Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی سے متعلق بل قومی اسمبلی سے منظور

    کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی سے متعلق بل قومی اسمبلی سے منظور

    کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی سے متعلق بل قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا

    18 سال سے کم عمر بچوں کے نکاح کا اندراج قانونی جرم قرار، بل منظور کر لیا گیا، بل کے مطابق نکاح رجسٹرار کم عمر بچوں کی شادی کا اندارج نہ کرنے کے پابند ہونگے،نکاح پڑھانے والا شخص نکاح پڑھانے یا رجسٹرڈ کرنے سے قبل دونوں فریقین کے کمپیوٹررائز شناختی کارڈز کی موجودگی یقینی بنائے گا، بنا کوائف کے نکاح رجسٹر کرنے یا پڑھانے پر ایک سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہونگی، 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی بھی جرم قرار دے دیا گیا،18 سال سے زائد عمر کے مرد کی کمسن لڑکی سے شادی پر سزا مقرر کر دی گئی،کمسن لڑکی سے شادی پر کم سے کم 2 سال اور زیادہ سے زیادہ 3 سال قید بامشقت ہوگی،کمسن لڑکی سے شادی پر جرمانہ بھی ہوگا، کم عمر بچوں کی رضامندی یا بغیر رضامندی شادی کے نتیجے میں مباشرت نابالغ فرد سے زیادتی تصور ہوگی، نابالغ دلہن یا دولہے کو شادی پر مائل یا مجبور کرنے، ترغیب دینے اور زبردستی کرنے والا شخص بھی زیادتی کا مرتکب قرار دیا جائے گا، نابالغ دلہن یا دولہے کی شادی کرانے پر 5 سے 7 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہونگی، شادی کی غرض سے کسی بچے کو ملازمت پر رکھنے، پناہ دینے یا تحویل میں دینے والے شخص کو 3 سال قید بمع جرمانہ سزا ہوگی، 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر والدین اور سرپرست کے لیے بھی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، کمسن بچوں کی شادی کے فروغ، بدسلوکی یا شادی کے انعقاد پر والدین کو 3 سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا ہوگی،شادی کے لیے کمسن بچوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور یا زبردستی کرنا بچوں کی سمگلنگ قرار دیا جائے گا،بچوں کی سمگلنگ کے مرتکب شخص کو 5 سے 7 سال قید اور جرمانے کی سزائیں ہونگی، 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی رکوانے کے لیے عدالت کو حکم امتناع دینے کا اختیار ہوگا،عدالت کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق مقدمات 90 روز میں نمٹانے کی پابند ہوگی،بل وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں فی الفور نافذالعمل ہوگا،

  • یوم تشکر، مرکزی مسلم لیگ کے لاہور سمیت کئی شہروں میں مارچ،ریلیاں

    یوم تشکر، مرکزی مسلم لیگ کے لاہور سمیت کئی شہروں میں مارچ،ریلیاں

    پاکستانی پرچم اٹھائے ہزاروں افراد کی شرکت،پاک فوج زندہ باد کے نعرے
    معرکہ بنیان مرصوص ہماری قومی یکجہتی کی علامت ہے،خالد مسعود سندھو،قاری یعقوب شیخ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم تشکر کے موقع پر لاہور سمیت متعدد شہروں میں یوم تشکر مارچ، ریلیوں کا انعقاد کیا گیا،ملک بھر کی مساجد میں افواج پاکستان، شہدا پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا، یوم تشکر مارچ، ریلیوں میں ہزاروں افراد نے پاکستانی پرچم اٹھائے شرکت کی اور بھارت کو منہ توڑ جواب دینے پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا،اس موقع پر شرکا نے بھارت کے خلاف اور پاکستان کے‌حق میں نعرے لگائے، لاہور میں بڑا پروگرام پاکستانی چوک سے اچھرہ بازار تک یوم تشکر مارچ منعقد کیا گیا ،کوئٹہ میں فتح بنیان مرصوص ریلی نادرا آفس سے پریس کلب تک نکالی گئی، ملتان میں نیو شمس کالونی میں یوم تشکر بنیان مرصوص مارچ کا انعقاد کیا گیا،ایبٹ آباد میں فوارہ چوک تا پریس کلب یوم تشکر کے سلسلہ میں فتح معرکہ حق ریلی نکالی گئی،حیدرآباد میں مرکز سعد بن معاذ سے پریس کلب تک اظہار تشکر ریلی نکالی گئی،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک،فیصل ندیم،عارف اللہ خٹک،چوہدری محمد سرور، شیخ فیاض احمد، حمید الحسن ،احسان اللہ منصور،عمران لیاقت بھٹی، انجینئر حارث ڈار ،مزمل اقبال ہاشمی،عقیل احمد لغاری ودیگر نے خطبات جمعہ کے اجتماعات، یوم تشکر مارچ، ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ تشکر، معرکہ بنیان مرصوص ہماری قومی یکجہتی کی علامت ہے،مسلح افواج نے دس مئی کو بھارت کومنہ توڑ جواب دے کر بھکاری بنادیا،اسرائیل کے بھی غزہ میں حملے قابل مذمت، اسرائیل و بھارت گٹھ جوڑ کو پاکستان میں ناکامی ہوئی، پاکستانی قوم کی یکجہتی نے ثابت کر دیا بھارت کیخلاف پاکستان کا بچہ بچہ تیارہے، معرکہ حق کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستانی مساجد اور بے گناہ،معصوم شہریوں پر بھارتی حملوں کا جواب دنیا نے دیکھ لیا،دفاع وطن کے لئے مرکزی مسلم لیگ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہے گی، ہم آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر سپہ سالا ر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت عسکری و سول قیادت کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں

  • مسئلہ کشمیر ہر بات چیت کا لازمی حصہ ہو گا ، دفتر خارجہ

    مسئلہ کشمیر ہر بات چیت کا لازمی حصہ ہو گا ، دفتر خارجہ

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے بھارت کی حالیہ جارحیت کے جواب میں چھ (6) بھارتی جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی یکطرفہ کارروائی کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، اور ہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جو اقدامات کیے گئے، وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کا یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پاکستان نے مایوسی کی حالت میں جنگ بندی کی درخواست کی۔ انہوں نے بتایا کہ سیز فائر کا فیصلہ پاکستان کی سفارتی کوششوں اور کئی دوست ممالک کی ثالثی سے ممکن ہوا۔شفقت علی خان نے کہا کہ بھارت مسلسل جھوٹا بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر بار بار سوالات اٹھانا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے، جبکہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو اپنے تمام بین الاقوامی معاہدوں اور ضابطوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ "ہم پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں لیکن اگر ہماری خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو ہم ہر حد تک جائیں گے”،

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہوں گے، کشمیر ایجنڈے کا مرکزی نکتہ ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان 10 مئی سے رابطے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے بتدریج جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔اس موقع پر ترجمان نے بھارت کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جسے انہوں نے بھارتی حکومت کی "مایوسی اور سفارتی ناکامی” کا مظہر قرار دیا۔چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے علاقوں کو چینی نام دیے جانے پر بھارتی اعتراضات کے حوالے سے سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ چین کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق ترجمان نے کہا کہ بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا کیونکہ معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی سیکریٹری خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں جاری ہیں، اور ان کی تفصیلات جلد باضابطہ اعلامیے کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور بھارت کی ریاستی پشت پناہی سے ہونے والے حملوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی حمایت بند کرے۔افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خودمختار ملک ہے، جسے اپنے فیصلے خود کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ تاہم ہماری درخواست ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

  • وزیراعظم، آرمی چیف کا سی ایم ایچ کا دورہ،زخمی جوانوں ،شہریوں سے کی ملاقات

    وزیراعظم، آرمی چیف کا سی ایم ایچ کا دورہ،زخمی جوانوں ،شہریوں سے کی ملاقات

    معرکہ حق میں کامیابی پر یوم تشکر کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے ہمراہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال راولپنڈی کا دورہ کیا اور زخمی جوانوں اور شہریوں کی خیریت دریافت کی۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں زخمی جوانوں اور شہریوں کی خیریت دریافت کی اور زخمی جوانوں کی معرکہ حق کے دوران بے مثال بہادری، عزم اور فرض شناسی کو سراہا۔،اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس طرح افواج پاکستان اور پوری قوم نے یہ جنگ لڑی، اس کی کہیں مثال نہیں ملتی، عوام کی ثابت قدمی ملک کی عسکری تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب بن چکی ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی تھے۔

  • پونے میں فلسطین کے حق میں ریلی کے شرکاء پر ہندوتوا بلوائیوں کا حملہ

    پونے میں فلسطین کے حق میں ریلی کے شرکاء پر ہندوتوا بلوائیوں کا حملہ

    بھارت کے شہر پونے میں مظلوم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے مظاہرہ کرنے والے کارکنوں اور رضاکاروں پر ہندوتوا گروپوں نے حملہ کر دیا۔

    خبررساں ادارے کے مطابق ریلی میں شامل کارکن کاروے نگر میں پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے ، جن پر فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کی تھی جب ہندوتوا گروپوں کے بلوائیوں نے ان پر حملہ کردیا۔بی جے پی لیڈر مہیش پاولے کی قیادت میں بڑی تعداد میں بلوائی موقع پر پہنچے اور اُنہوں نے ریلی کے شرکاء کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ہندوتوا بلوائیوں نے خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور اُنہیں عصمت دری اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جبکہ بعض کے کپڑے پھاڑ دئے گئے ۔ شکایت درج کرانے کے باوجود پولیس نے ہندوتوا بلوائیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔علاقے کی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے ۔

  • بہار : ہندوتوا دہشت گردوں کا وحشیانہ تشدد ، ایک مسلم نوجوان شہید

    بہار : ہندوتوا دہشت گردوں کا وحشیانہ تشدد ، ایک مسلم نوجوان شہید

    بھارتی ریاست بہار کے ضلع سرن میں ہندوتوا بلوائیوں نے ایک مسلم نوجوان ذاکر قریشی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ہے ۔
    خبررساں ادارے کے مطابق 11 مئی کو ضلع کے علاقے چھپرا میں ہندوتوا بلوائیوں نے جانوروں کی چوری کا الزام لگا کر ذاکر اور اسکے بھائی نہال کو پکڑ کر رسیوں سے باندھ کر لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں لہولہان ذاکر کو رحم کی درخواست کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ حملے کے بعد ہندو بلوائی دونوں بھائیوں کو نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ دونوں کو فوری طورپر تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیا جہاں ذاکر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جبکہ نہال زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ واقعے کے بعد علاقے کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے ۔

  • بیرسٹر گوہر کا سیاسی سیز فائر کا مطالبہ

    بیرسٹر گوہر کا سیاسی سیز فائر کا مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے ملک کی موجودہ سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سیاسی سیز فائر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور مفاہمت کی جانب قدم بڑھائیں۔

    اسلام آباد میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا”اب بہت ہوگیا، معاملات سلجھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بھی سیاسی سیز فائر ہونا چاہیے، یہ ملک اور اس کے سسٹم کے لیے بہتر ہے۔”ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت سنگین سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اور ایسے حالات میں مسلسل محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں۔میڈیا گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر خان نے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے متعلق بھی واضح مؤقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ”بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ اس وقت جیل میں ہیں، لیکن عمران خان کبھی کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔”انہوں نے عمران خان کے اصولی مؤقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے حق کے لیے لڑتے رہے ہیں اور اُن کی جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد کے لیے ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا”اللہ نے پاکستان کو کامیابی عطا کی اور افواج پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔”انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے ہماری افواج ہمیشہ چوکس اور تیار رہتی ہیں، اور قوم کو ان پر فخر ہے۔

  • گلگت بلتستان میں 25 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب

    گلگت بلتستان میں 25 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب

    سکردو: گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 25 مستحق جوڑے سکردو میں منعقدہ ایک شاندار اجتماعی شادی کی تقریب میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ یہ خوبصورت تقریب ایک نجی فلاحی ادارے کی جانب سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو باعزت زندگی کی ابتدائی بنیاد فراہم کرنا تھا۔

    پروگرام میں شریک افراد نے اس فلاحی اقدام کو معاشرتی ہم آہنگی اور فلاح و بہبود کا ایک بہترین نمونہ قرار دیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں مقامی افراد، سماجی کارکنان، اور دیگر مہمان شامل تھے۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہا اور معاشرتی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ایک نو بیاہتا جوڑے کی دلہن، انیلا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ دن ہماری زندگی کا سب سے یادگار اور خوبصورت لمحہ ہے، اور ہم ان تمام لوگوں کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔” انیلا کا کہنا تھا کہ وہ اس موقع پر بے حد خوش ہیں کہ ان کا ازدواجی سفر اس خوبصورت تقریب کے ذریعے شروع ہو رہا ہے۔

    تقریب کے دوران ایک دوسرے جوڑے کے دلہا نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات معاشی مشکلات میں مبتلا خاندانوں کے لیے ایک نیا آغاز فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کی مدد نہ صرف مالی فائدہ پہنچاتی ہے، بلکہ یہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور معاشرتی یکجہتی کی اہمیت بھی بڑھتی ہے۔تقریب کے منتظمین نے اس موقع پر بتایا کہ ان کا ادارہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کر کے معاشرتی فلاح و بہبود کے عمل کو مزید تقویت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ادارہ ان شادیوں کے ذریعے کمزور طبقات کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ان افراد کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع مل سکے۔اس فلاحی پروگرام کا مقصد نہ صرف نیک نیتی سے معاشرتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے بلکہ اس سے معاشرتی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے جذبے کو بھی فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کی کامیابی ایک واضح پیغام ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ معاشرہ زیادہ مستحکم اور ہم آہنگ ہو سکے۔

    پروگرام کے منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ محض آغاز ہے، اور وہ آنے والے وقت میں بھی ایسے مزید اقدامات کر کے معاشرتی بہتری کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • نائب وزیر اعظم  اسحاق ڈار اور برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کی ملاقات

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کی ملاقات

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سے اہم ملاقات کی۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، اس ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی سمیت مختلف علاقائی پیش رفت پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے کشیدگی میں کمی کے حوالے سے برطانیہ کے کردار کو سراہا اور کہا کہ برطانیہ نے اس معاملے میں جو مثبت اقدامات کیے ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا کردار جنوبی ایشیا میں امن کی فضا قائم کرنے میں اہم ہے، اور اس طرح کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ملاقات کے دوران پاک-برطانیہ دو طرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے معاشی اور تجارتی تعاون میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک اپنے اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر مل کر کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی مزید تقویت کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات میں مزید اضافہ ہو سکے۔

  • ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان

    ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا کہنا ہے ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں ہے۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت سے توہینِ عدالت کیس لارجر بینچ منتقل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی جس دوران ڈپٹی رجسٹرار و دیگر عدالت میں پیش ہوئے،سنگل بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ڈویژن بینچ سے توہینِ عدالت کی کارروائی معطل کرنے کے آرڈر پر حیرت کا اظہار کیا اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ آپ ڈویژن بینچ کا آرڈر بتا رہے ہیں کہ اس عدالت کو توہینِ عدالت کیس چلانے سے روک دیا گیا ہے، یہ تو ڈویژن بینچ کی جانب سے اختیار سے تجاوز کیا گیا ہے،فاضل جج کا کہنا تھا طے شدہ قانون ہےکہ ایک جج کے عبوری آرڈر کے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت نہیں ہوتی، ڈویژن بینچ کا یہ آرڈر اپنے سینئر ساتھی جج کی اتھارٹی کے خلاف ہے، اگر میں اختیار کے اس تجاوز کو تسلیم کرلوں تو سائلین کو میری عدالت پر اعتماد کیوں رہےگا؟ کل کو میری عدالت سے جاری آرڈر پر کوئی عملدرآمد کیوں کرے گا،جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا کہنا تھا آرڈرز پر عملدرآمد کیوں ہو گا کہ جس لمحے میں توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کروں وہ ڈویژن بینچ معطل کر دے گا،عدالت نے ایڈیشنل اور ڈپٹی رجسٹرار سے استفسار کیا آپ نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے والی بات عدالت سےکیوں چھپائی؟ انہوں نے آپ کو سنا اور سمجھ لیا کہ میں غلط ہوں، مجھے قانون آتا ہی نہیں ہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ لوگ اسلام آباد ہائیکورٹ کو مذاق بنا رہے ہیں؟ میں نے آپ کو تسلی دی تھی کہ آپ نے پریشان نہیں ہونا آپ کے خلاف کارروائی نہیں کروں گا، آپ نے پھر بھی انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی یا پھر آپ کو اپیل دائر کرنےکیلئے مجبور کیا گیا۔

    انہوں نے کہاکہ یہاں چاہے سردار اعجاز بیٹھا ہو یا کوئی اور جج، یہ اسلام آبادہائیکورٹ کی کورٹ نمبر 5ہے، جب ڈویژن بینچ میں کیس آیا تو اس عدالت کی نمائندگی کہاں ہے؟ یکطرفہ آرڈر ہوا ہے، جب آرڈر ہو گیا تو اس عدالت کے سامنے لایا گیا کہ یہ کارروائی روک دی گئی ہے، سنگل بینچ کے عبوری آرڈرکے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت ہی نہیں ہے،فاضل جج نے کہا حیران ہوں کہ ایڈیشنل اور ڈپٹی رجسٹرار 30 سال کی سروس کے بعد بھی اس بات سے لاعلم تھے، کیا ڈویژن بینچ کو بھی معلوم نہیں تھا کہ عبوری آرڈر کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت نہیں؟جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا میں توہین عدالت کی یہ کارروائی آگے بڑھاؤں گا اور فیصلہ لکھوں گا، فیصلہ لکھوں گا کہ کیا چیف جسٹس کے پاس ایک جج سے توہین عدالت کیس واپس لینےکا اختیار ہے؟ یہ اس ادارے کی بنیاد پر زوردار حملہ ہے،عدالتی معاون نے کہا ڈویژن بینچ کے آرڈر میں ابہام ہے، وضاحت تک ایڈیشنل اور ڈپٹی رجسٹرار کی حد تک کارروائی آگے نہ بڑھائی جائے، اس طرح تاثر جاتا ہے کہ جیسے ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں ہے؟