Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکی حملے کے بعدلندن سے دبئی اور دوحہ کے لیے پروازیں منسوخ

    امریکی حملے کے بعدلندن سے دبئی اور دوحہ کے لیے پروازیں منسوخ

    لندن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے جوہری مقامات پر غیرمعمولی حملے کے فوری بعد لندن سے دبئی اور دوحہ کے لیے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ برٹش ایئر ویز نے اتوار کو ہیاتھرو ایئرپورٹ سے دبئی اور دوحہ کے لیے روانہ ہونے والی تمام پروازیں، بشمول واپسی کی پروازوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایئر لائن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی حملوں کے باعث پیدا شدہ حفاظتی خدشات کی وجہ سے کیا گیا ہے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل پر جوابی بیلسٹک میزائل داغے۔ اسرائیل نے بھی امریکی حملوں کے تناظر میں اپنے فضائی حدود کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ اقدام اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جب برٹش ایئر ویز کی ایک پرواز جو لندن ہیتھرو سے دبئی جارہی تھی، اچانک زوریخ میں لینڈ کر گئی۔ بی اے 109 پرواز، جو ہفتہ کی رات 9:53 بجے روانہ ہوئی تھی، سعودی عرب پہنچنے کے بعد اپنا راستہ بدل کر سوئٹزرلینڈ میں اتر گئی، جیسا کہ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 نے بتایا۔برٹش ایئر ویز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "موجودہ حالات کے پیش نظر ہم نے اپنے پرواز کے شیڈول میں تبدیلی کی ہے تاکہ اپنے مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے، جو ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم اپنے مسافروں سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ انہیں متبادل آپشنز سے آگاہ کریں۔”

    ایئر لائن نے ان مسافروں کے لیے بکنگ پالیسی بھی متعارف کروائی ہے جو اتوار سے منگل کے درمیان دبئی اور دوحہ کے لیے پروازوں کی تاریخیں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب، گیٹ وک ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، وہاں سے دبئی اور دوحہ کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

    یہ فیصلے امریکہ کی جانب سے ایران کے تین جوہری مقامات پر رات بھر کی گئی تباہ کن فضائی کارروائیوں کے فوراً بعد سامنے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ‘آپریشن مڈنائٹ ہیمر’ کے تحت بی-2 بمبار طیاروں کی ایک ٹیم کو بھیجا، جس نے 14 بنکر بوسٹر بم، 24 سے زائد ٹوماہاک میزائلز اور 125 سے زائد فوجی طیاروں کے ذریعے تین اہم جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ نے اتوار کی صبح پریس کانفرنس میں ان حملوں کو "بہادر اور شاندار” قرار دیا اور ایران کو خبردار کیا کہ مذاکرات کی میز پر نہ آنے کی صورت میں اس کے سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔تاہم، امریکی عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں مکمل طور پر ختم ہو گئی ہیں یا نہیں، کیونکہ زیر زمین فورڈو سائٹ پوری طرح تباہ نہیں کی گئی۔

  • مختلف ممالک کے 33 مسافر طیارے اسرائیل ایران جنگ کے دوران پھنس کر رہ گئے

    مختلف ممالک کے 33 مسافر طیارے اسرائیل ایران جنگ کے دوران پھنس کر رہ گئے

    ائیر انڈیا، ترکیہ، قطر، جرمنی، امارات، امریکا سمیت مختلف ممالک کے 33 مسافر طیارے اسرائیل ایران جنگ کے دوران فضائی حدود بند ہونے سے پھنس کر رہ گئے ہیں۔

    ان طیاروں کے عملے کے کئی سو ارکان بھی متعلقہ ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں،جیو ٹی وی کے مطابق امارات ائیر کا بوئنگ 777 طیارہ پرواز ای کے 977 کے طور پر 13 جون کو دبئی سے تہران کے امام خمینی ائیرپورٹ اترا تھا کہ ایران پر اسرائیلی حملے کے باعث پرواز واپسی کی نہ جا سکی،ترکیہ کی کم لاگت کی پیگیس ائیر کی 3 پروازیں پی سی 6624، 1637 اور 512 اسی رات میرسن، انقرہ اور استنبول سے امام خمینی ائیرپورٹ اتریں۔ ان میں ایک اے 321 اور 2 اے 320 طیارے واپس روانہ نہ ہوسکے،ترکیہ کی نجی ائیر ٹیل ونگ کا بوئنگ 737 پرواز ٹی 1971 بھی اسی رات مرسین سے تہران اترا تھا،افریقی ملک کوموروس کا ایم ڈی 97 طیارہ پرواز ڈی 1 کے طور استنبول سے مہرآباد ائیرپورٹ تہران پہنچا تھا جو واپس نہ جاسکا۔ تبریز ائیرپورٹ پر بھی پیگسس ائیر کی پرواز پی سی 6646 اس رات پہنچی،13 جون کو ہی استنبول سے پیگسس ائیر کی پرواز پی سی 524 شیراز اتری۔ جو واپس نہ جاسکی،ایران کے سری ائیرپورٹ پر امریکی رجسٹریشن کا پرائیویٹ طیارہ بھی تاحال موجود ہے۔ دوحہ سے 13 جون کو پرواز کیو آر 436 عراق کے سلمانیہ ائیرپورٹ پہنچی۔ ائیر بس اے 320 اور 321 طیارے واپس نہ جا سکے۔

    پیگسس ائیر کا برانڈ نیو ائیر بس اے 321 طیارہ بطور پرواز پی سی 656 اور ترکش ائیر کی پرواز ٹی کے 802 پرواز 13 جون کو بغداد پہنچی مگر جنگ شروع ہونے پر واپس نہ جاسکے،بغداد ائیرپورٹ پر امریکی رجسٹریشن کے مزید 5 طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی منازل پر روانہ نہ ہو سکے جبکہ جنوبی افریقا کا بیچ 19 طیارہ بھی بغداد میں پھنس گیا ہے،ایران کی سوفران ایئر کا بوئنگ 737 طیارہ 12 جون کو مشہد سے النجف ائیرپورٹ اترا مگر جنگ شروع ہونے کے باعث واپس نہ جا سکا،عراق کے اربیل ائیرپورٹ پر ترکیہ کی پیگسز ائیر کا برینڈ نیو اے 321 طیارہ پرواز پی سی 820 اور قطر ائیر کا اے 320 طیارہ پرواز کیو ار 454 کے طور پہنچا اور واپس نہ جاسکا،قطر کا ایک لینارڈو ہیلی کاپٹر اور امریکی ارمی کا بوئنگ طیارہ بھی اربیل ائیرپورٹ پر پھنسا ہوا ہے،اردن کے امان سول ائیرپورٹ پر جزائر کمینن کا گلف اسٹریم، مصر کی ایئر ماسٹر کا بوئنگ 737 طیارہ بھی پھنسا ہوا ہے۔ عراق کا پرائیویٹ ہاکر طیارہ اربیل سے عمان پہنچا مگر واپس نہ جا سکا۔ امریکا کا نجی چھوٹا طیارہ، سربیہ کا پائپر جہاز بھی امان سول ائیرپورٹ پر موجود ہے۔

    اس کے علاوہ اردن کے امان کوئین عالیہ ائیرپورٹ پر ترکیہ کی ایم این جی ائیر لائن کا ایئر بس اے 330 طیارہ استنبول سے پرواز ایم بی 197 کے طور پہنچا تھا جو واپس نہ جا سکا،ائیر انڈیا کا بوئنگ 787 طیارہ دہلی سے 31 مئی کو اردن کے امان کوئین عالیہ ائیرپورٹ پرواز کے طور پر آیا تھا اور فنی خرابی کا شکار ہوا اور تاحال ائیرپورٹ پر موجود ہے،جرمنی کی لفتھانزا ایئر کا اے 320 طیارہ، بحرین کی گلف ایئر کا اے 320 طیارہ جرمنی کی ڈسکور ایئر کا اے 330 طیارہ بھی امان کوئین عالیہ ائیرپورٹ پر موجود ہے

  • بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود ایک ماہ مزید بند رکھنے کا فیصلہ

    بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود ایک ماہ مزید بند رکھنے کا فیصلہ

    پاکستان نے بھارتی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود بند رکھنے کا فیصلہ ایک بار پھر توسیع دیتے ہوئے، آج سے مزید ایک ماہ کیلئے نافذ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) سہہ پہر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، پاکستان نے 24 اپریل کو پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھی۔ بعد ازاں، 23 مئی کو اس بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی گئی تھی، جو آج یعنی 23 جون کو ختم ہو رہی تھی۔تاہم، موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارتی طیاروں کیلئے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔ اس فیصلے کا مقصد قومی سلامتی اور خطے میں موجود کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو جاری رکھنا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت نے بھی پاکستان کی جانب سے فضائی حدود بند کرنے کے بعد جوابی اقدام کے طور پر پاکستانی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی پابندیاں نہ صرف سفارتی تعلقات کی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ اس کا اثر دونوں ملکوں کی فضائی ٹریفک اور ایئرلائنز پر بھی پڑ رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں صورتحال کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے گا اور خطے میں تناؤ کم ہونے کی صورت میں فضائی راستے کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

  •  اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

     اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

    جب سخن و قلم کے چراغ روشن ہوں، اور علم و عرفان کی مہک فضا میں گھل جائے، تو ایسے لمحات تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم ہو جایا کرتے ہیں۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ادبی قافلہ، جو ہمیشہ فکر و فن کے گلدستے لیے ملک بھر کے ادبی چمن کو معطر کرتا رہا ہے، حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی کی خصوصی دعوت پر پشاور روانہ ہوا۔

    یہ مژدہ جانفزا بانی و صدراپووا ایم ایم علی کی پُرخلوص کال پر راقم کو ملا، اور بلا تامل اس فکری سفر میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ، لاہور سے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی زیرقیادت اس قافلے نے ادب و اخلاص کے ساز پر رواں دواں ہو کر بلکسر کی پرنور فضاؤں میں شب بسر کی،سحر ہوتے ہی منزلِ مقصود کی جانب روانگی ہوئی، اور گورنر ہاؤس پشاور کے درو دیوار نے اپووا کے کارواں کو والہانہ خوش آمدید کہا۔ منتظمین کی شائستگی اور تکریم نے اس علمی ملاقات کو مزید باوقار بنا دیا۔گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ساعتِ سعید نصیب ہوئی۔ ملک یعقوب اعوان نے نہایت بلیغ انداز میں اپووا کا تعارف پیش کیا، جس کے بعد تمام معزز اراکین نے فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا، ایک سے بڑھ کر ایک ادبی ستارہ، جس کی چمک سے گورنر ہاؤس جگمگا اٹھا۔

    اس روح پرور نشست میں بانی صدر ایم ایم علی اور نائب صدرحافظ محمد زاہد نے اپووا کی فکری خدمات، ادبی سرگرمیوں اور تنظیمی اہداف کو نہایت شائستہ اور مدلل لب و لہجے میں پیش کیا۔ گفتگو میں جو شفافیت اور خلوص تھا، اس نے گورنر کو متاثر کئے بغیر نہ چھوڑا،گورنر فیصل کریم کنڈی نے نہایت پرخلوص کلمات میں اپووا کے اس سنجیدہ ادبی مشن کو قومی یکجہتی، فکری بالیدگی اور ثقافتی تجدید کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑتا ہے، اور اپووا اس جوڑنے کے عمل میں پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تمام شرکائے وفد کو تعریفی اسناد اور یادگاری سوینئرز سے نوازا۔ چائے کی ضیافت کے دوران گفتگو کا دائرہ مزید وسعت اختیار کر گیا۔ آخر میں اپووا کی جانب سے سالانہ ادبی تقریب میں شرکت کی دعوت پیش کی گئی، جسے گورنر خیبر پختونخوا نے نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ادب کے اس مقدس سفر میں اپووا کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

    یہ سفر، ملاقات محض ایک رسمی گفتگو نہ تھی بلکہ قومی ادب کی قدر دانی اور فکری ہم آہنگی کی ایک نادر مثال تھی، جہاں قلم کی حرمت کو منصب کی عظمت سے جوڑا گیا۔وفد میں ملک یعقوب اعوان، ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ممتاز اعوان، معاویہ ظفر، محمد بلال، ڈاکٹر عمر شہزاد، ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ناز پروین، بشریٰ فرخ، تابندہ فرخ، ثمینہ قادر، نیلوفر سمیع، رانی عندلیب شامل تھے،”دلاور” بھی ہمارے ہمراہ تھا ،دلاور کے گاڑی سے اترتے ہی گورنر ہاؤس انتظامیہ کی دوڑیں بھی دیکھنے والی تھیں………..

    یقیناً یہ ملاقات ادب کی توقیر، ادیب کی عزت اور فکر کی پذیرائی کا مظہر تھی، اپووا کا یہ اقدام آنے والے دنوں میں مزید فکری سنگ میل عبور کرنے کی نوید دے رہا ہے،اپووا…کی جانب سے مزید سرپرائزتیار ہیں.

    اپووا محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ ادب کا مقدس قافلہ ہے ، ایسا قافلہ جو قلم کے چراغ اٹھائے، روشنی بانٹنے کے سفر پر گامزن ہے، اس قافلے کی ہر کڑی، ہر فرد اور ہر قدم علم، شعور، زبان، تہذیب اور فنِ تحریر کے احترام سے لبریز ہے، اپووانے معاشرے کے ان گوشوں میں روشنی پہنچائی ہے، جہاں جہالت کا اندھیرا اور فکری جمود برسوں سے براجمان تھا، اپووا کی ادبی کاوشیں معاشرتی نکھار، فکری ارتقاء اور قومی یگانگت کی ایک زندہ علامت بن چکی ہیں،اپووا نہ صرف شعرا و ادبا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے بلکہ نئے لکھنے والوں کی آبیاری کر کے انہیں فکر و فن کے باغ میں تناور درخت بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی تقریبات میں ادب کے قدردان، لفظوں کے مسافر، اور فہمیدہ دل و دماغ یکجا ہوتے ہیں، جہاں صرف باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ روحانی ارتعاش، فکری پرورش اور جمالیاتی آگہی بانٹی جاتی ہے،ایم ایم علی جیسے بصیرت افروز قائد، ملک یعقوب اعوان جیسے باوقار رہنما، حافظ محمد زاہد جیسے فکری معمار، اور درجنوں اہلِ قلم کی پرخلوص کوششوں نے اپووا کو پاکستان کی ادبی پیشانی کا جھومر بنا دیا ہے۔

    آج جب دنیا تشدد،نفرت، مادّہ پرستی اور زبان کی سطحیت کا شکار ہو رہی ہے، اپووا ایسے وقت میں دلوں کو جوڑنے، زبان کو نکھارنے اور قلم کو حرمت دینے کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہے،ہم اپووا کے بانیان، کارکنان، اور تمام ادبی سپاہیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ عقیدت، تحسین اور محبت پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ یہ قافلہ یوں ہی فکر کی مشعلیں لے کر اقبال کے خواب، فیض کی امید کو آگے بڑھاتا رہے۔

  • کنگ سلمان ریلیف سنٹر کی جانب سے اندھے پن کے علاج کیلئے آئی کیمپس

    کنگ سلمان ریلیف سنٹر کی جانب سے اندھے پن کے علاج کیلئے آئی کیمپس

    کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی طرف سے پاکستان میں اندھے پن اور اس کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کیلئے 11 آئی کیمپس کامیابی سے اختتام پذیر

    کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے نور سعودی رضاکارانہ پروگرام 2025 کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں منعقدہ گیارہ جامع آنکھوں کے علاج کے کیمپس کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔ یہ کیمپس البصر انٹرنیشنل فاؤنڈیشن اور ابراہیم آئی اسپتال کراچی کے تعاون سے منعقد کیے گئے، جن کا مقصد ایسے مستحق افراد کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنا تھا جو خصوصی علاج تک رسائی نہیں رکھتے یا مالی وسائل کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

    یہ کیمپس سندھ، بلوچستان، پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری و دیہی علاقوں میں اس حکمت عملی کے تحت لگائے گئے جہاں آنکھوں کی دیکھ بھال کی خدمات محدود ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد قابل علاج بینائی کی بیماریوں کی بروقت تشخیص و علاج کے ذریعے نابینائی سے بچاؤ اور افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا تھا۔اس مہم کے دوران 43,294 مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا، جبکہ 4,484 سے زائد سرجریاں کامیابی سے مکمل ہوئیں۔ اس کے علاوہ 11,050 عینکیں مفت تقسیم کی گئیں اور مستحق مریضوں کو ڈاکٹرز کی جانب سے تجویز کردہ ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

    یہ پروگرام کراچی، ماتلی، کندھارو، شکارپور، حیدرآباد، نصیرآباد، خاران، خضدار، جہلم اور راولا کوٹ سمیت مختلف شہروں میں منعقد ہوا، جہاں ہزاروں افراد نے خصوصی آنکھوں کے علاج سے فائدہ اٹھایا اور اپنی بینائی دوبارہ حاصل کی۔یہ مہم مملکت سعودی عرب کی انسان دوستی کے جذبے اور نابینائی سے متاثرہ افراد کی زندگی بہتر بنانے کے عزم کی عکاس ہے۔ کنگ سلمان ریلیف سینٹر نے ان کیمپس کے ذریعے ہزاروں مریضوں کی زندگی میں روشنی واپس لا کر ایک روشن مستقبل کی امید دی ہے۔

  • جائز نکاح کیلیے مشکلات پیدا کی جارہی،اس سوچ کیخلاف اعلان جنگ کرتا ہوں،مولانا فضل الرحمان

    جائز نکاح کیلیے مشکلات پیدا کی جارہی،اس سوچ کیخلاف اعلان جنگ کرتا ہوں،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاک انڈیا جنگ نہیں تھی پاک مودی جنگ تھی ، پاکستان میں سب متحد تھے انڈیا میں اقلیتیں مودی کے ساتھ نہیں تھیں، جنگ کو پاکستان بھارت جنگ نہیں، پاکستان مودی جنگ کہا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم (شہباز شریف) نے ہمارے علاقوں میں جن منصوبوں کا افتتاح خود کیا تھا، آج ان منصوبوں کے ہی فنڈز روک دیے گئے،معیشت قوت کے استعمال سے بہتر نہیں ہوگی۔ہم نے وہ بھی بجٹ دیکھے ہیں جب جی ڈی پی مائنس میں چلا گیا تھا، یہ بجٹ وزیر خزانہ نے نہیں بلکہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے تیار کیا ہے، حکومت نے صرف یہ بجٹ پڑھ کر سنایا ہے،جائز نکاح کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ اسپیکر نوٹس لے کر رُولنگ دیں۔ آپ چاہتے ہیں ہم اپنا فکری نظریہ بھی آپکے سامنے پھینک دیں؟ اس سوچ کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں۔ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کو کھل کر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے۔اس ملک کو انقلاب چاہیئے، روائتی سیاست کا دور ختم ہو چکا۔ عوام کو بیدار کرو، ان میں شعور پیدا کرو تاکہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھا سکیں۔ پیغام اس پارلیمنٹ سے پوری امت مسلمہ کو جانا چاہیے کہ بین الاقوامی اداروں کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی، پورا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی امریکہ کی لونڈی ہے

  • لیبیا میں تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے کے دو حادثات،پاکستانیوں سمیت 60 کی موت

    لیبیا میں تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے کے دو حادثات،پاکستانیوں سمیت 60 کی موت

    لیبیا کے مختلف ساحلی علاقوں میں تارکین وطن کی دو کشتیاں سمندر میں ڈوب گئیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے ان افسوسناک واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

    پہلا واقعہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے ساحلی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک کشتی میں سوار متعدد تارکین وطن نے یورپ جانے کی کوشش کی۔ حادثے کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد لاپتہ ہو گئے، جن کے زندہ بچنے کی امید انتہائی کم ہے۔ کشتی میں سوار 5 افراد کو زندہ بچا لیا گیا، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔اس کشتی میں سوار افراد کا تعلق ارٹریا، پاکستان اور مصر سے بتایا گیا ہے۔ ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے لیکن خراب موسم اور سمندری لہروں کی شدت کے باعث کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    دوسرا المناک واقعہ لیبیا کے مشرقی شہر تبروک کے ساحل سے تقریباً 35 کلومیٹر دور پیش آیا، جہاں ایک اور کشتی سمندر کی موجوں کی نذر ہو گئی۔ اس کشتی میں 39 افراد سوار تھے جن میں سے صرف ایک شخص کو زندہ بچایا جا سکا۔ باقی تمام افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔

    بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق صرف رواں سال 2025 کے آغاز سے اب تک 743 افراد مختلف کشتی حادثات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں اکثریت ان افراد کی ہے جو غیر قانونی طور پر سمندر کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔اقوام متحدہ نے لیبیا سے یورپ جانے والے سمندری راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شمار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ متعلقہ ممالک اور عالمی برادری اس بحران کے مستقل اور انسانی بنیادوں پر حل کے لیے فوری اقدامات کریں۔

  • فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل پیش، سزائے موت ختم کرنے کی تجویز شامل

    فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل پیش، سزائے موت ختم کرنے کی تجویز شامل

    پاکستان کے سینیٹ میں فوجداری قوانین میں ترمیم کا ایک اہم بل پیش کیا گیا ہے جس میں خواتین کے تحفظ اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں کے حوالے سے قوانین میں چند بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس بل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ خاتون کو سرعام برہنہ کرنے اور ہائی جیکر کو پناہ دینے جیسے جرائم پر سزائے موت ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    مجوزہ ترمیم کے تحت اگر کسی شخص نے خاتون پر مجرمانہ حملہ کیا یا اسے سرعام برہنہ کیا تو اس پر سخت سزا دی جائے گی۔ سزا کے طور پر عمر قید، جائیداد ضبطگی اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ تاہم اس جرم پر سزائے موت ختم کر دی جائے گی۔اس ترمیم کے مطابق خواتین کے خلاف ایسے جرائم میں ملزم کو بلا وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا اور یہ جرم ناقابل ضمانت قرار دیا جائے گا، تاکہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے اور انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔خاتون پر حملہ یا اسے سرعام برہنہ کرنا ایسے جرائم میں شامل کیا گیا ہے جن کا مقدمہ مصالحت کے بغیر چلایا جائے گا۔ یعنی متاثرہ خاتون کی رضامندی کے بغیر مقدمہ ختم یا کم نہیں کیا جا سکے گا۔اس بل میں ہائی جیکر کو پناہ دینے یا سہولت فراہم کرنے پر سزائے موت ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے، تاکہ اس جرم کے حوالے سے قانونی پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے۔

    یہ ترمیمی بل اس وقت پیش کیا گیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اس بل کا مقصد خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا اور عدالتی نظام میں آسانیاں پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بل کے ذریعے ناانصافی اور ظلم کے خلاف سخت قوانین بنا کر معاشرے میں تحفظ کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

    اب یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھیجا جائے گا جہاں اس کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے بعد حتمی سفارشات تیار کی جائیں گی۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات خطے کیلیے اہم پیشرفت ہے، خالد مسعود سندھو

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات خطے کیلیے اہم پیشرفت ہے، خالد مسعود سندھو

    واضح ہو گیا پاکستان اب بین الاقوامی سطح پر ایک قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے،یہ ملاقات اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اب بین الاقوامی سطح پر ایک قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ بھارت کا خطے کا ٹھیکیدار بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا،خطے میں امن کے حوالہ سے پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، حالیہ دنوں میں مسئلہ کشمیر بھی دنیا بھر میں اجاگر ہوا ہے،پاکستانی قوم متحد اور دشمن کیخلاف افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ جی سیون اجلاس کے دوران امریکی صدر نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات نہیں کی، جو بھارت کی سفارتی ناکامی کا واضح اشارہ ہے، اس کے برعکس فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے وائیٹ ہاؤس میں ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار اب دنیا تسلیم کر رہی ہے، ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اسرائیل کشیدگی اور غزہ کی صورتحال جیسے نازک معاملات پر نہایت تدبر اور بصیرت سے گفتگو کی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست اور امن کا خواہاں ہے،

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے ہمیشہ پروپیگنڈے، جھوٹ اور الزام تراشی کے ذریعے نہ صرف اپنی عوام کو گمراہ کیا بلکہ عالمی برادری کو بھی دھوکا دینے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کیا۔ پہلگام ڈرامے کے اگلے ہی دن پاکستان نے تحقیقات کی پیشکش کی، مگر مودی سرکار نے جنگ مسلط کی تاہم پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی و تخریب کاری کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، اس کے ثبوت پاکستان کئی بار عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نہ صرف جنگ لڑی بلکہ کامیابی بھی حاصل کی، پاکستان امت کا پشتبان ہے،امت کا پشتی بان ،مضبوط پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا نعرہ ہے، مرکزی مسلم لیگ قوم کو متحد کرنے میں کردار ادا کرتی رہے گی،

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ میں پذیرائی، بھارت کا گھبراہٹ پر مبنی ردعمل

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ میں پذیرائی، بھارت کا گھبراہٹ پر مبنی ردعمل

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکہ میں موجودگی اور صدر ٹرمپ سے ملاقات پر بھارت سخت پریشان ہے.

    بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان دراصل عالمی سطح پر بھارتی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش ثابت ہوئی ہے،بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں آپریشن سندور کے دوران ’نپی تلی‘ اور ’غیر اشتعال انگیز‘ کارروائی کے دعوے کیے گئے ،آپریشن سندور کی ناکامی نے بھارت دعووں کو جھوٹ ثابت کیا، س کی تصدیق عالمی برادری نے بھی کی ،عالمی برادری اس حقیقت سے واقف ہے کہ بھارت نے جارحیت کا آغاز کیا، جبکہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق دفاعی کارروائی کی ،بھارت کی جانب سے پاکستانی افواج کو نقصان پہنچانے کے دعوے بھی حقائق کے منافی ہیں، عالمی ذرائع نے پاک فضائیہ کی برتری کو تسلیم کیا،پاک فضائیہ نے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور دنیا نے دیکھا کہ بھارت کو فضائی محاذ پر منہ کی کھانا پڑی،مودی سرکار کی امن کی باتیں محض دکھاوا ثابت، حقیقت میں بھارت ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ پالیسیوں کے لیے بدنام ہے،بھارتی وزارتِ خارجہ نےحالیہ بیان پاکستان اور امریکہ کے بہتر تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش ہے،مودی سرکار کی بین القوامی سطح پر اپنی ساکھ بچانے کی ہر تدبیر ناکامی سے دوچارہو چکی ہے،