Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ثنا یوسف کو ایک آزاد اور محفوظ زندگی جینے کا پورا حق تھا،  آصفہ بھٹو

    ثنا یوسف کو ایک آزاد اور محفوظ زندگی جینے کا پورا حق تھا، آصفہ بھٹو

    خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے طالب علم ثنا یوسف کے قتل کی شدید مذمت کی ہے

    خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے ثناء یوسف کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ثنا یوسف کا قتل حقوق کا اظہار کرنے پر تشدد کی ایک دردناک مثال ہے، ثناء یوسف کو خواب دیکھنے، ترقی کرنے اور روشن مستقبل کا حق حاصل تھا، ثنا یوسف کو ایک آزاد اور محفوظ زندگی جینے کا پورا حق تھا،

    2 جون کو اسلام آباد میں اپنے گھر کے اندر قتل ہونے والی ثنا یوسف کے مبینہ قاتل عمر حیات کو اگلے ہی روز فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا تھا جس کے بعد سے تحقیقات کے ساتھ ساتھ عمر حیات کی عدالت پیشی کا سلسلہ جاری ہے،ثنا یوسف جو صرف 17 سال کی تھیں کامیابی کی راہ پر گامزن تھیں،مقتولہ ثنا یوسف کا تعلق بالائی چترال کے گاؤں CHUINJ سے تھا اور ثنا ایک معروف و متحرک سماجی کارکن انوار الحق کی بیٹی تھیں،ثنا یوسف کے والد چترال کے حقوق کا تحفط کرنے کیلئے چلنے والی تحریک ‘تحریکِ تحافظ حقوقِ چترال’ کے اہم رکن بھی ہیں۔

  • مہنگائی میں نمایاں کمی،60 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، اقتصادی سروے

    مہنگائی میں نمایاں کمی،60 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، اقتصادی سروے

    اسلام آباد: اقتصادی سروے 2025 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح اپریل میں صرف 0.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جو کہ گزشتہ 60 سالوں کی کم ترین سطح ہے۔ اس دوران معاشی ترقی کے متعدد مثبت اشارے سامنے آئے ہیں جس سے ملکی معیشت میں استحکام کی امید بڑھ گئی ہے۔

    مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اپریل 2025 میں مہنگائی صرف 0.3 فیصد رہی جو گزشتہ دہائیوں کے دوران کم ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ حقیقی شرح نمو 2.68 فیصد تک پہنچ گئی جو معیشت کی مضبوطی کا مظہر ہے۔فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا،اقتصادی سروے کے مطابق فی کس آمدنی 1824 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے 1662 ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ ترقی ملک کی مجموعی معاشی بہتری کا ثبوت ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.9 ارب ڈالر رہنے کے باوجود سرپلس میں تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔مالیاتی خسارہ کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے جبکہ بنیادی مالیاتی توازن میں بہتری آ کر 3.0 فیصد ہو گئی ہے، جو مالی نظم و ضبط کی علامت ہے۔سرمایہ کاری میں 13.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ بچت سے جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2025 میں 14.1 فیصد تک بڑھ گیا جو گزشتہ مالی سال کے 12.6 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔

    زرعی شعبے میں 0.56 فیصد اضافہ ہوا تاہم بڑی فصلوں کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی۔سروسز کے شعبے میں 2.91 فیصد ترقی ہوئی، اور یہ شعبہ 58.40 فیصد کے ساتھ جی ڈی پی کا سب سے بڑا حصہ بنا ہوا ہے۔صنعتی شعبے نے 4.77 فیصد ترقی کی، جس میں مینوفیکچرنگ کی بحالی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ٹیکسٹائل سیکٹر میں 2.2 فیصد، ہوزری میں 7.6 فیصد، کوک اور پیٹرولیم میں 4.5 فیصد، اور فارماسیوٹیکل شعبے میں 2.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ٹیکس ریونیو میں 25.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 9.14 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔نان ٹیکس ریونیو میں بھی 68 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.23 ٹریلین روپے رہا۔کل ریونیو 13.37 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔اخراجات میں 18.3 فیصد اضافہ ہوا اور مالی سال 2025 میں کل اخراجات 14.59 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ترقیاتی اخراجات میں 32.6 فیصد اضافہ ہوا، جو 1.54 ٹریلین روپے رہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ "جی ڈی پی میں اضافہ معیشت کی ترقی کی واضح علامت ہے۔ مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری میں اضافے نے ملک کی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔”

  • بھارت،کیرالہ کے ساحل پر مال بردار جہاز میں دھماکہ،4 افراد لاپتہ،5 زخمی

    بھارت،کیرالہ کے ساحل پر مال بردار جہاز میں دھماکہ،4 افراد لاپتہ،5 زخمی

    کیرالہ کے ساحل سے تقریباً 315 کلومیٹر مغرب میں آج ایک مال بردار جہاز ’ایم وی وین ہائی 503‘ میں اچانک شدید دھماکہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں جہاز پر موجود عملے کے کئی افراد زخمی اور لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ کولمبو سے نہاوا شیوا کی جانب جا رہے اس جہاز کے اندر ڈیک (نشیبی حصہ) میں پیش آیا، جہاں سینکڑوں کنٹینرز رکھے ہوئے تھے۔

    رپورٹس کے مطابق، اس جہاز پر کل 22 عملہ کے ارکان سوار تھے، جن میں سے 4 اہلکار لاپتہ ہیں جبکہ 5 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز پر مجموعی طور پر 600 سے زائد کنٹینر تھے، جن میں سے تقریباً 50 کنٹینرز حادثے کے باعث سمندر میں گر کر غرق ہو چکے ہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی اور مالی نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔حادثہ کوچی سے تقریباً 315 کلومیٹر دور ہوا، جہاں دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جہاز میں سوار عملے کے ارکان میں افرا تفری کا عالم پیدا ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد فوری طور پر بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے جہاز جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیے گئے ہیں تاکہ لاپتہ عملے کی تلاش اور زخمیوں کی مدد کی جا سکے۔

    ہندوستانی بحریہ کے پی آر او نے تصدیق کی ہے کہ یہ جہاز سنگاپور کا پرچم لگائے ہوئے ہے اور اس کی لمبائی 270 میٹر جبکہ ڈرافٹ 12.5 میٹر ہے۔ یہ جہاز 7 جون کو کولمبو سے روانہ ہوا تھا اور اسے 10 جون کو ممبئی کے این پی سی بندرگاہ پہنچنا تھا۔ہندوستانی کوسٹ گارڈ نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ریلیف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سی جی ڈی او ڈورنیر طیارہ جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تین کوسٹ گارڈ آبدوزیں ، آئی سی جی ایس راجدوت (نیو منگلور سے)، آئی سی جی ایس ارنویش (کوچی سے)، اور آئی سی جی ایس سچیت (اگٹّی سے) بھی جائے وقوعہ کی طرف بھیجی گئی ہیں تاکہ امدادی کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔

    کوسٹ گارڈ کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو علاج معالجہ فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جہاز پر باقی عملہ محفوظ ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ امدادی کارروائیوں میں آبدوزوں اور ہوائی جہازوں کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔اب تک دھماکہ کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی، لیکن یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جہاز کے اندر موجود کسی کنٹینر میں دھماکہ ہوا ہو سکتا ہے۔ حکام اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں نماز عید کے اجتماعات

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں نماز عید کے اجتماعات

    مسئلہ کشمیر حل طلب،پانی پر جنگ ہوئی توقوم تیار،اہل غزہ کی مدد کی ضرورت ہے،خالد مسعود سندھو،قاری یعقوب شیخ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نماز عید الاضحیٰ کے اجتماعات منعقد ہوئے،نماز عید کی ادائیگی کے بعد وطن عزیز پاکستان کی سلامتی، کشمیری وفلسطینی مظلوم مسلمانوں کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں،لاہور میں نماز عید کا سب سےبڑا اجتماع قذافی سٹیڈیم میں ہوا،اسلام آباد،کراچی،ملتان،پشاور،کوئٹہ،فیصل آباد، بہاولپور،راولپنڈی،مردان،سوات، لاڑکانہ،سکھر،حیدرآباد،سیالکوٹ،قصور،شیخوپورہ،گوجرانوالہ،جہلم،میانوالی،رحیم یارخان سمیت دیگر شہروں میں نماز عید کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور نماز عید ادا کی

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں صدر خالد مسعود سندھو، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک،انجینئر حارث ڈار،مرکزی ترجمان تابش قیوم،محمد سرور چوہدری،شیخ محمد فیاض،فیصل ندیم،عارف اللہ خٹک و دیگر نے مختلف شہروں میں عید کے اجتماعات و بعد ازاں کارکنان سے عید ملن پارٹی کے موقع پر گفتگو کی،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ "آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی دشمن کے خلاف پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، اگر بھارت نے آبی جارحیت کی کوشش کی تو پوری قوم اس کے خلاف ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگی، پاکستان اپنے دریا خشک نہیں ہونے دے گا، اور اگر پانی پر جنگ مسلط کی گئی تو قوم ہر قربانی کے لیے تیار ہے،مرکزی مسلم لیگ کا ہر کارکن عوام میں شعور بیدار کرے، کیونکہ پاکستان کی حفاظت صرف افواج پاکستان نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے،نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں،

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں قاری محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک،انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم،محمد سرور چوہدری،شیخ محمد فیاض،فیصل ندیم،عارف اللہ خٹک و دیگر کا کہنا تھا کہ سات دہائیوں سے مسئلہ کشمیر حل طلب ہے اورہم ہرتقریر میں کشمیر کی بات کرتے ہیں ،وہاں آج بھی خون بہہ رہا ہے۔عید کے ایام میں کرفیو نافذ اور مساجد و عید گاہیں بند تھیں،غزہ میں بھی یہی صورتحال ہے، اہل غزہ پر اسرائیلی بربریت عید کے ایام میں بھی جاری رہی، کشمیری مسلمان اپنے سینوں پر گولیاں کھانے کے باوجودپاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں اور الحاق پاکستان کے نعرے بلند کر رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے دوٹوک و اصولی موقف پر کاربند رہے اور کسی قسم کے بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کشمیریوں کے جذبات کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی جائے۔

  • عدالت سمجھتی ہے کہ عمران ضمانت کے حق دار ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے،بلاول

    عدالت سمجھتی ہے کہ عمران ضمانت کے حق دار ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے،بلاول

    وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان کی جوابی کارروائی کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے بنائے گئے سفارتی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور بھارت کے ساتھ تمام مسائل کا حل کشمیر سے ہوکر نکلتا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ داری ایٹمی ریاست ہے، پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی بات کی اور ہمیشہ امن کا پیغام دیا، پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پانی روکنا اعلان جنگ تصور ہو گا، بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا، پانی ہماری ناگزیرضرورت ہےاس پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل کشمیرسے ہوکرنکلتا ہے، بھارت مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پھیلا رہا ہے،بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کے حوالے سے کردار لائق تحسین ہے، ہم نے پہلگام واقعے پر غیرجانبدار تحقیقات کی پیش کش کی تھی لیکن انڈیا نے ہماری پیشکش قبول نہیں کی، دونوں جوہری ممالک کے درمیان تنازعات کے حل کے لیےکوئی مکینزم موجود نہیں ہے۔

    غیر ملکی ٹی وی کو بلاول زرداری نے انٹرویو بھی دیا، اینکر نے سوال کیا کہ عمران خان کو 14 سال قید کی سزا ہوئی، کہا جا رہا ہے 11 جون کو اُن کی ضمانت ہو جائے گی،جس کے جواب میں بلاول کا کہنا تھا کہ مجھے علم نہیں، پاکستان میں عدالتوں کا ایک پراسس ہے اور اگر عدالت سمجھتی ہے کہ عمران خان ضمانت کے حق دار ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے، ضمانت اُن کا حق ہے، عمران خان کو 11 جون کو ضمانت ملتی ہے تو میں اور میری پارٹی اِس فیصلے کو چیلنج نہیں کرینگے،

  • کشتی ’میڈلین‘ پر اسرائیلی حملہ،قبضہ قابل مذمت ہے،خالد مسعود سندھو

    کشتی ’میڈلین‘ پر اسرائیلی حملہ،قبضہ قابل مذمت ہے،خالد مسعود سندھو

    امدادی کشتی پر اسرائیلی حملہ انسانیت کی توہین ،عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، خالد مسعودسندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے غزہ کی مظلوم عوام تک امداد پہنچانے والی کشتی ’میڈلین‘ پر اسرائیلی حملے اور اس پر قبضے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں امدادی مشن کو روکنا، جہاز پر سوار افراد کو حراست میں لینا اور کمیونیکیشن سسٹمز کو جام کرکے دنیا سے ان کا رابطہ منقطع کرنا نہ صرف بربریت کی انتہا ہے بلکہ یہ عالمی برادری کے منہ پر طمانچہ ہے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو پامال کیا ہو، مگر عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی اسرائیلی جارحیت کو شہ دے رہی ہے، امدادی کشتی پر نہتے شہری، ماحولیاتی کارکن اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن موجود تھیں، جن پر ڈرون کے ذریعے سفید کیمیکل اسپرے کرنا انسانیت سوز اور ناقابلِ معافی جرم ہے، اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹس لیں،حکومت پاکستان بھی اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف اپنا سفارتی احتجاج ریکارڈ کرائے اور عالمی سطح پر فلسطینی عوام کی آواز بنے۔

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں قحط اور بمباری کے شکار لوگوں کے لیے امداد لے جانے والوں کو نشانہ بنانا دراصل انسانیت کو نشانہ بنانا ہے۔ ہم اس ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے، بلکہ مظلوم فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے،مسلم دنیا کو اسرائیلی مظالم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے اور امدادی مشنوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

  • پُرانے فاٹا اور قبائلی علاقوں میں غیر ریاستی عناصر کی جانب مسلح کواڈ کاپٹر کا عام استعمال

    پُرانے فاٹا اور قبائلی علاقوں میں غیر ریاستی عناصر کی جانب مسلح کواڈ کاپٹر کا عام استعمال

    پُرانے فاٹا اور قبائلی علاقوں میں غیر ریاستی عناصر کی جانب مسلح کواڈ کاپٹر کا عام استعمال

    خوارج کے ساتھ ساتھ قبائل بھی آپس کی لڑائیوں میں مسلح کواڈ کاپٹر استعمال کرنے لگے،مزے کی بات یہ ہے کہ یہ غیر ریاستی عناصر مسلح کواڈ کاپٹر استعمال کر کے الزام فوج پے لگا دیتے ہیں-آج کل سوشل میڈیا، خصوصاً قبائلی علاقوں سے آنے والی خبروں میں اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ "ڈرون حملہ ہوا”۔کبھی بچوں کو نشانہ بنانے کی بات ہوتی ہے تو کبھی بے گناہ شہریوں کو۔ ان خبروں پر شرپسند عناصر اور خودساختہ پشتون حقوق کے علمبردار بغیر کسی تحقیق کے ان حملوں کا الزام ریاستی اداروں پر دھر دیتے ہیں۔

    افسوسناک امر یہ ہے کہ کوئی یہ جاننے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ حملہ کس نے کیا؟ اس کا مقصد کیا تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ حملہ فتنہ الخوارج یا ان کے سہولت کاروں کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے کیا گیا ہو؟یہاں یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ریاستی ڈرون اور کمرشل کواڈ کاپٹر میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ریاستی ڈرون ایک منظم نظام کے تحت کام کرتا ہے — اس کا ہر عمل ریکارڈ ہوتا ہے، اس کا راستہ، ہدف اور مقصد سب واضح ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، کمرشل کواڈ کاپٹرز نہایت آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور ان کا استعمال بے ضابطہ ہوتا ہے، جسے کوئی بھی کسی بھی مقصد کے لیے بغیر نگرانی کے استعمال کر سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے، اب قبائلی علاقوں میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ فتنہ الخوارج کی تقلید میں بعض مقامی قبائل بھی چند ہزار روپے کا کواڈ کاپٹر خرید کر اپنے ذاتی جھگڑوں اور انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ علاقے کے امن و امان کے لیے ایک نیا اور خطرناک چیلنج بھی ہے۔دہشت گرد عناصر انہی سے فائدہ اٹھا کر مخصوص اہداف کو نشانہ بناتے ہیں اور سارا الزام ریاست پر ڈال کر سادہ لوح عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

    ہمیں عوام میں اس بات کی آگاہی پھیلانی چاہیے کہ کواڈ کاپٹر جیسے جدید آلات کا غیر قانونی استعمال نہ صرف سنگین جرم ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کو ایک نئی طرز کی خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ کواڈ کاپٹرز کی خریداری اور درآمد پر قانون سازی کرے کواڈ کاپٹر کے بغیر لائسنس استعمال پے فوراً پابندی عائد کرے ۔

  • خان یونس میں سرنگ سے حماس کے عسکری سربراہ محمد سنوار کی لاش برآمد

    خان یونس میں سرنگ سے حماس کے عسکری سربراہ محمد سنوار کی لاش برآمد

    اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد سنوار کی لاش جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں واقع یورپی اسپتال کے نیچے ایک زیرِ زمین سرنگ سے برآمد کر لی گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے 13 مئی 2025 کو ایک مشترکہ آپریشن کے دوران محمد سنوار کو شہید کیا تھا اس آپریشن میں محمد صبانہ بھی مارا گیا، جو حماس کے رفح بریگیڈ کا کمانڈر تھا۔ دونوں کمانڈر زیرِ زمین ایک خفیہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں موجود تھے، جہاں اس وقت بھی اسرائیلی فوج کے دستے موجود ہیں اور سرچ آپریشن جاری ہے۔اسرائیلی افواج کے مطابق، تلاش کے دوران محمد سنوار اور محمد صبانہ کے ذاتی سامان بھی برآمد کیے گئے ہیں، جن میں ان کے ذاتی دستاویزات، کمیونیکیشن ڈیوائسز، اور دیگر اہم معلومات شامل ہیں۔ ان اشیاء سے حاصل ہونے والا انٹیلیجنس مواد فی الوقت اسرائیلی حکام کی جانچ پڑتال کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ سرنگ سے دیگر دو افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان کا تعلق حماس کی دیگر ذیلی تنظیموں یا اہم عسکری ڈھانچے سے ہے یا نہیں۔

    محمد سنوار، جو کہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے بھائی تھے کئی برسوں سے تنظیم کی عسکری کارروائیوں کا مرکزی چہرہ رہے ہیں، پچاس سالہ محمد سنوار غزہ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے اور کئی دہائیوں تک حماس کے ساتھ وابستہ رہے۔انہیں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور خفیہ نقل و حرکت کی وجہ سے اسرائیلی حکام "سائے” سے تشبیہ دیتے تھے۔انہوں نے حماس کی فوجی شاخ میں اعلیٰ مقام حاصل کیا اور ملٹری کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔

  • بسیار خوری،عیدکے دو دنوں میں 17 ہزار سے زائد لاہوری ہسپتال پہنچے

    بسیار خوری،عیدکے دو دنوں میں 17 ہزار سے زائد لاہوری ہسپتال پہنچے

    عید الاضحیٰ کے تیسری روز شہر میں بسیار خوری کے باعث گیسٹرو انٹیسٹائنل بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان کے مطابق، گزشتہ دو روز کے دوران لاہور کے چھ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں گیسٹرو اور دیگر متعدی بیماریوں کے شکار مریضوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ میو ہسپتال میں گزشتہ دو دنوں میں پانچ ہزار سے زائد مریض گیسٹرو کے مختلف علامات کے ساتھ ہسپتال پہنچے، جبکہ جناح ہسپتال میں تین ہزار سات سو سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ سروسز ہسپتال میں بھی تین ہزار سے زائد افراد نے طبی امداد حاصل کی۔مزید برآں، جنرل ہسپتال اور گنگا رام ہسپتال میں بھی دو ہزار سے زائد مریض مختلف گیسٹرو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے داخل ہوئے۔ محکمہ صحت کی جانب سے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عید کی خوشیوں میں اعتدال سے کھانے پینے کا خاص خیال رکھیں تاکہ اس طرح کی بیماریاں لاحق نہ ہوں۔

    ترجمان محکمہ صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ زیادہ مصالحہ دار، تلی ہوئی اور زیادہ میٹھی غذاؤں سے پرہیز کریں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ صحت کو نقصان نہ پہنچے۔

  • راولپنڈی،گولیاں چل گئیں،باپ ،دو بیٹے قتل

    راولپنڈی،گولیاں چل گئیں،باپ ،دو بیٹے قتل

    راولپنڈی کے علاقے درکالی سیداں میں فائرنگ سے گھر میں سوئے ہوئے والد اور دو بیٹوں کو قتل کر دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق تھانہ جاتلی کے علاقے درکالی سیداں میں فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق ہوئے، ملزمان نے گھر میں داخل ہو کر سوئے ہوئے افراد پر فائرنگ کی، مقتولین میں والد اور دو بیٹے شامل ہیں، تینوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں اور موقع سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے تاہم معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے ایس پی صدر سے فائرنگ کے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 2 مشتبہ افراد کو تحویل میں لیکر ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔