Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آٹھ ماہ میں ایئر انڈیا کو حفاظتی خلاف ورزیوں پر 9 شوکاز نوٹسز جاری ہونےکا انکشاف

    آٹھ ماہ میں ایئر انڈیا کو حفاظتی خلاف ورزیوں پر 9 شوکاز نوٹسز جاری ہونےکا انکشاف

    راجیہ سبھا میں سیول ایوی ایشن وزارت نے ممبران پارلیمنٹ کے متعدد سوالات کے جواب میں بتایا کہ پچھلے چھ مہینوں کے دوران ایئر انڈیا کو حفاظتی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں پانچ مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کل 9 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان میں سے ایک خلاف ورزی کے حوالے سے کارروائی مکمل کی جا چکی ہے۔

    وزیر مملکت برائے سول ایوی ایشن مرلی دھر موہول نے بتایا کہ ایئر انڈیا کی مختلف حفاظتی مسائل کی نشاندہی کی گئی اور ان پر شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔انہوں نے سی پی ایم کے رکن جان بریٹاس کے سوال کے جواب میں کہا، "ایک خلاف ورزی پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے”، مگر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    یہ تازہ ترین اطلاعات اس حادثے کے چند ہفتے بعد سامنے آئی ہیں جب ایئر انڈیا کے بوئنگ ڈریم لائنر طیارے کا احمد آباد میں حادثہ پیش آیا تھا جس میں 260 افراد جاں بحق اور 81 زخمی ہوئے تھے۔ احمد آباد سے لندن جا رہا یہ طیارہ حادثے کے بعد میڈیکل کالج کے ہوسٹل میں جا گرا تھا۔ اس پر سوار 241 افراد میں سے صرف ایک شخص ہی بچ پایا تھا، باقی ہلاک ہونے والے افراد زمین پر بھی موجود تھے۔حادثے کے فوراً بعد سول ایوی ایشن کی نگرانی کرنے والی ایجنسی ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کے بوئنگ 787-8 اور 787-9 طیاروں کا معائنہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    وزیر سیول ایوی ایشن کے ذریعے دیے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ایئر انڈیا کے کل 33 طیاروں میں سے 31 آپریشنل ہیں جن کا معائنہ کیا گیا، جن میں 8 طیاروں میں معمولی خرابیاں دریافت ہوئیں جنہیں درست کرنے کے بعد دوبارہ آپریشن کے لیے جاری کر دیا گیا۔ باقی 2 طیارے معمول کے شیڈول کے تحت مرمت کے مراحل میں ہیں۔دیگر سوالات کے جواب میں مرلی دھر موہول نے کہا کہ احمد آباد کے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں، بشمول اس امکان کے کہ کہیں یہ کوئی سازش یا بد نیتی کا نتیجہ تو نہیں۔

    وزارت نے بتایا کہ ڈی جی سی اے نے اپریل 2025 تک مجموعی طور پر 254 حفاظتی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کارروائیاں کی ہیں۔ گزشتہ سال یہ تعداد 673 اور 2023 میں 542 رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں وارننگز، معطلی، لائسنس کی منسوخی اور مالی جرمانے شامل ہوتے ہیں۔

  • سینیٹ کا 96 رکنی ایوان مکمل ہو گیا، پیپلز پارٹی سب سے آگے

    سینیٹ کا 96 رکنی ایوان مکمل ہو گیا، پیپلز پارٹی سب سے آگے

    اسلام آباد: پاکستان کے پارلیمانی نظام کا اہم ستون سینیٹ کا 96 رکنی ایوان مکمل ہو گیا ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد قومی سطح پر سیاسی جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم کا توازن واضح ہو گیا ہے۔

    نئی تشکیل شدہ سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 26 نشستوں کے ساتھ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 24 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن (ن لیگ) 20 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

    جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن کی پارٹی (جے یو آئی-ف) 7 نشستیں، آزاد امیدواروں نے 6 نشستیں، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو 4 نشستیں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) 3 نشستیں، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) 3 نشستیں، نیشنل پارٹی کو 1 نشست، قائد لیگ (ق لیگ) 1 نشست اور مجلس وحدت المسلمین کو بھی 1 نشست حاصل ہوئی ہے۔

    سینیٹ کی اس نئی تشکیل کے بعد قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قوت اور پالیسی سازی میں ان کے اثرات مزید نمایاں ہوں گے۔ اس ایوان کی مکمل ہونے سے ملکی سیاسی منظرنامہ اور بھی دلچسپ اور متحرک ہو جائے گا، جہاں پارلیمانی ڈائیلاگ اور قانون سازی کا عمل جاری رہے گا۔سینیٹ پاکستان کا ایوان بالا ہے جو صوبوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد وفاقی نظام کو مضبوط بنانا اور صوبوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

  • سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے،حفیظ البرکات شاہ

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے،حفیظ البرکات شاہ

    بارش اور سیلاب میں جان بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے دکھ درد اور غم میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے متاثرین کی مالی مدد کی جائے اور ان کی بحالی کےلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔زمینی وآسمانی آفات سے بچنے کےلئے قرآن مجید سے تعلق مضبوط کیا جائے ۔

    ان خیالات کا اظہار قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سرپرست اعلیٰ حفیظ البرکات شاہ ، چئیرمین سید احسن محمود شاہ صدر قدرت اللہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک عرصہ سے زمینی وآسمانی آفات کا شکار ہے ۔ان آفات سے بچنے کےلئے ضروری ہے کہ ظاہری اسباب بھی اختیار کئے جائیں اور روحانی اسباب بھی بروئے کار لائے جائیں ۔ ظاہری اسباب یہ ہیں کہ بارشوں کا پانی ذخیرہ کرنے کےلئے نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں ہر سال بارشوں کا لاکھوں کیوسک پانی تباہی پھیلاتے ہوئے زرعی زمینوں اور آبادیوں کو تباہ کرتے ہوئے ضائع ہوجاتا ہے لیکن اس پانی کو ذخیرہ کرنے کےلئے ڈیم نہیں بنائے جا رہے ۔ پانی اللہ کی نعمت ہے ہم اس نعمت کی قدر نہیں کرتے بے دردی اور بے رحمی سے پانی ضائع کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں مون سون صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ مکمل بحران بن چکا ہے جو ہر سال اپنے ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی لاتا ہے ۔ زمینی وآسمانی آفات سے بچنے کا روحانی طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید سے تعلق مضبوط کیا جائے ، شہید مقدس اوراق کی حفاظت کی جائے اور قرآن مجید کو عملاََ اپنی زندگیوں میں نافذ کیا جائے اسلئے کہ اللہ نے یہ ملک ہمیں قرآن کی برکت سے عطا کیا ہے ۔ ناشران قرآن نے کہا کہ ہم بارشوں اور سیلاب سے جان بحق ہونے والوں کے ورثاءکے غم میں شریک ہیں ۔اللہ جان بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے ورثا ءکو صبر کی توفیق عطا فرمائے

  • ڈھاکہ ، تربیتی طیارے کے حادثے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق، 171 زخمی

    ڈھاکہ کے علاقے اتورا میں واقع مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج پر بنگلہ دیش ایئر فورس کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور وہ مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    حادثہ جمعہ کو دوپہر تقریباً 1:18 بجے پیش آیا، جب بنگلہ دیش ایئر فورس کا تربیتی طیارہ اچانک اسکول کی عمارت سے ٹکرا گیا۔ فائر سروس اور سول ڈیفنس کے ڈیوٹی آفیسر لیما خانم نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع فوری طور پر موصول ہوئی اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل سمیع الدولہ چوہدری کے مطابق زخمی پائلٹ، فلائٹ لیفٹیننٹ توقیر اسلام ساگر، کو طبی امداد کے دوران ڈھاکہ کے کومبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں مردہ قرار دے دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر 171 افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ حادثے میں زیادہ تر متاثرین بچوں کے ہونے کی اطلاع ہے جن میں کئی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد سیدور رحمان، جو کہ وزارت صحت کے چیف ایڈوائزر کے خاص معاون ہیں، نے بتایا کہ ابتدائی طور پر تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے ایک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف برن اینڈ پلاسٹک سرجری میں اور دو کرمتولا جنرل ہسپتال میں جاں بحق ہوئے ہیں۔

    انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک بڑا سانحہ ہے۔ ہم اپنی تمام دستیاب وسائل کے ساتھ بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ماہر ڈاکٹرز دن رات کام کر رہے ہیں اور ڈھاکہ میڈیکل کالج بھی ایمرجنسی میں ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "اب تک تقریباً 60 افراد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف برن اینڈ پلاسٹک سرجری میں داخل ہیں اور ہم 10 سے 15 مزید افراد کو داخل کرنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ڈھاکہ میڈیکل کالج مزید مریضوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔”

    وزارت صحت نے واقعے کا فوری نوٹس لیا ہے اور حکومت کی جانب سے زخمیوں کے علاج اور بچاؤ کے لیے تمام ممکنہ انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک ماہرین کی ٹیم فوری طور پر زخمیوں کی مدد کے لیے روانہ کی گئی ہے تاکہ علاج کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ حادثہ زدگان کے لیے خون کے عطیات دیں اور ریسکیو ٹیموں کو کام کرنے میں تعاون فراہم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ جانیں بچائی جا سکیں۔

  • غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی

    غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی

    بلوچستان کے نواحی علاقے سنجدی ڈیگاری میں غیرت کے نام پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے مرد اور عورت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس نے واقعے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کے مطابق، دونوں مقتولین کا پوسٹ مارٹم ڈیگاری کول مائن کے قبرستان میں کیا گیا۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق خاتون کو 7 گولیاں اور مرد کو 9 گولیاں ماری گئیں، جو ان کی موت کا سبب بنیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں کو 4 جون 2025 کو قتل کیا گیا۔یہ اندوہناک واقعہ چند روز قبل سامنے آیا تھا جب غیرت کے نام پر قتل کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں سنجدی ڈیگاری کے مقام پر ایک مرد اور عورت کو فائرنگ کر کے قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد صوبے بھر میں عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

    واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست مظلوم کے ساتھ ہے اور تمام ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے اور انہیں جلد گرفتار کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران کی نگرانی میں جاری اس کارروائی میں حساس ادارے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہنماؤں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے اور ایسے عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔

  • خیبر پختونخوا ، سینیٹ انتخابات، حکومت اور اپوزیشن اتحاد نے تمام 11 نشستیں جیت لیں

    خیبر پختونخوا ، سینیٹ انتخابات، حکومت اور اپوزیشن اتحاد نے تمام 11 نشستیں جیت لیں

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں حالیہ سینیٹ انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے اتحاد نے تمام 11 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی ہے۔ حکومتی اتحاد کو 6 جبکہ اپوزیشن اتحاد کو 5 نشستیں حاصل ہوئیں۔

    جنرل نشستیں: کل 7 جنرل نشستوں میں سے 4 پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جبکہ 3 پر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔
    خواتین کی نشستیں: 2 خواتین کی نشستوں میں ایک پر پی ٹی آئی کی روبینہ ناز جبکہ دوسری پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار کامیاب ہوئیں۔
    ٹیکنوکریٹ نشستیں: ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں میں سے ایک پر تحریک انصاف کے اعظم سواتی اور دوسری پر جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے دلاور خان کامیاب قرار پائے۔

    اعظم سواتی (پی ٹی آئی، ٹیکنوکریٹ) — 89 ووٹ حاصل کیے۔دلاور خان (جے یو آئی ف، ٹیکنوکریٹ) — 54 ووٹ حاصل کیے۔مراد سعید (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 26 ووٹ حاصل کیے۔فیصل جاوید (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 22 ووٹ حاصل کیے۔نورالحق قادری (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 21 ووٹ حاصل کیے۔مرزا آفریدی (پی ٹی آئی، جنرل نشست) — 21 ووٹ حاصل کیے۔روبینہ ناز ( خواتین کی نشست) — 89 ووٹ حاصل کیے۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت الیکشن کمیشن نے ایک گھنٹہ بڑھا کر شام 5 بجے تک کر دیا تھا، جب کہ شروع میں پولنگ کا وقت صبح 11 بجے سے دوپہر 4 بجے تک مقرر تھا۔سب سے پہلا ووٹ جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی سجاد اللّٰہ نے ڈال کر انتخاب کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے احمد کنڈی، پی ٹی آئی کے اقبال وزیر، آزاد رکن علی حادی، اور دیگر اہم سیاسی شخصیات نے بھی حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کے پیر مصور، ملک لیاقت، اکبر ایوب اور مخدوم آفتاب حیدر نے بھی ووٹ ڈالے۔الیکشن کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال کو الیکشن روم کے طور پر مخصوص کیا گیا تھا جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تاکہ انتخابات مکمل شفافیت اور تحفظ کے ساتھ مکمل ہوں۔ہے۔

  • جیل میں "بہتر”سہولیات دی جائیں، عمران خان عدالت پہنچ گئے

    جیل میں "بہتر”سہولیات دی جائیں، عمران خان عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں اڈیالہ جیل میں قید کی موجودہ ناقص اور نامناسب صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے بہتر سہولیات کی فراہمی کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں روڑے اٹکائے ہیں، جس کی وجہ سے قید کا ماحول انتہائی خراب اور ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو اخبار، ٹی وی، ورزش کے آلات اور دیگر تفریحی سامان تک رسائی نہیں دی جا رہی، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ذاتی لباس اور بستر فراہم کرنے میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے، جبکہ ذاتی ڈاکٹر کے معائنے میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ عدالت سے منظور شدہ طبی پینل کی سہولیات فراہم کرنے میں بھی جان بوجھ کر کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں، جیل میں بجلی کی بلا جواز بندش بھی معمول بن چکی ہے، جس سے قیدیوں کی زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جیل انتظامیہ کو فوری طور پر قیدیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود بیرونِ ملک موجود بیٹوں سے قیدیوں کی بات چیت نہیں کروائی جا رہی، جو کہ قیدیوں کے حق میں سنگین خلاف ورزی ہے۔

  • معروف براڈ کاسٹر یاسمین طاہر   کیلیے دعائیہ تقریب کل منگل کو ہو گی

    معروف براڈ کاسٹر یاسمین طاہر کیلیے دعائیہ تقریب کل منگل کو ہو گی

    پاکستان کی معروف صداکارہ اور سماجی شخصیت، یاسمین طاہر، اپنے سفرِ زندگی کے اختتام کو پہنچ گئی ہیں۔ ان کی یاد میں ایک قراءتِ قل اور دعا کا خصوصی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے،

    قل اور دعا کی تقریب منگل، 22 جولائی 2025،عصر سے مغرب تک ،بمقام طاہر حویلی، 122-بی ماڈل ٹاؤن، لاہور میں منعقد کی جائے گی،اس موقع پر نعیم طاہر سمیت اہل خانہ نے کہا ہے کہ یاسمین طاہر کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کر کے ان کی روح کی سکون کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا اظہار افسوس
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے معروف براڈ کاسٹر یاسمین طاہر کے انتقال پر گہرا افسوس اور سوگوار خاندان سے ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ یاسمین طاہر کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

    ریڈیو پاکستان کی نامور صداکارہ یاسمین طاہر ہفتہ کی صبح مختصر علالت کے بعد 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ چند دنوں سے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔یاسمین طاہر کا تعلق ایک ادبی اور ثقافتی خاندان سے تھا، جنہوں نے اردو ادب اور نشریات میں اپنا نمایاں مقام بنایا۔ ان کے والد امتیاز علی تاج اردو ڈرامہ نگاری کے بانی تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے مشہور ڈرامہ ’’انارکلی‘‘ کو اردو ادب میں کلاسیکی حیثیت حاصل ہے۔ والدہ ہیجائب امتیاز علی نہ صرف ایک ادیبہ تھیں بلکہ برصغیر کی پہلی مسلم خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز بھی رکھتی تھیں۔1960 میں ان کی شادی اداکار و کالم نگار نعیم طاہر سے ہوئی، جن کے تین بیٹے ہیں جن میں ہالی ووڈ کے معروف اداکار فران طاہر بھی شامل ہیں۔ ان کی شادی پر معروف گلوکارہ نور جہاں نے شاعر فیض احمد فیض کا تحریر کردہ سہرا گایا تھا۔

    یاسمین طاہر نے 1958 میں ریڈیو پاکستان سے اپنے نشریاتی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی آواز میں نرمی، سچائی اور خلوص تھا جو سننے والوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتی تھی۔ انہوں نے 37 سال تک ریڈیو پاکستان میں کام کیا اور مختلف پروگرامز جیسے ’’صبح بخیر پاکستان‘‘ سے لے کر فوجیوں کے لیے خصوصی پیغامات تک اپنی منفرد پہچان بنائی۔خاص طور پر جنگوں کے دوران ان کی آواز میں حوصلہ افزائی اور ہم آہنگی کی جھلک دکھائی دیتی تھی، جو ہر سپاہی کے دل کو چھو جاتی تھی۔

    یاسمین طاہر نہ صرف ایک صداکارہ بلکہ ایک باشعور سماجی شخصیت بھی تھیں۔ وہ نوجوانوں کی رہنمائی، خواتین کے حقوق اور قومی یکجہتی کے حوالے سے ہمیشہ آگے رہیں۔ انہوں نے کئی اردو ڈراموں اور ریڈیو تھیٹر میں یادگار کردار ادا کیے۔ان کے صاحبزادے فران طاہر نے بھی میڈیا اور اداکاری کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے، جو آج ہالی ووڈ میں بھی اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔

    یاسمین طاہر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز دیے گئے، جن میں 2015 میں حکومت پاکستان کی جانب سے دی جانے والا ستارہ امتیاز شامل ہے۔ یہ اعزاز ان کی مسلسل محنت اور قوم کے دلوں کو چھونے والی آواز کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یاسمین طاہر ایک ایسی آواز تھیں جو نہ صرف سنائی دیتی تھی بلکہ محسوس کی جاتی تھی۔ ان کی وفات سے ریڈیو پاکستان اور قوم ایک ایسے چراغ سے محروم ہو گئی ہے جس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوگی۔ ان کا نام اور ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔ہم سب کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

  • سینیٹ انتخابات میں حافظ عبدالکریم کی جیت خوش آئند ہے، قاری یعقوب شیخ

    سینیٹ انتخابات میں حافظ عبدالکریم کی جیت خوش آئند ہے، قاری یعقوب شیخ

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کی حافظ عبدالکریم کو سینیٹر منتخب ہونے پر مبارکباد

    مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر حافظ عبدالکریم کو سینیٹر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حافظ عبدالکریم کی سینیٹ میں کامیابی ان کی سیاسی بصیرت اور عوامی خدمت کا اعتراف ہے،امید ہے کہ حافظ عبدالکریم ایوان بالا میں عوام کی بھرپور نمائندگی کریں گے،اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے ،سینیٹ میں حافظ عبدالکریم کی موجودگی نہ صرف دینی حلقوں کے لیے حوصلہ افزا ہوگی بلکہ وہ تعلیم، معاشرتی اصلاحات، اقلیتوں کے حقوق اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔

  • کمسن لڑکی سے شادی ، نامزد ملزم ضمانت خارج ہونے پر عدالت سے فرار

    کمسن لڑکی سے شادی ، نامزد ملزم ضمانت خارج ہونے پر عدالت سے فرار

    کراچی: کمسن لڑکی سے شادی کے مقدمے میں نامزد ملزم کی ضمانت منسوخ ہونے کے بعد عدالت سے فرار ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ملزم نے عدالتی کارروائی سننے کے بعد کمرہ عدالت چھوڑ کر فرار اختیار کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق، یہ مقدمہ کمسن لڑکی کی شادی کے حوالے سے مومن آباد تھانے میں درج کیا گیا تھا، جہاں ملزم کے خلاف سندھ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی۔ مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے محض 13 سال کی کمسن بچی سے شادی کی، جو کہ قانوناً ممنوع ہے۔وکیل مدعی کے مؤقف کے بعد عدالت نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت کے اس حکم کے فوراً بعد ملزم نے عدالت میں موجود افراد کو حیران کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔ واقعے کے بعد عدالت نے متاثرہ لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسے شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم دیا ہے۔اس مقدمے نے کمسن لڑکیوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے قانونی نظام کی سنجیدگی کو اجاگر کیا ہے۔ سندھ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کمسن لڑکیوں سے شادی کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عدالت نے بھی کہا ہے کہ ایسے کیسز میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ معاشرے میں کمسن بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو روکا جا سکے۔