Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • رافیل طیاروں کے معاہدے میں مودی کی دھماکہ خیز کرپشن

    رافیل طیاروں کے معاہدے میں مودی کی دھماکہ خیز کرپشن

    معرکہ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص ، رافیل طیاروں کے معاہدے میں مودی کی دھماکہ خیز کرپشن سامنے آئی ہے

    آپریشن سندور میں رافیل طیاروں کی ناکامی سے مودی کے گھمنڈ کو شدید دھچکا لگا ہے،پاکستان کے خلاف جارحیت میں مودی کو رافیل طیارے کھو نے پر بدترین تنقید کا سامنا ہے،رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد مودی ایک بار پھر "رافیل ڈیل ” میں کرپشن اور فراڈ کے الزامات کی زد میں آگئے ،مودی نے رافیل طیاروں کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ،مودی سرکار کو رافیل ڈیل میں 7.5 ملین یورو کمیشن کی ادائیگی ہوئی”رپورٹ میں قیمتوں میں مبالغہ اور ڈیل کو مشکوک قرار دیا گیا، نیشنل ہیریلڈ انڈیا کے مطابق یہ ادائیگی بھارتی بزنس مین سوشن گپتا کو رافیل ڈیل کے تحت 7.5 ملین یورو کی خفیہ کمیشن کے تحت ہوئی، اس سے قبل کانگریس رہنما راہول گاندھی نے پہلے ہی رافیل ڈیل پر بات کی تھی کہ ؛رافیل ڈیل میں کرپشن کی گئی ہے اور اربوں ڈالر کا فراڈ کیا گیا ہے” رافیل ڈیل کے وقت بی جے پی حکومت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر بھی اس ڈیل کا حصہ نہیں بنے تھے اور انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا،انیل امبانی کی کمپنی 45 ہزار کروڑ روپے کے قرض میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس کی مددکیلئے ہی نریندر مودی نے رافیل طیاروں کے معاہدے کا سہارا لیا،

    ان انکشافات کے بعد مودی سرکار کی جانب سے اس اہم معاملے کی تحقیقات کو نظر انداز کرنے پر کئی سوالات اٹھ گئے ہیں،دی وائر کے مطابق ؛” کرائم بیورو آف انویسٹیگیشن نے مودی کے کرپشن اور بدعنوانیوں کو سامنے لایا مگر مودی نے آج تک اس واقعے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی”مودی کے خلاف کرپشن کے کیسز سامنے لانے پر سی بی اے کے ڈائریکٹر کی برطرفی اور تحقیقات آگے نہ بڑھانے پر مودی کی دھمکیاں،پائلٹس کی نااہلی اور طیاروں کی تکنیکی خامیوں نے مودی کی کرپشن کے پول کھولے، این ڈی ٹی وی کے مطابق مودی سرکار کے ماتحت سی بی آئی کے ڈائریکٹر نے رافیل کرپشن کیس پر تفتیش آگے نہیں بڑھائی،

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2018 میں سی بی آئی کو رافیل 7.5 ملین یورو کمیشن کی ادائیگی کے ثبوت ملے تھے، مودی سرکار کے سیاسی دباؤ کے تحت اس اہم معاملے پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی، دی وائر کے مطابق انٹرا پارٹی رپورٹ میں بھی رافیل ڈیل میں 12.8 ملین یورو رشوت کا انکشاف بھی کیا گیا، سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پاس رشوت کی مکمل دستاویزات موجود ہیں، 12 ہزار صفحات پر مشتمل ثبوت سی بی آئی کو 2018 میں ملنے کا کہا گیا مگر مودی کی دھمکیوں اور ڈائریکٹر کی برطرفی کے باعث کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی،مودی سرکار نے بھارت ٹوڈے پر رافیل ڈیل کی رپورٹ چھپانے کے لیے بھی دباؤ ڈالا،

    دفاعی ماہرین کے مطابق انیل امبانی کی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھارت نے اربوں روپے کی کرپشن کر کے ساکھ مزید کمزور کر دی، فرانسیسی کمپنی کے کہنے پر فرانس میں تحقیقات ہوئیں مگر بھارت میں خاموشی ہے، رافیل اسکینڈل نے مودی سرکار کی کرپشن کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے،

  • حکومت کی بھارتی حملوں سے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت

    حکومت کی بھارتی حملوں سے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بھارتی حملوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی مکمل تفصیلات پر مبنی رپورٹ کی تیاری کی ہدایت دے دی ہے، جس کا مقصد ملکی اور بین الاقوامی اداروں کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنا اور بحالی کے مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کو باضابطہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں بھارتی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی جامع رپورٹ تیار کرکے مرکز کو ارسال کریں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس کی تیاری کا عمل ضلعی ڈپٹی کمشنروں کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ رپورٹ میں سول انفرااسٹرکچر، رہائشی مکانات، تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور دیگر عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل شامل کی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ، انسانی جانوں کے ضیاع، زخمیوں کی تعداد اور متاثرہ خاندانوں کی صورتحال کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ ایک مکمل اور حقیقت پر مبنی دستاویز تشکیل دی جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ قومی و بین الاقوامی اداروں کو پیش کی جائے گی تاکہ نہ صرف عالمی برادری کو بھارتی حملوں کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں کی بحالی و تعمیر نو کے لیے مناسب منصوبہ بندی بھی کی جا سکے۔حکومتی سطح پر یہ اقدام ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔

  • پاکستان امریکہ کا قابل اعتماد اتحادی ہے،ٹرمپ

    پاکستان امریکہ کا قابل اعتماد اتحادی ہے،ٹرمپ

    معرکہ بنیان مَّرْصُوْص،دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی عالمی فتح، امریکی صدر کا پاکستان کے حق میں بیان سامنے آ گیا

    13 مئی 2025 کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں سعودی – یو ایس انویسٹمنٹ فورم 2025 میں امریکی صدر ٹرمپ نےپاکستان کے حق میں اہم بیان دیا،ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا،ٹرمپ نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے 20 جنوری سے لے کر ابتک عراق، شام اور صومالیہ میں 83 دہشتگردوں کا صفایا کیا،ابیے (Abbey) گیٹ حملے میں داعش کے دہشتگرد کی گرفتاری پاکستان کے تعاون سے ممکن ہوئی،پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خاتمے میں بڑا کردار ادا کیا،پاکستان امریکہ کا قابل اعتماد اتحادی ہے اور دہشتگردی کیخلاف اہم کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان اور امریکہ دہشتگردی کے خلاف ایک مضبوط اتحادی بن چکے ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیان نے واضح کر دیا کہ بھارت دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے جبکہ پاکستان اس کے خلاف کھڑا ہے، ٹرمپ کے بیان سے بین الاقوامی سطح پر یہ بات واضح ہو گئی کہ پاکستان امن اور عالمی تحفظ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، عالمی سطح پر پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر طاقت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے،

  • معرکہ مرصوص،بھارتی دفاعی ماہر سشانت سنگھ کی مودی اور بھارتی میڈیا پر شرمناک تنقید

    معرکہ مرصوص،بھارتی دفاعی ماہر سشانت سنگھ کی مودی اور بھارتی میڈیا پر شرمناک تنقید

    معرکہ مرصوص،بھارتی دفاعی ماہر سشانت سنگھ کی مودی اور بھارتی میڈیا پر شرمناک تنقیدسامنے آئی ہے

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مودی سرکار اور گودی میڈیا کے جھوٹ پردہ چاک ہو رہا ہے،دفاعی ماہر سشانت سنگھ کا کہنا تھا کہ ’نریندری مودی کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دبائو میں آنا انتہائی شرمناک ہے‘‘بھارت کی دیرینہ حکمت عملی تھی کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بھی بحران دو طرفہ کے مسئلے طور پر دیکیکھا جائے گا نہ کہ عالمی سطح پر لے جایا جائے گا، میرے مشاہدے کے مطابق بھارت میں ہندوتوا نظریہ پگھل رہا ہے،مودی کو اپنے دعوئوں سے پیچھے ہٹنا پڑاجہاں اس نے کہا تھا کہ پاکستان کیساتھ کوئی امن قائم نہیں کیا جائے گا، نریندر مودی اپنی اس شکست کو بھی گودی میڈیا کے ذریعے کامیاب قرار دیتے ہوئے مریکی صدر کے کردار کوپس پشت ڈال دے گا، صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان دونوں کو عظیم قومیں کہہ کر ایک صف میں کھڑا کردیا، یہ بھارتی خارجہ پالیسی کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے جو بھارت کو کئی دہائیاں پیچھے لے گیا ہے، نریندر مودی نے اپنے دور حکومت میں یہ بیانیہ بنایا کہ ہماری لڑائی چین کے ساتھ ہے پاکستان کیا چیز ہے، نریندر مودی کیلئے یہ صورتحال بہت شرمناک ثابت ہوئی اور بھارتی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچا، مودی نے دیگر موثر آپشنز کو استعمال نہ کرکے خود کو کمزور کردیا اور صرف فوجی کارروائی پر انحصار کی غلطی کی،اچھے حکمران ملک کو آگے لیجانے کیلئے دیگر آپشنز بشمول، سفارتی کاری، تجارت اور عوامی سطح کے رابطوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں، پاکستان نے پانچ بھارتی لڑاکا طیاروں بشمول 3 رافیل طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا جس کی تردید بھارت کی جانب سے بھی نہیں کی گئی، پاکستان کے اس دعوے کی اہمیت جنوبی ایشیا سے باہر بین الاقوامی سطح تک جاتی دکھائی دے رہی ہے، بھارتی میڈیا نے اس ساری صورتحال میں شرمناک کردار ادا کرتے ہوئے جھوٹ کو پھیلایا ،اگر کسی بھارتی میڈیا پلیٹ فارم نے سچ سامنے لانے کی کوشش کی تو اس کو دبا دیا گیا، سچ سامنے لانے دی وائر چینل کو بلاک اور دی ہندو پر بھارتی طیارے کی تباہی کی خبر کو ہٹوا دیا گیا، دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز پر سٹیلائیٹ کے ذریعے بھارتی طیاروں کی تباہی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے رپورٹ کیا،بھارتی رافیل لڑاکا طیاروں کا چین کی ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہونا جیوسٹرٹیجک سطح پربہت اہمیت رکھتا ہے، بھارتی میڈیا کے مسلسل جھوٹ کی وجہ سے ہمارے سچ کو بھی بین الاقوامی سطح پر نظر انداز کردیا گیا،
    پاکستانی میڈیا چینلز بین الاقوامی سطح پر مستند رپورٹنگ کی وجہ سے توجہ کا مرکز رہے، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے حوالے سے ہمارے کئی صحافیوں اور ایڈیٹرز کا کردار شرمناک رہا، ان صحافیوں اور ایڈیٹرز جھوٹی خبریں پھیلا کربھارتی میڈیا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا.

  • ڈمپر کی رکشوں، موٹرسائیکلوں کو ٹکر،5 افراد کی موت

    ڈمپر کی رکشوں، موٹرسائیکلوں کو ٹکر،5 افراد کی موت

    لاہور میں افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 3 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    ق ہولناک حادثہ لاہور کے مصروف علاقے باغبان پورہ کے جی ٹی روڈ پر اس وقت پیش آیا جب ایک بے قابو ڈمپر نے سڑک کنارے کھڑے تین رکشوں اور دو موٹرسائیکلوں کو زوردار ٹکر مار دی۔ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ اتنا شدید تھا کہ رکشے اور موٹرسائیکلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور کئی افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جائے وقوعہ پر چیخ و پکار مچ گئی اور ارد گرد کے لوگ مدد کو پہنچے۔ریسکیو حکام کے مطابق پانچ افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ تین افراد کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق ڈمپر کی بریک فیل ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم حتمی وجہ کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ حادثے کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔پولیس نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

    حادثے کے بعد جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا، تاہم ٹریفک پولیس کی بروقت کارروائی سے سڑک کو کلیئر کر دیا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈمپر کی رفتار بہت زیادہ تھی اور ڈرائیور نے گاڑی پر کنٹرول کھو دیا، جس کے باعث یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بھاری گاڑیوں کی نگرانی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • بھارتی فوج کی مسلمان ترجمان بھی ہندوتوا کا نشانہ بن گئی

    بھارتی فوج کی مسلمان ترجمان بھی ہندوتوا کا نشانہ بن گئی

    پاکستان کے محض چند گھنٹوں پر محیط آپریشن "بنیان مرصوص” نے نہ صرف بھارتی عسکری اداروں کی دفاعی حکمت عملی کو چیلنج کر دیا بلکہ آر ایس ایس کے پھیلائے ہوئے ہندوتوا کے مصنوعی بیانیے کو بھی زبردست دھچکہ پہنچایا ہے۔ انڈیا میں بیٹھ کر جب اس صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوتوا کا بت ٹوٹ کر بکھر چکا ہے، جیسے دیوالی کی شب راون کے پتلے کے ٹکڑے ہوا میں اڑائے جاتے ہیں۔

    پاکستان پر غصہ نکالنے میں ناکام ہندوتوا کے حامی اب خود بھارت کے اندر تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر وزیر نے نہایت اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارتی فوج کی ترجمان اور قومی ہیرو کرنل صوفیہ قریشی کو "دہشت گردوں کی بہن” قرار دے ڈالا۔بی جے پی کے قبائلی امور کے وزیر کنور وجے شاہ نے مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، صوفیہ قریشی کے خلاف ناقابلِ یقین حد تک نفرت انگیز تبصرہ کیا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے خود انہی کی بہن کو بھیجا — اشارہ کرنل صوفیہ قریشی کی جانب تھا۔ان کے الفاظ تھے،”جنہوں نے ہماری بیٹیوں کو بیوہ کیا، ہم نے ان ہی کی بہن کو علاج کے لیے بھیجا۔”انہوں نے مزید زہر افشانی کرتے ہوئے کہا”انہوں نے ہمارے ہندوؤں کو برہنہ کیا اور قتل کر دیا، مودی جی نے ان ہی کی بہن صوفیہ قریشی کو ان کے خلاف بھیجا کہ وہ انہیں مارے اور برہنہ کرے۔”

    یہ بیان صرف نفرت انگیز نہیں بلکہ قومی سلامتی، فوجی عزت و تکریم اور خواتین کے وقار کے خلاف بھی سنگین حملہ ہے۔

    کرنل صوفیہ قریشی، جو بھارتی فوج کی چند نمایاں خواتین افسران میں شامل ہیں، اس وقت قومی ہیرو قرار پائی تھیں جب انہوں نے پاکستان میں 6 اور 7 مئی کی شب کیے گئے حملوں کو بنیاد بنا کر "آپریشن سیندور” کی کہانی گھڑی۔ مگر صرف چند دن بعد جب پاکستان کی جوابی کارروائی نے انڈین آرمی اور ایئرفورس کے دانت کھٹے کر دیے، تو ہندوتوا کے ترجمانوں نے اسی خاتون کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا شروع کر دیا۔بی جے پی وزیر کے اس بیان پر بھارت بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعت آل انڈیا کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں کہا "ہماری فوج کی بہادر بیٹیاں دہشت گردوں کی بہنیں ہیں ، یہ نفرت انگیز بیان مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ نے دیا ہے۔ یہ شرمناک بیان ہندوستان کی ان بیٹیوں کے بارے میں دیا گیا ہے، جن کا ہر کوئی احترام کرتا ہے۔ یہ ہماری طاقتور فوج کی توہین ہے۔”

    کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی قیادت سے سوال کیا کہ”کیا وزیر وجے شاہ استعفیٰ دیں گے؟ کیا مودی جی اور بی جے پی اس شرمناک اور تنگ نظر بیان پر معافی مانگیں گے؟”

    تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا ہندوتوا بیانیہ، جو عرصہ دراز سے مسلمانوں، پاکستان اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، اب خود اپنے ہی وزن سے گر رہا ہے۔ جب "قوم پرستی” کے نام پر اپنی ہی فوج، اپنی ہی بیٹیوں کو ٹیررسٹ کہا جائے، تو یہ کسی دشمن کی نہیں بلکہ نظریاتی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔پاکستان کے خلاف نفرت اب اندرونی خلفشار بن چکی ہے، اور یہ ہندوتوا کے اس غبارے کو پھاڑ رہی ہے جو مصنوعی حب الوطنی سے پھلایا گیا تھا۔

    اگر بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس وقت خود احتسابی کا راستہ نہ اپنایا تو ہندوتوا کا یہ جنون نہ صرف بھارت کے سیکولر تانے بانے کو چاک کر دے گا بلکہ فوج جیسے اہم قومی ادارے کو بھی سیاست کا ایندھن بنا دے گا۔

  • کنول شوذب علیمہ خان پر پھٹ پڑیں،بولیں،پارٹی کو برباد مت کرو

    کنول شوذب علیمہ خان پر پھٹ پڑیں،بولیں،پارٹی کو برباد مت کرو

    پی ٹی آئی رہنما کنول شوذب عمران خان کی بہن علیمہ خان پر پھٹ پڑیں،

    کنول شوذب کا کہنا تھا کہ علیمہ خان یا تو اعلان کرے وہ سیاست میں آگئی ہیں یا پارٹی کو برباد نہ کرے،ہم نے اس کو بکھرنے نہیں دینا، پی ٹی آئی ہماری فیملی ہے مجھے آج بہت تکلیف ہوئی کہ علیمہ خان نے کہا کہ کون گوہر، عمران خان چیئرمین ہیں، بھئی عمران خان تو بانی چیئرمین ہیں، آپ عہدوں کی تضحیک کر رہی ہیں، بیرسٹر گوہر چیئرمین ہے اسکی عزت کرتے ہیں،پارٹی ڈسپلن کو فالو کریں، ہم عہدے کی عزت کریں گے شکل کوئی بھی ہو، کوئی کون ہوتا ہے کہنے والا یہ تو منشی ہے، یہ باتیں کرنے والی ہیں، ٹکے ٹکے کے لوگ باتیں کر رہے ہیں،گیٹ پرچپڑاسی کرنے والے چیئرمین کے خلاف زبان درازی کر رہے ہیں، میں تو علیمہ خان کو کہوں‌گی کہ سیاست میں آ‌جائیں پارٹی عہدہ لیں یا پارٹی کو برباد نہ کریں،

  • بھارتی جارحیت،پاکستان نے شاندار عسکری فتح حاصل کی،سحر کامران

    بھارتی جارحیت،پاکستان نے شاندار عسکری فتح حاصل کی،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما، رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ بھارت کی جلدبازی اور غیر ذمہ دارانہ جارحیت کے برعکس، پاکستان نے تحمل، دانائی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک شاندار عسکری فتح حاصل کی۔ اس تاریخی کامیابی کے پیچھے پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت اور منصوبہ بندی کارفرما رہی۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اس اسٹریٹیجک کامیابی کے معمار کے طور پر سامنے آئے۔ اُن کی مدبرانہ قیادت، پختہ حکمتِ عملی اور بروقت فیصلوں نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔وہیں سابق وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تدبر اور متوازن سفارت کاری کی ضرورت تھی، بلاول کی قائدانہ صلاحیتیں، فصیح اندازِ گفتگو اور حب الوطنی نے پاکستان کا امیج مضبوط کیا اور عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ دشمن کی جارحیت کے خلاف عظیم فضائی آپریشن میں، پاک فضائیہ کے جری پائلٹس نے نہ صرف بھارتی دفاعی نظام کو شکست دی بلکہ دشمن کے علاقے میں کامیاب ہدفی حملے بھی کیے۔ دنیا کی سب سے بڑی جدید فضائی لڑائی میں 42 پاک فضائیہ کے طیارے 72 بھارتی جنگی طیاروں کے مقابل صف آرا ہوئے۔ یہ تاریخی فضائی جنگ 59 منٹ تک جاری رہی جس میں پاکستان نے فیصلہ کن برتری حاصل کی۔پاک فضائیہ نے اس آپریشن میں بھارتی فضائیہ کے چھ جنگی طیارے تباہ کیے، جن میں تین رافیل طیارے شامل تھے جنہیں بھارتی حکام "گیم چینجر” قرار دیتے تھے۔ اس کے علاوہ دو Su-30 اور ایک MiG-29 بھی مار گرائے گئے۔مئی 2025 کے یہ دن نہ صرف ایک عسکری فتح بلکہ قومی حمیت، اتحاد اور احیائے نو کا نشان بن چکے ہیں، جنہیں برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔

  • لاہور،ڈیفنس فیز 6 سے اغوا ہونے والا ڈاکٹر قصور سے بازیاب

    لاہور،ڈیفنس فیز 6 سے اغوا ہونے والا ڈاکٹر قصور سے بازیاب

    لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 سے اغوا ہونے والے 64 سالہ معروف جنرل سرجن ڈاکٹر طاہر جمیل کو پولیس نے چند گھنٹوں کی کوشش کے بعد قصور سے بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ اس اہم کارروائی میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کو "ریڈ لائن” قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت دی۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طاہر جمیل ایک نجی اسپتال سے اپنی رہائش گاہ کی جانب روانہ تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور اسلحے کے زور پر انہیں اغوا کر کے ساتھ لے گئے۔ واردات کی اطلاع ملتے ہی لاہور پولیس حرکت میں آ گئی، شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی اور تفتیشی ٹیموں نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کیے۔پولیس کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں اغوا کاروں کا سراغ لگایا گیا، جس کے بعد کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے قصور میں کارروائی کر کے ڈاکٹر طاہر جمیل کو بازیاب کروایا۔ پولیس حکام کے مطابق جیسے ہی اغوا کاروں کو پولیس کی نقل و حرکت کا علم ہوا، انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مغوی کو چھوڑ دیا اور فرار ہو گئے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران خود جائے وقوعہ پر پہنچے، شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔ انہوں نے ڈاکٹر طاہر جمیل کی بحفاظت واپسی کی یقین دہانی کرائی اور واقعے کو ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا”یہ واقعہ ریڈ لائن ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، اغوا کاروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا۔”ترجمان پولیس کے مطابق اغوا کی واردات کسی منظم گروہ کا کام لگتی ہے، تاہم جلد ہی مجرمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے تفتیش جاری ہے۔

  • جنگ بندی کا اعلان امریکہ نے کیوں کیا؟ بھارتیوں کا مودی سے سوال

    جنگ بندی کا اعلان امریکہ نے کیوں کیا؟ بھارتیوں کا مودی سے سوال

    پاکستان نے بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو تین گھنٹے بعد ہی مودی سرکار امریکہ کے پاس جنگ بندی کی بھیک مانگنے پہنچ گئی جس پر بھارت میں مودی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    عام آدمی پارٹی (عآپ) نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اچانک جنگ بندی کے اعلان پر شدید اعتراض کیا ہے اور اس معاملے پر مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے کئی اہم سوالات کیے ہیں۔ عآپ کے دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پہلگام حملے کا بدلہ لینے سے پہلے ہی جنگ بندی کی راہ اختیار کی اور یہ کہ جنگ بندی کا اعلان ہندوستان کی طرف سے نہیں بلکہ امریکہ کی طرف سے کیا گیا، جس پر حکومت خاموش ہے۔

    آتشی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اچانک 10 مئی کو جنگ بندی کا اعلان امریکہ کی طرف سے آ جاتا ہے۔ اگر پاکستان نے واقعی جنگ بندی کی درخواست کی تھی، تو اس کا اعلان پاکستان یا ہندوستان کو کرنا چاہیے تھا، امریکہ نے کیوں کیا؟ پہلگام حملے میں جو لوگ مارے گئے، جن کے گھروں میں چولہے بجھ گئے، ان کے اہل خانہ کو کیا جواب دیا جائے؟ ’کیا جنگ بندی کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات متاثر نہ ہوں؟ کیا تجارت ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے سندور سے زیادہ قیمتی ہو گئی ہے؟ مودی نے کل یکطرفہ خطاب کیا، مگر ان سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔ آج ملک جاننا چاہتا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد ہم نے کیا حاصل کیا؟ کیا ہمارا مشن مکمل ہو چکا ہے یا کسی بیرونی دباؤ کی وجہ سے اسے روک دیا گیا؟