Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان کیخلاف بھارتی جارحیت کے بعد چین کی طرف سے بھارت کو بڑا دھچکا

    پاکستان کیخلاف بھارتی جارحیت کے بعد چین کی طرف سے بھارت کو بڑا دھچکا

    پاکستان کیخلاف بھارتی جارحیت کے بعد چین کی طرف سے بھارت کو بڑا دھچکا سامنے آیا ہے

    چین کی حکومت نے زنگنان (اروناچل پردیش) کے مقامات کو چینی نام دینے کو اپنی خودمختاری قرار دیدیا،چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ’’زنگنان تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی اعتبار سے چین کا حصہ ہے‘‘ان مقامات کو چینی نام دینا ہمارے اندرونی معاملات میں شامل ہے، چینی وزارت خارجہ کے مطابق’’ یہ اقدام چین کے خودمختار انتظامی دائرہ اختیار کے تحت کیا گیا ہے‘‘ایسا کرنے کا مقصد خطے میں تاریخی اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنا ہے،

    بھارت زنگنان کو اروناچل پردیش کے نام سے اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جب کہ چین اسے جنوبی تبت کا علاقہ تصور کرتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے،دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بھارتی جارحیت پر منہ توڑ جواب کے بعد چین کی جانب سے زنگنان پر دو ٹوک موقف بھارتی حکومت کیلئے بڑا دھچکا ہے، مودی حکومت نے خطے کے ہر ملک کے ساتھ تنازعہ کھڑا کرکے ثابت کیا ہے کہ بھارتی حکومت خطے کے امن کی دشمن ہے،

  • سندھ یونیورسٹی گرلز ہاسٹل کے باہر طالبات کا انتظامیہ کے خلاف احتجاج

    سندھ یونیورسٹی گرلز ہاسٹل کے باہر طالبات کا انتظامیہ کے خلاف احتجاج

    سندھ یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل کے باہر طالبات نے انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ یہ احتجاج ہاسٹل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں اور خاص طور پر کھانے کی ناقص معیار کے خلاف کیا گیا۔ طالبات کا کہنا تھا کہ انہیں معیاری کھانا نہیں مل رہا، اور ہاسٹل میں دیگر بنیادی سہولتیں بھی غیر تسلی بخش ہیں۔

    طالبات نے احتجاجی مظاہرے کے دوران انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ہاسٹل میں فوری طور پر مناسب کھانا فراہم کیا جائے اور دیگر سہولتوں کو بہتر بنایا جائے۔ احتجاج کے دوران طالبات نے اپنی شکایات کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں کو بھی تفصیلات فراہم کیں اور کہا کہ وہ اپنی آواز انتظامیہ تک پہنچانا چاہتی ہیں تاکہ ان کے مسائل حل کیے جا سکیں۔اس احتجاج کے حوالے سے یونیورسٹی رجسٹرار کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ہاسٹل کی منتظمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور طالبات کی شکایات پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ رجسٹرار نے مزید کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچ کر فوری طور پر اقدامات کرے گی تاکہ طالبات کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

  • پاکستان کے جوہری تنصیبات سے کسی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا، آئی اے ای اے

    پاکستان کے جوہری تنصیبات سے کسی تابکاری کا اخراج نہیں ہوا، آئی اے ای اے

    عالمی جوہری نگرانی کرنے والے ادارے، انٹرنیشنل ایٹمی انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان کی کسی جوہری تنصیب سے "کسی بھی تابکاری کا اخراج” نہیں ہوا۔

    ویانا میں واقع عالمی جوہری ادارے کی جانب سے بھارتی اخبار "دی انڈین ایکسپریس” کے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پاکستان میں واقع کسی جوہری تنصیب سے تابکاری کے اخراج کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یہ بیان اس وقت آیا جب بھارتی فضائیہ نے بھی اس بات کی وضاحت کی کہ بھارت نے پاکستان میں واقع کسی جوہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا۔آئی اے ای اے کے ترجمان نے "دی انڈین ایکسپریس” کو بتایا، "ہم ان رپورٹس سے آگاہ ہیں جن کا آپ ذکر کر رہے ہیں۔ آئی اے ای اے کے پاس دستیاب معلومات کے مطابق، پاکستان کی کسی بھی جوہری تنصیب سے تابکاری کا اخراج یا پھیلاؤ نہیں ہوا۔”

    اس حوالے سے آئی اے ای اے کی انسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی سینٹر کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے، جو 2005 میں قائم کیا گیا تھا اور جوہری حادثات اور ایمرجنسی کی صورت میں عالمی سطح پر مدد فراہم کرنے کے لیے کوآرڈینیٹ کرتا ہے۔

    اسی دوران، 13 مئی کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزارت خارجہ کی بریفنگ میں اس موضوع پر سوال کیا گیا۔ جب امریکی دفتر خارجہ کے نائب ترجمان تھامس پیگوٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے پاکستان میں جوہری تابکاری کے اخراج کی اطلاعات کے بعد اسلام آباد یا پاکستان کے کسی محفوظ مقام پر اپنی ٹیم بھیجی ہے، تو انہوں نے جواب دیا، "اس وقت میرے پاس اس بارے میں کوئی نئی معلومات نہیں ہیں۔”

  • ٹرمپ کیا ہمیں ڈرانے کیلئے خلیجی ممالک کا دورہ کر رہا،ایران

    ٹرمپ کیا ہمیں ڈرانے کیلئے خلیجی ممالک کا دورہ کر رہا،ایران

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلیجی ممالک کےدورے کےدوران تہران پر تنقید کو آڑے ہاتھوں لے لیا

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے بیان دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں کیا ہمیں ڈرانے کیلئے آئے ہیں؟ ہم غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ سوچتا ہے کہ وہ یہاں آکر ہمیں ڈرا سکتا ہے، ہمارے لیے شہادت کی موت بستر پر مرنے سے زیادہ پیاری ہے۔

    یاد رہے کہ امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں، ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں ایران کی تیل کی صنعت اور جوہری پروگرام سے منسلک افراد اور اداروں پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں، بدھ کو لگائی گئی نئی پابندیاں ان تنظیموں پر ہیں جو ایرانی حکومت کو ایسے اہم مواد کی مقامی سطح پر تیاری میں مدد فراہم کر رہی ہیں جو تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے ضروری ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب کے دورے پر موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ممالک کے درمیان پراکسی وار کا خاتمہ چاہتا ہوں اور ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہوں، اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کریں گے۔

  • معرکہ بنیان مرصوص نے امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو ناگزیر ثابت کردیا

    معرکہ بنیان مرصوص نے امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو ناگزیر ثابت کردیا

    معرکہ بنیان مرصوص نے امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو ناگزیر ثابت کردیا

    بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے اپنے دفاع میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا،پاکستانی مسلح افواج کے اپنے دفاع میں کارگر جواب نے بھارت کو سیز فائر پر مجبور کردیا،پاک فوج کے سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے آر ٹی کو اہم انٹر ویو میں اصل حقائق سے پردہ اٹھایا ،آر ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید کا کہنا تھا کہ سیزفائر ایک جراتمندانہ فیصلہ تھا،لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید کا کہنا تھا کہ دونوں جانب کی سیاسی قیادت نے عالمی دباؤ میں سیزفائر کو قبول کیا، یہ آسان فیصلہ نہیں تھا، یہ مختصر لیکن وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا فوجی تصادم تھا،3000 کلومیٹر کی حدود میں میزائل اور گولہ باری ہوئی،گلگت بلتستان سمیت ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا،سیزفائر کے 24 سے 36 گھنٹوں میں دونوں افواج نے مؤثر طریقے سے جنگ بندی نافذ کی، 78 سالوں میں کئی سیزفائر ہوئے لیکن کشمیر مسئلہ حل نہ ہونے کے باعث پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکا،اقوام متحدہ نے 1948 میں کشمیر کو بین الاقوامی تنازعہ تسلیم کیا، جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا سیزفائر ناپائیدار رہے گا،بھارت نے غلط دعویٰ کیا کہ اس نے دہشت گرد کیمپس کو نشانہ بنایا،بھارت نے اصل میں مساجد اور عام شہریوں کے گھر تباہ کیے،بھارت کی بمباری سے معصوم بچوں کے ساتھ خواتین بھی شہید ہوئیں،پاکستان نے پہلگام واقعے کی مذمت کی اور ثبوت کی صورت میں تعاون کی پیشکش کی،بھارت نے ابھی تک ثبوت نہ پاکستان کو اور نہ ہی کسی بین الاقوامی ادارے کو فراہم کیااگر تفتیش جاری ہے تو بین الاقوامی قانون کہاں اجازت دیتا ہے کہ بغیر نتیجہ حملے کیے جائیں؟ بھارت نے پٹھان کوٹ، اڑی اور ممبئی حملوں کے بھی بہانے دیے، مگر شفاف تحقیقات سے انکار کیا، بھارت غلط کہتا ہے کہ دہشت گرد اڈے نشانہ بنائے،آر ٹی کے رپورٹر خود زمینی صورتحال کا مشاہدہ کریں

  • غزہ میں اسرائیلی حملے، ایک ہی دن میں مزید 80 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی حملے، ایک ہی دن میں مزید 80 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر جاری فضائی حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 80 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں درجنوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں شدید بمباری کی گئی، جہاں رات گئے متعدد رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    جبالیہ میں کی جانے والی بمباری میں 22 بچے اور 15 خواتین سمیت 50 افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ مقامی اسپتالوں میں زخمیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبالیہ اسپتال لائے گئے مزید 9 افراد کی لاشوں میں سے 7 بچے شامل تھے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی لاشیں مکمل طور پر جلی ہوئی تھیں جن کی شناخت مشکل ہے۔اسرائیلی فوج نے منگل کے روز جبالیہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کو علاقے چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ وارننگ کے فوری بعد اسرائیلی طیاروں نے راکٹ داغے۔ اسرائیلی افواج کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے، تاہم زیادہ تر حملوں کا نشانہ رہائشی علاقے بنے۔

    اس سے ایک روز قبل، خان یونس میں واقع یورپی اسپتال کے احاطے میں اسرائیلی فوج نے 9 بنکر بسٹر بم گرائے۔ ان بموں کے پھٹنے سے زمین شگاف ہو گئی، اور اسپتال میں خوفناک تباہی مچ گئی۔ اس حملے میں 28 فلسطینی شہید جبکہ 70 افراد زخمی ہوئے۔

    یہ دل دہلا دینے والی صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری خونریزی کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں صورتحال روز بروز ابتر ہو رہی ہے اور یہ ایک "انسانی تباہی” کے دہانے پر ہے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک تقریباً 60 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد میں بچے، خواتین، اور عام شہری شامل ہیں۔ اسپتال، اسکول، اور پناہ گاہیں بھی مسلسل اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔غزہ میں جاری اس قتل عام پر عالمی برادری کی خاموشی اور عملی اقدامات کی کمی انسانی حقوق کے اداروں کے لیے ایک سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔ فلسطینی عوام کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ انسانی جانوں کا یہ ضیاع روکا جا سکے۔

  • کچھ بھی کرو،جیل سے نکالو،عمران خان”جھک” گئے

    کچھ بھی کرو،جیل سے نکالو،عمران خان”جھک” گئے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ پیشکش کے بعد حکومت کے ساتھ بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں شائع خبرمیں کہا گیا ہے کہ باخبر ذرائع کے مطابق، عمران خان نے پیر کے روز اڈیالہ میں ملاقات کیلئے آئے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو مذاکرات کی اجازت دی تاہم سابق وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مذاکرات ٹی وی کیمروں کی چکاچوند سے دور ہوں تاکہ بامعنی نتائج کو یقینی بنایا جا سکے،پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اب باضابطہ طور پر حکومت سے بات چیت آگے بڑھانے کیلئے رجوع کرے گی،پارٹی کا خیال ہے کہ ماضی میں مذاکرات کیلئے ہونے والی کوششیں میڈیا کی اسکروٹنی کی وجہ سے ناکام ہوئیں، لہٰذا اس مرتبہ زیادہ محتاط اور توجہ کے ساتھ بات چیت کی ضرورت ہے۔

    دی نیوز نے رابطہ کیا تو پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش عمران خان تک پہنچا دی ہے تاہم، انہوں نے بات چیت کی تفصیلات یا عمران خان کی جانب سے دی گئی ہدایت کے مطابق مذاکرات کی سمت کے حوالے سے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمارے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔

    واضح رہے کہ یہ پیشرفت وزیر اعظم شہباز شریف کے قومی اسمبلی سے حالیہ خطاب کے بعد سامنے آئی ہے۔ خطاب کے دوران، وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو قومی مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اُس وقت جہاں بیرسٹر گوہر علی خان نے تجویز کا خیر مقدم کیا تھا، وہیں پارٹی حلقوں نے واضح کر دیا تھا کہ عمران خان کی واضح رضامندی کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی،پی ٹی آئی کے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ مذاکرات کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہو۔ ایک ذریعے نے مزید کہا کہ عمران خان اس عمل کو آسان بنانے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے سے ملاقات کیلئے بھی تیار ہیں۔

    یاد رہے کہ بھارت کی طرف سے حالیہ غلط مہم جوئی کے بعد ملک میں سیاسی مفاہمت کے بڑھتے مطالبات کے درمیان یہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ پس پردہ یہ بات چیت کسی بریک تھرو کا باعث بنے گی یا نہیں

  • جسم کے نچلے حصے پر ہاتھ رکھنا جنسی زیادتی نہیں سمجھتا،فرانسیسی اداکار

    جسم کے نچلے حصے پر ہاتھ رکھنا جنسی زیادتی نہیں سمجھتا،فرانسیسی اداکار

    پیرس کی عدالت نے منگل کے روز مشہور فرانسیسی اداکار جیرارڈ ڈیپارڈیو کو 2021 میں ایک فلم کے سیٹ پر دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب قرار دیا اور انہیں 18 ماہ کی جیل کی سزا سنائی، جو کہ فرانسیسی سنیما کی ایک بڑی شخصیت کے لیے ایک سنگین زوال ہے۔

    می ٹو تحریک کے تحت فرانس میں آنے والا یہ ایک نمایاں مقدمہ تھا، جس میں ڈیپارڈیو نے مسلسل اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا، اور ان کے وکیل نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔76 سالہ ڈیپارڈیو فرانسیسی سنیما کے ایک عظیم اداکار تھے، جنہوں نے پانچ دہائیوں کے دوران 200 سے زائد فلموں میں کام کیا، جن میں "گرین کارڈ”، "دی لاسٹ میٹرو” اور "سیریانو ڈی برجرک” شامل ہیں۔ان کا مقدمہ می ٹو تحریک کے لیے ایک سنگین لمحہ تھا، جو جنسی تشدد کے خلاف ایک احتجاجی تحریک ہے، لیکن فرانس میں یہ تحریک امریکہ کی نسبت اتنی زیادہ مقبول نہیں ہو سکی، حالانکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی علامات نظر آ رہی ہیں۔دونوں مدعیوں میں سے ایک، ایمیلی کے، جو اب 54 سال کی ہیں اور سیٹ ڈیکوریٹر ہیں، نے عدالت میں بتایا کہ اداکار نے 2021 میں سیٹ پر ان کے جسم کے مختلف حصوں کو ہاتھ لگایا اور ان کے ساتھ جنسی نوعیت کے ناپسندیدہ تبصرے کیے۔ "میں ڈر گئی تھی، وہ ہنس رہا تھا،”

    ڈیپارڈیو نے جنسی زیادتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ وہ کسی کے جسم کے نچلے حصے پر ہاتھ رکھنا جنسی زیادتی نہیں سمجھتے، اور کچھ خواتین بہت جلد ناراض ہو جاتی ہیں۔عدالت کے جج تھیری ڈونارڈ نے اپنی سزا سناتے ہوئے کہا "انہیں نہ تو رضامندی کے تصور کا ادراک ہے اور نہ ہی ان کے عمل کے خواتین پر پڑنے والے مضر اور صدمے والے اثرات کا۔” انہوں نے ڈیپارڈیو کو جنسی مجرموں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا، حالانکہ وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

    ڈیپارڈیو فرانس میں می ٹو تحریک پر ہونے والی بحث کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں، کیونکہ ان کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات میں اضافہ ہو رہا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فلمی صنعت میں خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔مقامی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیپارڈیو کو ایک الگ مقدمے میں ریپ کے الزام میں ٹرائل کا سامنا کرنا چاہیے، جو اداکارہ چارلوٹ ارنولڈ، 29، کی جانب سے عائد کیا گیا ہے، جنہوں نے کہا کہ وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتی تھیں۔12 سے زائد خواتین نے ڈیپارڈیو پر جنسی تشدد کا الزام لگایا ہے، اگرچہ تمام نے شکایات درج نہیں کرائیں۔

    ڈیپارڈیو نے ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ "کبھی نہیں، بالکل کبھی بھی میں نے کسی عورت کے ساتھ زیادتی نہیں کی، تحقیقات کے دوران، فرانس کی 50 مشہور شخصیات، جن میں سابق صدر نکولا سارکوزی کی اہلیہ کارلا برونی بھی شامل ہیں، نے ڈیپارڈیو کے "لینچنگ” کی مذمت کی۔خواتین کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فرانس میں رویوں میں تبدیلی آئی ہے – خاص طور پر جزیل پیلیکوٹ کے کیس کے بعد، جس کی سابقہ شوہر کو گزشتہ سال اس کے بے ہوش ہونے کے بعد درجنوں مردوں کو زیادتی کرنے کے لیے مدعو کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

  • لاپتہ ہونے والی 18 سالہ نرسنگ کی طالبہ منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار

    لاپتہ ہونے والی 18 سالہ نرسنگ کی طالبہ منشیات سمگل کرتے ہوئے گرفتار

    تھائی لینڈ میں لاپتہ والی طالبہ 30 پاؤنڈ چرس اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لی گئی

    تھائی لینڈ میں تعطیلات پر جانے والی ایک نوجوان طالبہ جو اچانک غائب ہو گئی تھی، اب ہزاروں میل دور سابق سوویت یونین میں 30 پاؤنڈ چرس اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار ہو گئی ہے۔بیلا مے کلی، 18 سالہ نرسنگ کی طالبہ جو برطانیہ کی رہائشی ہے، گزشتہ ہفتے تھائی لینڈ سے غائب ہو گئی تھی اور اب جارجیا کے دارالحکومت تفلیس کی عدالت میں پیش ہوئی۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق، کلی کو ایئرپورٹ پر 30 پاؤنڈ چرس اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔کلی نے منگل کے روز عدالت میں حاملہ ہونے کا دعویٰ کیا اس کے وکیل کے مطابق، اس کو تحقیقات کے دوران ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے حراست میں رکھا گیا ہے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ بیلا مے کلی اس وقت انتہائی خوفزدہ اور پریشان ہے۔

    کلی کی سوشل میڈیا پوسٹس میں اس کی زندگی کے عیش و آرام کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی تھیں، جہاں وہ فلپائن کے جزائر پر سکوبا ڈائیونگ اور پارٹیوں میں مشغول دکھائی دیتی تھی۔ اس کی پوسٹس میں نرسنگ کی طالبہ کی معمول کی زندگی سے کہیں زیادہ عیش و آرام کی نمائش کی جا رہی تھی۔اب جب وہ جارجیا میں گرفتار ہو چکی ہے، اس کے خاندان اور دوستوں کو اس کے غائب ہونے اور اب اس پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے سخت تشویش لاحق ہے۔

  • پشاورہائیکورٹ،فوجی عدالتوں سے سزایافتہ مجرمان کی اپیل خارج

    پشاورہائیکورٹ،فوجی عدالتوں سے سزایافتہ مجرمان کی اپیل خارج

    پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزائیں درست قرار دیتے ہوئے 3مجرموں کی اپیلیں خارج کردیں۔

    پشاور ہائیکورٹ میں ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزاؤں کیخلا ف اپیلوں پر سماعت ہوئی، جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فضل سبحان نے اپیلوں کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کیا، مجرمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے،پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹس سے سنائی گئی سزائیں درست قرار دےدیں اور سزاؤں کیخلاف تین اپیلوں کو خارج کردیا،یادرہے کہ ملٹری کورٹ نے ایک مجرم کو عمر قید، دوسرے کو 20سال اور تیسرے کو 16سال قید کی سزا سنائی تھی۔