Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جوہر ٹاؤن ،طالبعلم پر روزے کی حالت میں طلبا کا تشدد

    جوہر ٹاؤن ،طالبعلم پر روزے کی حالت میں طلبا کا تشدد

    لاہور: جوہر ٹاؤن میں اسکول کے طالب علم پر تشدد، زبردستی سانس رکوانے کے الزام میں مقدمہ درج
    لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ایک نجی اسکول کے طالب علم پر مبینہ تشدد اور روزے کی حالت میں زبردستی سانس رکوانے کے سنگین واقعے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ اسکول کی انتظامیہ اور چھ طلبہ کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ طالب علم کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کے چھ لڑکوں، جن میں سبحان، معیز اور نوفل شامل ہیں، نے ان کے بیٹے پر تشدد کیا اور زبردستی اس کا سانس رکوایا۔ واقعہ کے وقت متاثرہ بچہ روزے سے تھا اور سانس کی رکاوٹ کے باعث وہ بے ہوش ہوگیا۔والد نے الزام عائد کیا کہ معیز نامی طالب علم نے ان کے بیٹے کو دھکا دیا جس کے باعث وہ زمین پر گرا اور اس کا دانت اور جبڑا ٹوٹ گیا۔ والد کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے واقعے کو دبانے کی کوشش کی اور زبردستی صلح پر مجبور کیا گیا، تاہم وہ اس صلح کو قبول نہیں کرتے۔ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ اور مذکورہ طلبہ نے متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دیں اور انہیں خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ متاثرہ بچے کا میڈیکل معائنہ کرایا گیا ہے جس میں تشدد کی تصدیق ہوئی ہے۔

    متاثرہ والد نے اسکول کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) اور پرنسپل کو بھی واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مقدمے میں شامل کیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف کی امید ہے اور وہ اس ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ متاثرہ بچے اور اس کے والدین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

  • ہنگلاج مندر ، لسبیلہ بلوچستان مذہبی رواداری کی اعلی مثال

    ہنگلاج مندر ، لسبیلہ بلوچستان مذہبی رواداری کی اعلی مثال

    ہنگلاج مندر ، لسبیلہ بلوچستان مذہبی رواداری کی اعلی مثال سامنے آئی ہے

    قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: آپ سب آزاد ہیں اپنی مسجدوں ، مندروں یا کسی اور عبادت گاہ میں جانے کے لئے، پاکستان مذہبی رواداری کے بتائے ہوئے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر تمام مذاہب کے پیروکاروں بشمول سکھ اور ہندوؤں کو خصوصی سہولت فراہم کرتا ہے، ہر سال دنیا بھر سے پاکستان میں سکھ اور ہندو اپنے مقدس مقامات کا دورہ کرتے ہیں اور عبادات کرتے ہیں،

    ہنگلاج مندر کی یاترا ہندو مذہب میں ایک اہم یاترا ہے،لسبیلہ کے قریب بلوچستان میں واقع ہنگلاج مندر کی یاترا کرنے ہر سال لاکھوں یاتری آتے ہیں، پاکستان کی حکومت، فوج اور تمام ادارے مل کر اس یاترا کو کامیابی سے منعقد کرتے ہیں،بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومت بی جے پی اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، ہنگلاج کی یاترا پاکستان میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کا مظہر ہے،پاکستان مستقبل میں بھی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے تمام اقلیتوں کے لئے دروازے کھلے رکھے گا ،

  • بھارتی فوج میں بغاوت،سکھ فوجیوں کا لڑنے سے انکار،آڈیو جاری

    بھارتی فوج میں بغاوت،سکھ فوجیوں کا لڑنے سے انکار،آڈیو جاری

    خالصتان کی حامی تنظیم سکھس فار جسٹس نے ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں ایک حاضر سروس بھارتی فوجی نے بھارتی فوج کے اندر شدید بے چینی اور بغاوت کے آثار ظاہر کیے ہیں۔ اس پیغام کے ذریعے کئی اہم انکشافات کیے گئے ہیں جن سے بھارتی فوجی نظام کی اندرونی حالت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    آڈیو پیغام میں مذکورہ بھارتی فوجی نے دعویٰ کیا ہے "بھارتی فوج میں بغاوت کی فضا بن رہی ہے، اور بغاوت کو روکنے کے لیے بھارتی کمانڈروں نے سپاہیوں اور افسروں کے موبائل فون ضبط کر لیے ہیں اور سپاہیوں کو کسی بھی قسم کے رابطے سے روک دیا گیا ہے۔”

    سکھس فار جسٹس نے واضح طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ سکھ فوجی پاکستان کے خلاف کسی بھی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ "یہ مودی حکومت کی سیاسی جنگ ہے، جس کا خالصتانی سکھوں سے کوئی تعلق نہیں۔”تنظیم کے مطابق، انہیں بھارتی فوجیوں کی جانب سے براہ راست پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سکھ فوجی پاکستان کے خلاف جنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اور بنگال سے تعلق رکھنے والے سپاہی بغاوت کریں گے اور اپنی پوسٹیں چھوڑ دیں گے۔ان علاقوں کے فوجی پاکستان آرمی کے پنجاب و کشمیر میں داخلے پر ان کا ساتھ دیں گے۔

    سکھس فار جسٹس نے حکومت پاکستان اور پاک افواج سے اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان آرمی پنجاب اور کشمیر میں داخل ہو۔پاکستانی فوج کا داخلہ شری گرو گرنتھ صاحب کی قیادت میں ہونا چاہیے۔ خالصتان اور پاکستان کے پرچم ایک ساتھ ٹینکوں اور توپوں پر لہرائیں۔پنجاب کے سکھ پاکستانی افواج کا خیرمقدم کریں گے۔پاکستان آرمی اور سکھ افواج مشترکہ طور پر دہلی کے لال قلعے پر خالصتان کا پرچم لہرائیں گی۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام جارحیت نہیں بلکہ ایک دفاعی قدم ہوگا، کیونکہ بھارتی حکومت پہلے ہی پاکستان کے خلاف آبی دہشتگردی کے ذریعے جنگ کا آغاز کر چکی ہے۔

    "نہ ہندی، نہ ہندوستان — دہلی بنے گا خالصتان”پیغام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو فوری فیصلہ کن فوجی قدم اٹھانا ہوگا تاکہ 220 ملین پاکستانی مسلمانوں کا دفاع ممکن ہو۔بھارت ایک نہیں، نو حصوں میں تقسیم ہو جائے۔

  • پاکستان کی بڑی کامیابی،سلامتی کونسل میں پاک،بھارت کشیدگی پر بند کمرہ اجلاس

    پاکستان کی بڑی کامیابی،سلامتی کونسل میں پاک،بھارت کشیدگی پر بند کمرہ اجلاس

    نیویارک: پاکستان نے سفارتی میدان میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی درخواست پر پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں بند کمرہ خصوصی اجلاس منعقد کیا، جس میں عالمی امن و سلامتی کو لاحق خدشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا جس میں سلامتی کونسل کے 15 اراکین نے شرکت کی، جن میں پانچ مستقل رکن ممالک بھی شامل تھے۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کی، جب کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی نگرانی میں پاکستانی مشن نے بھرپور تیاری کے ساتھ پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔پاکستانی وفد نے بھارت کی جانب سے دیے گئے اشتعال انگیز بیانات اور ان کے نتیجے میں علاقائی امن کو لاحق خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ خاص طور پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی جیسے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سفیر عاصم افتخار نے اجلاس کے دوران اس اقدام کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

    ذرائع کے مطابق، پاکستانی وفد نے مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ وفد نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے خطے میں امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انہوں نے بھارت کی جانب سے پہلگام حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس واقعے کی شفاف، آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات کے لیے مکمل تعاون پر آمادہ ہے۔

    مزید برآں، سفیر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ پالیسیوں اور جارحانہ رویے سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے، اور یہ وقت ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً سلامتی کونسل، اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔

  • پہلگام ڈرامہ کے بعد بلوچستان میں بھارتی دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب

    پہلگام ڈرامہ کے بعد بلوچستان میں بھارتی دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب

    بھارت کی پہلگام فالس فلیگ میں ناکامی کے بعد بلوچستان میں بڑی دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی جانب سے بلوچستان میں تخریب کاری کا نیا منصوبہ بے نقاب ہوگیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام اور خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

    انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ناکام فالس فلیگ آپریشن "پہلگام واقعہ” کے بعد پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ادارے را نے اپنی پراکسی تنظیموں، بالخصوص بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، فتنہ الخوارج اور غیرقانونی افغان باشندوں کو کوئٹہ، گوادر اور خضدار میں دہشت گرد کارروائیاں انجام دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو بلوچستان منتقل کیا ہے تاکہ وہ ہدف بنائے گئے علاقوں میں کارروائیاں انجام دے سکیں۔ ان دہشتگردوں کو مقامی علاقوں کی مکمل ریکی بھی کروائی گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دہشتگرد خودکش حملوں میں گاڑی یا موٹرسائیکل کا استعمال کر سکتے ہیں۔

    حساس اداروں کی جانب سے بروقت اطلاع ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح چوکنا ہیں اور دہشتگردی کے اس نئے بھارتی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بھارت کے ان عزائم کے ٹھوس شواہد پہلے ہی منظر عام پر آ چکے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت نے پہلگام واقعے میں اپنی ناکامی کا بدلہ پاکستان سے لینے کی کوشش کی ہے۔ یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام میں ایک سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ بھارتی حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے بغیر حسب روایت پاکستان پر الزام عائد کیا، جو بین الاقوامی سطح پر قابل مذمت ہے۔پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا یکطرفہ اعلان کیا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری کو آگاہ کیا کہ بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    پاکستانی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو بھارت کی پاکستان مخالف دہشتگرد سرگرمیوں اور خطے میں امن تباہ کرنے کی کوششوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

  • پہلگام ڈرامہ،بھارت ایک اور الزام جھوٹا ثابت ہو گیا

    پہلگام ڈرامہ،بھارت ایک اور الزام جھوٹا ثابت ہو گیا

    پاکستان پر بھارتی الزام جھوٹ ثابت: آزاد کشمیر میں دہشت گرد ٹریننگ کیمپ کا کوئی شواہد نہیں

    بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے بیلانور شاہ میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت نے اس الزام کو جواز بنا کر پہلگام واقعے کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن جب ان الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے پاکستانی اور عالمی میڈیا نے بیلانور شاہ کا دورہ کیا، تو ان کی ساری باتیں بے بنیاد ثابت ہوئیں۔

    بیلانور شاہ، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے تقریباً 26 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، میں نہ تو دہشت گردوں کے کسی تربیتی کیمپ کا کوئی شواہد ملے اور نہ ہی کسی ایسی سرگرمی کا پتا چلا جس سے بھارت کے الزامات کی تصدیق ہو سکے۔ اس کے برعکس، علاقے میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور وہاں کا ماحول نہایت پرامن ہے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہم 37 سال سے یہاں رہ رہے ہیں اور ہم نے کبھی بھی اس علاقے میں کسی قسم کے دہشت گردانہ تربیتی کیمپ نہیں دیکھے۔ یہاں لوگ اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہیں اور امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔”ایک سیاح نے کہا کہ "ہم یہاں تفریح کے لیے آئے تھے، اور ہم نے دیکھا کہ بچے اسکولوں میں جا رہے ہیں، ایک کالج بھی یہاں موجود ہے اور یہاں کی تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔”

    علاقے میں موجود تعلیمی اداروں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ بیلانور شاہ کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں بچے خوشی خوشی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایک خاتون پرنسپل نے بتایا کہ "ہم اس ادارے کو پانچ سال سے چلا رہے ہیں، یہاں پر کسی بھی قسم کی غیر معمولی سرگرمی نہیں ہوئی، اور ہم نے ہمیشہ ایک پرامن ماحول میں تدریس کی ہے۔”

    اس کے علاوہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھارتی الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔ "بھارت کی ساری حکمت عملی بچگانہ اور تخیلاتی ہے۔ یہاں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے، اور دہشت گردوں کے کیمپوں کا وجود کسی صورت میں ثابت نہیں ہوتا۔”عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ "ہم یہاں آئے ہیں تاکہ ہم دنیا کو یہ بتا سکیں کہ بھارت کا یہ دعویٰ محض جھوٹ ہے۔ ہم نے ان کی تردید کی ہے اور یہاں آ کر خود اس کا مشاہدہ کیا ہے۔”

    بیلانور شاہ کے علاقے میں، جہاں بھارت نے دہشت گردی کی تربیت کے کیمپوں کا دعویٰ کیا تھا، وہاں کچھ بھی غیر معمولی نہیں پایا گیا۔ اس کے برعکس، علاقے کا قدرتی حسن اور یہاں کی معمولات زندگی یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی الزامات سراسر من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔یہ تمام حقائق اس بات کا غماز ہیں کہ بھارت کا یہ پراپیگنڈہ دراصل اس کے جنگی جنون کا حصہ ہے، اور اس کا مقصد پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر نفرت پھیلانا ہے۔

  • سندھ ہائیکورٹ،نقیب اللہ قتل کیس،راؤ انوار کی بریت کیخلاف اپیل پر سماعت ملتوی

    سندھ ہائیکورٹ،نقیب اللہ قتل کیس،راؤ انوار کی بریت کیخلاف اپیل پر سماعت ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ،نقیب اللہ قتل کیس ،سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ودیگر کی بریت کے خلاف اپیل پرسماعت ہوئی

    وکیل صفائی نے کہا کہ کیس کی فائل مکمل پڑھنےکےبعد ہی جواب دے سکیں گے، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ فردجرم عائد ہونےکے بعد ثبوت خراب کئےگئے، جسٹس عمر سیال نے کہا کہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ استغاثہ ملزموں پر الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ استغاثہ اغواء اور قتل کے الزام کو بھی ثابت کرنے میں ناکام ہوا یہ لکھا ہے، کنفیوژن ہے تو کسی شخص کو بری الزمہ نہیں کیا جاسکتا ، جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ہم لوگ جان چھڑانے والے جج نہیں ہیں ،وکیل نےکہا کہ ایک گواہ بھی موجود تھا اغواء کے واقعے کا جس کو بھی سنا نہیں گیا،عدالت کی جانب سے 19 مئی تک سماعت ملتوی کردی گئی،تمام فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا گیا

    اپیل مقتول نقیب اللہ کے بھائی عالم شیر کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ انسداد دہشت گردی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،عدالت نے 2023 میں عدم شواہد کی بناء پر راؤ انوار سمیت 18 ملزمان کو بری کردیا تھا

  • سندھ ہائیکورٹ،سابق ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ،ضمانت منظور

    سندھ ہائیکورٹ،سابق ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ،ضمانت منظور

    سندھ ہائیکورٹ،سابق ایس ایچ او سچل شیخ محمد شعیب عرف شوٹر کے خلاف اغوا برائے تاوان کا مقدمہ،عدالت نے سابق ایس ایچ او سچل شیخ محمد شعیب کی ضمانت منظور کرلی

    عدالت نے ملزم کو 5,5 لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا، دوران سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ پولیس افسر کے خلاف شہری کے اغوا برائے تاوان کا مقدمہ ہے،مغوی تاحال بازیاب نہیں ہوسکا ہے، وکیل مدعی نےکہا کہ مغوی محمد شریف رنگ کرنے کا کام کرتا تھا، محمد شریف کی رہائی کے عوض پانچ لاکھ روپے مانگ رہے تھے، محمد شریف کو اغواء کرکے دو دن بعد گھر بھی لائے تھے،ملزمان نے کہا عدالت میں درخواست لے لیں تو شریف کو رہا کردیں گے، درخواست واپس لینے کے باوجود شہری کو رہا نہیں کیا گیا،
    محمد شریف کو 2014 میں مبینہ ٹاؤن تھانے کی حدود سے اغواء کیا گیا تھا،

  • میانی صاحب قبرستان میں چھپے دو ریکارڈ یافتہ  ملزم گرفتار

    میانی صاحب قبرستان میں چھپے دو ریکارڈ یافتہ ملزم گرفتار

    مزنگ پولیس کا اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف مؤثر ایکشن، واردات کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی

    لاہور، مزنگ پولیس نے اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے موٹر سائیکل چوری کی منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران میانی صاحب قبرستان میں چھپے دو ریکارڈ یافتہ موٹر سائیکل چور گرفتار کر لیے گئے۔

    ڈی ایس پی عرفان اکبر بٹ کے مطابق گرفتار ملزمان سجاد اور اس کا ساتھی حیدر پولیس کو مختلف وارداتوں میں مطلوب تھے۔ دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ دونوں ملزمان مزنگ، لٹن روڈ اور لاہور کے دیگر علاقوں میں موٹر سائیکل چوری اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔پولیس کے مطابق ملزمان چوری کی وارداتوں میں مہارت رکھتے تھے اور موٹر سائیکل کا لاک کھولنے کے لیے ماسٹر چابیاں استعمال کرتے تھے۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے دو چوری شدہ موٹر سائیکلیں، غیر قانونی اسلحہ اور ماسٹر چابیاں برآمد کی گئیں۔پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جس سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

    ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے متحرک کارروائی پر ایس ایچ او مزنگ اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • سائبر جنگ بھی پاکستان جیت گیا،پاکستانی ہیکرز کے بھارتی دفاعی اداروں پر سائبر حملے

    سائبر جنگ بھی پاکستان جیت گیا،پاکستانی ہیکرز کے بھارتی دفاعی اداروں پر سائبر حملے

    پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، اور اب ایک نیا خطرہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے ، سائبر جنگ۔ بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق، پاکستانی ہیکرز نے متعدد بھارتی دفاعی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں حساس معلومات، بشمول دفاعی اہلکاروں کے لاگ اِن ڈیٹا اور پاس ورڈز، افشاء ہو چکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ہیکنگ گروپ "پاکستان سائبر فورس” نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "ملٹری انجینئر سروسز ” اور "منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انیلیسز” کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اس گروپ نے "آرمورڈ وہیکل نگم لمیٹڈ” (AVNL) کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کی بھی کوشش کی، جو کہ وزارت دفاع کے تحت ایک پبلک سیکٹر ادارہ ہے۔ ان حملوں کے بعد AVNL کی ویب سائٹ کو آف لائن کر دیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی آڈٹ کے ذریعے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    پاکستان سائبر فورس کے X (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل، جسے اب بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے، نے ایک پوسٹ میں AVNL کی ویب سائٹ کا ہیک شدہ اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ تصویر میں بھارتی ٹینک کو پاکستانی ٹینک سے بدل دیا گیا تھا۔ ایک اور پوسٹ میں مبینہ طور پر 1,600 بھارتی دفاعی اہلکاروں کے ناموں کی فہرست شیئر کی گئی، جس کے ساتھ لکھا تھا:
    "Hacked. Your security is illusion. MES data owned.”
    گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 10 جی بی سے زائد حساس ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔

    دفاعی ماہرین اور سائبر سیکیورٹی ٹیمیں مسلسل سائبر اسپیس کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ پاکستان سے جڑے ممکنہ مزید حملوں کو روکا جا سکے۔ بھارتی حکومت نے دفاعی ویب سائٹس کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے اور حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی ہیکرز نے بھارتی دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ ماضی میں "آرمی پبلک اسکول” سری نگر اور رانی کھیت، "آرمی ویلفیئر ہاؤسنگ آرگنائزیشن” (AWHO) اور "انڈین ایئر فورس پلیسمنٹ آرگنائزیشن” کی ویب سائٹس بھی حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سائبر حملے اب روایتی جنگوں کا حصہ بن چکے ہیں، اور پہلگام حملے کے بعد سائبر محاذ پر بھی بھارت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔