجرات ماڈل کے نام پر مودی سرکار نے صرف غربت، قرض اور بے بسی پھیلائی ہے،گجرات میں مودی سرکار کی ساتویں بار حکمرانی کے باوجود لوگ غربت اور قرض کے بوجھ تلے خودکشی پر مجبور ہیں،جہاں سے مودی نے سیاست کا آغاز کیا، وہی گجرات آج بھی بھوک، قرض اور محرومی کی زندہ مثال ہے،مودی کا نعرہ "آں گجرات میں بنایو چھے” دراصل بھوک، قرض اور خودکشیوں سے بنے گجرات کی بھیانک حقیقت ہے ،بھارت میں معاشی استحصال نے عوام کو ذہنی دباؤ اور موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے،مودی سرکار کے معاشی ماڈل کی ناکامی کاثبوت بھارت بھر میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات ہیں،بھارتی عوام کے لیے نہ روزگار ہے، نہ قرض معافی کی کوئی گنجائش، صرف سرمایہ داروں کو اربوں کی چھوٹ دی جا رہی ہے

  • پاک فوج کا ریسکیو آپریشن ،دیوسائی روڈ کھول دیا گیا،آمدورفت جاری

    پاک فوج کا ریسکیو آپریشن ،دیوسائی روڈ کھول دیا گیا،آمدورفت جاری

    گزشتہ دنوں شدید بارش اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث سکردو-دیوسائی روڈ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ گئی، جس کے باعث چالیس سے پچاس گاڑیوں میں سوار سیاح اور مقامی افراد درمیانِ راہ میں پھنس گئے۔

    پاک فوج نے فوری ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ رات بھر کی انتھک کوششوں کے بعد پاک فوج کی انجینئرنگ ٹیموں نے بھاری مشینری کے ذریعے سکردو سے سدپارہ ماؤنٹینیئرنگ اسکول اور دیوسائی سے سدپارہ گاؤں تک سڑک مکمل کلیئر کر دی۔تمام بند راستے کھول دیے گئے ہیں اور تمام پھنسے ہوئے افراد اور گاڑیاں محفوظ طریقے سے نکال لی گئی ہیں۔ آمدورفت بحال ہو چکی ہے اور ٹریفک روانی سے جاری ہے۔فوجی دستے اب بھی علاقے میں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔مقامی افراد اور سیاحوں نے پاک فوج کی بروقت کارروائی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

  • رجب بٹ کے گھر پر فائرنگ کے دو ملزمان گرفتار

    رجب بٹ کے گھر پر فائرنگ کے دو ملزمان گرفتار

    لاہور کے علاقے چوہنگ میں معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے گھر پر فائرنگ کرنے والے دو ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزمان کی شناخت کاشف چوہان اور فرخ کے نام سے ہوئی ہے۔

    چوہنگ پولیس کے ایک اعلیٰ حکام نے بتایا کہ رجب بٹ کے گھر فائرنگ کا واقعہ شانی ٹائیگر نامی شخص کی سازش کے تحت پیش آیا، جس نے اپنے اشارے پر دونوں ملزمان کو یہ کارروائی کروائی۔ پولیس کے مطابق رجب بٹ اور سوشل میڈیا پر شہزاد بھٹی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی، جس کے بعد شہزاد بھٹی نے شانی ٹائیگر کو فائرنگ کے لیے شوٹرز بھیجنے کی ہدایت دی۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا مزید تفتیشی عمل جاری ہے اور انہیں سی سی ڈی (سینٹرل ماڈل پولیس تھانے کے تحت قائم ایک خصوصی تفتیشی یونٹ) کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ واقعے کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ رجب بٹ کے گھر پر پہلے بھی متعدد بار نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں،پولیس نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرے گی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

  • چلاس: بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں متعدد سیاح لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    چلاس: بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں متعدد سیاح لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت بلتستان کے خوبصورت ضلع دیامر میں واقع سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر شدید سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ہے۔ دریاؤں میں اچانک آنے والے فلیش فلڈ (سیلابی ریلے) کی وجہ سے متعدد سیاح بہہ کر لاپتا ہو گئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی لوگ مل کر متاثرہ سیاحوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان کے مطابق بابو سر سے نیچے تھک کے مقام پر اچانک کلاوڈ برسٹ (آسمانی طوفان) ہوا، جس کے باعث شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور بابو سر روڈ مکمل طور پر بند ہوگئی۔ تقریباً 7 سے 8 کلومیٹر سڑک تباہ ہو چکی ہے، جس سے علاقے کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ڈی سی نے بتایا کہ سیلاب میں اب تک 3 افراد کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں ریسکیو کر کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس قافلہ میں 10 سے 15 گاڑیاں، جن میں کوسٹرز بھی شامل ہیں، سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔قدرتی آفت کی وجہ سے بجلی اور فائبر آپٹک لائنز بھی متاثر ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں رابطہ منقطع ہے۔ حکام نے مشینری کے ذریعے سڑکیں کھولنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ناران سے بھی بابو سر روڈ کو کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    مقامی لوگوں نے بھی ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے ریسکیو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کے ردعمل میں جو کچھ بھی ممکن ہے کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ صبح سے سرچ آپریشن جاری ہے اور لاپتا افراد کی تلاش میں تیزی لائی گئی ہے۔ سیلاب کی شدت کی وجہ سے گرلز اسکول، 2 ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔ تقریباً 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثر ہے اور 15 مقامات پر روڈ بلاک ہے۔ بابو سر پر 4 رابطہ پل بھی تباہ ہو چکے ہیں۔فیض اللہ فراق نے مزید کہا کہ سیکڑوں پھنسے ہوئے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔ مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے کئی سیاح اپنے گھروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے، تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کو مفت کھول دیا گیا ہے تاکہ متاثرین کو مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاک فوج نے بھی فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ شاہراہ بابو سر اور قراقرم ہائی وے پر پھنسے ہوئے سیاحوں اور مسافروں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پاک فوج اور گلگت بلتستان اسکاوٹس ٹیمیں متاثرہ افراد کو اشیائے خوردونوش فراہم کر رہی ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ، مشینری اور افرادی قوت سڑکوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ جلد از جلد شاہراہ بابو سر کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی روانہ کر دی گئی ہیں۔