Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خاتون کی نازیبا ویڈیو شیئر کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج

    خاتون کی نازیبا ویڈیو شیئر کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد، خاتون کی نازیبا ویڈیو اور تصاویر شئیر کرنے کا معاملہ،ڈاکٹر خان کے خلاف سائبر کرائم کے تحت درج مقدمہ ، ڈاکٹر خان کی دوسری بار بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی گئی

    عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل میں تاخیر کی ذمہ داری دفاعی وکیل کی جانب سے بار بار التواء پر ہے،ضمانت کی درخواست کسی قانونی بنیاد کے بغیر دائر کی گئی،سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ کیس کا ٹرائل 15 دن میں مکمل کیا جائے،سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا مقدمے میں تاخیر کی وجوہات کا دوبارہ جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے، عدالت نے کہا کہ ملزم کو اس مرحلے پر ضمانت دینا ٹرائل کو نقصان پہنچا سکتا ہے،مقدمے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، غیر ضروری التواء روکا جائے، درخواست گزار کا مقدمہ ضمانت کے زمرے میں نہیں آتا، تفتیش مکمل ہو چکی، مزید تفتیش کی ضرورت نہیں،درخواست گزار نے پہلے بھی ضمانت کی درخواست دائر کی جو مسترد ہو چکی ہے،پہلی ضمانت کی درخواست 19 اکتوبر 2024 کو مسترد کی گئی تھی، درخواست گزار پر الزام ہے کہ اس نے شکایت کنندہ کی تصاویر واٹس ایپ پر اس کے شوہر اور رشتہ داروں کو بھیجیں، صرف دو گواہان کا بیان باقی ہے، کیس اختتامی مراحل میں ہے،

  • لال قلعہ ہمارا،قبضہ دیا جائے،سلطانہ بیگم کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ میں مسترد

    لال قلعہ ہمارا،قبضہ دیا جائے،سلطانہ بیگم کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ میں مسترد

    مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ سلطانہ بیگم کی لال قلعے پر ملکیت کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ نے مسترد کر دی

    مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ، سلطانہ بیگم، نے دہلی کے تاریخی لال قلعے پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا، تاہم عدالتِ عظمیٰ نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کو قانونی اور تاریخی لحاظ سے ناقابلِ قبول قرار دیا۔چیف جسٹس سنجیو کھنّا کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سلطانہ بیگم کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ”اگر ہم لال قلعہ آپ کو دے دیں، تو کل آپ آگرہ اور فتح پور سیکری کے قلعوں پر بھی دعویٰ دائر کریں گی۔ یہ ملک کا قومی ورثہ ہے، ان مقامات کی تاریخی حیثیت اجتماعی ہے، نہ کہ کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت۔”

    سلطانہ بیگم کا دعویٰ تھا کہ وہ مغل خاندان کی حقیقی وارث ہیں، اور چونکہ لال قلعہ ان کے آباؤ اجداد کی رہائش گاہ تھا، اس لیے اس پر ان کا حق بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغل سلطنت کے خاتمے کے بعد ان کے خاندان کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور حکومت نے ان کے حقوق تسلیم نہیں کیے۔

    یہ پہلا موقع نہیں تھا جب سلطانہ بیگم نے عدالتی دروازہ کھٹکھٹایا ہو۔ اس سے قبل انہوں نے 2021 اور پھر 2024 میں دہلی ہائی کورٹ میں بھی اسی نوعیت کی درخواستیں دائر کی تھیں، جنہیں عدالت نے "150 سال کی غیر معمولی تاخیر” کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے تب بھی کہا تھا کہ تاریخی ورثے پر اتنے طویل وقت بعد حق جتانا قانونی طور پر ممکن نہیں۔

    لال قلعہ، جو 17ویں صدی میں مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کروایا تھا، آج بھارتی ریاست کا اہم قومی ورثہ تصور کیا جاتا ہے۔ ہر سال یومِ آزادی پر وزیرِاعظم اسی قلعے سے قومی پرچم لہراتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ لال قلعہ قومی تاریخ کا ایک مشترکہ ورثہ ہے، جس پر کسی ایک خاندان کا دعویٰ تسلیم کرنا آئینی و انتظامی لحاظ سے ممکن نہیں۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلطانہ بیگم نے کہا”میرا مقصد صرف انصاف کی تلاش تھی، نہ کہ شہرت یا دولت کی ہوس۔ میں نے اپنے خاندان کی عزت اور تاریخی سچائی کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔ عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ، لیکن سچ کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔”

  • اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    ادب کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے اور اہل قلم وہ چراغ ہیں جو اس روح کو روشنی بخشتے ہیں۔ پاکستان میں اگر ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی فلاح و بہبود کی بات کی جائے تو ایک نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے،آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،یہ تنظیم کسی معمولی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جو ایم ایم علی جیسے ادب دوست شخصیت نے دیکھا اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ایم ایم علی کا شمار پاکستان کے ادبی و فلاحی میدان کے چند نمایاں اور پُرجوش افراد میں ہوتا ہے۔ انہوں نے محض قلمکاروں کے لیے آواز بلند نہیں کی، بلکہ عملی طور پر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جو آج پورے پاکستان میں لکھاریوں کا مرکز بن چکا ہے۔ وہ خود ایک تجربہ کار ادیب اور منتظم ہیں، جن کے دل میں ادیبوں کے احترام اور ان کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،ایم ایم علی نے اپووا کی بنیاد ایک وژن کے تحت رکھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے بیشتر لکھاری تنہائی کا شکار ہیں، انہیں نہ تو پذیرائی ملتی ہے، نہ پلیٹ فارم اور نہ ہی کوئی منظم ادارہ، اس احساس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا ادارہ قائم کریں جو ان تمام محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی جب ادبی تنظیمیں محض مخصوص طبقات تک محدود تھیں۔ اپووا نے اس روایت کو توڑا اور ملک گیر سطح پر ادیبوں کو یکجا کیا۔

    اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے جب یہ پودا لگایا تو شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ تناور درخت بن کر پورے پاکستان کے ادیبوں، شاعروں اور لکھنے والوں کے لیے سایہ دار پناہ گاہ بن جائے گا۔ ایم ایم علی نے نہ صرف ایک تنظیم کی بنیاد رکھی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج ملک بھر کے ادیبوں کی آواز بن چکا ہے۔اپووا محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک ادبی تحریک ہے۔ اس تنظیم کا مقصد صرف تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ لکھاریوں کو وہ مقام دینا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپووا نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔ اپووا نے ملک کے مختلف شہروں میں درجنوں تقریبات کا انعقاد کیا، جن میں مشاعرے، نثری نشستیں، اور کتابوں کی رونمائی شامل ہے۔قابلِ قدر لکھاریوں اور شاعروں کو ایوارڈز سے نوازا گیا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔اپووا کی کاوشوں سے ادیبوں کو ملک کی نامور شخصیات سے ملنے کا موقع ملا، جس سے ان کے ادبی سفر کو نئی جہت ملی۔اپووا نے نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی سیشنز اور رہنمائی کا اہتمام کیا تاکہ ادب کی نئی نسل آگے بڑھے۔


    اپووا کا دائرہ کار اب صرف ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہا۔ یہ تنظیم آج پاکستان کے تمام صوبوں میں اپنے نمائندے اور اراکین رکھتی ہے۔ اس کا نیٹ ورک ہزاروں لکھنے والوں پر مشتمل ہے جو مختلف زبانوں اور اصناف میں کام کر رہے ہیں۔اپووا نے جہاں ایک منظم ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا، وہیں اس نے قومی سطح پر اپنی پہچان بھی بنائی۔ پاکستان کے ادبی حلقے اب اپووا کو ایک معتبر اور فعال تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ایم ایم علی کی انتھک محنت، خلوص، اور وژن کی بدولت اپووا آج ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ ہے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور منزل کا تعین واضح ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے۔

    ضلع چکوال کے شہر بلکسر کے باسی ایم ایم علی کی قیادت میں اپووا نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ ادب سے محبت رکھنے والا ہر فرد اپووا کو ایک ادبی انقلاب کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس انقلاب کا علمبردار ہے ایم ایم علی۔

    apwwa

  • وزیر ریلوے کی یو اے ای کے سفیر  سےملاقات

    وزیر ریلوے کی یو اے ای کے سفیر سےملاقات

    پاکستان ریلوے اور یو اے ای کے درمیان دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے آج اسلام آباد میں یو اے ای کے سفیر ایچ ای حماد عبید الزاب کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان ریلوے اور یو اے ای کے درمیان مال برداری کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔ملاقات کے دوران یو اے ای نے کراچی گیٹ وے ٹرمینل، جو ایڈ پورٹس گروپ کی ذیلی کمپنی کے زیر ملکیت ہے، اور پاکستان ریلوے کے درمیان مال بردار ٹرین سروسز کے آغاز کے لیے طویل المدتی معاہدے کی پیشکش کی۔ اس شراکت داری سے پاکستان ریلوے کے مال برداری کے شعبے میں مارکیٹ شیئر میں اضافہ ہوگا اور ملک کی ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کی صلاحیتوں میں مزید بہتری آئے گی۔

    یو اے ای نے پاکستان ریلوے کی مال برداری خدمات کو جدید بنانے کے لیے طویل المدتی تعاون کی پیشکش کی ہے، جس سے نہ صرف پاکستان ریلوے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط بھی مزید مستحکم ہوں گے۔اس معاہدے پر بات چیت کے لیے دونوں فریقوں نے مشترکہ فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت آگے کی کارروائی کی جائے گی۔ اس شراکت داری سے پاکستان ریلوے کی خدمات کی کارکردگی اور ہم آہنگی میں بہتری آئے گی، جس کا فائدہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ہوگا۔

  • وزیراعظم کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ٹیلیفونک رابطہ،سیکورٹی صورتحال پر بات چیت

    وزیراعظم کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ٹیلیفونک رابطہ،سیکورٹی صورتحال پر بات چیت

    وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیاء کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    اسلام آباد سے سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کی جنوبی ایشیاء کی حالیہ پیشرفت میں روابط کی کوششوں کو سراہا اور کشیدگی میں کمی اور تصادم سے بچنے کی ضرورت کا خیرمقدم کیا، وزیراعظم نے پہلگام واقعے پر غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کی پیشکش کا اعادہ کیا اور کہا بھارت اشتعال انگیز بیان بازی اور جنگ کو ہوا دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، وزیراعظم نے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا،وزیراعظم نے عالمی مالیاتی اداروں کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وزیر اعظم کو خطے میں امن کے لیے کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا، یو این سیکریٹری جنرل نے معاملے پر تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں رہنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

    قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی ، انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، پاکستان اور بھارت کے عوام کی امن مشنز میں کارکردگی پر شکرگزار ہوں،نیو یارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ دونوں ملکوں میں جنگ کی سی صورتِ حال میرے لیے باعثِ تکلیف ہے، پہلگام حملے کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتا ہوں،شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں، حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہیے، اِن حالات میں ایسی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے جس سے جنگ کا خطرہ بنے، ایسی فوجی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے جس کے قابو سے باہر ہو جانے کا خطرہ ہو، یہ اپنے آپ کو روکنے اور جنگ کے دہانے سے واپس لوٹنے کا وقت ہے، دونوں ملکوں کو پیغام دیا ہے کہ کسی بھی مسئلے کا فوجی حل کوئی حل نہیں ہوتا۔ دونوں ملکوں میں قیام امن کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا ہوں، اقوامِ متحدہ ایسی کاوش کی حمایت اور مدد کے لیے تیار ہے جس سے کشیدگی ختم ہو۔

  • ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات

    ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات

    اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی ہے

    اس ملاقات میں جغرافیائی،حکمت عملی کے ماحول پر تفصیلی اور تعمیری بات چیت ہوئی، جس میں دونوں ممالک کو درپیش سیکیورٹی کے چیلنجز پر خاص طور پر توجہ دی گئی۔ ملاقات کے دوران پاک-ایران سرحدی سیکیورٹی میکانزم کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ دو طرفہ ہم آہنگی کو مزید بڑھایا جا سکے۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران بھائی چارے کے رشتہ میں بندھے ہوئے ہمسایہ ممالک ہیں، جن کے درمیان تاریخ، ثقافت اور مذہب کے گہرے تعلقات ہیں۔

    دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ دو طرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مصروف رہیں گے اور مشترکہ طور پر خطے سے متعلق مسائل میں مثبت ترقی لانے میں مدد فراہم کریں گے۔ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے خطے میں امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور اس کی تعریف کی۔

  • بھارتی جیل میں قید مظفرآباد کے ٹرک ڈرائیور یوسف شاہ کی موت

    بھارتی جیل میں قید مظفرآباد کے ٹرک ڈرائیور یوسف شاہ کی موت

    بھارتی جیل میں قید مظفرآباد کے ٹرک ڈرائیور یوسف شاہ کا انتقال ہوگیا۔ مرحوم کی تدفین بھارتی ریاست آگرہ کی جیل میں ہی کردی گئی، جہاں وہ قید تھے۔ یوسف شاہ کے اہلخانہ کے مطابق، ان کی موت کی خبر سب سے پہلے ان کے وکیل نے دی۔

    یوسف شاہ کے بھتیجے، تنویر احمد نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے چچا کا انتقال 4 روز قبل ہوا تھا، لیکن اس خبر کی تصدیق حال ہی میں وکیل کی جانب سے کی گئی۔ تنویر احمد نے مزید بتایا کہ یوسف شاہ کو بھارت نے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور انہیں 2017 میں مقبوضہ کشمیر کے راستے بھارت کے زیر انتظام علاقوں میں اسمگلنگ کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے عزیز کی گرفتاری اور پھر انتقال کے حوالے سے بھارتی حکام کی جانب سے کم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    بھارتی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی حالت زار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ایک طویل عرصے سے زیر بحث ہیں۔ اس واقعے کی تفصیلات کا ابھی تک بھارتی حکام کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا۔یوسف شاہ کی موت پر مقامی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کے اہلخانہ انصاف کی درخواست کر رہے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا، آٹھ خارجی جہنم واصل،ایک جوان شہید

    خیبرپختونخوا، آٹھ خارجی جہنم واصل،ایک جوان شہید

    خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 8 خارجی جہنم واصل ہو گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اور 5 مئی کو مختلف علاقوں میں 8 خارجیوں کو جہنم واصل کیا گیا،شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خارجی انجام کو پہنچے، جنوبی وزیرستان میں بھی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے 2 خارجیوں کو ہلاک کیا، فائرنگ کے تبادلے میں نائیک مجاہد خان نے اپنی جان وطن عزیز پر قربان کر دی،نائیک مجاہد خان کی عمر 40 برس تھی تھی اورخیبر پختونخوا کے علاقے کوہاٹ کے باسی تھے،

    خیبر اور بنوں میں بھی سیکیورٹی فورسز اور خارجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ جس کے دوران 3 خارجی مارے گئے۔ مارے گئے خارجیوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد ہواہے، ہلاک دہشتگرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، شہداء کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں

  • پاک بحریہ نے بھارتی جاسوس طیارے کا سراغ لگاکر نگرانی میں رکھا

    پاک بحریہ نے بھارتی جاسوس طیارے کا سراغ لگاکر نگرانی میں رکھا

    پاک بحریہ نے گزشتہ شب بھارتی بحریہ کے ایک جاسوس طیارے P8I کا بروقت سراغ لگایا اور اسے مسلسل نگرانی میں رکھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتی طیارہ پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پرواز کر رہا تھا۔ پاک بحریہ کے ایئر ڈیفنس اور ریڈار سسٹمز نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے طیارے کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی۔بھارتی بحریہ کے زیر استعمال امریکی ساختہ P8I میری ٹائم پیٹرول ائیرکرافٹ کو عام طور پر نگرانی، انٹیلیجنس اکٹھا کرنے اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کی سرگرمیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔

    اس پیش رفت کے پس منظر میں خطے میں حالیہ کشیدگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سیاسی قیادت کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان ہر سطح پر موثر اور منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے اس واقعے کا الزام بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر عائد کیا، اور ردعمل میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کروانے کی پیشکش کی، جس پر بھارت کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ چین کے بعد ترکیہ اور سوئٹزر لینڈ سمیت متعدد ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

    تجزیہ نگاروں کے مطابق، پاک بحریہ کی بروقت کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنی فضائی اور بحری حدود کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے بلکہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور جواب دے سکتا ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کی لفٹ میں پھنس گئے

    مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کی لفٹ میں پھنس گئے

    اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کی لفٹ میں پھنس گئے، جس کے باعث وہ تقریباً 2 منٹ تک لفٹ میں ہی موجود رہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے پارلیمنٹ پہنچے تھے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اس واقعے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا اور ایوان میں موجود حکومتی بنچوں کی غیر سنجیدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ "ایسے حالات میں اجلاس میں سنجیدگی نظر نہیں آرہی۔ حکومتی بنچیں خالی ہیں اور ایوان میں کام کا ماحول نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ ایوان کو سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتی۔”اس کے ساتھ ہی مولانا نے حکومتی رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب حکومت کی طرف سے ایوان میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا، تو وہ اجلاس کا حصہ نہیں بن سکتے اور واک آؤٹ کر گئے۔