Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ہریانہ میں صحافی کو سرمیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا

    ہریانہ میں صحافی کو سرمیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا

    ہریانہ کے ضلع جھجھّر کے لوہاری گاؤں میں اتوار کی رات دیر گئے ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک سینئر صحافی دھرمیندر سنگھ چوہان کو سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا، جو بعد میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ پولیس حکام نے پیر کو اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی۔

    دھرمیندر سنگھ چوہان، جو کہ گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے اور لوہاری گاؤں کے رہائشی تھے، اتوار کی شام اپنے روزمرہ کے کام سے فارغ ہو کر گھر لوٹے۔ کھانے کے بعد جب وہ معمول کے مطابق چہل قدمی کے لیے باہر نکلے تو کچھ نامعلوم افراد نے ان پر اچانک حملہ کر دیا اور ان کے سر پر گولی مار دی۔گولی چلنے کی آواز سن کر قریبی رہائشی موقع پر پہنچے اور چوہان کو خون میں لت پت زمین پر گرا ہوا پایا۔ فوری طور پر ان کے اہل خانہ کو اطلاع دی گئی اور انہیں نزدیکی اسپتال پٹودی لے جایا گیا۔ حالت نازک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انہیں مزید بہتر علاج کے لیے دوسرے اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا، جس پر اہل خانہ نے انہیں گڑگاؤں کے نجی اسپتال "گنیش جی اسپتال” منتقل کیا۔گنیش جی اسپتال میں دوران علاج دھرمیندر سنگھ چوہان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پیر کی صبح دم توڑ گئے۔ اہل خانہ کے مطابق گولی سر میں لگی تھی جس کے باعث ان کی حالت ابتدا ہی سے نازک تھی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فرانزک ماہرین کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی، جہاں سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔ تاہم اب تک نہ تو حملہ آوروں کی شناخت ہو سکی ہے اور نہ ہی قتل کے محرکات کا سراغ ملا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔چوہان کے اہل خانہ گہرے صدمے میں ہیں اور کسی مشتبہ شخص کی شناخت کرنے سے قاصر ہیں۔ دوسری جانب صحافی برادری اور میڈیا اداروں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کئی صحافتی تنظیموں نے اس بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    آل انڈیا جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا "یہ حملہ نہ صرف ایک صحافی پر ہے بلکہ جمہوری اقدار اور آزادیٔ صحافت پر بھی حملہ ہے۔ حملہ آوروں کو فوری گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔”صحافیوں کی مختلف تنظیموں نے ہریانہ حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور جلد از جلد قاتلوں کو گرفتار کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور صحافیوں میں پائی جانے والی عدم تحفظ کی فضا ختم ہو۔

  • وی لاگر،طالب علم،سیکورٹی گارڈ سمیت پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں 9 بھارتی گرفتار

    وی لاگر،طالب علم،سیکورٹی گارڈ سمیت پاکستان کی جاسوسی کے الزام میں 9 بھارتی گرفتار

    پاکستان کے لیے جاسوسی: بھارت میں تین ریاستوں سے 9 افراد گرفتار، پہلگام حملے کے بعد کریک ڈاؤن

    بھارت میں انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین ریاستوں ہریانہ، پنجاب، اور اترپردیش سے کم از کم نو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ کارروائیاں پہلگام حملے کے بعد جاسوسی کی سرگرمیوں پر بڑھتی نگرانی کے تناظر میں کی گئی ہیں۔

    بھارتی حکام کے مطابق ان میں سے چار گرفتاریاں ہریانہ، تین پنجاب، اور ایک اترپردیش سے عمل میں آئیں۔ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کو حساس معلومات فراہم کیں، جن میں فوجی تنصیبات، دفاعی نقل و حرکت، اور دیگر سیکیورٹی تفصیلات شامل ہیں۔

    ہریانہ کے ضلع حصار سے تعلق رکھنے والی یوٹیوبر اور ٹریول ولاگر جیوٹی ملہوترا کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ ‘Travel with JO’ کے نام سے یوٹیوب چینل چلاتی تھیں۔ پولیس کے مطابق، 33 سالہ جیوٹی پاکستان ہائی کمیشن کے ایک اہلکار سے رابطے میں تھیں اور کم از کم دو بار پاکستان جا چکی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی انہیں بطور اثاثہ استعمال کرنا چاہتی تھی۔

    پٹیالہ کے خالصہ کالج میں سیاسیات کے طالبعلم دیویندر سنگھ کو 12 مئی کو کیتھل (ہریانہ) سے گرفتار کیا گیا۔ اس نے فیس بک پر ہتھیاروں کی تصاویر پوسٹ کی تھیں، جس کے بعد تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ نومبر میں پاکستان گیا تھا اور وہاں آئی ایس آئی افسران کو پٹیالہ کی فوجی چھاؤنی کی تصاویر سمیت حساس معلومات فراہم کی تھیں۔

    24 سالہ نعمان الہی، جو پانی پت (ہریانہ) میں سیکیورٹی گارڈ تھا، کو بھی گرفتار کیا گیا۔ وہ اترپردیش کا رہائشی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ایک آئی ایس آئی ہینڈلر سے رابطے میں تھا، اور اپنے بہنوئی کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے پاکستان سے رقم وصول کرتا رہا۔

    23 سالہ ارمان کو 16 مئی کو ضلع نوح (ہریانہ) سے انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان کو حساس معلومات فراہم کر رہا تھا، اور اس کے خلاف ثبوت موجود ہیں۔

    ضلع نوح ہی کے گاؤں کانگرکا سے طریف کو ارمان کی گرفتاری کے دو دن بعد گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، طریف نے گرفتاری کے وقت اپنے موبائل سے کچھ واٹس ایپ چیٹس ڈیلیٹ کرنے کی کوشش کی، جو پاکستانی نمبروں سے کی گئی تھیں۔

    ضلع رامپور کا رہائشی اور کاروباری شخصیت شہزاد کو یوپی اسپیشل ٹاسک فورس نے مرادآباد سے گرفتار کیا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات پاکستان کو فراہم کرتا رہا۔ پولیس کے مطابق وہ متعدد بار پاکستان جا چکا ہے اور اسمگلنگ (کاسمیٹکس، کپڑے، مصالحہ جات) میں بھی ملوث رہا۔

    پنجاب کے جالندھر سے محمد مرتضیٰ علی کو گجرات پولیس نے گرفتار کیا۔ اطلاعات کے مطابق، وہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کر رہا تھا اور اس نے ایک موبائل ایپ کے ذریعے معلومات کا تبادلہ کیا۔ اس کے قبضے سے چار موبائل فون اور تین سم کارڈز برآمد ہوئے۔ پنجاب سے دو مزید افراد — غزالہ اور یامین محمد — کو بھی پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔

    یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پہلگام میں حملے کے بعد بھارت نے الزام لگایا کہ حملہ آور پاکستان کے حمایت یافتہ گروہوں سے تعلق رکھتے تھے۔جوابی کارروائی میں بھارت نے "آپریشن سندور” کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں حملے کئے۔ پاکستان نے اس کے بعد میزائل اور ڈرون حملے کیے، 10 مئی کو فائر بندی کے اعلان کے بعد جھڑپیں ختم ہوئیں۔

  • 30 سالہ خاتون،19 سالہ عاشق کے ساتھ اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں گرفتار

    30 سالہ خاتون،19 سالہ عاشق کے ساتھ اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں گرفتار

    ممبئی، مالونی پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک 30 سالہ خاتون اور اس کے 19 سالہ عاشق کو اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ پیر کے روز منظر عام پر آیا جب پولیس نے معاملے کی تصدیق کی۔

    پولیس کے مطابق، اتوار کی رات مذکورہ بچی کو شدید زخمی حالت میں ایک سرکاری اسپتال لایا گیا، جہاں اس کے جسم، خصوصاً نجی اعضا پر تشدد کے نشانات دیکھے گئے۔ ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے، جس پر انہوں نے فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا۔ بدقسمتی سے بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔مالونی پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار کے مطابق، بچی کی ماں نے ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اس کی بیٹی مرگی کی مریضہ تھی اور اسی کے باعث اس کی طبیعت خراب ہوئی۔ تاہم، میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہو گیا کہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    میڈیکل رپورٹ اور تفتیش کی بنیاد پر پولیس نے ماں اور اس کے 19 سالہ عاشق کو گرفتار کر لیا۔ دونوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا اور بچوں کے جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون کے تحت ریپ، قتل اور دیگر سنگین جرائم کی دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، مذکورہ خاتون طلاق یافتہ تھی اور اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کے ساتھ اپنی والدہ کے گھر رہ رہی تھی۔ بعد ازاں اس نے 19 سالہ نوجوان سے تعلقات قائم کیے، جو اس بچی کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث پایا گیا۔

  • کم عمری کی شادی کو جرم قرار دینے سے متعلق سینیٹ  میں پیش کیا گیا بل منظور

    کم عمری کی شادی کو جرم قرار دینے سے متعلق سینیٹ میں پیش کیا گیا بل منظور

    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے اسلام آباد میں کم عمری کی شادی کو جرم قرار دینے سے متعلق سینیٹ میں پیش کیا گیا بل منظور کر لیا گیا

    سینیٹ سے بل قومی نظریاتی کونسل بھیجنے کی تحریک مسترد کر دی گئی،اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کی ممانعت کا بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا،جے یو آئی ف نے بل کی مخالفت کی،ایوان میں بل پر سب کو اظہار رائے کا موقع دیا گیا،کم عمری کی شادی ممانعت بل اس سے قبل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا،جے یو آئی ف نے بل اسلامی نظریاتی کونسل بھیجنے کی تحریک پیش کی،سینیٹ میں بل سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے ایوان میں پیش کیا

    قبل ازیں کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی سے متعلق بل قومی اسمبلی سے بھی منظور کر لیاگیا تھا، 18 سال سے کم عمر بچوں کے نکاح کا اندراج قانونی جرم قرار، بل منظورہوا تھا،بل کے مطابق نکاح رجسٹرار کم عمر بچوں کی شادی کا اندارج نہ کرنے کے پابند ہونگے، نکاح پڑھانے والا شخص نکاح پڑھانے یا رجسٹرڈ کرنے سے قبل دونوں فریقین کے کمپیوٹررائز شناختی کارڈز کی موجودگی یقینی بنائے گا، بنا کوائف کے نکاح رجسٹر کرنے یا پڑھانے پر ایک سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہونگی، 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی بھی جرم قرار دی گئی،18 سال سے زائد عمر کے مرد کی کمسن لڑکی سے شادی پر سزا مقرر کی گئی ہے،کمسن لڑکی سے شادی پر کم سے کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید بامشقت ہوگی،کمسن لڑکی سے شادی پر جرمانہ بھی ہوگا،
    کم عمر بچوں کی رضامندی یا بغیر رضامندی شادی کے نتیجے میں مباشرت نابالغ فرد سے زیادتی تصور ہوگی، نابالغ دلہن یا دولہے کو شادی پر مائل یا مجبور کرنے، ترغیب دینے اور زبردستی کرنے والا شخص بھی زیادتی کا مرتکب قرار دیا جائے گا، نابالغ دلہن یا دولہے کی شادی کرانے پر 5 سے 7 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہونگی، شادی کی غرض سے کسی بچے کو ملازمت پر رکھنے، پناہ دینے یا تحویل میں دینے والے شخص کو 3 سال قید بمع جرمانہ سزا ہوگی، 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر والدین اور سرپرست کے لیے بھی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، کمسن بچوں کی شادی کے فروغ، بدسلوکی یا شادی کے انعقاد پر والدین کو 3 سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا ہوگی،شادی کے لیے کمسن بچوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور یا زبردستی کرنا بچوں کی سمگلنگ قراردیا گیا ہے،بچوں کی سمگلنگ کے مرتکب شخص کو 5 سے 7 سال قید اور جرمانے کی سزائیں ہونگی، 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی رکوانے کے لیے عدالت کو حکم امتناع دینے کا اختیار ہوگا، عدالت کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق مقدمات 90 روز میں نمٹانے کی پابند ہوگی،بل وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں فی الفور نافذالعمل ہوگا،

  • آواران اور تربت میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن،دو ہلاک

    آواران اور تربت میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن،دو ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے گِشکور میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کیا جس میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی۔مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، تربت کے ضلع کیچ میں بھی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 2 دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں دہشت گرد گروہ کا سرغنہ صبر اللہ اور اس کے ساتھی امجد عرف بچو شامل ہیں۔یہ دہشت گرد متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف حملوں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ، ان دہشت گردوں کا ہاتھ بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی تھا، جو علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ علاقے میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ علاقے کو مکمل طور پر دہشت گردوں سے پاک کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ اقدامات دہشت گردوں کے خلاف بلوچستان میں امن و سکون کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلعوں کیچ اور اواران میں بھاری حمایت یافتہ دہشتگرد تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے 3 دہشتگردوں کو ہلاک اور 2 کو زخمی کر کے گفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا،وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور بھارتی ایجنڈے کے خلاف بروقت کارروائی کی پزیرائی کی،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں معصوم اور نہتے شہریوں کی جان و مال کو دہشتگردی کے ذریعے خطرے میں ڈالنے کی بھارتی سازش بے نقاب ہو چکی ہے،ہم بھارت کے پاکستان میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے،حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں،

  • نریندر مودی سے تنگ بھارتی سکھوں کاعالمی سطح پر انصاف کا مطالبہ

    نریندر مودی سے تنگ بھارتی سکھوں کاعالمی سطح پر انصاف کا مطالبہ

    مودی سرکار کے ظلم کے ستائے سکھ بغاوت پہ اتر آئے،

    سکھ برادری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر دیا ، بھارتی سکھ کا کہنا ہے کہ ہم نریندر مودی کو پھانسی کی سزا دلوائیں گے، مودی کے خلاف نیشنل اور انٹرنیشنل کورٹ میں مقدمات چلائیں گے ، مودی سے بڑا چال باز نہ اس دنیا میں تھا ،نہ ہے اور نہ ہوگا ، مودی ایک قاتل ہے اس نے بہت سے لوگوں کا قتل کیا، مودی نے اُن لوگوں کا قتل کروایا جنہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ، تین ججوں اور بہت سے افسروں کو مودی نے قتل کروایا ، مودی نے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے متعدد افسران کا تبادلہ کروایا تاکہ وہ کام نہ کر سکیں، مودی نے بے شمار قتل کیے وہ ایک قاتل ہے، پلوامہ حملے کے ساتھ ساتھ بھارت میں جتنے بھی حملے ہوئے سب مودی نےکرائے ،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی اپنے مذموم عزائم اور بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بچانے کیلئے مسلسل جھوٹ کا سہارا لےرہا ہے،

  • ذلت آمیز شکست، انتہا پسند بھارتی وزرا اور بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسران آمنے سامنے

    ذلت آمیز شکست، انتہا پسند بھارتی وزرا اور بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسران آمنے سامنے

    انتہا پسند بھارتی وزرا اور بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسران آمنے سامنے آ گئے

    آپریشن بنیان مرصوص میں ذلت آمیز ناکامی پر انتہا پسند بھارتی وزراء کی بھارتی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی،کرنل صوفیہ قریشی پر تنقید کے حوالے سے میجر جنرل (ر) شریواستو سمیت دیگر سابق فوجی افسران نے بھارتی وزراءکو آڑے ہاتھوں لیا، ریٹائرڈ بھارتی فوجی افسران کا مطالبہ ہے کہ بھارتی فوج کی توہین کرنے والے وزیروں کو مودی برطرف کیوں نہیں کر رہے؟ میجر جنرل (ر) شریواستو ا کہنا تھا کہ مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ اور نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیوڈا فوج پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، مودی خاموش تماشائی ہیں،فوج صرف بھارت ماتا کے سامنے جھکتی ہے، مودی جیسے سیاستدانوں کے قدموں میں نہیں، مودی کے قدموں میں فوج کو جھکانے کا بیان شرمناک اور ناقابل قبول ہے،

    سابق بھارتی فوجی افسران کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش کے وزراء فوج کی قربانیوں کامذاق اڑا رہے ہیں، فوج میں کرنل صوفیہ قریشی جیسے افسران قوم کا فخر ہیں، مودی حکومت ان پر بھی حملہ آور ہو رہی ہے، جو فوج کی تذلیل کرے وہ وزیر نہیں بلکہ مودی کا ترجمان ہے، مودی حکومت کی خاموشی ثابت کرتی ہے کہ وہ فوج کی توہین میں شریک ہے، فوج پر حملے ہو رہے ہیں اور مودی سرکار تماشائی بنی ہوئی ہے، فوجی ادارے مودی کی غلامی کے لیے نہیں، قوم کے تحفظ کے لیے ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی اداروں کو سیاسی غلام بنانا مودی سرکار کا خطرناک ایجنڈا ہے،بنیان مرصوص میں بھارتی شکست ثابت کرتی ہے کہ بھارتی فوج صرف میڈیا پر طاقتور ہے، مودی کی ضد اور غرور نے بھارت کو سفارتی و عسکری محاذ پر تنہا کر دیا ہے، پاکستانی فوج نے پیشہ ورانہ مہارت سے بھارت اور بھارتی فوج کا جنگی غرور خاک میں ملا یا.

  • سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس اعجازسواتی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر

    سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس اعجازسواتی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر

    سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے جسٹس اعجاز سواتی کی تقرری کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔

    اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جبکہ جوڈیشل کمیشن کے دیگر معزز اراکین بھی اجلاس میں شریک تھے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے متعدد ناموں پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے ہر امیدوار کی عدالتی کارکردگی، سینئرٹی، پیشہ ورانہ قابلیت اور عدالتی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ بحث و مباحثے اور مشاورت کے بعد جوڈیشل کمیشن نے اتفاق رائے سے جسٹس اعجاز سواتی کے نام کی منظوری دے دی۔

    جسٹس اعجاز سواتی کا شمار اعلیٰ عدلیہ کے تجربہ کار اور معتبر ججوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی عدالتی زندگی کے دوران متعدد اہم فیصلے دیے اور انصاف کی فراہمی میں شفافیت، دیانتداری اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور آئینی معاملات پر گرفت کو جوڈیشل کمیشن کے اراکین نے نہایت سراہا۔اجلاس میں شریک جوڈیشل کمیشن کے اراکین نے جسٹس اعجاز کی نامزدگی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان ہائیکورٹ میں عدالتی نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کے فیصلے ہمیشہ قانون کی روح اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق رہے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے بعد جلد ہی وزارت قانون کی جانب سے جسٹس اعجاز سواتی کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا، جس کے بعد وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

  • پہلگام ڈرامہ،بھارتی جنگی جنون،آپریشن بنیان مرصوص،بھارتی فیک نیوز،پاکستانی ڈوزیئر تیار

    پہلگام ڈرامہ،بھارتی جنگی جنون،آپریشن بنیان مرصوص،بھارتی فیک نیوز،پاکستانی ڈوزیئر تیار

    پہلگام حملہ بھارت کا فالس فلیگ ڈرامہ، پاکستان پر جارحیت اور آپریشن "بُنیانُ مرصوص” کی مکمل تفصیل،پاکستان نے دنیا کو آگاہ کرنے لئے ڈوزیئر تیار کر لیا، بھارت نے صرف 10 منٹ میں پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا دیا، کوئی تحقیقات نہیں،

    22 اپریل 2025 کو بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر کے سیاحتی علاقے پہلگام میں ایک مبینہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارت نے صرف 10 منٹ کے اندر پاکستان پر حملے کا الزام عائد کر دیا، بغیر کسی ثبوت یا تفتیش کے۔ پاکستان نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی پیشکش کی جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔

    پہلگام، جو پاکستان کی سرحد سے 200 کلومیٹر دور ہے، وہاں پیش آئے واقعے کو عالمی مبصرین نے "مشتبہ اور سوچی سمجھی کارروائی” قرار دیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے بلا تحقیق پاکستان پر الزامات عائد کر دیے، جبکہ بھارتی حکومت نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کی۔

    پہلگام واقعے کے محض چند گھنٹوں بعد، بھارت نے پاکستان کے مختلف شہروں اور آزاد کشمیر پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں میں مریدکے میں جامع مسجد کو نشانہ بنایا گیا، درجنوں شہری شہید،بہاولپور میں خواتین و بچوں سمیت کئی افراد شہید ہوئے۔مظفرآباد میں مسجد پر حملے سے بے گناہ شہری جان بحق،مزید برآں، بھارتی فوج کی جانب سے 100 سے زائد ڈرونز نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

    پاکستان کا مؤقف: جنگی جنون کے بجائے انصاف و تحقیقات کی دعوت
    پاکستان نے بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر جانبدار عالمی تحقیقات کرائی جائے۔
    بھارت شواہد پیش کرے یا بے بنیاد الزامات سے گریز کرے۔سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کیا جائے۔پاکستان نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں کو بھی فالس فلیگ شواہد کے ساتھ ڈوزیئر جمع کرایا۔

    بھارتی میڈیا کا کردار: فیک نیوز اور جنگی ہیجان
    بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی جعلی خبروں نے حالات کو مزید بگاڑ دیا۔جھوٹی تصاویر، پرانی ویڈیوز اور من گھڑت دعوے وائرل کیے گئے۔عالمی میڈیا نے ان دعوؤں کو "جھوٹ اور بے بنیاد” قرار دے دیا۔

    پاکستان کا دفاعی ردعمل: آپریشن "بُنیانُ مرصوص” کا آغاز
    بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے 10 مئی 2025 کو آئینی دفاعی حق کے تحت "آپریشن بُنیانُ مرصوص” کا آغاز کیا، جس میں
    کلیدی اہداف:
    5 بھارتی لڑاکا طیارے تباہ (Rafale، MiG-29، SU-30)
    84 بھارتی ڈرونز مار گرائے گئے
    S-400 دفاعی نظام، بریہموس میزائل گودام، فوجی ہیڈکوارٹرز تباہ کیے گئے
    صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، شہری علاقوں سے مکمل اجتناب کیا گیا

    جدید ہتھیاروں کا استعمال:
    فضا سے فضا میں مار کرنے والے Fatah F1, F2 میزائل
    PAF کی گائیڈڈ بمباری
    لانگ رینج ڈرونز اور توپ خانہ

    پاکستان کا پیغام: امن ہماری ترجیح، مگر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا
    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے واضح کیا کہ "ہم امن کے خواہاں ہیں، مگر کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی کی اور صرف حملہ آور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔”

    تاریخی پس منظر: بھارت کا جھوٹ پر مبنی ماضی
    تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے متعدد بار فالس فلیگ آپریشنز سے عوامی ہمدردی حاصل کی،سیاسی فائدہ لیا،پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی،نمایاں مثالیں
    سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ (2007)
    ممبئی حملے (2008)
    پلوامہ حملہ (2019) — جسے سابق بھارتی گورنر نے "داخلی سیاسی سازش” قرار دیا تھا۔

    بھارت نے ایک بار پھر انتخابات اور سفارتی وقت کے قریب حملہ کر کے اپنے سیاسی عزائم کو آشکار کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف کامیاب دفاع کیا بلکہ عالمی سطح پر ثابت قدمی، ذمہ داری اور قانونی برتری بھی قائم رکھی۔

    Dossier – Final (18 May 2025)-1

  • آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے بھارت کا بڑا منصوبہ بے نقاب

    آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے بھارت کا بڑا منصوبہ بے نقاب

    آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے بھارت کا بڑا منصوبہ بے نقاب ہو گیا

    پاکستانی مسلح افواج کے ہاتھوں آپریشن بنیان مرصوص میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارتی سرکار اور مسلح افواج تاحال تڑپ رہی ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو ختم کرنے کیلئے فتنہ الخوراج کے سابق ترجمان کی خدمات حاصل کرلیں، احسان اللہ احسان نے بھارتی اخبار دی سنڈے گارڈین میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں بے بنیاد دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اندر مزید دو دہشتگردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے‘‘

    بھارتی میڈیا میں اس طرح کی خبریں چلانے کا مقصد کامیاب آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو ختم کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے، حقیقت میں بھارت ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں پہلگام کے بعد مزید فالس فلیگ آپریشنز کی تیاری کر رہا ہے،احسان اللہ احسان جو فتنہ الخوراج کا ترجمان رہا ہے کا یہ مضمون بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کی دراصل گواہی ہے، اخبار ‘سنڈے گارڈین’ ایک پروپیگنڈہ ٹول کے طور پر بھارتی ایجنسی سے منسلک ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اس اخبار کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں ، مالی اعانت کے بعد یہ اخبار تحریکِ طالبان اور ان کے حامیوں کو میڈیا اور معلوماتی پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اخبار کا مالک کارتیکیہ شرما، مودی کے قریبی ساتھی اور آر ایس ایس کے سخت گیرنظریات کا حامی ہے،

    دی سنڈے گارڈین’ کے مرکزی لکھاری ابھینندن مشرا، احسان اللہ احسان کے فرار کی خبر دینے والے پہلے صحافی تھے، جو بھارتی اداروں کی اندرونی مداخلت کو ظاہر کرتا ہے، احسان اللہ احسان فتنہ الخوراج اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘دونوں سے قریبی تعلق رکھتا اور ان کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا ہے،بھارتی خفیہ ایجنسیاں احسان اللہ احسان کا نام استعمال کرتے ہوئے معمول کے مطابق مضامین لکھواتی ہیں، احسان اللہ احسان کے ممکنہ طور پر بھارت میں روپوش ہونے کی اطلاع بھارتی ایجنسیوں کے علم میں نہ آنا حیران کن ہے، رحقیقت، بھارتی ایجنسیاں احسان اللہ احسان کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنی ہی جعلی خبریں پھیلا رہی ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کا مضمون ثابت کرتا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کے ساتھ ساتھ دہشتگردی بھی کر رہا ہے،احسان اللہ احسان کا مضمون اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کے ہاتھوں مار کھانے کے باوجود خطے کے امن کا دشمن بنا ہوا ہے، بھارتی ایجنسیاں بھرپور کوششوں کے باوجود دنیا کے سامنے اپنے سرپرست دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے انکار نہیں چھپا سکتیں،