Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پہلگام واقعہ بھارت کی سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت

    پہلگام واقعہ بھارت کی سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت

    پہلگام حملہ، بھارتی انٹیلیجنس کی ناکامی کا اعتراف، خطے کے استحکام میں پاکستان کا کردار اہم قرار

    سابق بھارتی انٹیلیجنس چیف نے پہلگام حملے کے حوالے سے انٹیلیجنس ناکامی کا اعتراف کر لیا، امرجیت سنگھ دولت کا کہنا تھا کہ "پہلگام واقعہ بھارت کی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت کا کہنا تھا کہ پہلگام میں جو ہوا وہ بہت برا تھا، بھارت کے پاس پہلگام حملے کے کوئی شواہد نہیں تھے،اے ایس دولت نے مضحکہ خیز اعتراف کرتے ہوئے کہا کئی بار واقعات کےثبوت نہیں ملتے، پاکستان نےبھارت کے 6 جہاز مارگرائے، ایران اسرائیل جنگ بندی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اہم ہو سکتا ہے،

    کشمیر اور بھارت میں ہونے والے ہر واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا جاتا ہے،مودی سرکار نے اپنے دور حکومت میں پاکستان مخالف بیانیے پر بھارتی عوام کی ذہن سازی کر دی ہے

  • ٹرمپ کی ایران پر حملے کی منظوری،حتمی حکم باقی

    ٹرمپ کی ایران پر حملے کی منظوری،حتمی حکم باقی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں حتمی حکم جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کی رات سینئر قومی سلامتی مشیروں کو اطلاع دی کہ انہوں نے ایران پر حملے کی منظوری دے دی ہے لیکن حتمی کارروائی کا فیصلہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کرتا ہے یا نہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، صدر کے فیصلے کے پیچھے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ہے، خاص طور پر فردو جوہری مرکز جو ایک پہاڑ کے اندر واقع ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق یہ ہدف تب ہی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جب انتہائی طاقتور بم استعمال کیا جائے۔جب بدھ کو میڈیا نے صدر ٹرمپ سے اس معاملے پر سوال کیا کہ کیا وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں؟ تو انہوں نے محتاط انداز میں جواب دیا "امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرے گا یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہم حالات کو دیکھ رہے ہیں، ابھی کچھ طے نہیں پایا۔ ہم ایران پر حملہ بھی کر سکتے ہیں اور نہیں بھی کر سکتے۔”صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو 60 دن کی مہلت دی تھی تاکہ وہ جوہری ہتھیار بنانے سے باز رہے، اور ایران کو کئی بار عالمی جوہری معاہدے کی پابندی کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

    صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا امکان ابھی بھی موجود ہے اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا "کسی کو معلوم نہیں کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں، اگلا ہفتہ بہت اہم ہوگا۔ ‘اَن کنڈیشنل سرنڈر’ کا مطلب ہے کہ ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بس بہت ہو گیا، ہم ہار مانتے ہیں، پھر ہم وہاں جا کر تمام جوہری ساز و سامان کو تباہ کر دیں گے۔”

    دوسری جانب، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا اور امریکی فوجی مداخلت کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دے گا۔

    علاوہ ازیں ایران نے صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کے دعوے کی تردید کردی، اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ کوئی ایرانی عہدے دار کبھی وائٹ ہاؤس کے دروازے پر جاکر نہیں گڑ گڑایا،ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جھوٹ سے زیادہ قابلِ نفرت چیز سپریم لیڈر کے قتل کی دھمکی ہے،ایران دباؤ میں امن قبول نہیں کرتا، خاص طور پر ایسے جنگ پسند شخص کے ساتھ جو خود کو اہم ثابت کر رہا ہو،قبل ازیں امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران ٹرمپ کی ملاقات کی پیشکش جلد قبول کر لے گا۔

  • مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو اغوا کرنے کی کوشش ناکام، مقدمہ درج

    مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو اغوا کرنے کی کوشش ناکام، مقدمہ درج

    مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے مولانا اسجد الرحمٰن کو اغواء کی کوشش، پولیس تحقیقات جاری
    ے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے مولانا اسجد الرحمٰن کو اغواء کرنے کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ تقریباً ایک ہفتہ قبل پیش آیا جب مولانا اسجد الرحمٰن کو یارک انٹرچینج کے قریب نامعلوم افراد نے روکنے کی کوشش کی۔اغواکاروں نے مولانا اسجد الرحمٰن کو ان کی گاڑی سے اترنے کا کہا، تاہم انہوں نے اس درخواست سے انکار کرتے ہوئے بحث مباحثہ کیا جس کے بعد اغواکاروں نے انہیں جانے دیا۔ واقعے کے روز مولانا اسجد الرحمٰن اپنی رہائش گاہ شورکوٹ سے لکی مروت جا رہے تھے۔ اس واقعے کے حوالے سے مولانا اسجد الرحمٰن کی جانب سے خود کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا گیا، لیکن تحقیقات کے لیے سی ٹی ڈی (سیل) نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے تاکہ اس واردات کی تفصیلات معلوم کی جا سکیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    دوسری جانب، مولانا فضل الرحمٰن کے ترجمان نے بتایا کہ ایس پی پہاڑ پور نے مقدمہ درج کروانے کے لیے رابطہ کیا تھا، تاہم مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے کہا گیا کہ انتظامیہ خود اس واقعے کی مدعی بنے تاکہ مقدمے کی کارروائی شفاف اور مؤثر ہو، اور بعد میں پارٹی کی طرف سے اس میں فریق بننے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

  • ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان

    ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ اور فنانس بل کے تحت ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت اب نان فائلرز اور سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن سے گریز کرنے والوں کو زبردستی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا گیا ہے۔

    وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہونے والے فنانس بل میں شامل نئی ترامیم کے تحت اگر کوئی شخص یا ادارہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا اہل ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن نہیں کراتا تو ایف بی آر کا مجاز افسر یا کمشنر ان لینڈ ریونیو اپنی تحقیقات کی روشنی میں ایسے افراد کو جبراً رجسٹر کرے گا۔ اس کا مقصد ملک میں ٹیکس کی وصولی میں شفافیت اور بہتری لانا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے اور ٹیکس چوری کو کم کیا جا سکے۔مزید برآں، فنانس بل میں دو نئی شقیں 14AC اور 14AD بھی شامل کی گئی ہیں جو نان فائلرز اور رجسٹریشن سے بچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی اجازت دیتی ہیں۔ شق 14AC کے تحت، کمشنر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ فرد کے بینک اکاؤنٹس کو تحریری حکم نامے کے ذریعے بند کرا سکتا ہے۔ اس پابندی کو صرف اس وقت تک برقرار رکھا جائے گا جب تک کہ متعلقہ فرد رجسٹریشن مکمل نہ کرلے۔ اس سے بینکنگ ٹرانزیکشنز پر سخت کنٹرول ممکن ہوگا اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔

    اسی طرح شق 14AD کے تحت بھی سخت انتظامی اور قانونی کارروائیاں متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد پر موثر گرفت رکھی جا سکے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ٹیکس نیٹ کو مضبوط بنانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے نہایت اہم ہیں، تاہم اس کا اطلاق شفاف اور منصفانہ طریقے سے ہونا ضروری ہے تاکہ کاروباری برادری کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔وفاقی حکومت کی طرف سے یہ نئی ترمیمات یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گی، جس کے بعد ایف بی آر کو زبردستی رجسٹریشن کے لیے قانونی اور انتظامی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

  • ججوں کا فرض ہے اپنی صفوں میں طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں کی نشاندہی کریں،جسٹس منصور علی شاہ

    ججوں کا فرض ہے اپنی صفوں میں طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں کی نشاندہی کریں،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ،جسٹس منصور علی شاہ نے سروس کیس میں عدلیہ سے متعلق اہم فیصلہ دیا ہے

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججوں کا فرض ہے اپنی صفوں میں طاقت کے سامنے ہتھیار ڈالنے والوں کی نشاندہی کریں،ججز اخلاقی وضاحت اور ادارہ جاتی جرأت کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں، اندر سے تنقید آئین کی وفاداری کی جڑ ہے، بے وفائی نہیں، ایسے لوگوں کو للکارنا عدالتی ادارے کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے،ججوں کو دیانتداری اور جرأت کے ساتھ کام کرنا ہے، ججز کواندروانی اور بیرونی تمام تجاوزات کا مقابلہ کرنا ہے،ججز کو عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کو پامال کرنے کا خطرات کا مقابلہ کرنا ہے،ججوں کو چھوٹے، قلیل مدتی فوائد کے لالچ کا شکار نہیں ہونا چاہیے، ایسے فوائد محض وہم اور عارضی ہوتے ہیں، جج کا اصل اجر ادارے کے وقار اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں ہے، تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اصول کے دفاع میں ثابت قدم رہے، جج کی فقہی وراثت خوشامد پر نہیں، اصولی انحراف پر استوار ہوتی ہے، جب انصاف کی روح کو خطرہ عدالتوں مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، عدالتوں کو آئینی اخلاقیات کا مینارہ اور جمہوری سالمیت کے محافظ ہونا چاہیے، تاریخ ان ججوں کو بری نہیں کرے گی جو اپنی آئینی ذمہ داری ترک کر دیتے ہیں، تاریخ ایسے ججز کو ناانصافی کے ساتھی کے طور پر یاد رکھے گی،سپریم کورٹ محض تنازعات کے حل کا فورم نہیں،سپریم کورٹ قوم کا آئینی ضمیر بھی ہے،

  • ایرانی حملوں میں 24 اسرائیلی ہلاک،800 زخمی

    ایرانی حملوں میں 24 اسرائیلی ہلاک،800 زخمی

    ایران اب تک اسرائیل کی جانب 400 سے زیادہ میزائل داغ چکا ہے،ایرانی حملوں میں اسرائیل کے 40 مقامات کو نشانہ بنایا گیا،ایران کے حملوں میں 24 اسرائیلی ہلاک، 800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،3ہزار800 سے زائد شہریوں کو شیلٹرز میں منتقل کیا گیا،

    گزشتہ جمعہ کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد، ایران نے بھی شدید جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب 400 سے زائد میزائل اور سیکڑوں ڈرون حملے کیے ہیں۔ یہ اطلاع اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے دفتر کی جانب سے دی گئی ہے۔اسرائیلی حکومت کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں اور ڈرون حملوں نے اسرائیل کے 40 مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے،اب تک اسرائیل میں 24 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید 3,800 افراد کو ان کے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران میں بھی گزشتہ جمعہ سے اب تک کم از کم 224 افراد مارے جا چکے ہیں، جو ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے دو ایئرکرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپس تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک گروپ یو ایس ایس نیمتز کی قیادت میں ہے جبکہ دوسرا یو ایس ایس کارل ونسن کی سربراہی میں ہے۔یو ایس ایس نیمتز گروپ نے جنوب مشرقی ایشیا کے پانیوں کو چھوڑ کر مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہونا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ پہلے سے موجود کارل ونسن گروپ کے ساتھ شامل ہو جائے، جو تقریباً سات ماہ سے اس علاقے میں تعینات ہے۔

  • ایران کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیلی دفاعی میزائل انٹرسیپٹرز کم ہونے لگے

    ایران کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیلی دفاعی میزائل انٹرسیپٹرز کم ہونے لگے

    ایران کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیلی دفاعی میزائل انٹرسیپٹرز کم ہونے لگے ہیں۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے دفاعی ’ایرو‘ میزائل انٹرسیپٹرز کی مقدار کم ہو رہی ہے،رپورٹ کےمطابق اسرائیل کے دفاعی ’ایرو‘ میزائل انٹرسیپٹرز کی مقدار کم ہونے سے ایران سے آنے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کی اسرائیلی صلاحیت پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں، امریکا اس مسئلے سے آگاہ ہے اور وہ زمینی، بحری اور فضائی نظاموں کے ذریعے اسرائیل کے دفاع کو مضبوط کررہا ہے۔

    ایران کی جانب سے پے در پے میزائل حملوں کے باعث اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام دباؤ سے دوچار ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے لیے غزہ سے فائر ہونے والے دیسی ساختہ راکٹوں کے بر عکس جدید میزائلوں کو روکنا ایک امتحان ثابت ہورہا ہے،ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مکمل کامیابی نہ ملنے کے باعث نہ صرف اس فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ اس کے مستقل استعمال کے باعث اس نظام پر آنے والے اخراجات بھی بڑھتے جارہے ہیں،اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کی شب ایران نے اسرائیل پر جس طرح میزائل داغے اس طرح کے حملے کو روکنے پر تقریباً 28 کروڑ 70 لاکھ ڈالرکی لاگت آتی ہے، ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے عام طور پر اسرائیلی ساختہ ایرو 3 سسٹم اور امریکی ساختہ تھاڈ سسٹم کیا جاتا ہے،اسرائیلی ایرو 3 سسٹم 90 فیصد اہداف کو تباہ کرسکتا ہے جبکہ امریکی تھاد نظام صرف 40 فیصد اہداف کو ہی نشانہ بنا سکتا ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،الیکشن ٹربیونل،سمیع اللہ کی کامیابی کیخلاف درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ،الیکشن ٹربیونل،سمیع اللہ کی کامیابی کیخلاف درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری کے شوہر سمیع اللّٰہ کی کامیابی کے خلاف درخواست خارج کردی۔

    پی ٹی آئی کے رہنما یاسر گیلانی نے سمیع اللّٰہ خان کی کامیابی کو ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔ ٹربیونل نے درخواست قانون کے مطابق دائر نہ ہونے پر خارج کی ہے،درخواست گزار نے پی پی 45 کے 17 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ فارم 45 کے مطابق جاری کرنے کی استدعا کی تھی، جسٹس سلطان تنویر احمد نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق درخواست گزار نے درخواست کو اوتھ کمشنر سے تصدیق نہیں کروایا، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 4 کے تحت درخواست دائر نہیں کی گئی،فیصلے کے مطابق درخواست دائر کرتے ہوئے الیکشن ایکٹ 142، 143 پر عمل نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ کے الیکشن کی درخواستوں سے متعلق بہت سے فیصلے موجود ہیں، ٹربیونل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 145 کے تحت درخواست خارج کرتا ہے۔

  • ٹرمپ مودی ٹیلیفونک بات چیت،مودی کا امریکہ کو ثالث ماننے سے انکار

    ٹرمپ مودی ٹیلیفونک بات چیت،مودی کا امریکہ کو ثالث ماننے سے انکار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور پاک بھارت تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے اپنے بیان میں بتایا کہ وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان 35 منٹ طویل بات چیت ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات پر غور کیا۔وکرم مسری کے مطابق، وزیراعظم مودی نے امریکی صدر کو واضح طور پر بتایا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تنازع میں تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کرتا اور نہ ہی کرے گا۔ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور جاری ہے

    واضح رہے کہ 10 مئی کو پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کا آغاز کیا تھا۔ اس آپریشن میں پاکستان نے بھارتی فوج کے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا جن میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، اور آدم پور کے ائربیسز، براہموس میزائل اسٹوریج سائٹس اور ایس 400 میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک فوری اور مکمل سیز فائر کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ کی اس ٹوئٹ کے بعد بھارتی سیکریٹری خارجہ نے بھی سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔

  • جیکب آباد ،دھماکے کے بعد جعفر ایکسپریس کی چھ بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں

    جیکب آباد ،دھماکے کے بعد جعفر ایکسپریس کی چھ بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں

    جیکب آباد کے قریب جعفر ایکسپریس حادثے کا شکارہو گئی ہے

    پشاور سے کوئٹہ جانے والی مسافر ٹرین کی 6بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں،عینی شاہدین کے مطابق جائے حادثہ پر دھماکہ ہوا جس کے بعد ٹرین ٹریک سے اتر گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق جیکب آباد کے قریب ریلوے ٹریک پر بم دھماکہ ہوا ہے، مسافر ٹرین کی پانچ بوگیاں ٹریک سے اتر گئی ہیں، ٹریک کو بھی نقصان پہنچا ہے،حادثے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،