Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران کا ایک بار پھر میزائل حملہ،اسرائیل میں سائرن ،خوف و ہراس

    ایران کا ایک بار پھر میزائل حملہ،اسرائیل میں سائرن ،خوف و ہراس

    ایران سے میزائل حملے کے بعد اسرائیل کے کئی حصوں میں سائرن بج اٹھے

    تل ابیب اور دیگر علاقوں سے اطلاع ملی ہے کہ ایران کی جانب سے ایک بار پھر میزائل داغے گئے ہیں جس کے باعث اسرائیل کے کئی حصوں میں سائرن بجنے لگے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس تازہ میزائل حملے کے دوران ان کی فضائی دفاعی نظام سرگرم ہے اور ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    اسرائیل کی نیشنل ایمرجنسی سروس ‘ماگن داؤد آدوم’ کے مطابق، حملے کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں میزائل کے ممکنہ اثرات والی جگہوں پر روانہ کی گئی ہیں تاکہ نقصان کا جائزہ لیا جا سکے اور متاثرین کی مدد کی جا سکے۔ ماگن داؤد آدوم کے ترجمان نے کہا، "گزشتہ چند منٹوں میں سائرن بجنے کے بعد ہماری ٹیمیں ان علاقوں کی تلاش میں بھیجی گئی ہیں جہاں حملے کی اطلاع ملی ہے۔”تل ابیب اور ارد گرد کے علاقوں میں پولیس نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ حملے کی جگہوں پر پہنچ چکی ہیں اور صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔

    سی این این کے ایک رپورٹر نے تل ابیب میں دھماکوں کی آواز سنی جبکہ ایک اور رپورٹر نے یروشلم کے شمال میں میزائل کو فضا میں گزرتے ہوئے دیکھا۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان 5 سالہ ٹیکنالوجی و مہارت کا تاریخی معاہدہ

    پاکستان اور چین کے درمیان 5 سالہ ٹیکنالوجی و مہارت کا تاریخی معاہدہ

    پاکستان اور چین کے درمیان 5 سالہ ٹیکنالوجی و مہارت کا تاریخی معاہدہ

    ایس آئی ایف سی کے تحت پاک-چین صنعتی تعاون میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،پاکستان اور چین کی دو اہم تنظیموں کے درمیان 5سالہ ٹیکنالوجی منتقلی کا تاریخی معاہدہ طے پایا، پاکستان انڈسٹریل سیونگ مشینز امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن(پسمیڈا) اور چینی تنظیم(گوانگ ڈونگ شو میکنگ مشینری ایسوسیشن) کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے،اس معاہدے کا مقصد جوتا سازی، چمڑے اور گارمنٹس شعبے میں جدید مشینری متعارف کرانا ہے،وائس چیئرمین(پسمیڈا )محمد یاسین نے چین میں منعقدہ عالمی نمائش "جسما ” میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی

    وائس چئیر مین (پسمیڈا)محمد یاسین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایک تاریخی سنگ میل ہے جو پاکستان کی متعدد صنعتوں کے لئے بے پناہ فوائد فراہم کرے گا، اس موقع پر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں پاک چین تعاون اور اسٹریٹجک ترقی کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا،ایس آئی ایف سی کی معاونت سےجدید ٹیکنالوجی سے ہم آ ہنگ تربیت کے ذریعے پاکستانی لیبر مارکیٹ میں بہتری کے آثارپیدا ہوں گے

  • سکھ تنظیموں کا جی 7 اجلاس سے قبل مودی کے خلاف زبردست احتجاج

    سکھ تنظیموں کا جی 7 اجلاس سے قبل مودی کے خلاف زبردست احتجاج

    سکھ تنظیموں کا جی 7 اجلاس سے قبل مودی کے خلاف زبردست احتجاج

    کینیڈا میں ہونے والے جی 7 اجلاس میں مودی کو سفارتی مجبوری کی وجہ سے دعوت ملی،مودی کے کینیڈا پہنچنے پر سکھ فار جسٹس اور خالصتان تحریک کے ہزاروں سکھوں نے شدید احتجاج کیا،سکھ کمیونٹی کینیڈا میں قتل کئے گئے ہردیب سنگھ نجر کے حق میں نعرے بازی کرتی رہی،مودی کی خام خیالی تھی کہ وہ جی 7 اجلاس کے دوران دنیا اور سکھوں کی نظروں سے بچ نکلیں گے،سکھ برادری نے البرٹا کی کناناسکی ہائی وے پر احتجاجی استقبالیہ دے کر اس کے خواب چکنا چور کر دیے

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کینیڈا جی 7 کے رہنماؤں کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ مودی سرکار قاتل حکومت ہے، کینیڈا میں سکھ کمیونٹی نے برہمی کا اظہار کیا کہ مودی کو مدعو کرنا درست نہیں،کینیڈین حکومت ہردیب سنگھ نجر کے قتل کا الزام بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘ پر عائد کرچکی ہے،مودی کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں ہونا چاہیے تھا، جی 7 اجلاس میں اس کی شرکت عالمی اقدار پر سوالیہ نشان ہے

  • بھارت میں بڑھتے ہوۓ فضائی حادثات، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کا فقدان

    بھارت میں بڑھتے ہوۓ فضائی حادثات، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کا فقدان

    متواتر فضائی حادثات نے بھارتی داخلی پروازوں کے نظام کی ناکامی اور بھارتی ایوی ایشن کی مجرمانہ لاپرواہی کا پردہ چاک کر دیا

    محض 39 دنوں میں پیش آنے والے پانچ ہیلی کاپٹر حادثات، بھارتی فضائی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں،کیدارناتھ اور اترکاشی جیسے ہمالیائی علاقوں میں حادثات کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ گیا ،بھارت کے ہمالیائی علاقوں میں ہر سال ہزاروں یاتری ہیلی کاپٹر سروسز پر انحصار کرتے ہیں،مودی سرکار کی لاپرواہی اور بھارت ایوی ایشن کی نااہلی کے باعث بھارتی مسافر مشکلات سے دو چار ہیں

    15 جون کو کیدارناتھ میں آرین ایوی ایشن کا Bell 407 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، جس میں پائلٹ سمیت 7 افراد جاں بحق ہوئے،اس سے قبل 8 مئی کو اترکاشی میں ایروٹرانس ایوی ایشن کا Bell 407 کریش، جس میں 6 افراد ہلاک ہوئے،7 جون اور 17 مئی کو بھی دو علیحدہ حادثات پیش آئے جو بھارت کی فضائی نگرانی پر سوالیہ نشان ہیں،ایس او پیز (معیاری طریقہ کار) کی خلاف ورزی اور تربیت یافتہ عملے کی کمی تمام حادثات کا مشترکہ پیش خیمہ ہیں،ماضی میں بھی ان علاقوں میں متعدد سنگین حادثات رپورٹ، جن میں 2019، 2022 اور 2023 کے واقعات شامل ہیں

    18 اکتوبر 2022 کو کیدارناتھ سے گپت کاشی جاتے ہوئے ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوا، جس میں 7 افراد جاں بحق ہوئے،23 اپریل 2023 کو کیدارناتھ میں ایک مسافر ہیلی کاپٹر کے ٹیل روٹر سے ٹکرا کر ہلاک ہوا،21 اگست 2019 کو اترکاشی میں ایچ ٹی کیبل سے ٹکرا کر 3 افراد جاں بحق ہوئے،

    بھارتی ایوی ایشن کے حالیہ حادثات فضائی نظام کی کمزوریوں، ناقص پائلٹ تربیت، اور ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کرتے ہیں.بھارتی ہیلی کاپٹرز نہ تو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور نہ ہی پائلٹس کو موسمی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے،

  • اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی 22 سالہ طالبہ ایمان افروز کا سفاک قاتل گرفتار

    اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی 22 سالہ طالبہ ایمان افروز کا سفاک قاتل گرفتار

    اسلام آباد پولیس نے اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی 22 سالہ طالبہ ایمان کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا،

    اندھے قتل میں ملوث قاتل فیروز جھنگ کا رہائشی ہے۔ملزم فیروز قتل کی واردات کے بعد روپوش ہوگیا تھا۔ملزم ریپ کیس، موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں سابقہ چالان یافتہ ہے۔ملزم ہاسٹل میں واردات کے لئے داخل ہوا تھا۔ ملزم کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور ٹھوس شواہد کی روشنی میں چالان مرتب کیا جائے گا۔یہ واقعہ رواں سال اپریل کے مہینے میں پیش آیا تھا جب جب ایمان نجی ہاسٹل میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ مقیم تھی ۔

    پولیس کے مطابق اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں جھنگ سے تعلق رکھنے والاملزم واردات کی نیت سے فیروز ہاسٹل میں داخل ہوا تو وہاں موجودلڑکیوں نے شورمچادیا جس پر ملزم نے انہیں خاموش رہنےکا کہا تاہم لڑکیوں نے مزاحمت کی تواس نےفائرنگ کردی ۔پولیس کا بتانا ہے کہ ملزم کی ایک گولی 22 سالہ ایما ن کولگی تھی اوروہ موقع پردم توڑ گئی جس کے بعد ملزم فرار ہوگیا اورواردات کےبعدروپوش رہا تاہم اب پولیس نے جدیدٹیکنالوجی کی مددسےملزم کو گرفتارکرلیا ہے۔

  • ایرانی حکام سے ملاقات کا اہتمام کروایا جائے،ٹرمپ کی ہدایت

    ایرانی حکام سے ملاقات کا اہتمام کروایا جائے،ٹرمپ کی ہدایت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس انتظامیہ کو ایرانی حکام سے جلد ازجلد ملاقات کے اہتمام کی ہدایت کردی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایرانی حکام سے جلد ازجلد ملاقات کا اہتمام کریں.امریکی ٹی وی نے یہ دعویٰ بعض ذرائع کی بنیاد پر کیا ہے، اس سے پہلے ایک اور امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے اور وہ کینیڈا کا دورہ مختصر کرکے اس اجلاس کی صدارت کریں گے جو کہ وائٹ ہاؤس کے سیچوئشن روم میں ہوگا،صدر ٹرمپ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اگر ایران نے نیوکلئیر ڈیل نہیں کی تو کچھ ضرور ہوکر رہے گا۔

    یروشلم میں امریکی سفارتخانے نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے نکلنے کے لیے سفارتخانے کی مدد پر انحصار نہ کریں، کیونکہ فی الحال سفارتخانہ کسی بھی قسم کی براہ راست مدد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔پیر کو جاری کیے گئے تازہ ترین سیکیورٹی الرٹ میں امریکی سفارتخانے نے واضح کیا "اس وقت امریکی سفارتخانہ اسرائیل سے امریکیوں کے انخلاء یا ان کی براہ راست مدد کے قابل نہیں ہے۔”اس اعلامیے میں اسرائیل میں موجود امریکی حکومت کے تمام ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بدستور اپنی جگہ پر محفوظ رہیں اور پناہ گاہوں میں رہیں۔یہ ہدایات اس وقت دی گئی ہیں جب اسرائیل نے ایران پر ابتدائی حملہ کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ آج ان جھڑپوں کا پانچواں دن ہے۔

    اسرائیل کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ (بین گوریان ایئرپورٹ) اور تمام سمندری بندرگاہیں بند ہیں۔ نہ کوئی کمرشل پرواز دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی چارٹر فلائٹ۔امریکی سفارتخانے نے شہریوں کو تجویز دی ہے کہ وہ زمینی راستے سے اردن یا مصر جائیں جہاں سے پروازیں دستیاب ہیں۔امریکی شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ راکٹ، میزائل، ڈرون یا مارٹر حملے کی صورت میں اپنے قریبی پناہ گاہوں کے مقام سے آگاہ رہیں اور ہر وقت حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

    دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے "فارس” کے مطابق ایران کے وسطی صوبہ اصفہان میں واقع نطنز کے حساس جوہری مرکز کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا گیا ہے۔یہ ڈرون نطنز کی فضائی دفاعی حدود میں داخل ہوا تھا جسے ایران کی ایئر ڈیفنس نے مار گرایا۔ فارس کے مطابق نائب گورنر نے اس تصدیق کی اور ساتھ ہی تباہ شدہ ڈرون کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔نطنز وہی تنصیب ہے جہاں ایران یورینیم کو 60% تک افزودہ کر رہا ہے، جو کہ ہتھیاروں کے درجے کی سطح (90%) سے قدرے کم ہے۔ حالیہ دنوں میں یہاں اسرائیلی فضائی حملے بھی ہوئے، جن کے نتیجے میں بجلی کی تنصیبات اور بیک اپ سسٹمز کو نقصان پہنچا۔

    ایک امریکی اہلکار اور باخبر ذریعے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایرانی حکام سے فوری رابطہ کریں تاکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران کینیڈا میں یورپی رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے بات چیت جاری ہے اور امریکی وفد کو اس ہفتے ایرانی نمائندوں سے ملنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ٹرمپ نے کہا "میرے خیال میں ایران مذاکرات کی میز پر آ چکا ہے، وہ معاہدہ چاہتے ہیں۔”انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایرانیوں نے ذرائع سے امریکہ سے رابطہ کیا ہے۔تاہم، جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی فوجی کارروائی کا امکان کیا ہوگا، تو انہوں نے اس پر کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان الیکس فائفر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بتایا کہ”امریکی افواج دفاعی پوزیشن پر موجود ہیں اور یہ حکمت عملی بدستور جاری ہے۔ ہم امریکی مفادات کا دفاع کریں گے، لیکن ہم نے ایران پر حملے میں حصہ نہیں لیا۔”

  • پاکستان سمیت 21 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری،اسرائیلی حملوں کی مذمت

    پاکستان سمیت 21 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری،اسرائیلی حملوں کی مذمت

    اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے تناظر میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں اسرائیل کی فوجی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

    اعلامیے میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات 1949 کے جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے تحفظاتی اقدامات کے منافی ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان، سعودی عرب، ایران، ترکیہ، الجزائر، عمان، قطر، لیبیا، کویت، عراق، مصر، اردن، سوڈان، صومالیہ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے 13 جون 2025 سے جاری حملے ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت فوری طور پر بند ہونی چاہیے تاکہ پورے خطے میں امن قائم ہو سکے۔مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں اور تباہی پھیلانے والے دیگر ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دیا جائے۔نیوی گیشن اور بین الاقوامی سمندری سلامتی کے اصولوں کا احترام کیا جائے۔خطے میں مسائل کے حل کے لیے عسکری اقدامات کی بجائے سفارتکاری، مذاکرات اور ہمسائیگی کے اصولوں پر عمل ضروری ہے۔

    اعلامیے کے آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف جامع جنگ بندی اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق مذاکرات ہی مشرق وسطیٰ کے مسائل کا دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔

  • ایران کا اسرائیل پر سائبر حملہ،اسرائیلیوں میں خوف و ہراس

    ایران کا اسرائیل پر سائبر حملہ،اسرائیلیوں میں خوف و ہراس

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ ایرانی سائبر ماہرین نے اسرائیل پر سائبر حملہ کرتے ہوئے موبائل فونز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شہریوں کو خوف و ہراس پھیلانے والے پیغامات موصول ہوئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی سائبر حملے میں ہزاروں شہریوں کو ان کے موبائل فون پر پناہ گاہوں میں جانے اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی ہدایات پر مبنی پیغامات موصول ہوئے۔ ان پیغامات کے ذریعے شہریوں میں خوف پھیلانے اور افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔اسرائیلی حکام نے فوری ردعمل میں شہریوں کو متنبہ کیا کہ یہ ایران کی جانب سے سائبر حملہ ہے اور عوام ایسے پیغامات کو سنجیدہ نہ لیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سائبر سیکیورٹی ایجنسیز اس حملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہیں اور سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    مزید برآں، اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک معروف اسرائیلی ٹی وی چینل کا لائیو پروگرام بھی ایرانی ہیکرز کے نشانے پر آ گیا۔ پروگرام کے دوران اچانک اسکرین پر غیر متعلقہ مناظر اور پیغامات دکھائی دیے، جس پر میزبان اور ناظرین حیران رہ گئے۔

  • امریکا کی مشرق وسطیٰ میں اضافی دفاعی صلاحیتیں تعینات

    امریکا کی مشرق وسطیٰ میں اضافی دفاعی صلاحیتیں تعینات

    امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اسرائیل-ایران کشیدگی کے تناظر میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے مشرق وسطیٰ میں اضافی دفاعی صلاحیتیں تعینات کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کیا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکا نے درجنوں فوجی ری فیولنگ (ایندھن بھرنے والے) جہازوں کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ امریکی بحریہ کا طاقتور طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس نمٹز (USS Nimitz) بھی مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔ نمٹز جنگی بیڑے میں شامل یہ طیارہ بردار جہاز تقریباً 60 جنگی طیاروں اور 5,000 اہلکاروں کی گنجائش رکھتا ہے۔امریکی وزیر دفاع نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "امریکی افواج کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اضافی تعیناتی کا مقصد خطے میں ہماری دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔”

    امریکی دفاعی حکام کے مطابق یہ تعیناتی مکمل طور پر "پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی” کا حصہ ہے، تاہم اس کا وقت اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکا سے 31 سے زائد ری فیولنگ جہاز اتوار کے روز روانہ کیے گئے، جنہوں نے یورپی ممالک جیسے جرمنی، برطانیہ، اسٹونیا اور یونان میں لینڈنگ کی۔ ان جہازوں کی حتمی منزل مشرق وسطیٰ ہے۔امریکی حکام نے جہازوں کی درست تعداد اور حتمی مقامات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم، عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت اسٹریٹجک تیاریوں کا واضح اشارہ ہے اور ممکنہ طور پر خطے میں کسی بڑی کارروائی یا دفاعی اقدام کی پیش بندی ہوسکتی ہے۔

    دوسری جانب فلائٹ ریڈار نے امریکی فضائیہ کے تقریباً 30 طیاروں کے ایک غول کی تصویر جاری کی ہے جو یورپ کے مختلف ائیر بیسز پر اتارے گئے،فلائٹ ریڈار کے مطابق امریکی فضائیہ کے تقریباً 30 طیارے، جن میں سے زیادہ تر KC-46A Pegasus اور KC-135 Stratotankers، رات گئے امریکا سے روانہ ہوئے اور یہ طیارے یورپ پہنچ کر الگ الگ ہوگئے، گو کہ ان تیاروں کی آخری منزل نامعلوم تھی مگر فلائٹ ریڈارکی ٹریکنگ کے بعد 2 طیارے شمالی اٹلی میں ایویانو ائیر فورس کے اڈے پر لینڈ کرتے دیکھے گئے جبکہ 2 طیاروں نے سیویل کے جنوب مشرق میں اسپین کے قصبے ڈی لا فرونٹیرا کے مورون ایئربیس پر لینڈ کیا،طیاروں کے ایک جوڑے نے جرمنی کے قصبے Kaiserslautern کا رخ کیا۔ ایک طیارہ یونان کے چینہ ائیر بیس پر اترا جبکہ ایک نے جرمنی کے رامسٹین ائیر بیس پر لینڈنگ کی۔

  • جی 7 اجلاس،ٹرمپ اعلامئے پر دستخط نہیں کریں گے

    جی 7 اجلاس،ٹرمپ اعلامئے پر دستخط نہیں کریں گے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل ایران کشیدگی پر جی 7 اجلاس کے اعلامیے پر دستخط نہیں کریں گے۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کینیڈا میں ہونے والے جی 7 اجلاس کے اعلامیے پر دستخط نہیں کریں گے جس کے مسودے میں اسرائیل ایران تنازع میں کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے، اعلامیے کے مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے،مسودےمیں توانائی کی منڈیوں سمیت مارکیٹ کےاستحکام کےتحفظ کاعہد بھی شامل ہے۔

    جی 7 اجلاس کےموقع برطانوی وزیر اعظم کےسا تھ گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معاہدے پر دستخط کرنے چاہئیں، یقینی بنانے جا رہے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں،دوسری جانب صدرٹرمپ نے کینیڈا میں جی 7 اجلاس میں شرکت مختصر کر کے وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے، وہ آج واشنگٹن واپس آئیں گے اور اہم معاملات میں شرکت کریں گے،واضح رہے کہ جی 7 اجلاس 15 جون سے شروع ہوا اور آج اس کا اختتام ہوگا۔

    دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو دارالحکومت تہران خالی کرنے کی وارننگ دے دی، سوشل میڈیا پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران سے کہا تھا کہ نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کردے، اسے ایسا کرنا چاہیے تھا، انہوں نے بارہا کہا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا، انسانوں جانوں کا ضیاع شرم کی بات ہے،ایران کسی صورت نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا،امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا کہ ہر شخص تہران خالی کر دے۔