Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سپریم کورٹ ،مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ ،مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے منظور

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کیس پر سماعت ہوئی
    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے آج سماعت کی،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل تھے،جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان بینچ کا حصہ تھے،جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شاہد بلال بینچ کا حصہ تھے،جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق، جسٹس باقر نجفی بینچ میں شامل تھے،

    مسلم لیگ ن کے وکیل حارث عظمت نے دلائل میں کہا کہ مخصوص نشستیں ایک ایسی جماعت کو دی گئیں جو کیس میں فریق نہیں تھی،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس نکتے کا جواب فیصلے میں دیا جا چکا ہے، آپ کی نظرثانی کی بنیاد کیا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کا پورے فیصلے سے اختلاف ہے یا پھر اکثریتی فیصلے سے،وکیل حارث عظمت نے کہا کہ ہمارا اختلاف اکثریتی بینچ سے ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی استدعا تکنیکی بنیادپر مسترد کی تھی،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ نظر ثانی کا اسکوپ کم ہے اس پر دوبارہ بحث نہیں کر سکتے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے آراو کا آرڈر اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ موجود تھا،حارث عظمت نے کہا کہ پی ٹی آئی وکلا کی فوج تھی ان آرڈرز کو چیلنج نہیں کیا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ہم ایک پارٹی کی غلطی کی سزا قوم کو دیں،کیا سپریم کورٹ کے نوٹس میں ایک چیز آئی تو اسے جانے دیتے؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سارےنکات تفصیل سے سن کر فیصلہ دیا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ آپ نظر ثانی میں اپنے کیس پر دوبارہ دلائل دے رہے ہیں، آپ نظر ثانی کے گراونڈز نہیں بتا رہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے پر عملدرآمد ہوا تھا؟ جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست بھی ہے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست آج لگی ہوئی ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن باونڈ نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن فیصلے پر عمل نہ کرے؟جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا ہمارے فیصلے پر عمل درآمد ہوا ہے؟وکیل حارث عظمت نے کہا کہ مجھے اس بارے علم نہیں ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ عدالت آ گئے ہیں لیکن آپکو پتہ نہیں ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلے پر عمل درآمد کیے بغیر کیسے نظر ثانی فائل کر دی؟جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ آپ بار بار ایک سیاسی جماعت کا نام لے رہے ہیں اسے چھوڑ دیں،سپریم کورٹ نے آئین کے مطابق فیصلہ دیا،آپ ہمیں بتائیں کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے،جو باتیں آپ بتا رہے ہمیں وہ زمانہ طالب علمی سے معلوم ہیں کیا اب آپ سپریم کورٹ کو سمجھائیں گے،آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کے دائرہ اختیار پر دلائل دیں،

    سپریم کورٹ کے 13 رکنی بنچ میں سے 11 ممبران نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باوجود اُس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں باضابطہ سماعت کیلئے منظور کرلیں،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے اختلاف کرتے ہوئے درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیں،گیارہ ججز نے اکثریت سے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئےکیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،توہین عدالت کی درخواست بھی کیس کے ساتھ سنی جائیگی

  • پہلگام ڈرامہ،مودی حکومت کی انا،معصوم خاندان ہجرت پر مجبور

    پہلگام ڈرامہ،مودی حکومت کی انا،معصوم خاندان ہجرت پر مجبور

    پہلگام فالس فلیگ میں بری طرح ناکامی کے بعدنااہل مودی حکومت کی انا نے معصوم خاندانوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا۔بھارت میں مقیم پاکستانی خاندانوں کو محض پاکستانی ہونے پر نکالا جانا ستم ظریفی کی انتہا ہے ۔

    پندرہ سال سے مقیم جموں میں رہائش پذیر خاندان کو بھی بھارت چھوڑنے کا حکم، کشمیری خاتون نے مودی سرکار پر تنقیدکے نشترچلادیے۔کشمیری خاتون نے کہا کہ ہمیں بھارت سے نہیں، ہمارے گھروں سے بےدخل کیا جا رہا ہے۔دو معصوم بچوں کی تعلیم اور مستقبل برباد کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں۔پہلگام میں حملہ آور ہندو تھے نہ ہی مسلمان، صرف جاہل اور شدت پسند تھے۔کشمیری خاتون نے مزید کہا کہ زمین تنگ ہو چکی ہے تو شوہر اور بچوں کو بھی ساتھ جانے کی اجازت دی جائے۔ پاکستان کی سرزمین ہمیں قبول کر لے گی۔

    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کا پاکستانی خاندانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کرنا غیر انسانی فعل ہے۔مودی سرکار مسلمانوں کے خلاف ظلم کر رہی ہے،

  • بریفنگ کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے کیا پیغام دیا؟فاروق ستار

    بریفنگ کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے کیا پیغام دیا؟فاروق ستار

    اسلام آباد:متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے بھارت کے چہرے سے سیکولرازم کا جھوٹا نقاب اتار کر اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ’’مودی بیٹا، تم نے بھارت کے منہ سے سیکولرازم کا نقاب اٹھا کر بہت اچھا کیا ہے۔ تمہاری ذہنیت نے ہمارے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان کے قیام کے لیے جو قربانیاں دیں وہ بالکل درست تھیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران جماعت اور اس کی پالیسیوں نے خود یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی۔ انہوں نے بھارت میں ہونے والے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’پہلگام واقعہ بھارت کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ناکامی ہے، جیسا کہ اس سے قبل پلوامہ میں بھی انٹیلی جنس کی ناکامی دیکھنے میں آئی۔‘‘

    ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس بار دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، لیکن عالمی برادری نے بھارتی بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس واقعے کا کوئی ثبوت دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، اور یوں بھارت کا جنگی جنون، جھوٹ اور مکاری بے نقاب ہو گئی ہے۔‘‘گجرات فسادات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مودی کی سابقہ کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا’’گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کس نے کیا؟ گجرات کے قصائی کا لقب کس کو دیا گیا؟‘‘ان سوالات کے ذریعے انہوں نے نریندر مودی کے ماضی کے متنازع کردار کی طرف اشارہ کیا۔

    ایم کیو ایم رہنما نے اپنے خطاب میں ملکی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس وقت پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے کیا پیغام دیا؟ جب پوری قوم ایک جانب کھڑی ہے تو یہ دوسری طرف کیوں کھڑے ہیں؟‘‘

  • بھارت باز نہ آیا،آبی جنگ کا باقاعدہ آغاز،کشمیر میں 2 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر کام شروع

    بھارت باز نہ آیا،آبی جنگ کا باقاعدہ آغاز،کشمیر میں 2 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر کام شروع

    بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 2 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر کام شروع کر دیا ہے

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان کو اطلاع دیے بغیر مقبوضہ کشمیر میں 2 پن بجلی منصوبوں پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ بھارت کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکتا،بھارت اس سے پہلے غیر قانونی طور پر سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرچکا ہے۔ جب کہ ضابطے کے مطابق وہ سندھ طاس معاہدے پر کوئی یکطرفہ قدم نہیں اٹھاسکتا،بین الاقوامی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ بھارتی اور جموں کشمیر کی مقامی حکومت نے اس خبر پر تبصرے کے لیے بھیجی ای میلز کا جواب نہیں دیا۔ْ

    اسی دوران بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر مقبوضہ کشمیر میں بنے بگلیہار ڈیم کے بعد سلال ڈیم کے دروازے بھی بند کردیے گئے ہیں دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ کم ہو کر صرف 5 ہزار 300 کیوسک رہ گیا۔

    بھارت نے ہمالیائی علاقے کشمیر میں دو بڑے پن بجلی منصوبوں سلال اور بگلیہا کے آبی ذخائر کی گنجائش بڑھانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ رائٹرز کو باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ پیشرفت پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدے انڈس واٹر ٹریٹی کی حالیہ معطلی کے بعد بھارت کی طرف سے معاہدے سے ہٹ کر کام کرنے کا پہلا عملی قدم ہے۔ گزشتہ ماہ بھارت نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جو پاکستان کی 80 فیصد زرعی زمین کو پانی کی فراہمی کو یقینی بناتا تھا،بھارت نے پہلگام حملے کے بعد یہ اقدام اٹھایا،پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اس معاہدے کی معطلی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے "پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا موڑنے کی کوئی بھی کوشش، جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔”

    ذرائع کے مطابق بھارت کی سرکاری پن بجلی کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ (NHPC) اور جموں و کشمیر کی مقامی انتظامیہ نے 1 مئی سے تین روزہ "ریزروائر فلیشنگ” کا عمل شروع کیا۔ اس عمل میں پانی کے ذخائر سے تلچھٹ (مٹی، ریت) کو نکالنے کے لیے پانی کو نیچے کی طرف بہایا جاتا ہے، جس سے ابتدا میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ اور بعد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سلال (1987 میں تعمیر شدہ) اور بگلیہار (2008/09 میں مکمل شدہ) منصوبوں پر یہ کام پہلی بار کیا جا رہا ہے، اور بھارت نے پاکستان کو اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی ، جو کہ معاہدے کی خلاف ورزی سمجھی جا سکتی ہے۔

    جموں و کشمیر کے چناب دریا کے کنارے بسنے والے لوگوں نے بتایا کہ جمعرات سے ہفتہ کے درمیان سلال اور بگلیہار سے پانی چھوڑا گیا، جس سے بعض مقامات پر دریا پوری روانی سے بہتا نظر آیا جبکہ کچھ جگہیں تلچھٹ سے جزوی طور پر بند ہو گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر مقامی افراد کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں یہ مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق، سلال منصوبے کی 690 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت مٹی کے جمع ہونے کی وجہ سے شدید متاثر ہو چکی تھی، کیونکہ معاہدہ ایسے صفائی کے عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ بگلیہار کی 900 میگاواٹ صلاحیت پر بھی اس کا اثر پڑا۔

    1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو صرف "رن آف دی ریور” طرز کے منصوبے بنانے کی اجازت ہے، جن میں بڑے ذخائر نہیں ہوتے۔

  • من گھڑت نظرثانی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے،سپریم کورٹ

    من گھڑت نظرثانی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس کی سماعت سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کا تحریر کردہ نظرثانی درخواستوں کے دائرہ کار پر اہم فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نظرثانی کی درخواست صرف آئین کے آرٹیکل 188 اور سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط کے تحت ہی کی جا سکتی ہے،کسی بھی عدالتی فیصلے پر محض ایک فریق کا عدم اطمینان، نظرثانی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ نظرثانی کی درخواست میں کسی واضح قانونی یا فنی غلطی کی نشاندہی ضروری ہے،وہ نکات جو پہلے مقدمے میں مسترد ہو چکے ہوں، انہیں نظرثانی میں دوبارہ نہیں اٹھایا جا سکتا، اور نہ ہی یہ دلیل قابلِ قبول ہے کہ فیصلے میں کوئی دوسرا نقطۂ نظر شامل کیا جا سکتا تھا۔

    فیصلے میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 22 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے 56 ہزار سے زائد کیسز سپریم کورٹ میں التوا کا شکار ہیں۔ ان میں ایک بڑا حصہ غیر ضروری اور من گھڑت نظرثانی درخواستوں کا ہے، جن کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے،یہ فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بنچ نے جاری کیا ہے۔

    دریں اثنا، سپریم کورٹ میں آج مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر سماعت بھی ہوگی۔ جسٹس سید امین الدین خان کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ بنچ سماعت کرے گا،بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شاہد بلال، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق، جسٹس باقر نجفی اور دیگر شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ 12 جولائی 2023 کو سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ان نشستوں پر نمائندگی دینے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا تھا، تاہم وہ نظرثانی کیس سننے والے موجودہ بینچ کا حصہ نہیں ہیں

  • آرمی چیف کا احسن اقدام،بھارت سے واپس بھیجے گئے دو بچوں کے علاج کا لیا ذمہ

    آرمی چیف کا احسن اقدام،بھارت سے واپس بھیجے گئے دو بچوں کے علاج کا لیا ذمہ

    پہلگام فالس فلیگ ، آرمی چیف کا احسن اقدام سامنے آیا ہے،بھارت سے واپس بھیجے گئے دو بچوں کے علاج کا ذمہ لے لیا

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی سرکار نے غیر انسانی اقدام اٹھاتے ہوئے زیر علاج مریضو ں کو بھی پاکستان واپس بھیج دیا ،دل کے عارضے میں مبتلا دو بچوں کے والد شاہد احمد نے مودی کے غیر انسانی اقدام کی سخت مذمت کی ،حیدر آباد ، سند ھ کے رہائشی شاہد احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میرے دو بچے پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور میں ان کا علاج کروانے بھارت گیا "21 اپریل 2025 کو ہم اپنے بچوں کے علاج کی غرض سے بھارتی شہر فرید آباد پہنچے ، 22اپریل کو دونوں بچوں کے میڈیکل ٹیسٹ کئے، 23 اپریل کو ڈاکٹر ز نے سرجری پلان کر لی ، 24 اپریل کو بھارتی "فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس” سے کال آئی کہ اگلے 48گھنٹوں میں ہم نے بھارت چھوڑنا ہے،مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں،میں آر ایس ایس اور مودی کے اس پاکستان دشمن اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں، ہندو مذہب بھی انسانیت کا درس دیتا ہے،میں نے اپنے بچوں کے علاج کے لئے 7 سال کی تگ و دو کے بعد بھارت کا ویزہ حاصل کیا ،دوران علاج بی جے پی کی حکومت نے ہمیں پاکستان واپس بھیج کر غیر اخلاقی اور غیر انسانی سلوک کیا ، میں آرمی چیف کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بچوں کو فوری علاج کی سہولیات فراہم کی، میں کہنا چاہوں گا AFICراولپنڈی میں میرے بچوں کا علاج میری اُمیدوں سے زیادہ بڑھ کر کیا جا رہا ، مجھے بچوں کے علاج معالجے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہے، شاہد احمد

    ڈاکٹر محبوب سلطان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس دو بچے عبداللہ (9سال) اور منسا (7سال ) زیر علاج ہیں دونوں بچے پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، دونوں بچوں کے دل میں سوراخ ہیں اور پھیپھڑوں کی نالیاں بھی کمزور ہیں، دونوں بچوں کی مرحلہ وار سرجری ہو گی ، اگلے چند دنوں میں پہلے مرحلے کی سرجری کو مکمل کیا جایا گیا ،ہمارے ہاں بچوں کی پیدائشی دل کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے، میرےخیال میں اس بیماری کے علاج کے لئے ان بچوں کو باہر جانے کی ضرورت نہیں ،ہم اس سے پہلے بھی کافی بچوں کی سرجریز کر چکے ہیں ،

    بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر ، اے ایف آئی سی کا کہنا ہے کہ اے ایف آئی سی پاکستان آرمی کا "اسٹیٹ آف دی آرٹ” ہسپتال ہے، اے ایف آئی سی میں دل کے پیچیدہ امراض کا علاج کیا جاتا ہے، جو بچے ہمارے پاس علاج کے لئے آتے ہیں ، اُن کے علاج کے لئے ہمارے پاس ساری سہولیات موجود ہیں ہم بین الاقوامی معیار کے مطابق سرجریز بھی مہیا کرتے ہیں ، جو دو بچےہمارے پاس علاج کے لئے آئے ہیں ، یہ Tetralogy of Fallot کی بیماری میں مبتلا ہیں، اس بیماری میں تھوڑی پیچیدگیاں ہیں کیونکہ پھیپھڑوں کی نالیاں چھوٹی ہیں ،ہم ان بچوں کی مرحلہ وار سرجریز کریں گے، یہ علاج بین الاقوامی اصولوں اور معیار کے بالکل عین مطابق ہے

  • محکمہ داخلہ پنجاب نے "محفوظ پنجاب ایکٹ 2025” کا مسودہ تیار کر لیا

    محکمہ داخلہ پنجاب نے "محفوظ پنجاب ایکٹ 2025” کا مسودہ تیار کر لیا

    محکمہ داخلہ پنجاب نے "محفوظ پنجاب ایکٹ 2025” کا مسودہ تیار کر لیا

    امن و امان کیلئے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کو 90 روز کیلئے حفاظتی تحویل میں لیا جاسکے گا،امن و امان کیلئے خطرہ بننے والوں کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کیے جاسکیں گے،سنگین جرائم میں ملوث افراد کے نام نو فلائی لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی جائے گی،امن و امان کیلئے خطرہ بننے والوں کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جاسکے گی،ایسے افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی سفارش وفاقی حکومت کو بھجوائی جاسکے گی،محفوظ پنجاب ایکٹ امن و امان کے قیام کیلئے شرپسند عناصر کے گرد گھیرا تنگ کریگا،محفوظ پنجاب ایکٹ صوبائی، ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کو اجتماعی فیصلہ سازی میں مدد دیگا

    "محفوظ پنجاب ایکٹ” میں قیام امن کیلئے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کو اضافی اختیارات تفویض کئے جائیں گے، ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) 1960 کے متبادل اختیارات تفویض ہوں گے ، کالعدم تنظیموں کے ممبران کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے،انٹیلیجنس کمیٹیوں کے احکامات کی خلاف ورزی پر 3 سے 5 سال قید اور 5 سے 10 لاکھ جرمانہ ہوگا،کسی شخص کی 3 ماہ سے زیادہ حفاظتی تحویل کی اجازت "صوبائی ریویو بورڈ” دیگا ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ صوبائی ریویو بورڈ تشکیل دیں گے،صوبائی ریویو بورڈ کے سربراہ اور دو ممبران ہائیکورٹ کے موجودہ یا سابقہ ججز ہوں گے،ایکٹ میں ضلع کی سطح تک انٹیلیجنس، کوآرڈینیشن اور عوامی رابطہ کمیٹیوں کی تشکیل کا خاکہ موجود ہے،سیکرٹری داخلہ پنجاب صوبائی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے،صوبائی انٹیلیجنس کمیٹی ممبران میں آئی جی پولیس، سپیشل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ایڈیشنل آئی جی CTD اور وفاقی حساس اداروں کے نمائندے شامل ہیں،ڈویژنل انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ڈویژنل کمشنر جبکہ ممبران میں سی سی پی او/ آر پی او، ایس پی سپیشل برانچ، ڈویژنل آفیسر CTD اور وفاقی حساس اداروں کے نمائندے شامل ہیں،ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کے سربراہ ڈپٹی کمشنر جبکہ ممبران میں ڈی پی او، ڈی ایس پی سپیشل برانچ، ڈسٹرکٹ آفیسر CTD اور وفاقی حساس اداروں کے نمائندے شامل ہیں،انٹیلیجنس کمیٹیاں ضلعی امن کمیٹیوں کی تشکیل کریں گی

    امن و امان کے قیام کیلئے بروقت فیصلے اور عملی اقدامات اٹھانا انٹیلیجنس کمیٹیوں کی ذمہ داری ہوگی،صوبائی امن اور عوامی تحفظ کیلئے خطرہ پیدا کرنے والے عناصر کیخلاف ایکشن لینا انٹیلیجنس کمیٹیوں کی ذمہ داری ہے، انٹیلیجنس کمیٹیاں نفرت انگیز مواد قبضے میں لے سکیں گی،ایکٹ کے تحت دہشت گردی اور سنگین جرائم کے کیسز میں ’’فیس لیس ٹربیونلز‘‘ قائم ہوں گے،اسکا مقصد پراسیکیوشن میں شامل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان، گواہان اور ٹربیونل کے ججز کی حفاظت یقینی بنانا ہے،خصوصی ٹربیونلز کے سربراہ ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہونگے

  • ٹانک،شہریوں کا  افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے  ہونے کا عزم

    ٹانک،شہریوں کا افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عزم

    ٹانک: سیکٹر ہیڈکوارٹر ٹانک میں علاقائی امن، استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم جرگہ منعقد ہوا۔

    جرگہ کی صدارت جی او سی 40 ڈویژن، میجر جنرل نیک نام بیگ نے کی۔ جرگہ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، عمائدین، معززین علاقہ اور صحافیوں نے بھرپور شرکت کی۔اس جرگہ کا مقصد ٹانک میں امن و امان کی فضا کو مزید مستحکم بنانا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت کو فروغ دینا تھا۔

    اپنے خطاب میں میجر جنرل نیک نام بیگ نے کہا کہ ٹانک کے لوگ محب وطن، غیرتمند اور پرامن ہیں جنہوں نے ہمیشہ قومی سلامتی اور علاقائی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹانک کی ترقی اور خوشحالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے تمام طبقات کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے بھارت کو پاکستان کا ازلی دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کی بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے قوم اپنی افواج کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔

    سیکٹر کمانڈر ایف سی ساوتھ، بریگیڈیئر سہیل باجوہ نے بھی خطاب کیا اور ٹانک کی عوامی خدمت اور حب الوطنی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹانک کی ترقی اداروں کی اولین ترجیح ہے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔

    جرگہ کے دوران علاقہ عمائدین نے بھی اپنے خیالات اور تجاویز پیش کیں اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ علاقائی امن، ترقی اور وطن کی حفاظت کے لیے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

  • بھارتی آبی جنگ،چناب کو خشک کرنے کا بھارتی منصوبہ

    بھارتی آبی جنگ،چناب کو خشک کرنے کا بھارتی منصوبہ

    بھارت نے یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے پاکستان پر آبی جنگ مسلط کر دی اور پاکستان آنے والے دریائے چناب کے پانی کو بڑے پیمانے پر روک کر اسے خشک کرناشروع کردیا ہے۔

    بھارت نے دریائے جہلم پر کشن گنگا منصوبے کے ذریعے پانی کا اخراج کم کرنے کی تیاری بھی شروع کردی ہے،سابق پاکستان انڈس واٹر کمشنر کا کہنا ہے کہ دونوں اقدامات نا صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہیں بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت، آبی تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بھی بن چکے ہیں، صورت حال سنگین ہورہی ہےاور صرف 2 دنوں میں دریائے چناب میں پانی کی آمد 40 ہزار 900 کیو سک سے کم ہو کر صرف 5 ہزار 300 کیوسک رہ گئی،بھارت چناب بیسن میں پکل دل (1,000 میگاواٹ)، کیرو (624 میگاواٹ)، کوار (540 میگاواٹ) سمیت دیگر منصوبے لگا رہا ہے جو 2027-28 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کہتے ہیں بھارتی اقدامات ’واٹر اسٹرائیک‘ ہیں جوسرجیکل سٹرائیک سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔،ماہرین کایہ بھی کہنا ہےکہ بھارت کے پاس دریاؤں کا پانی روکنے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے،اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی دریاؤں کاپانی آخرکہاں گیا؟ بھارت نے یہ پانی روک کرکہیں اسے اپنے کسانوں کے لیے استعمال کرنا تو شروع نہیں کردیا،بھارت کی طرف سے گزشتہ 3 سالوں کے دوران دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس نہ ہونے دینا اور پاکستان کو اس عرصے کے دوران بھارت جا کر بھارتی منصوبوں کا معائنہ کرنے کا موقع نہ ملنا، پاکستان کے خدشات کومزید تقویت دے رہا ہے۔

  • گوجرانوالہ،گولیاں چل گئیں، 5 افراد کی موت

    گوجرانوالہ،گولیاں چل گئیں، 5 افراد کی موت

    گوجرانوالہ – تھانہ تتلے عالی کے نواحی علاقے اڑتالی ورکاں میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ فائرنگ کے ایک خونی واقعے میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ دو زخمیوں نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ جاں بحق افراد کی شناخت عمر، بلا، عثمان اور دیگر کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمی شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ واقعہ دیرینہ دشمنی اور سابقہ رنجش کا نتیجہ ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم عمران نذیر ورک نے ذاتی دشمنی کی بنیاد پر فائرنگ کی اور پانچ افراد کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق مقتولین اور ملزم کے درمیان کافی عرصے سے دشمنی چلی آ رہی تھی، جس کا انجام یہ خونی واقعہ بنا۔

    جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد اسے گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔