Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت کو رافیل کی فروخت،کرپشن،فرانس میں تحقیقات،جج کو ذمہ داری مل گئی

    بھارت کو رافیل کی فروخت،کرپشن،فرانس میں تحقیقات،جج کو ذمہ داری مل گئی

    بھارت اور فرانس کے درمیان 7.8 ارب یورو (9.3 ارب ڈالر) مالیت کے رافیل جنگی طیاروں کے سودے کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے، کیونکہ اب ایک فرانسیسی تحقیقاتی جج کو اس معاہدے کی مکمل تحقیقات کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

    یہ معاہدہ ستمبر 2016 میں بھارتی حکومت اور فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی "داسو ایوی ایشن” کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت بھارت کو 36 جدید رافیل طیارے فراہم کیے گئے۔ اس سودے پر طویل عرصے سے بدعنوانی اور اقرباپروری کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔فرانس کی مالیاتی جرائم کی تحقیقاتی ایجنسی PNF (National Financial Prosecutor’s Office) نے ابتدائی طور پر اس معاملے کی تحقیقات سے انکار کر دیا تھا، جس پر فرانسیسی تحقیقی ویب سائٹ Mediapart نے PNF اور فرانسیسی انسداد بدعنوانی ایجنسی پر اس معاملے کو "دبا دینے” کا الزام عائد کیا۔اپریل میں Mediapart نے ایک چشم کشا رپورٹ شائع کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ داسو ایوی ایشن نے معاہدے کی تکمیل میں مدد کرنے والے ایک ثالث کو "کروڑوں یورو کی خفیہ کمیشن” ادا کی، جن میں سے کچھ رقم ممکنہ طور پر بھارتی حکام کو رشوت کے طور پر دی گئی۔

    داسو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اندرونی آڈٹ رپورٹس میں کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی۔

    ان الزامات کے بعد فرانس کی معروف غیر سرکاری تنظیم Sherpa، جو مالیاتی جرائم کی تحقیقات میں مہارت رکھتی ہے، نے "بدعنوانی” اور "اثرو رسوخ کے غلط استعمال” جیسے الزامات کے تحت باضابطہ شکایت درج کروائی، جس کے نتیجے میں فرانسیسی عدلیہ نے ایک تحقیقاتی جج کو مقرر کر دیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ Sherpa نے اس سودے کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں بھی تنظیم نے اسی معاہدے کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اس وقت PNF نے کوئی کارروائی نہیں کی۔Sherpa کا ایک اہم اعتراض یہ ہے کہ داسو نے بھارتی پارٹنر کے طور پر ریلیانس گروپ کو کیوں چُنا، جو ایک بڑی مگر فضائی صنعت سے ناواقف کمپنی ہے۔ اس گروپ کے سربراہ انیل امبانی ہیں، جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ داسو نے ابتدائی طور پر 2012 میں بھارت کو 126 رافیل طیارے فراہم کرنے کا معاہدہ جیتا تھا اور اس وقت وہ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) سے بات چیت کر رہا تھا۔ مارچ 2015 تک یہ بات چیت تقریباً مکمل ہو چکی تھی، لیکن اپریل میں وزیر اعظم مودی کے فرانس کے سرکاری دورے کے فوراً بعد یہ مذاکرات اچانک ختم ہو گئے، جس پر مبصرین حیران رہ گئے۔اس کے بعد ریلیانس گروپ، جس کا فضائی صنعت میں کوئی تجربہ نہیں، اچانک HAL کی جگہ لے کر معاہدے کا نیا فریق بن گیا اور صرف 36 طیاروں پر نیا معاہدہ طے پایا۔

    فرانسیسی اخبار Le Monde نے انکشاف کیا کہ 2015 میں، جب رافیل معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی، فرانس نے ریلیانس گروپ سے منسلک ایک فرانسیسی کمپنی پر عائد 143.7 ملین یورو کا ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اچانک ختم کر دیا۔ یہ اقدام بھی معاہدے کے دوران دی گئی ممکنہ مراعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

  • مودی حکومت کا سکھ دشمن ایجنڈا: کرتارپور بندش سے لے کر ’جاسوسی‘ الزامات

    مودی حکومت کا سکھ دشمن ایجنڈا: کرتارپور بندش سے لے کر ’جاسوسی‘ الزامات

    مودی حکومت کا سکھ دشمن ایجنڈا: کرتارپور بندش سے لے کر ’جاسوسی‘ الزامات تک لگا دیے

    مودی سرکار میں اقلیتوں بالخصوص سکھوں اور مسلمانوں کا جینا محال کر دیا گیا،کرتارپور راہداری بند، سکھوں پر مودی سرکار کا سفاکانہ کریک ڈاؤن مزید تیزہو گیا،سکھوں کے خلاف مودی کا نیا ہتھکنڈا،’پاکستانی ایجنٹ‘ ثابت کرنے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں،پٹھانکوٹ سے گرداسپور، سکھوں کو جاسوس ٹھہرانے کی مودی سرکار کی سازشیں جاری ہیں،متعدد پر شبہ ،6 سکھ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لئے گئے،مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے متصبانہ رویے کے خلاف سکھ برادری نے اظہار تشویش کیا ہے،سکھ رہنماؤں نے مذہبی آزادی اور شہری حقوق پر حملے کی شدید مذمت کی ہے. سکھ رہنما گیانی کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ "کرتارپور بندش سکھوں کے مذہبی و سیاسی حقوق پر حملہ ہے” مودی حکومت مذہب کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائے،

  • بھارتی شہری پر بیوی سمیت خواتین کو سیاستدانوں کے ساتھ جنسی تعلقات پر آمادہ کرنے کا الزام

    بھارتی شہری پر بیوی سمیت خواتین کو سیاستدانوں کے ساتھ جنسی تعلقات پر آمادہ کرنے کا الزام

    تامل ناڈو میں حکمران جماعت ڈی ایم کے کے ایک کارکن کو اُس وقت پارٹی سے برطرف کر دیا گیا جب اُس کی بیوی نے اُس پر نہایت سنگین الزامات عائد کیے۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اُس کے شوہر نے نہ صرف اُس کا جنسی استحصال کرنے کی کوشش کی بلکہ دیگر لڑکیوں کو بھی سیاست دانوں کے لیے "تیار” کیا۔

    متاثرہ خاتون ایک 20 سالہ کالج طالبہ ہے جو ضلع ارکونم سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا کہ اُس کا شوہر، دیوَسییال ، جو ڈی ایم کے کی یوتھ وِنگ کا خود ساختہ ڈپٹی سیکریٹری ہے، اُسے دوسرے پارٹی رہنماؤں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔”اُس کا کام ہے کہ 20 سال کی لڑکیوں کو سیاست دانوں کے ساتھ جسمانی تعلق پر مجبور کرے۔ وہ مجھے سب کے سامنے گالیاں دیتا ہے، کار میں مجھ پر تشدد کرتا ہے اور اُن مردوں کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ اُن کے ساتھ سونا ہے۔ میں امتحان بھی نہیں دے سکی۔ میں گھر سے بھی نہیں نکل سکتی۔”

    اپوزیشن لیڈر ای. پالنِی سوامی نے اس معاملے کو 2019 کی خوفناک پولّچی جنسی زیادتی کیس سے تشبیہ دی، جو اُس وقت پیش آیا جب ان کی پارٹی اقتدار میں تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چونکہ ملزم کا تعلق حکمران جماعت ڈی ایم کے سے ہے، اس لیے پولیس کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔پالنِی سوامی نے خبردار کیا”اگر اس معاملے میں سخت قدم نہ اُٹھایا گیا تو ہم ایک بڑی ریاست گیر تحریک شروع کریں گے۔”

    ان الزامات کے بعد تمل ناڈو کے نائب وزیر اعلیٰ اُدھاینِدھی اسٹالن نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دیوَسییال کو پارٹی سے برطرف کر دیا۔ پارٹی کے ترجمان کے مطابق”ڈی ایم کے خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے استحصال کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔”

    خاتون نے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے براہ راست اپیل کی کہ وہ انصاف دلوائیں، ورنہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اُس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُس کے شوہر کے ریاست کے اسکول ایجوکیشن منسٹر، انبِل مہیش پوئموزھی ( ، سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن تاحال ایسے شواہد نہیں ملے کہ متاثرہ خاتون کو زبردستی دوسرے مردوں کے ساتھ جسمانی تعلق پر مجبور کیا گیا ہو۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا”ہم تمام پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔ اگر ثبوت ملے تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔”

  • خطے میں پاکستان کا مقام بڑھ چکا، تاجر کمیونٹی موقع سے فائدہ اٹھائے،گولڈن رنگ اکنامک فورم کا مشترکہ پینل ڈسکشن

    خطے میں پاکستان کا مقام بڑھ چکا، تاجر کمیونٹی موقع سے فائدہ اٹھائے،گولڈن رنگ اکنامک فورم کا مشترکہ پینل ڈسکشن

    گولڈن رنگ اکنامک فورم، اے پی پی کے اشتراک سے لاہور پریس کلب میں منعقدہ پینل ڈسکشن سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جس کے بعد خطے میں پاکستان کی حیثیت تبدیل ہو گئی، کل پاکستان سے کوئی بات نہیں‌کرنا چاہتا تھا آج سب تیار ہیں، پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو آگے بڑھ کر پاکستان کا ایمبسڈر بننا ہو گا، وزارت خارجہ والے اپنا کام احسن انداز میں کر رہے ہمیں گریف ممالک کے ساتھ مارکیٹ بہتر کرنی ہو گی.

    ان خیالات کا اظہارچیئرمین گریف لیفٹینٹ جنرل ر سکندر افضل،صدر گریف انجینئر حسنین مرزا،صدر پاکستان-چین مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایمبیسڈر ر نذیر حسین،راغب،سابق چیئرمین، پاکستان کیمیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن ابرار احمد، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے لاہور پریس کلب میں پاک بھارت جنگ گولڈن رِنگ ریجن پر اثرات اورپاکستان کے لیے مواقع ،کے عنوان پرپینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

    لیفٹینٹ جنرل ر سکندر افضل کا کہنا تھا کہ انڈیا کیا کر سکتا ہے یا کیا نہیں کر سکتا وہ ہی جانتا ہے ہمیں یہ ہی سکھایا جاتا ہے کہ ہم نے تیار رہنا ہے، پاکستانی افواج تیار رہتی ہیں، جنگیں اب آپ گھر بیٹھ کر بھی لڑ سکتے ہیں، ضروری نہیں کہ آمنے سامنے کھڑے ہوں، ہماری تیاری جاری رہنی چاہئے، جنگ پانچ گھنٹے کی ہو یا چار کی ، نیتجہ دیکھا جاتا ہے،تیاری مسلسل چلتی رہتی ہے، کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فتح کی سب کو مبارک ہو،مودی کا جنگی جنون ملیا میٹ کر دیا گیا ہے، افواج پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے،مودی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ دوبارہ پاکستان کی طرف آئے،پاکستان کے ڈپلومیٹس کو زیادہ محنت نہیں‌کرنی پڑے گی، بھارتی میڈیا نے اپنے ملک کو جتنا کمزور کیا اتنا کسی ملک نے نہیں کیا، پاکستانی میڈیا نے ذمہ دار کردار ادا کیا ،

    گولڈن رنگ اکنامک فورم کے صدر انجینئر حسنین مرزا کا کہنا تھا کہ ایک الگ ڈومین ہے جس بارے ہم نے کشیدگی کے بعد بات نہیں کی، ہم نے جنگ کے بعد کا فائدہ کیسا اٹھانا ہے، پاکستان کے بارے میں دنیا کی رائے بدلی ہے، پاکستان جسے پہلے کمزور ملک سمجھا جاتا تھا لیکن دس مئی کے تین چار گھنٹوں کے بعد پاکستان دنیا میں پھر ابھر کر سامنے آیا ہے، پاکستان سے ممالک اب ایک مختلف لیول پر بات کریں گے ،ہمیں اس چیز کو "کیش” کرنا ہے، پاکستان کو ممالک سے بات کرنی ہے، اپنی اکنامک کی صورتحال کو بہتر کرنا ہے،ترکی،آذر بائیجان کھل کر پاکستان کی حمایت میں کھڑے ہوئے، فوج نے جو کام کرنا تھا وہ کر دیا اب ہم نے اکنامک وفود ممالک میں بھیجنے ہیں یہ ہمارا کام ہے،پوری دنیا میں ہمیں وفود بھیجنے ہوں گے،بزنس کمیونٹی کو اب کام کرنا ہو گا، فرق بزنس کمیونٹی کو پڑنا ہے، ہمیں موقع ملا ہے پاکستان دنیا میں ابھرا ہے، خطے میں تبدیلی رونماہوئی ہے، اس ساری صورتحال کا پاکستانی بزنس کمیونٹی کو فائدہ اٹھانا چاہئے،تاجروں کو اپنے وفودخود بھیجنے چاہئے، ہمیں پاکستان کا ڈپلومیٹ بھی بننا ہے، اور بزنس مین بھی بننا ہے،

    ایمبیسڈر ر نذیر حسین کا کہنا تھا کہ یہ چار پانچ گھنٹے کی جنگ تھی اس نے مسئلہ بڑا آسان کر دیا، پہلے جو ہماری بات نہیں سنتے تھے وہ اب بلا رہے ہیں کہ آئیں بات کریں،لوگ پاکستان کو بہت عزت سے دیکھتے ہیں، پاکستان کو اپنی فارن پالیسی بدلنی ہو گی، چین کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں،سٹیل مل کراچی میں بننے جا رہی اس میں سندھ حکومت کا وفاقی حکومت کا بھی کردار ادا ہو گا، ترکی نے ڈرون بھیجے ،آذر بائیجان کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا، فارن پالیسی کے حوالہ سے اب مزید بہتریاں لانی ہو ں گی،یورپی یونین کو دیکھیں وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے، اس خطے میں‌پاکستان حالیہ کشیدگی کے بعد ابھر کر سامنے آیا،ہم خطے میں امن کے لئے کام کر رہے ہیں،11 مالک کی میڈیا کی ایسوسی ایشن ہونی چاہیے، پاکستان کی ٹاپ کی آرگنائزیشن میڈیا کوایک کرے، تمام 11 ممالک سے میڈیا کمپنی کو ملکر ایک پلیٹ فارم ہونا چاہئے،عزت بزنس مین کی بھی ہو گی اور ڈپلومیٹ کی بھی، اسلام آباد اکیلاکچھ نہیں کر سکتا، موسمیاتی تبدیلی، ویزہ،سیکورٹی سمیت کافی سارے مسائل ہیں

    راغب کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں چینی ٹیکنالوجی نے بہت دھاک بٹھائی ہے،ہمارا دل چاہتا ہے کہ بار بار سنیں کہ کس طرح پاکستانی افواج نے بھارتی فوج کو دھول چٹا دی،جنگ کے خاتمے کے بعد اب اصل کام شروع ہوا ہے،پاکستان کے پاس سیز فائر کا پہلے دن سے ہی آپشن تھا، اگر سیز فائر ہوا ہے تو یہ بھارت کی درخواست پر ہوا ہے، سیز فائر اتنی جلدی ہوتے نہیں ہیں، یو کرین روس کو دیکھ لیں ، اب اتنے عرصے بعد سیز فائر کی طرف جا رہے، غزہ اسرائیل کو دیکھ رہیں لیکن پاکستان نے تین چار گھنٹے انڈیا کو اتنا دھویا کہ وہ سیز فائر پر مجبور ہوئے.کرکٹ میں بھی پاکستان ہار جائے تو ہم تنقید کرتے ہیں اپنے ہی کھلاڑیوں پر یہاں تو مشینوں کی جنگ تھی، چین نے پاکستان کو سپورٹ کیا اور امریکہ نے مخالفت نہیں کی، سب سے پہلے پاکستان کو ریجن میں جو وزن ملا ہے ہم ایران، بنگلہ دیش، افغانستان کے ساتھ پرانے والے تعلقات بحال کریں ، پاکستان کو ایس ای او میں اہم کردار لینا چاہئے،جو بھی پاکستان کو چاہئے وہ گریف سے مل سکتا ہے پاکستان کو گریف ممالک کے ساتھ ،11 ممالک کے ساتھ تعلقات مزید بہتر اور فائدہ اٹھائے،

    ابرار احمد کا کہنا تھا کہ سنٹرل ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئے،تین ارب ڈالر کی ٹریڈ ہم سنٹر ل ایشیا ممالک سے کر سکتے ہیں، پراپر بینکنگ اور بزنس ریلیشن شپ نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں ہو پا رہا، پاکستان کو کچھ پالیسی کے حوالہ سے ممالک کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے، تاکہ ممالک کے ساتھ بزنس بہتر ہو، چین کے ساتھ ہماری اچھی تجارت ہو رہی ہے،

  • پنجاب کے تعلیمی اداروں میں‌گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

    پنجاب کے تعلیمی اداروں میں‌گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

    پنجاب میں شدید گرمی کے باعث وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے تمام سرکاری و پرائیویٹ سکولز میں موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ان چھٹیوں کا آغاز 28 مئی سے ہو گا۔

    پنجاب بھر کے سکولز میں موسم گرما کی چھٹیاں 28 مئی سے شروع ہو جائیں گی، جس کا اعلان وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کیا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیر تعلیم پنجاب نے یہ بھی بتایا کہ 28 مئی تک سکولز کے اوقات کار میں تبدیلی کی گئی ہے۔ تمام سکولز صبح ساڑھے سات بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک کام کریں گے، تاکہ شدید گرمی سے بچا جا سکے۔

    اس سے قبل وزیر تعلیم پنجاب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ موسم گرما کی چھٹیوں کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور حتمی فیصلہ تین سے چار روز میں ہو جائے گا۔ ابتدا میں چھٹیوں کی تاریخ یکم جون رکھی گئی تھی، لیکن گرمی کی شدت کے پیش نظر اس تاریخ میں تبدیلی کی گئی۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ مختلف اوقات میں سکولز کی بندش کے باوجود تعلیمی نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ لرننگ لاسز مزید نہ بڑھیں۔ فی الحال سکولوں میں معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی اور ہیٹ ویو کی شدت کے پیش نظر حفاظتی ہدایات متعلقہ محکموں کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔ وزیر تعلیم نے طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عمل کر کے ہیٹ ویو کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھیں۔

  • کم عمر ی کی شادی بل شریعت محمدی کے خلاف ،مسترد کرتے ہیں،قاری یعقوب شیخ

    کم عمر ی کی شادی بل شریعت محمدی کے خلاف ،مسترد کرتے ہیں،قاری یعقوب شیخ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری و علماء و مشائخ ونگ کے چیئرمین قاری محمد یعقوب شیخ نے کم عمری کی شادی کی ممانعت کے بل کو کو شریعت محمدی ﷺ، قرآن و سنت اور اسلامی خاندانی نظام پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شریعت مطہرہ کے مطابق نکاح کے لیے عمر کی نہیں بلکہ بلوغت کی شرط ہے۔ شریعت میں نکاح کے جواز کے لیے بلوغت اور رضامندی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
    قاری محمد یعقوب شیخ کا کہنا تھا کہ سینیٹ و قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل میں شامل سزائیں جیسے نکاح پڑھانے پر قید، جرمانے، اور والدین و سرپرستوں کو مجرم قرار دینا نہایت افسوسناک اور اسلام مخالف رویہ ہے۔ ایسے قوانین سے نکاح جیسے پاکیزہ عمل کو جرم قرار دے کر معاشرے کو فحاشی، بدکاری اور زنا کے دہانے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ اسلامی معاشرہ نکاح کے ذریعے طہارت اور تحفظ کا ضامن بنتا ہے، جبکہ یہ قانون معاشرتی بگاڑ اور اخلاقی تباہی کو دعوت دے رہا ہے۔
    قاری محمد یعقوب شیخ نے مطالبہ کیا کہ یہ بل فی الفور واپس لیا جائے اور ایسی قانون سازی صرف اسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری سے مشروط کی جائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے اور پاکستان میں ایسے بل کا منظور ہونا افسوسناک امر ہے۔ متنازعہ بل سینٹ اور قومی اسمبلی سے فی الفور واپس لیا جائے بصورت دیگرپاکستان مرکزی مسلم لیگ دینی وسیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

  • نورمقدم کیس، جس  فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،عدالت

    نورمقدم کیس، جس فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،عدالت

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ پراسیکیوشن کا سارا کیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر ہے،ملزم کے خلاف کیس شواہد کا شک و شبہ سے بالاتر ہونا ضروری ہے۔

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،مجرم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ پراسیکیوشن کا سارا کیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر پر ہے،ملزم کے خلاف کیس شواہد کا شک و شبہ سے بالاتر ہونا ضروری ہے، عدالت بطور شواہد پیش فوٹیجز سے باہر نہیں جا سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوشن کی فوٹیج چلائی گئی لیکن وہ چل نہ سکی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکیل کی فراہم کردہ یو ایس بی سے ویڈیو چلائی گئی

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جس سی سی ٹی وی فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،
    پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے بھی کہا سی سی ٹی وی فوٹیج ٹمپرڈ نہیں ہے ، اور نہ ہی اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اگر کوئی انسان ویڈیو بناتا تو اعتراض ہو سکتا تھا کہ ویڈیو کا مخصوص حصہ ظاہر کیا گیا،اس ویڈیو کے معاملے پر تو انسانی مداخلت ہے ہی نہیں،یہ ویڈیو سی سی ٹی وی کیمرے کے زریعے ریکارڈ ہوئی.

  • بیٹی کے اغوا اور زیادتی کا جھوٹا کیس درج کروانے والا باپ گرفتار

    بیٹی کے اغوا اور زیادتی کا جھوٹا کیس درج کروانے والا باپ گرفتار

    سرگودھا کے نواحی گاؤں چک 29 جنوبی میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک باپ نے اپنے ذاتی مخالفین کو پھنسانے کے لیے بیٹی کے اغوا اور جنسی زیادتی کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ پولیس کی جدید تفتیشی تکنیکوں اور باریک بینی سے کی گئی تحقیقات نے اس مکروہ سازش کو بے نقاب کر دیا۔

    یاسین نامی شخص نے 12 فروری 2025 کو تھانہ کڑانہ میں مقدمہ درج کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی 18 سالہ بیٹی کو تین افراد نے اغوا کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ یاسین اور اس کی بیٹی کے بیانات کی بنیاد پر پولیس نے تین ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی، جس کے بعد مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل ٹیسٹ بھی کروایا گیا، اور ڈی این اے نمونے مزید تجزیے کے لیے لاہور کی لیبارٹری بھجوائے گئے تھے۔تاہم، کیس میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے واقعہ کے تمام پہلوؤں کی گہرائی سے تفتیش کی۔ دورانِ تحقیقات ایسے شواہد سامنے آئے جن سے یاسین کی کہانی مشکوک نظر آنے لگی۔ بالآخر لڑکی نے خود اعتراف کیا کہ نہ تو اسے اغوا کیا گیا تھا، نہ ہی اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہوئی ہے۔ اس کے اس اعتراف کے بعد پورا مقدمہ بے بنیاد ثابت ہوا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے یاسین کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سرگودھا، محمد صہیب اشرف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "قانون کا غلط استعمال کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ایسے افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی تاکہ بے گناہوں کو انصاف اور معاشرے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔”

  • ہمیں شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ہمیں شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    معرکہ حق، بھارت کیساتھ تنازع، پاک چین تعلقات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کی ہے.

    ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیا ہے،انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کیساتھ کشیدگی، پاک چین تعلقات اور خطے کی صورتحال پر اپنا موقف پیش کیا،ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے چائنا میڈیا گروپ کے ہر سوال کا مفصل اور حقائق پر مبنی جواب دیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کیلئے سب اہم چیز اس کا حل اور اس کی طاقت ہے،ہم اللہ کے بعد سب سے زیادہ اپنے آپ پر انحصار کرتے ہیں‘‘جب ہمارا عزم مضبوط ہوگا جو ہم نے دکھایا بھی تو پھر بین الاقوامی کمیونٹی بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے،دنیا کے جتنے بھی ممالک ہیں سب کو اس وقت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جو بڑے ممالک ہیں ان کا ویژن بھی بڑا ہے، لوگ انسانیت کی ترقی کی جانب دیکھ رہے ہیں،اس دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے مسائل ہیں، بڑھتی آباد کے مسائل ہیں یعنی بہت سارے مسائل سے دنیا نبردآزما ہے،کیا ایسے میں ایک ملک دوسرے ملک پر بلاجواز، جھوٹے بیانیے اور بغیر ثبوت کے چڑھ دوڑے، پڑوسی ممالک کے اوپر اپنی اجارہ داری مسلط کرنے کی کوشش کرے،پاکستان کی قوم تو نہ پہلے جھکی تھی اور نہ ہم اب جھکیں گے، میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں کہ ہمیں شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے، چاہے کسی نے نیلی، سفید یا خاکی وردی پہن رکھی ہے شہادت ہمارے لئے اعزاز ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آرکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور چین دنیا میں دو ذمہ دار ملک ہیں، پاکستان اور چین دونوں کی پہلی ترجیح لوگوں کی فلاح و بہبود ہے،لوگوں کی خوشحالی ہمیشہ امن و استحکام سے آتی ہے،پاکستان اور چین دونوں کی خطے میں امن و استحکام کیلئے کوشاں ہیں، اس کیلئے ہم دہشتگردی کی لعنت سے لڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا مقصد ہی ترقی کو روکنا ہے، چین نے انتہائی کم عرصے میں اتنی بڑی آبادی کے ساتھ جو ترقی کی ہے اسے دنیا کو دیکھنا چاہئے، پاکستان کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہم ترقی اور استحکام کی جانب جائیں،ہماری پہلی ترجیح امن ہے، آج پاکستان کی گلیوں میں دیکھیں تو آپ کو فتح نہیں امن کی خوشی مناتے لوگ نظر آئینگے،پاکستان کے لوگوں میں آپ کو انسانیت نظر آئے گی، ہم عاجزی کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں،ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں کیونکہ ہم امن پسند ہیں،پاکستان کی جو آہنی دیوار جس میں عوام، مسلح افواج اور تمام شعبے شامل ہیں کو دہشتگردی کے ناسور کی جانب موڑنا ہے، آپ دیکھیں گے کہ ملک کیسے دوڑتا ہوا ترقی کی منازل طے کرے گا۔۔انشاء اللہ،

  • مودی سرکار سچ سے خائف، سوال پوچھنے والی آوازوں کو کچلنے پر اُتر آئی

    مودی سرکار سچ سے خائف، سوال پوچھنے والی آوازوں کو کچلنے پر اُتر آئی

    مودی سرکار سچ سے خائف، سوال پوچھنے والی آوازوں کو کچلنے پر اُتر آئی

    مودی سرکار نے آزاد صحافت کا گلا گھونٹ کر جمہوریت کا جنازہ نکال دیا،گجرات سماچار کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں بلاک، اظہار رائے کی آزادی پر براہِ راست حملہ قرار دے دیا گیا،مودی کے جنگی جنون، ڈھونگ اور جھوٹی فتح پر آواز اٹھانے پر مودی سرکار کا گجرات سماچار نیوز چینل پر چھاپا،گجرات سماچار نیوز چینل کے ڈائریکٹر بہوبلی بھائی شاہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا، بہوبلی بھائی شاہ کی گرفتاری محض اس لئے کی گئی کہ وہ حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے تھے،بی جے پی نے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور انکم ٹیکس کو سیاسی ہتھیار بنا کر گجرات سماچار نیوز چینل کو خاموش کرانے کی شرمناک کوشش کی، مودی کے گڑھ میں سچ بولنے پر گجرات سماچار اور جی ایس ٹی وی کو نشانہ بنایا گیا، گجرات سماچار ٹی وی دفتر پر 36 گھنٹے انکم ٹیکس کا چھاپہ، اس کے فوراً بعد انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے دھاوا بولا،

    بھارت کے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو تنقید برداشت نہیں، صحافیوں کو دھمکانا اور جیل میں ڈالنا معمول بن چکا ہے، گجرات سماچار پر مسلسل دباؤ مودی سرکار کی جمہوریت کا گلا گھونٹنے کی ایک اور چال ہے، بی جے پی نے میڈیا کو غلام بنانے کا عزم کر لیا، آزاد آوازیں مودی حکومت کو کھٹکنے لگیں، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور انکم ٹیکس کے چھاپوں کا مقصد کرپشن نہیں بلکہ سچائی کو دبانا ہے،

    پریس کلب آف انڈیا اور دیگر اداروں کے مطابق؛مودی کی جانب سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کا استعمال صحافت کو دبانے کے لیے ہو رہا ہے،جو حکومت سے سوال کرے، بی جے پی اسے نشانہ بناتی ہے،کانگریس رہنما کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا ایجنڈا ہی سچ بولنے والوں کو جیل میں ڈالنا اور میڈیا کو خاموش کرنا ہے، گجرات سماچار نے ہمیشہ بےباک صحافت کی، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا کا گلا گھونٹنے والی حکومت اپنے ہی عوام سے ڈرتی ہے، بی جے پی اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا پر حملے کر رہی ہے،