Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مودی حکومت پر شیو سینا پارٹی کے سنجے راوت کی شدید تنقید

    مودی حکومت پر شیو سینا پارٹی کے سنجے راوت کی شدید تنقید

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد سے بھارت کے اندر سے سوالات اٹھ رہے ہیں

    آپریشن سندور، یا آپریشن سیاست؟ مودی سرکار کا ڈرامہ بے نقاب ہو گیا،شیو سینا پارٹی کے لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا،آپریشن سندور کی ناکامی پر سنجے راوت نے امت شاہ سے استعفے کا مطالبہ کر دیا،سنجے راوت کا کہنا تھا کہ امت شاہ کی ناکامی سے پہلگام حملہ ہوا مگر کوئی جوابدہ نہیں، 26خواتین بیوہ ہو گئیں، لیکن مودی حکومت صرف کریڈٹ لینے میں مصروف ہے!پہلگام کے 6 دہشتگرد ابھی تک اس لیے نہیں پکڑے گئے شاید انہوں نے بی جی پی میں شمولیت حاصل کرلی ہے,مودی جی کو شہیدوں سے زیادہ اپنی تصویریں چھپوانے کی فکر ہے, مودی سرکار نے سندور جیسے مقدس نشان کی بھی بے حرمتی کردی ہے،پہلگام میں عورتیں بیوہ ہو گئیں اور دلی میں سیاست کا میلہ لگا ہوا ہے، مودی نے بی جے پی ورکروں کو سندور بانٹنے بھیج کر عورتوں کی توہین کی,

  • عالمی سطح پر بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ ناکام

    عالمی سطح پر بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ ناکام

    عالمی سطح پر بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ ناکام ہو گیا

    ششی تھرور کا کولمبیا میں پاکستان مخالف بیانیہ پذیرائی حاصل نہ کر سکا،بھارتی توقعات کے برعکس کولمبیائی حکومت نے بھارت کی بجائے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی،کولمبیا کی حکومت نے بھارتی حملوں میں پاکستانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا،بھارتی جارحیت کی مذمت کے بعد کولمبیا کی حکومت بھارت کے نشانے پر آ گئی

    ششی تھرور نے کولمبیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "دہشتگردوں اور ان کے خلاف دفاع کرنے والوں میں کوئی مساوات نہیں ہو سکتی”کولمبیا کے سفارتی دورے میں ششی تھرور نے انڈس واٹرز ٹریٹی، پہلگام حملہ، اور آپریشن سندور جیسے موضوعات پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا،ششی تھرور نے بھارت میں ہونے والی دہشتگردی کا قصوروار پاکستان کو ٹھہرایا ،کولمبیا کی حکومت نے پاکستان مخالف بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا،کولمبیا پر تنقید سے قبل ششی تھرور امریکہ اور صدر ٹرمپ کے خلاف بھی سخت بیانات دے چکے ہیں

    عالمی سطح پر بھارت کی ناقص سفارتی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں،بھارت کا جارحانہ سفارتی رویہ اور ناقص حکمت عملی عالمی سطح پر اسے تنہا کر رہی ہے

  • بھارتی فضائیہ  بھارتیہ جنتا پارٹی  کے ہاتھوں رسوا

    بھارتی فضائیہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں رسوا

    آپریشن بنیان مَّرْصُوْص کی شاندار کامیابی اور بھارتی طیاروں کی تباہی پربھارتی سیاست دان اپنی ہی فضائیہ پر برہم ہوگئے

    مشرقی اُدھم پور میں بی جے پی کے رکن لوک سبھا رنبیر سنگھ پٹھانیا نے بھارتی فضائیہ کو نالائق اور نااہل قرار دیدیا،
    رنبیر سنگھ پٹھانیا نے بھارتی فضائیہ کے بارے میں کہا کہ ’’آپریشن سندور کے دوران سب جانتے ہیں کیا ہوا ، نالائقی ہو گی ان کی سو رہے ہونگے یہ لوگ‘‘اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے ہم نے تو ان کو اپنی پلکوں پر بٹھا کے رکھا،

    رنبیر سنگھ پٹھانیا کا اشارہ بھارتی فضائیہ کی نالائقی اور پاک فضائیہ کی کامیابی کی جانب تھا، 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پا ک فضائیہ نے بھا ر ت کے 3 رافیل ، ایک مگ 29، 1 ایس یو 30 اور 1 معراج طیارہ مار گرایا،رافیل اور ا ایس یو -30 جیسے جدید طیاروں کی تباہی نے بھارتی فضائیہ برتری کے تمام دعوے بے نقاب کر دیئے، بھارت کی جانب سے تباہ شدہ طیاروں سے متعلق مکمل خاموشی بھارت کی شکست کے مترادف ہے، بھارتی طیاروں کی تباہی کے شواہد بین الاقوامی میڈیا بھی پیش کرچکا ہے

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی سیاستدان کا بھارتی فضائیہ کی ناکامی حقائق پر مبنی ہے، مودی کی قیادت میں بھارت دفاعی لحاظ سے کمزور اور سفارتی طور پر بلکل تنہا رہ گیا ہے،مودی دور حکومت میں تمام دفاعی دعوے کھوکھلے ہو گئے ،بھارتی بری، فضائیہ اور بری فوج میں عملی صلاحیت کا شدید فقدان ہے،

  • اسرائیل کا سعودی وزیر خارجہ کو رام اللہ جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

    اسرائیل کا سعودی وزیر خارجہ کو رام اللہ جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

    اسرائیل نے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو مقبوضہ فلسطین کے علاقے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اتوار کو مغربی کنارے کے دورے کا ارادہ رکھتے تھے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی وزیر خارجہ کے علاوہ متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، قطر اور ترکی کے وزرائے خارجہ بھی اتوار کو رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا مقصد فلسطینی قیادت کے ساتھ علاقائی سلامتی اور فلسطینی مسئلے پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں ایک وزارتی وفد رام اللہ جائے گا، جو 1967 میں اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بعد سعودی وزیر خارجہ کا مغربی کنارے کا پہلا دورہ ہوگا۔ فلسطینی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق یہ دورہ تاریخی نوعیت کا حامل ہوگا کیونکہ اس سے سعودی عرب کی طرف سے فلسطینی عوام کی حمایت کا واضح اظہار ہوگا۔

    تاہم، اسرائیل نے اس دورے کو روکنے کے لیے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی عرب وزرائے خارجہ کو رام اللہ میں بلانے کی خواہش رکھتی ہے تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں حمایت حاصل کی جا سکے، لیکن اسرائیل اس تجویز کو قبول نہیں کرتا۔اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیل مغربی کنارے کو یہودی ریاست بنانے کے اپنے منصوبے پر قائم ہے اور اس حوالے سے کسی بھی طرح کی بین الاقوامی کوششوں یا عرب وزرائے خارجہ کی مداخلت کو روکنا چاہتا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے علانیہ طور پر مغربی کنارے کو اپنی ریاست میں شامل کرنے کے منصوبے کا اظہار کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔فلسطینی قیادت اور عرب ممالک کی جانب سے اس اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور وہ عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

  • لاڑکانہ: سیشن جج کے اسکواڈ پر فائرنگ، ایک پولیس اہلکار کی موت

    لاڑکانہ: سیشن جج کے اسکواڈ پر فائرنگ، ایک پولیس اہلکار کی موت

    لاڑکانہ: خیرپور روڈ پر سیشن جج لاڑکانہ کے اسکواڈ پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور دو دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیشن جج لاڑکانہ سکھر سے واپس لاڑکانہ جا رہے تھے۔ واقعہ ٹنڈو مستی تھانے کی حدود میں پیش آیا، جہاں راستے میں اچانک حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے باعث اسکواڈ میں شامل تین پولیس اہلکاروں کو گولیاں لگیں، جن میں سے ایک موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ دو زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    واقعے کے فوری بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ علاقہ میں سرچ آپریشن جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ سیشن جج اور ان کے اسکواڈ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید سیکورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • دبئی،بھکاریوں کیخلاف کاروائی،41 افراد گرفتار،46لاکھ نقدی برآمد

    دبئی،بھکاریوں کیخلاف کاروائی،41 افراد گرفتار،46لاکھ نقدی برآمد

    دبئی: دبئی پولیس نے ایک منظم بھکاری گروہ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 41 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتار شدگان ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے اور بھیک مانگنے کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ اس موقع پر پولیس نے 60,000 درہم سے زائد نقدی بھی برآمد کی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 46 لاکھ روپے کے برابر ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد عرب ممالک سے وزٹ ویزوں پر متحدہ عرب امارات آئے تھے اور دبئی کے مختلف علاقوں میں لوگوں سے بھیک مانگنے کے لیے دعا کی مالائیں اور دیگر مذہبی اشیاء فروخت کرنے کا کاروبار کر رہے تھے۔یہ کارروائی "المسباح” کے نام سے چلائے جانے والے ایک خفیہ آپریشن کے تحت کی گئی، جسے جنرل ڈپارٹمنٹ آف کرمنل انویسٹی گیشن کے سسپیکٹس اینڈ کرمنل فینومینا ڈیپارٹمنٹ نے انجام دیا۔پولیس کو یہ اطلاع 901 کال سینٹر کے ذریعے ملی کہ کچھ افراد عوام سے دعا کی مالائیں اور دیگر مذہبی اشیاء بیچتے ہوئے بھیک مانگ رہے ہیں۔ اطلاع ملنے کے فوراً بعد پولیس نے چھان بین شروع کی اور جلد ہی تین عرب شہریوں کو موقع پر گرفتار کر لیا۔گرفتار افراد کی تحقیقات کے دوران ان کا اعتراف ہوا کہ وہ ایک بڑے منظم بھکاری گروہ کا حصہ ہیں جو متحدہ عرب امارات میں اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے نہ صرف بھکاریوں کا نیٹ ورک متاثر ہوا ہے بلکہ عوام میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف شعور بیدار کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔

  • پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، ٹرمپ

    پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، جنوبی ایشیائی ملک ٹیرف سے متعلق معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جوائنٹ بیس اینڈریوز پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نےکہا کہ وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ کام کررہے ہیں، امریکا اس وقت بھارت سے ڈیل کرنے کے بہت قریب ہے جبکہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکا آرہے ہیں، انہیں دونوں ملکوں میں سے کسی ایک سے بھی ڈیل میں دلچسپی نہ ہوتی اگر وہ ایک دوسرے سے جنگ کرتے اور انہوں نے یہ بات دونوں ملکوں پر واضح کردی تھی، انہیں فخر ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ ڈیل کررہے ہیں اور اس بات پر بھی کہ امریکا نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ گولیوں کے بجائے تجارت کے ذریعے روک لی ہے، عام طور پر یہ ملک گولیاں کا تبادلہ کرتے ہیں تاہم ہم تجارت کرتے ہیں اور اس لیے انہیں یہ جنگ تجارت کے ذریعے روکنے پر بہت فخر ہے۔

    امریکی صدر نے شکوہ کیا کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ امریکا کی جانب سے روکنے پر کوئی بات نہیں کرتا، اور کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بہت بری جنگ ہو رہی تھی اور اگر اب آپ دیکھیں تو معاملات ٹھیک ہوچکے ہیں۔

    خبرایجنسی کے مطابق پاکستان کو برآمدات پر امریکا کی جانب سے 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہےکیونکہ پاکستان کا تجارتی سرپلس 3ارب ڈالر ہے، جبکہ بھارت کو امریکا شپمنٹ پر 26فیصد ٹیرف کا سامنا ہے،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صدرٹرمپ کے بیان سے ایک روز پہلے کہا تھا کہ انکا امریکا کے تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریئر سے رابطہ ہواہے، اسطرح پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے،محمد اورنگزیب کے مطابق اس رابطے میں دونوں فریقین نے تعمیری ماحول میں اپنے نقطہ نظر کا تبادلہ کیا اورآئندہ چند ہفتوں میں تکنیکی سطح پر تفصیلی مذاکرات پر اتفاق کیاہے، فریقین نے مذاکرات کو جلد از جلد کامیابی سے مکمل کیے جانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے حال ہی میں واشنگٹن کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی امور پربات کی تھی، امکان ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدہ پر جولائی کے اوائل میں دستخط ہوجائیں گے،خبرایجنسی کے مطابق ٹریڈ ڈیل کیلئے بھارت کی جانب سے امریکی کمپنیوں کو 50 ارب ڈالر مالیت کے کنٹریکٹ دیے جانے کا امکان ہے۔

    اینڈریوز ائربیس پر میڈیا سے بات کرنے سے پہلے صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں ایلون مسک کی موجودگی میں بھی پاکستان اوربھارت ہی کی صورتحال پربات کی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور بھارت کو جنگ سے روکا، دونوں ملکوں کے درمیان یہ کشیدگی جوہری تباہی کا باعث بن سکتی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی پر وہ پاکستان اوربھارت کے رہنماؤں کے شکر گزار ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا ہےکہ ان لوگوں کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے جو ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے ہوں، اگر بھارت اور پاکستان لڑ رہے ہوں تو انہیں ان دونوں ممالک سے ٹریڈ معاہدہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    صدرٹرمپ اب تک دس بار یہ کہہ چکےہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ رکوائی ہے اوراس کے لیے انہوں نے تجارت کو ہتھیار بنایا ہے۔

    دنیا اس بات سے بھی واقف ہے کہ پاکستان مسلسل امن کی وکالت کر رہا ہے جبکہ مودی سرکار نے پاکستان پر بلااشتعال جنگ مسلط کی تھی اور 5 طیاروں اور ایک ڈرون تباہ ہونے، ایس فورہنڈریڈ کو نقصان پہنچنے اور پاکستان پر حملے کے لیے استعمال تمام ہوائی اڈوں پر بمباری کے بعد جنگ بندی پر مجبور ہوا تھا،اس کے باوجود مودی سرکار اشتعال انگیزی سے باز نہیں آرہی اور حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کیلئے انکے پاس گولیاں تو ہیں ہی۔

    اس تناظر میں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان پر یہ واضح کردیا ہے کہ انہیں دونوں میں سے کسی ایک سے بھی ڈیل میں دلچسپی نہ ہوتی اگر وہ ایک دوسرے سے جنگ کرتے، یہ اشارہ پاکستان کی نہیں واضح طور پر بھارت کی جانب ہے، یعنی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے سبب بھارت کو امریکا میں بھی ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے۔

  • بھارت اور فرانس کے درمیان  رافیل طیاروں پر کشیدگی

    بھارت اور فرانس کے درمیان رافیل طیاروں پر کشیدگی

    بھارت اور فرانس کے درمیان رافیل جنگی طیاروں کی حالیہ جنگ میں خراب کارکردگی نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کے خلاف حالیہ لڑائی میں مہنگے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کی مایوس کن کارکردگی نے عالمی سطح پر حیرت اور خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ دیگر ممالک جنہوں نے فرانس سے دفاعی سازوسامان خریدا ہے، وہ بھی اپنی خریداری پر نظر ثانی کرنے لگے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا نے حال ہی میں داسوٹ سے طیارے خریدنے کے معاہدے کی آڈٹ شروع کر دی ہے۔ اگرچہ آڈٹ کی وجہ ظاہر نہیں کی گئی لیکن واضح ہے کہ انڈونیشیا بھارت میں رافیل طیاروں کی خراب کارکردگی سے متاثر ہو کر تشویش میں مبتلا ہے،ریفائن کرنے کی کوشش میں پیرس نے نئی دہلی پر تنقید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ رافیل طیاروں کی ناکامی کی وجہ ان کی مرمت میں غفلت اور پائلٹس کی غلطیاں ہیں، نہ کہ طیاروں کی تکنیکی خامیاں،

    غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے فرانس کی جانب سے رافیل طیاروں کی جانچ کے لیے بھیجی گئی ٹیم کو اپنی فضائیہ کے طیاروں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت اس بات سے خوفزدہ ہے کہ فرانسیسی آڈیٹر اپنی رپورٹ میں خامیاں طیاروں کی بجائے بھارتی فضائیہ کے پائلٹس اور مینٹیننس پر ڈالیں گے۔

    دسمبر 2024 میں انڈین کاؤنٹرولیٹر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) اور پارلیمانی دفاعی کمیٹی کی رپورٹس میں بھارت کی فضائیہ کو شدید پائلٹ قلت اور تربیتی مسائل کا شکار بتایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پائلٹس کی کمی 2015 میں 486 سے بڑھ کر 2021 میں 596 ہو گئی تھی۔ اس کمی نے فضائیہ کی لڑائی کی تیاری اور تربیت کو بری طرح متاثر کیا۔

    کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ رافیل طیاروں کا ناقص ہونا نہیں بلکہ بھارتی فضائیہ کی تربیت اور مینٹیننس میں کوتاہی ہے۔ تاہم یہ بھی امکان ہے کہ فرانسیسی رافیل طیارے اب چینی ساختہ پاکستانی طیاروں اور میزائلوں کے سامنے برتری برقرار نہیں رکھ پاتے، جس کی وجہ ان کا زیادہ مہنگا ہونا ہے۔

    بھارت کا ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ داسوٹ کمپنی نے بھارتی فضائیہ کو رافیل طیاروں کے سافٹ ویئر کا سورس کوڈ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے طیاروں کی مینٹیننس اور جدید ہتھیاروں کی انٹیگریشن مشکل ہو رہی ہے۔ فرانس اس کو اپنی انٹلیکچوئل پراپرٹی کا تحفظ قرار دیتا ہے، لیکن بھارت کا موقف ہے کہ بغیر سورس کوڈ کے مکمل کنٹرول ممکن نہیں۔

    پاکستانی فضائیہ کے چینی ساختہ PL-15 میزائل اور طیاروں نے بھارت کے رافیل طیاروں کو مار گرایا تو چین نے سوشل میڈیا پر بھارتی فوجی ناکامی کا خوب مذاق اڑایا۔ ایک چینی سفارتکار نے کہا، "بھارت ہر رافیل پر 288 ملین ڈالر خرچ کرتا ہے اور سورس کوڈ تک رسائی نہیں رکھتا۔ یہ ایک متنازعہ بات ہے۔”

    مجموعی طور پر بھارت کو اپنی دفاعی خریداریوں اور فوجی تیاری پر گہرائی سے غور کرنا ہوگا۔ فرانس اور بھارت دونوں کو اس شکست کا ذمہ دار ماننا پڑے گا، لیکن بھارت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے فضائیہ کے پائلٹس کی تربیت، مینٹیننس، اور دفاعی حکمت عملی میں بہتری لائے تاکہ آئندہ ایسے حالات میں بہتر مقابلہ کر سکے۔

  • مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    مشاعرہ سے مکالمہ تک، ملی ادبی پنچائیت کا فکری و قومی کردار

    ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین محترم ریاض احمد احسان ان چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے لاہور کی ادبی فضا کو نئی جہتیں دیں، اور فکر و فن کے متلاشیوں کے لیے ایک متحرک، فعال اور باوقار پلیٹ فارم فراہم کیا،ریاض احمد احسان صرف ایک شاعر یا ادیب نہیں، بلکہ ایک تحریکی روح ہیں، اُن کی شخصیت میں ایک ایسا جادو ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، بکھرے ذہنوں کو سمیٹتا ہے اور ادب کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سماج، ملت اور قوم کے حقیقی مسائل سے جوڑ کر پیش کرتا ہے،وہ ملی جذبے سے سرشار، فکری بیداری کے سفیر اور ادبی وحدت کے پیامبر ہیں۔ اُن کا اندازِ گفتگو، اندازِ میزبانی، اور ہر تقریب میں ان کی متحرک شرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ادب کو ایک مشن سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں سجنے والی محافل میں نہ کوئی سیاسی تعصب ہوتا ہے، نہ ذاتی مفادات کی بو، بلکہ صرف اور صرف فکر، فن اور وطن کی خوشبو ہوتی ہے،

    محترم ریاض احمد احسان کی زیرِ قیادت قائم ہونے والی تنظیم ملی ادبی پنچائیت ایک ایسا ادبی قافلہ ہے جو صرف مشاعرے نہیں کراتا، بلکہ فکری مکالمے، قومی شعور، اور اجتماعی دانش کے فروغ کا ذریعہ بن چکا ہے، اس پلیٹ فارم کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر مکتبِ فکر، ہر نسل اور ہر طبقے کے اہلِ قلم کو خوش آمدید کہا جاتا ہے،ملی ادبی پنچائیت نے ادب کو محض شاعری کے رنگین لفظوں سے نکال کر اسے وطن، امن، حب الوطنی اور فکری آزادی کے دائرے میں رکھا ہے، یہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں شاعر صرف قافیہ نہیں دیکھتا بلکہ قوم کے کرب کو محسوس کرتا ہے، اور دانشور صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے،یہ ادارہ نہ صرف ثقافتی ورثے کی حفاظت کر رہا ہے، بلکہ نئی نسل کو ادبی شعور سے ہمکنار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر تقریب میں نظریاتی گہرائی، فکری وسعت اور قومی ذمہ داری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، جو اسے دیگر تنظیمات سے ممتاز بناتا ہے،ریاض احمد احسان ایک ایسے فکری اور روحانی اثاثے کا نام ہیں جس پر اہلِ لاہور ہی نہیں، پوری ادبی دنیا کو فخر ہونا چاہیے۔ وہ جہاں جاتے ہیں، ادب کے چراغ جلاتے ہیں، امن کے پیغام بانٹتے ہیں، اور اہلِ قلم کو وہ زبان دیتے ہیں جو صرف کتابی نہیں، عملی بھی ہو۔

    28 مئی 1998 کا دن پاکستانی قوم کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہے، جب ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو باور کروا دیا کہ یہ ملک دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے۔ اس تاریخی دن کی یاد میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) ہر سال تقریبات منعقد کرتی ہے، اور امسال بھی لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں یومِ تکبیر کی مناسبت سے کیک کاٹنے کی پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس یادگار تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے بھرپور شرکت کی۔ ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین اور لاہور کی علمی ادبی فضا کے روحِ رواں، محترم ریاض احمد احسان بھی اس تقریب کی رونق بنے۔ اُن کی موجودگی نے تقریب کو نہ صرف وقار بخشا بلکہ حالاتِ حاضرہ پر اُن سے ہونے والی گفتگو نے تقریب کو فکری گہرائی بھی عطا کی۔

    ریاض احمد احسان نے 29 مئی کو کاسموم پولیٹن کلب، لارنس گارڈن لاہور میں منعقد ہونے والی "امن و جنگ” مشاعرہ و مکالمہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، جو ملی ادبی پنچائیت کی جانب سے منعقد کی جا رہی تھی۔ اگرچہ طے شدہ وقت پر پہنچنا ممکن نہ ہو سکا، تاہم تقریب میں دیر سے پہنچنے کے باوجود شرکت کی،تقریب میں ادیبوں، شاعروں اور قومی فکر رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مشاعرہ کے ساتھ ساتھ فکری مکالمے نے محفل کو مزید معنویت عطا کی۔ جہاں ہر فرد امن کی خواہش رکھتا تھا، وہیں اگر جنگ یا جارحیت مسلط کی جائے تو اس کے خلاف جواب نہ دینا بھی کمزوری گردانا گیا۔ خواجہ جمشید امام کے بقول، "اس پر خاموشی نامردانگی ہے”۔

    اس تقریب کی صدارت ملی ادبی پنچائیت سپریم کونسل کے چیئرمین، جناب رضوان کاہلوں نے کی۔ اس موقع پر معروف شاعر، ادیب اور دانشور میجر (ر) شہزاد نیئر کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ اُنہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں افواجِ پاکستان کی حکمت عملی، کارگل جنگ کے چشم دید تجربات اور آپریشن بنیان مرصوص سے متعلق دلچسپ اور معلوماتی گفتگو کی۔میجر (ر) شہزاد نیئر نے نہ صرف روایتی جنگ بلکہ جدید دور کی سائبر وار کی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ اُن کا خطاب جذبۂ حب الوطنی سے لبریز تھا، جس نے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔ اس ادبی اور فکری محفل میں گائیکی کے رنگ بھی شامل کیے گئے۔ معروف گائیک سکندر خاقان، مرزا جاوید اقبال بیگ، شہباز حیدر اور میڈیم ہما عمران نے ملی نغموں سے سامعین کے جذبوں کو بلند کیا۔ اپووا کے بانی چیئرمین ایم ایم علی نے اپنی خوبصورت شاعری سے محفل کو نورانی کر دیا۔

    محترم ریاض احمد احسان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے تقریب کو عمدہ طریقے سے ترتیب دیا، اور اپنی موجودگی سے اسے جِلا بخشی۔ اُن کی متحرک شخصیت نے اہلِ لاہور کی علمی و ادبی پہچان کو مزید نمایاں کر دیا،تقریب کے اختتام پر پرتکلف عشائیہ اور چائے کا اہتمام تھا، جہاں اہلِ ذوق افراد نے باہم گفتگو کرتے ہوئے محفل کی خوبصورتی کو سراہا۔یومِ تکبیر کے موقع پر ہونے والی یہ تقریبات نہ صرف وطن سے محبت کے جذبے کو تازہ کرتی ہیں بلکہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ادبی ہم آہنگی اور فکری تبادلے کو فروغ دیتی ہیں۔ ریاض احمد احسان، رضوان کاہلوں، میجر شہزاد نیئر اور دیگر تمام احباب اس ادبی و قومی خدمت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

  • دفاع اور وفا کرنے والوں کی کردار کشی بدترین جرم ہے۔ ملی ادبی پنچائیت

    دفاع اور وفا کرنے والوں کی کردار کشی بدترین جرم ہے۔ ملی ادبی پنچائیت

    چیئرمین ملی ادبی پنچائیت سپریم کونسل جنا ب رضوان کاہلوں کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پاک بھارت جنگ کے تناظر میں ایک ”امن اورجنگ مشاعرہ و مکالمہ“ کی قرارداد پاس ہونے کے بعد کاسموم پولیٹن کلب لارنس گارڈن لاہور کے خوبصورت لائبیریری ہال میں جمعرات کی شام معروف شاعر ٗ ادیب و دانشور جناب میجر (ر)شہزاد نئیر کی صدارت میں ایک خوبصورت پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف شاعروں ٗ ادیبوں ٗ دانشوروں اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔

    اس پُروقار تقریب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین ریاض احمد احسان نے سرانجام دئیے اور پروگرام کو چار چاند لگا دئیے۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد ہمارے عہد کے مشہور و مقبول اور خوش گلو نعت گو جناب ولائت احمد فاروقی نعت رسولؐ مقبول سے اہل محفل کی سماعتوں کو باوضوکردیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغازمعروف شاعرہ محترمہ راحیلہ اشرف نے اپنے کلام سے کیا۔

    پروگرام کا فارمیٹ یہ تھا کہ شاعر اور مقررین ایک کے بعد ایک آتے رہے یوں یہ خوبصورت پروگرام ایک لمحے کیلئے بھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوا۔ مقررین نے افواج ِپاکستان کی جنگی حکمتِ عملی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اِس جنگ میں جہاں بھارت کو اپنی عوام اور اقوامِ عالم کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑی ہے وہیں خارجی محاذ پر بھارت اپنی ہٹ دھرمی اورجارحیت کی وجہ سے تنہا بھی ہو گیا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملی ادبی پنچائیت کے صدر خواجہ جمشید امام نے کہا کہ امن سے بہتر کوئی شے نہیں لیکن بدقسمتی سے امن یکطرفہ نہیں ہوتا اور بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور خطے میں اپنے تھانیداری کی خواہش کی وجہ سے پاکستان کیجانب سے یکطرفہ امن کا خواہشمند ہے جسے پاکستان قوم سوائے غلامی کے کچھ نہیں سمجھتی اور غیرت مند قومیں بھلا کب غلامی کی کسی بھی شکل کو قبول کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا ہمیں سمجھائے کہ یکطرفہ امن کیسے ممکن ہے؟ ب

    انی چیئرمین ریاض احمد احسان کا کہنا تھا کہ ملی ادبی پنچائیت ریاستی دانش کی سمت درست کرنے والا پلیٹ فارم ہے جہاں پاکستان کے شاعر ٗ ادیب ٗ دانشور مل کر اپنی ریاست کو مفید مشوروں سے نوازتے ہیں اوریہی وہ تخلیقی اقلیت ہوتی ہے جو ہر قدم پر ریاستی عقل کا ساتھ دیتی ہے۔ چیئرمین سپریم کونسل ملی ادبی پنچائیت رضوان کاہلون نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے دنیا پاکستان کو سمجھانے کے بجائے مودی کے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش کرئے جو یقینا کسی تندرست دماغ کا بیانیہ تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔

    معروف صنعت کار ڈاکٹر صالح محمود نے ساحر لدھیانوی کی شعرہ آفاق نظم ”اے شریف انسانوں“ سنا کر حاضرین کے دل جیت لئے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ مسلمان غلامی کیلئے نہیں حکمرانی کیلئے پیدا ہوا ہے کیونکہ انسانوں کی فلاح کا آخری پروگرام ہمارے پاس ہے جو برابری اوررواداری اور امن کی دعوت دیتا ہے لیکن مومن دوست میں بریشم کی طرح نرم اور اپنے دشمنوں کے سامنے مانند ِ فولاد ہوتا ہے۔

    امن کمیٹی کے چیئرمین اور معروف سکالرجناب محمود غزنوی نے امن کی اہمیت اور موجود ہ حالات میں بھارتی بیانیے کو مضحکہ خیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سیاست کا غلط اندازہ لگا بیٹھی ہے جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا ہے۔ اجلاس میں معروف گائیکوں جناب سکندر خاقان ٗ جناب مرزا جاوید اقبال بیگ ٗشہباز حیدر اور میڈیم ہما عمران نے ملی ترانوں سے محفل کو خوب گرمایا۔

    اپواء تنظیم کے بانی چیئرمین عزت مآب ایم ایم علی نے خوبصورت کلام سنا یا اور امید ظاہر کی کی بھارت اس درگت کے بعد ایک لمبے عرصے تک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرئے گا۔

    ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب جناب صابر علی نے بطور مہمانِ خاص اس پروگرام میں شرکت کی اور اپنی شاعری سنا کر محفل میں موجود ہر شخص کا دل مول لیا۔ اُن کے ہمراہ انتہائی باذوق دوست جناب اسرار بشیر چشتی ڈپٹی ڈائریکٹر نیب بھی تشریف فرما تھے لیکن انہوں نے مائیک پر صابر علی صاحب کی موجودگی کو کافی سمجھا۔

    ترجمان تحریک حرمت ِ رسول ؐجناب علی عمران شاہین نے جنگ میں شہید ہونے والے بچوں اور جوانوں کے درجے کی بلندی کیلئے طویل دعا فرمائی جس میں کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوؒں کیلئے خصوصی دعائیں بھی شامل تھیں۔

    پاک تاجر اتحاد کے مرکزی صدر صابر حسین جٹ نے کے پُر جوش اور ولولہ انگیز خطاب نے پروگرام میں موجود ہر شخص کو متاثرکیا اور اُسے حقیقی پاکستانی کے دل کی آواز قرار دیا۔

    ڈائریکٹر سوشل سیکورٹی ڈاکٹر احسان الرحمان نے افواجِ پاکستان کو پاکستان کی حقیقی ”بینا ن المرصوص“ قرار دیتے ہوئے اُسے عطیہء خداوندی قراردیا۔

    پروفیسر ضیغم عباس نے اپنا کلا م سنا کر خوب داد وصول کی اور ان کے ایک ایک شعر پر محفل عش عش کر اٹھی۔

    انجمن ترقی پسند مصنفین کے سابق سیکرٹری لاہور اور معروف ترقی پسند شاعر مقصود خالق ملی ادبی پنچائیت کے صدر کی خصوصی درخواست پرپروگرام میں تشریف لائے اور اپنا خوبصورت نظمیہ بیانیہ پیش کیا جسے جتنا سراہا جائے کم ہو گا۔ خواجہ جمشید اما م اور مقصود خالق کی شاعری اور تقاریر یقینا دوسری لوگوں سے ہٹ کرتھیں لیکن حقیقی بیانیہ ریاست ِ پاکستان کا یہی ہونا چاہیے کہ ہم دفاع کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اس کیلئے ہم اپنی فوج کو مزید مضبوط کریں گے لیکن ہم جارحیت کے بدترین مخالف ہیں وہ کسی کی جانب سے بھی ہو۔

    معروف و مقبول شاعر ڈاکٹر صغیر احمد صغیرنے اپنی تقریر میں افواج ِ پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مقررین کے جذبہ ء تقریر کو داد دی۔ انہوں نے ملی ادبی پنچائیت کے پلیٹ فارم کو حقیقی دانشوروں کا پلیٹ فارم قرار دیا جو واقعی قوم کی درست سمت راہنمائی کر رہا ہے۔ ڈاکٹر صغیر احمد صغیر نے اپنی خوبصورت شاعری سے اہلِ محفل کی سماعتوں کو لطف اندروز کیا اور داد سمیٹی۔

    پاکستان ادبی فارم کی جانب سے ملی ادبی پنچائیت کے بانی چیئرمین جناب ریاض احمد احسان کو پرچم جیسے انسان کے خطاب سے نوازتے ہوئے برادرم ولائیت احمد فاروقی نے ریاض احمد احسان کو پاکستان کا پرچم پیش کیا۔

    پنجابی زبان کے مہان شاعر جناب استاد تجمل کلیم کیلئے خصوصی دعا فرمائی گئی جس نے ہر آنکھ کو نم کر دیا ۔ مرحوم کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاؤہ مقررین نے اس سماجی بے حسی کا بھی ذکر کیا جس کا شکار اکثر ہمارے سماج کے تخلیق کار ہو جاتے ہیں۔

    آخر میں صدارتی خطبہ عطا کرتے ہوئے معروف شاعر ٗ ادیب ٗ دانشور اورخوبصورت شخصیت کے مالک جناب شہزاد نیئر میجر (ر) نے افواج ِ پاکستان کی حکمت ِ عملی اور پاکستانی قوم کا اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کارگل جنگ کے دوران کارگل پر اپنی تعیناتی کے حوالے سے دلچسپ واقعات کے علاوہ اُس جنگ کی ہولناکیوں بارے بھی محفل کو آگا ہ کیا۔ جناب ِصدر نے تشریف لانے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اورملی ادبی پنچائیت کا حصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بروقت اس پروگرام کا انعقاد کیا۔

    صدرِ محفل جناب شہزاد نئیر کا 29مئی یوم ِ پیدائش تھا تو سب دوستوں نے مل کر اُن کی سالگرہ کا کیک کاٹا اور ریاض احمد احسان نے جنابِ صدر کو سالگرہ کی منظوم مبارک باد دی۔ اس اجلاس میں استحکام پاکستان پارٹی کے قائد جناب نعیم احمد خان ٗ خان بابا ریسٹورنٹ والے ٗمعروف تحقیقی صحافی عزت مآب اسد نقوی ٗ سنیئر میڈیکل آفیسر جناب ارشد حسین ٗ معروف ترقی پسند دانشور و کالم نگار ناصف اعوان ٗ معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ ٗ اشفاق حسین ٗ اسد علی خان اور ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ٗ شہر لاہور میں پروگرامز کی روح مشہور و معروف و مقبول کالم نگار و مقرر جناب منشاء قاضی صاحب کی آمد نے دل با غ باغ کردیا۔باغی ٹی وی کے روح رواں جنا ب ممتاز اعوان کی خصوصی شرکت نے پروگرام کو مزید رنگا رنگ کردیا۔

    پروگرام کے باقاعدہ اختتام کے اعلان کے بعد پُر تکلف کھانا اوربہترین چائے کا دور اوردوستوں کی گفتگو اورکامیاب پروگرام کی مبارک بادیں سمیٹتے ہوئے گزرتے لمحات جنہوں نے وقت ڈوبتے سورج سے ابھرتے چاند تک وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہونے دیا۔