Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹرینوں میں مسافروں سے بھیک مانگنے والے 83 اصلی و نقلی خواجہ سرا گرفتار

    ٹرینوں میں مسافروں سے بھیک مانگنے والے 83 اصلی و نقلی خواجہ سرا گرفتار

    بھارت میں ساؤتھ ایسٹ سنٹرل ریلوے کے تحت کام کرنے والی ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) نے ٹرینوں میں مسافروں کو ہراساں کرنے والے خواجہ سراؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ میں آر پی ایف نے 83 خواجہ سراؤں کو گرفتار کیا ہے جو ٹرینوں میں زبردستی داخل ہو کر مسافروں سے پیسے مانگتے اور انکار کرنے پر ان سے بدتمیزی، گالی گلوچ یا عوامی طور پر تضحیک کرنے جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ ان افراد کی وجہ سے مسافر خوف کے مارے پیسے دینے پر مجبور ہو جاتے تھے۔

    یہ کارروائی ریلوے کے دو اعلیٰ افسران، انسپکٹر جنرل آف سکیورٹی منور خورشید اور ڈویژنل سکیورٹی کمشنر دیپ چندر آریہ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھی۔ ان کی قیادت میں آر پی ایف نے خاص طور پر ناگپور اور اس کے گردونواح میں ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں مہم چلائی۔ان کارروائیوں کے دوران گرفتار کیے گئے 83 افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان پر مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ان سے 86005 روپے کی رقم بھی ضبط کی گئی۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ مہم اس لیے بھی ضروری تھی کہ مسافر خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے اور شکایات میں اضافہ ہو رہا تھا۔

    دورانِ کارروائی آر پی ایف کو یہ بھی پتہ چلا کہ کئی فرضی خواجہ سرا بھی اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں۔ یہ افراد صرف پیسے بٹورنے کی نیت سے ٹرینوں میں گھومتے ہیں اور خود کو خواجہ سرا ظاہر کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فرضی خواجہ سراؤں کی موجودگی نے حقیقی خواجہ سراؤں کو بھی پریشان کر دیا ہے اور ٹرینوں میں ان کے درمیان جھگڑے اور ہاتھا پائی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ بعض اوقات حقیقی خواجہ سراؤں نے فرضی افراد کو زدوکوب کیا یا انہیں زبردستی ٹرین سے اتار دیا۔2 مئی کو ایک اہم واقعہ پیش آیا جب دو خواجہ سرا ناگپور-رائے پور ٹرین میں سوار ہو کر مسافروں سے پیسے مانگنے لگے اور انکار پر جھگڑ پڑے۔ آر پی ایف کو اطلاع ملنے پر فوراً کارروائی کرتے ہوئے دونوں افراد کو سالیکاسا اسٹیشن کے قریب گرفتار کیا اور گونڈیا پولیس کے حوالے کر دیا۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیاں مسافروں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں، اسی لیے اس مہم کو مزید سخت کیا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ایسے واقعات کی فوری اطلاع آر پی ایف یا متعلقہ حکام کو دیں تاکہ فوری طور پر کارروائی کی جا سکے۔

  • دم کے بہانے خاتون سے نازیبا حرکات،جعلی پیر گرفتار

    دم کے بہانے خاتون سے نازیبا حرکات،جعلی پیر گرفتار

    راولپنڈی ،دم ڈالنے کے بہانے خاتون سے نازیبا حرکات ،وارث خان پولیس نے جعلی پیر خرم کو گرفتار کر لیا،مقدمہ درج،

    تھانہ وارث خان راولپنڈی میں درج کروائی گی ایف آئی آر میں مسماۃ فرخندہ بیگم زوجہ محمد رفاقت سکنہ تر از کل تحصیل بلوچ ضلع بند ھوتی آزاد کشمیر کی رہائشی ہوں اور گھریلو عورت ہوں اور میں مرگی کی مریضہ ہوں۔ میں نے کافی علاج معالجہ کروایا۔ لیکن صحت ٹھیک نہ ہو رہی تھی میں نے TIKTOK پر دیکھا جسکا نام پیر خرم کی تصاویر ڈیو دیکھی جو لوگوں کی مختلف بیماریوں کا علاج کرتا تھا اور دم درود کی وجہ سے لوگ جو اس کے پاس آتے تھے ٹھیک کرتا تھا میں نے یہ بات اپنے ماموں طارق محمود ولد محمد رشید خان کو بتائی جسکو میری بیماری کا سارا علم تھا طارق محمود نے پیر خرم سے رابطہ کر کے ٹائم کیا جس نے نہیں 1 لاکھ روپے مانگاکل رات مورخہ15مئی طارق محمود کے ہمراہ رات 12 بجے پر پیر خرم کے پاس پہنچی تو پر خرم نے کو- 5000 ہزار روپے دئیے اور اور خرم مجھے اوپر کمرے میں لے گیااور دم ڈالنا شروع کر دیا طارق بھی اوپر میری طبیعت دیکھ کر کمرے میں آگیا پیر خرم نے اپنے کمرے میں دم درود کے نام پر میرے ساتھ نازیبا حرکات شروع کر دی اور میر ادو پٹہ اتار دیا اور میرے جسم کو ہاتھ لگا کر پھونک مار ناشروع کر دی کہ آپ پر جنات ہیں مجھے دم کیا ہو ا پانی پلایا جس سے مجھے تکلیف شروع ہو گئی جب میری طبیعت زیادہ خراب ہونے لگئی تو طارق محمود مجھے ہسپتال لیکر جانے لگا جس پر پیر غرم سیخ پا ہو گیا اور کہا کہ مجھے میری طئے شدہ رقم بقایا95000 ہزار روپے ادا کرو اور پھر چا قو نکال لیا اور کہا کہ پہلے میری رقم ادا کر ونہیں تو میں آپ لوگوں کو جان سے مار دوں گا۔ جس پر میں اور طارق محمود خوفزدہ ہو گئے جب میری طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی تو پھر خرم نے مجھے ایک تعویذ دیا اور طارق محمود کو کہا کہ اسے ہسپتال لے جاو،سارا واقعہ طارق محمود نے چشم خود دیکھا ہے جناب سے بذریعہ درخواست استدعا ہی کہ پیر خرم کے خلاف مجھے دھوکا دینے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور میری ساتھ نازیبا حرکات کرنے پر میری عزت میں خلل ڈالنے پر قانونی کاروائی کی جائےاور مجھے انصاف دلوایا جائے۔ وارث خان پولیس نے خرم کیخلاف مقدمہ نمبر687/25بجرم354/420/506/2درج کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا

  • ٹرمپ کے دورے سے عرب ممالک کو کیا ملا؟ کیا رہ گیا

    ٹرمپ کے دورے سے عرب ممالک کو کیا ملا؟ کیا رہ گیا

    خلیجی عرب ریاستیں، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے کے دوران مختلف فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں، لیکن کچھ شعبوں میں ان کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ ان ریاستوں نے اس دورے کے ذریعے اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی اور سیکیورٹی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی۔

    سعودی عرب کی سب سے بڑی توقع ایک رسمی سیکیورٹی معاہدہ تھا، جسے ٹرمپ کے دورے کے دوران حاصل نہیں کیا جا سکا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اس معاملے میں اہم پیشرفت کی۔ ڈینا اسفندیاری، جو بلومبرگ اکنامکس کی مشرق وسطیٰ کی ماہر ہیں، نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "سعودی عرب نے رسمی سیکیورٹی معاہدہ نہیں حاصل کیا، لیکن اس کے بارے میں بہت بات چیت ہوئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ ایک عمل کی جاری رکھنے کی علامت ہے”۔سعودی عرب نے ٹرمپ کے دورے کے دوران متعدد ہتھیاروں کے معاہدے کیے، جن میں 142 ارب ڈالر کی دفاعی شراکت داری شامل ہے، جسے وائٹ ہاؤس نے "تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ” قرار دیا۔ سعودی عرب نے امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں اہم پیشرفت ہے۔ تاہم، سعودی عرب کی طرف سے سول نیوکلیئر پروگرام کی درخواست کو نظرانداز کیا گیا، جس پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    قطر کے لئے ٹرمپ کا یہ دورہ خاص طور پر تاریخی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ امریکہ کے صدر کا پہلا رسمی دورہ تھا۔ اس سے قبل، 2003 میں امریکی صدر جارج بش نے قطر کا دورہ کیا تھا، لیکن اس بار اس دورے نے قطر اور امریکہ کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔قطر اور امریکہ کے درمیان مختلف معاہدے ہوئے جن میں 96 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ شامل ہے جس کے تحت قطر امریکی ساختہ بوئنگ طیاروں کا خریداری کرے گا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے قطر سے ایک بوئنگ 747-8 جیٹ طیارہ بھی وصول کیا، جو ابتدائی طور پر ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔قطر کا سب سے بڑا فائدہ امریکی سیکیورٹی ضمانتوں کا حصول تھا، خاص طور پر ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی حفاظت کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ ٹرمپ نے کہا "ہم اس ملک کی حفاظت کریں گے”۔

    متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی خواہش ٹیکنالوجی اور ای آئی میں مزید سرمایہ کاری حاصل کرنا تھی، اور اس نے اس شعبے میں کامیابیاں حاصل کیں۔ ٹرمپ کے دورے کے دوران، دونوں ممالک نے ابو ظبی میں ایک جدید ڈیٹا سینٹر کمپلیکس بنانے کا معاہدہ کیا، جس کا مقصد ای آئی کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ کمپلیکس 5 گیگاواٹ کی صلاحیت کے ساتھ ہوگا، جو ایک بڑے شہر کو بجلی فراہم کرنے کے لئے کافی ہوگا۔تاہم، یو اے ای کی بڑی خواہش امریکہ کی جدید مائیکرو چپس تک رسائی حاصل کرنا تھی، جس میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یو اے ای کو امریکہ کی جدید ای آئی سیمی کنڈکٹرز خریدنے کے لئے ایک "راستہ” فراہم کیا جائے گا۔

    ٹرمپ کے اس دورے نے خلیج عربی ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی دور کا آغاز کیا۔ سعودی عرب نے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون میں اہم پیشرفت کی، قطر نے امریکہ سے سیکیورٹی ضمانتیں حاصل کیں، اور متحدہ عرب امارات نے ای آئی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم معاہدے کیے۔ تاہم، ہر ملک کی کچھ توقعات پوری نہیں ہو سکیں، خاص طور پر سعودی عرب کا نیوکلیئر پروگرام اور یو اے ای کی جدید مائیکرو چپس کی خواہش۔ ان سب کے باوجود، یہ دورہ خلیجی عرب ریاستوں کے لئے ایک اہم سیاسی اور اقتصادی فتح سمجھا جا رہا ہے۔

  • میں اسے گولی مار دوں گا،یہ بدمعاش ہے،لال مسجد سے مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کونکال دیا

    میں اسے گولی مار دوں گا،یہ بدمعاش ہے،لال مسجد سے مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کونکال دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی معروف دینی درسگاہ لال مسجد کےمہتمم مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کو مسجد سے باہر نکال دیا اور جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مفتی عبدالقوی دارالافتاء لال مسجد میں موجود تھے اور چائے نوشی میں مصروف تھے،واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے،سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مولانا عبدالعزیز ہاتھ میں رائفل تھامے اپنے گارڈز کے ساتھ دارالافتاء میں داخل ہوتے ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی وہ برہمی کے عالم میں مفتی عبدالقوی کو مخاطب کرتے ہیں اور سخت جملوں کا استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں،”میں اسے گولی مار دوں گا، یہ بد معاش ہے۔”مولانا عبدالعزیز نے دارالافتاء میں موجود دیگر افراد کو بھی تنبیہ کی کہ”آئندہ جو بھی اس کے ساتھ بیٹھا، میں اس کا علاج کروں گا۔ یہ انسان نہیں ہے۔ جہاں بھی یہ ملے، اس کو کوڑے لگائے جائیں۔ یہ خود کہتا ہے کہ اس نے بہت ساری شادیاں کی ہیں، نیا دین بنایا ہے۔”

    ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی مولانا عبدالعزیز کے سخت لہجے کے بعد اپنی جگہ سے اٹھتے ہیں اور فون کان سے لگاتے ہوئے باہر جانے لگتے ہیں۔ اس دوران مولانا عبدالعزیز نے انہیں باہر نکلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا”چل نکل یہاں سے، دفع ہو جا۔ آئندہ لال مسجد میں آپ نے نہیں آنا۔ اگر آپ دوبارہ آئے تو میں آپ کو یہاں باندھ کر کوڑے لگواؤں گا۔”

    مفتی عبدالقوی جلدی میں مسجد سے نکلتے ہیں، تاہم کچھ ہی لمحوں بعد دوبارہ اندر آتے ہیں کیونکہ وہ اپنا بیگ بھول گئے تھے۔ بیگ اٹھانے کے بعد وہ واپس چلے جاتے ہیں۔

    مفتی عبدالقوی ماضی میں مختلف متنازع بیانات، تصاویر اور ویڈیوز کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔مفتی قوی کی برہنہ ویڈیوز بھی منظر عام پر آ چکی ہے، حریم شاہ نے بھی مفتی قوی کو تھپڑا مارا تھا،مفتی قوی پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی ہوتی رہی ہے، مولانا عبدالعزیز خود بھی ایک سخت موقف رکھنے والے عالم سمجھے جاتے ہیں اور اس سے قبل بھی وہ کئی بار متنازع بیانات اور اقدامات کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب سے وزیر ریلوے کی ملاقات،،پنجاب کی پہلی بلٹ ٹرین  پر بات چیت

    وزیراعلیٰ پنجاب سے وزیر ریلوے کی ملاقات،،پنجاب کی پہلی بلٹ ٹرین پر بات چیت

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے ملاقات کی۔ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، قومی سلامتی، ترقیاتی منصوبوں اور پنجاب میں جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر پر تبادلہ خیال کیاگیا۔پنجاب کی پہلی بلٹ ٹرین اور ہائی سپیڈ ٹرین پراجیکٹس پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    دونوں رہنماؤں نے آپریشن“بنیان مرصوص”کی کامیابی پر افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیاگیا۔وفاقی وزیر حنیف عباسی نے سی ایم لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ فیز ٹو کی کامیابی کو سراہا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص قومی سلامتی کے تحفظ میں سیاسی و عسکری قیادت سمیت قوم کے مکمل اتحاد کا ثبوت ہے۔ پاک فوج کے جوانوں نے ہمیشہ جانوں کے نذرانے دے کر وطن عزیز کو محفوظ رکھا ہے۔ آج کا پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پوری قوم اپنی افواج اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل صرف سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور ترقیاتی تسلسل میں ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پنجاب کے عوام کو عالمی معیار کی سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔بلٹ ٹرین اور جدید ریلوے نیٹ ورک سہولت سمیت معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔وفاقی وزیرحنیف عباسی نے کہاکہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب ایک بار پھر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔وزیر اعلی مریم نواز شریف پنجاب کے نوجوانوں کا ماں کی طرح خیال رکھ رہی ہیں –

  • عافیہ صدیقی کیس اب ایک تحریک بن چکی ،عدالت

    عافیہ صدیقی کیس اب ایک تحریک بن چکی ،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست میں ترمیم کی وکیل عمران شفیق کی استدعا منظور کر لی گئی،عدالت نے وکیل عمران شفیق کو ایک ہفتہ میں ترمیم شدہ پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کر دی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی ،وکیل درخواست گزار عمران شفیق اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے،عدالتی معاون زینب جنجوعہ عدالت بھی عدالت میں پیش ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت کیوں اس درخواست کو نمٹانا چاہتی ہے اس میں حکومت کا کیا فائدہ ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اس کیس میں جس حد تک جو کچھ کر سکتے تھے کر چکے ہیں ،عدالت نے کہا کہ یہ لمبی جہدوجہد والا کام ہے، عافیہ صدیقی کیس اب ایک تحریک بن چکی ہے، اس پٹیشن کو ختم کرنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا نہ حل ہوگا ،اس کیس میں جو جو اقدامات حکومت کے تھے وہ اس عدالت نے کیے ہیں ، عدالتی حکم کی وجہ سے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو امریکہ کا ویزا ملا ، عدالتی حکم کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا معافی کی پٹیشن میں وزیر اعظم نے خط لکھا ، عدالت کی مداخلت کے بعد ہی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی انکی بہن عافیہ صدیقی سے ملاقات ممکن ہو سکی ،عدالت کے حکم پر پاکستانی وفد امریکہ گیا اور عافیہ صدیقی سے ملاقات بھی ہوئی ،کیس کی سماعت دو ہفتوں بعد تک ملتوی کردی گئی

  • ایل او سی متاثرین کیلیے وفاقی حکومت نے امدادی پیکج جاری کر دیا

    ایل او سی متاثرین کیلیے وفاقی حکومت نے امدادی پیکج جاری کر دیا

    ایل او سی متاثرین کے لیے بڑا ریلیف، وفاقی حکومت نے 53 کروڑ 20 لاکھ روپے کا امدادی پیکیج جاری کر دیا

    وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کو ریلیف فنڈز باقاعدہ طور پر منتقل کر دیے،فنڈز کی فراہمی فنانس ڈویژن کی جانب سے “وزیراعظم پاکستان پیکیج” کے تحت ایک مرتبہ کی خصوصی گرانٹ کی صورت میں کی گئی،ادائیگی 15 مئی 2025 کی تاریخ کے تحت، حالیہ سرحدی کشیدگی سے متاثرہ افراد کے لیے کی گئی،رقم “سیز فائر لائن انسیڈنٹ ریلیف فنڈ” کے تحت ضلعی سطح پر منتقل کی گئی،بورڈ آف ریونیو آزاد کشمیر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فنڈز کی تقسیم کا مکمل اور شفاف بریک اپ فراہم کرے،متاثرین کو فوری، شفاف اور مکمل ادائیگی یقینی بنانے کے لیے واضح حکومتی احکامات جاری کیے گئے ہیں

    آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی شہداء کے ورثاء کو فی کس 10 لاکھ روپے کی ادائیگی کر چکی ہے،وزیراعظم آزاد کشمیر کی ہدایت پر بھارتی حملے کے بعد صرف 24 گھنٹوں کے اندر اندر متاثرہ خاندانوں کو امدادی رقوم ادا کر دی گئی تھیں

  • گورنر سندھ کی 9 مئی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان کیلئے عام معافی کی تجویز

    گورنر سندھ کی 9 مئی میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان کیلئے عام معافی کی تجویز

    کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بے گناہ کارکنوں کے لیے عام معافی کی تجویز پیش کی ہے۔

    گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ جو کارکن لاعلمی میں یا دھوکے میں بیرونی سازش کا شکار بنے، انہیں معاف کر کے رہا کیا جانا چاہیے۔9 مئی کے واقعات نے ملک میں بے چینی اور سیاسی انتشار کو جنم دیا، تاہم یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر گرفتار شخص مجرم نہیں ہوتا۔ پی ٹی آئی کے کچھ عناصر نے جان بوجھ کر بیرونی سازش کا حصہ بن کر ملک کے خلاف اقدامات کیے، جبکہ بعض افراد لاعلمی اور جذباتی کیفیت میں ان سازشوں کا شکار بن گئے

    گورنر سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کارکنوں کی شناخت کی جائے جو حقیقتاً بے گناہ ہیں اور جنہیں محض سیاسی وابستگی یا غلط معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کر کے ایک مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار ہوگی،ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا، اور انتقامی سیاست سے گریز کرتے ہوئے نوجوانوں کو دوبارہ قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • بھارتی بحریہ کی سفاکیت،روہنگیا مہاجرین کو سمندر میں پھینک دیا،اقوام متحدہ کا ردعمل

    بھارتی بحریہ کی سفاکیت،روہنگیا مہاجرین کو سمندر میں پھینک دیا،اقوام متحدہ کا ردعمل

    اقوام متحدہ نے بھارتی نیوی کے اس مبینہ اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق روہنگیا مہاجرین کو بحیرہ انڈمان میں سمندر کے بیچوں بیچ پھینک دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعے کو "انسانیت کے خلاف سنگین جرم” قرار دیتے ہوئے اس کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ سلوک نہ صرف غیر انسانی اور ناقابلِ قبول ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق، مہاجرین کے تحفظ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سوچنا بھی ہولناک ہے کہ کمزور، بے سہارا اور مصیبت زدہ افراد کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں، بحری جہازوں سے سمندر میں پھینکا گیا ہو۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے ترجمان نے کہا”روہنگیا مہاجرین دنیا کے سب سے زیادہ مظلوم اقلیتوں میں شامل ہیں۔ ان کے ساتھ اس قسم کا سلوک عالمی برادری کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ بھارتی حکومت کو فوری طور پر ان واقعات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہیے اور اقوام متحدہ کو مکمل معلومات فراہم کرنی چاہیے۔”

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی نیوی کی جانب سے روہنگیا مہاجرین کو زبردستی کھلے سمندر میں پھینکنے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ "Refoulement” کے اصول کی بھی صریح خلاف ورزی ہوگی جو مہاجرین کو ایسے حالات میں واپس بھیجنے سے روکتا ہے جہاں ان کی جان، آزادی یا وقار کو خطرہ ہو۔اقوام متحدہ کے علاوہ مختلف انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس واقعے پر شدید مذمت کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کے لیے دباؤ ڈالے۔

  • ہمیں فلسطینیوں کی مدد کرنا ہوگی،ٹرمپ

    ہمیں فلسطینیوں کی مدد کرنا ہوگی،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران فلسطینیوں سے بھرپور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہمیں فلسطینیوں کی مدد کرنا ہوگی، کیونکہ غزہ میں بہت سے افراد بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔”

    ابوظہبی میں غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ غزہ کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے اور عالمی برادری کو فوری طور پر حرکت میں آنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ "غزہ میں بہت سے افراد بھوک سے مررہے ہیں، ہمیں خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔”صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ ماہ تک غزہ سے متعلق کئی مثبت پیش رفتیں سامنے آئیں گی۔ انہوں نے تفصیلات تو فراہم نہیں کیں، تاہم ان کے بیان سے یہ تاثر ملا ہے کہ امریکہ یا بین الاقوامی برادری غزہ کی انسانی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھانے والی ہے۔

    یوکرین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ روس یوکرین مذاکرات کی پیشرفت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: "دیکھتے ہیں ان مذاکرات میں کیا پیش رفت ہوتی ہے، اور جیسے ہی موقع ملا، میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کروں گا۔”صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ ایک پرامن حل کا خواہاں ہے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

    صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے۔ ابوظہبی میں اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد وہ اپنے ملک واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے میں ان کی توجہ کا مرکز مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعات، امن کوششیں، اور انسانی بحرانوں پر بات چیت رہی۔