Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے بھی "ڈر” گیا،پانچ یوٹیوب چینل بند

    بھارت ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے بھی "ڈر” گیا،پانچ یوٹیوب چینل بند

    بھارت پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے یوٹیوب چینل سے بھی خطرہ محسوس کرنےلگا، ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل بھارت میں بند کر دیئے گئے

    مودی سرکار نے ڈاکٹر اسرار احمد کے نام سے بنائے گئے پانچ یوٹیوب چینل بند کر دیئے، ان چینل پر ڈاکٹر اسرار احمد کی مختلف تقاریر، خطبات نشر کئے جاتے تھے،ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم پاکستان کے ایک معروف مذہبی اسکالر تھے، جنہوں نے اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات اور سیاسی شعور کی ترویج کی۔ وہ نہ صرف ایک معزز مفکر تھے بلکہ اُن کے بیانات اور لیکچرز نے دنیا بھر میں ایک وسیع حلقے کو متاثر کیا۔ تاہم، بھارت میں اُن کے یوٹیوب چینل کا بند ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے بہت سے لوگوں کو چونکا دیا ہے اور یہ مسئلہ بھارت کے اظہار رائے کی آزادی پر سوال اٹھاتا ہے۔بھارت نے پاکستانی میڈیا، اینکرز، سیاسی شخصیات کےیوٹیوب چینل، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں بند کئے تو اب ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل سے بھی بھارت کو تکلیف ہونے لگی،

    ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنے بیانات میں ہمیشہ اسلامی معاشرتی نظام اور اس کے عدلیہ، معیشت، اور سیاست میں کردار کی اہمیت پر بات کی، اُن کی شخصیت نے مختلف عالمی مسائل پر ایک گہری بصیرت فراہم کی، خصوصاً مسلمانوں کے حقوق اور عالمی سیاست میں اسلام کے کردار کو سامنے لانے کی کوشش کی۔بھارت میں اُن کے یوٹیوب چینل کو بند کر دینا اس بات کا غماز ہے کہ حکومتیں ایسے افراد سے خوفزدہ ہیں جو اپنے خیالات کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کرتے ہیں۔

    پاکستانی شخصیات نے بھارت کی جانب سے ڈاکٹر اسرار احمد سمیت دیگر یوٹیوب چینل کی بندش کی شدید مذمت کی ہے اور اس عمل کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی شخصیات نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارت چاہے جتنا بھی دباؤ ڈالے یا اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں لگائے، حقیقت کبھی چھپ نہیں سکتی اور سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے۔سماجی کارکنوں نے بھی اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر بھارت کو سچ اور حقیقت سے اتنی تکلیف ہے تو وہ دنیا کے سامنے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اپنے خیالات اور رائے کا اظہار کرنے کا موقع ملتا ہے، اور اس پر پابندیاں لگا کر بھارت عالمی سطح پر اپنی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

  • بگلیہار ڈیم ، پانی  روکنا بھارتی آبی جارحیت،منہ توڑ جواب ملے گا، خالد مسعود سندھو

    بگلیہار ڈیم ، پانی روکنا بھارتی آبی جارحیت،منہ توڑ جواب ملے گا، خالد مسعود سندھو

    پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرنے والا ہندوستان خود تنہا ہوگیا ،صدرمرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ممکنہ بھارتی جارحیت کیخلاف قوم متحد و بیدار ہو چکی ہے، کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لئے پاکستان کے شاہین تیار ہیں اور پاکستان کا ہر جوان خود کو وطن عزیز کے دفاع کے لئے جان قربان کرنا سعادت سمجھتا ہے ،بھارت کا بگلیہار ڈیم کے ذریعے پانی کی 90 فیصد مقدار روکنا صرف سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی، آبی جارحیت ہے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پانی زندگی ہے، اور اس پر قبضہ کرنا کسی بھی قوم کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ بھارت کی آبی دہشت گردی ناقابل قبول ہے، بھارت کا اقدام پاکستان کی زراعت پر حملہ اور ایک کھلی آبی جنگ کا اعلان ہے۔ اگر دشمن پانی بند کرے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، قوم کو متحد کریں گے، پانی کا حق بزور بازو چھینیں گے،پانی کی جنگ ہمارے وجود کی جنگ ہے، اور ہم اسے ہر حال میں جیتیں گے،

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان تم سندھ طاس معاہدہ ختم کرو ہم شملہ معاہدہ ختم کرینگے ،اگر ہم پرجنگ مسلّط کر دی جائے تو پھر انجام دنیا دیکھے گی، پہلگام فالس فلیگ پر ہندوستان کابیانیہ ختم ہوگیا، پاکستان کے بیانیے کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے،پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرنے والا ہندوستان خود تنہا ہوگیا ہے،پاکستانی قوم پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خون کا قطرہ قطرہ بہانے کے لیے تیارہے.

  • پاکستانی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پوری طاقت سے جواب دیں گے، آرمی چیف

    پاکستانی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پوری طاقت سے جواب دیں گے، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات

    چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری) نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں 15ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات کی۔ اس ورکشاپ کا مقصد بلوچستان کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو قومی اور صوبائی نوعیت کے اہم معاملات سے روشناس کرانا ہے۔

    نیشنل ورکشاپ بلوچستان کا آغاز 2016 میں ہوا تھا۔ یہ ورکشاپ بلوچستان کے پارلیمنٹرینز، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی کے ارکان، نوجوانوں، ماہرین تعلیم اور میڈیا کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہے۔ ورکشاپ میں مختلف سیمینارز، گروپ مباحثے، انٹریکشن سیشنز اور ملک کے مختلف حصوں کے دورے شامل ہوتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بلوچستان کی ابھرتی ہوئی قیادت کو قومی و صوبائی معاملات کی سمجھ بوجھ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ایک متحد اور مربوط نقطہ نظر اپنا سکیں۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں حکومت کی بلوچستان کی سماجی و اقتصادی بہتری کے لیے جاری کاوشوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "بلوچستان میں جاری اور منصوبہ بند ترقیاتی اقدامات کی وسعت اور اثرات جھوٹی پروپیگنڈہ مہم کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ کئی ترقیاتی منصوبے اب ثمر آور ہو چکے ہیں، جن کے ثمرات براہِ راست بلوچستان کے عوام کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے سول سوسائٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بلوچستان میں امن و امان کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر غیر ملکی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گردی کو قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن عناصر کے مذموم عزائم، جو خوف، انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو قومی اتحاد کے ساتھ جاری رکھے گا۔ "دہشت گردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہوتا،” آرمی چیف نے واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ "جو گروہ بلوچ شناخت کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں، وہ دراصل بلوچ قوم کی عزت اور حب الوطنی پر دھبہ ہیں۔”

    آرمی چیف نے پاکستان کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن کی خواہش کا اعادہ کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان اپنی قومی عزت و وقار اور عوام کی بھلائی کے تحفظ کے لیے پوری طاقت سے جواب دے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے، عوام کی مکمل حمایت سے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ورکشاپ کا اختتام ایک جاندار اور بے تکلف سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء کو آرمی چیف سے براہ راست سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔

  • وزیراعظم سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    وزیراعظم سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے آج وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات ہوئی۔

    ملاقات میں وزیراعظم نے برطانوی ہائی کمشنر کو پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر اس واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارت کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے واقعے کی اعلی سطح کی شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی اپنی پیشکش کا اعادہ کیا اور برطانیہ کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کی اقتصادی ترقی ہے اور پاکستان کبھی بھی ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ پاکستان اور بھارت سے اپنے دوستانہ سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کی کشیدہ صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ برطانیہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ، فیصلہ محفوظ ، فیصلہ اسی ہفتے سنایا جائیگا

    فوجی عدالتوں کے کیس میں اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے دلائل دیئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں ایک سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو گئی تھی،ایک سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو 2007ء میں قتل کر دی گئی تھیں،رد عمل میں اس پارٹی نے وہ نہیں کیا جو 9 مئی کو ہوا،جمہوریت بحالی تحریک میں ساری جماعتوں پر پابندی تھی،ایم آر ڈی کی تمام قیادت پابند سلاسل تھی، اصغر خان تین ساڑھے تین سال تک نظر بند رہے، اس دوران بھی 9 مئی جیسا قدم کسی نے نہیں اٹھایا گیا، 9 مئی کو ری ایکشن میں بھی اگر یہ ہوا تو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہمارا ملک ایک عام ملک نہیں ہے،جیوگرافی کی وجہ سے ہمیں خطرات کا سامنا رہتا ہے، جناح ہاؤس حملہ میں غفلت برتنے پر فوج نے محکمانہ کارروائی بھی کی،تین اعلیٰ افسران کو بغیر پنشن اور مراعات ریٹائر کیا گیا،بغیر پنشن ریٹائر ہونے والوں میں ایک لیفٹیننٹ جنرل، ایک برگیڈیئر، لیفٹیننٹ کرنل شامل ہیں، 14 افسران کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا،ناپسندیدگی اور عدم اعتماد کا مطلب ہے انہیں مزید کوئی ترقی نہیں مل سکتی،

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا فوج نے کسی افسر کیخلاف فوجداری کارروائی بھی کی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجداری کارروائی تب ہوتی جب جرم کیا ہوتا،محکمانہ کارروائی 9 مئی کا واقعہ نہ روکنے پر کی گئی،

  • نومئی مقدمہ، 20 ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    نومئی مقدمہ، 20 ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے 9 مئی 2023 کو ہونے والے پرتشدد فسادات میں ملوث 20 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنا دی۔ عدالت نے تمام ملزمان کو 6،6 ماہ قیدِ بامشقت اور 50،50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    ان تمام ملزمان نے دورانِ ٹرائل اپنے جرم کا اعتراف کیا اور دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اقبالی بیانات قلمبند کرائے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے اپنے بیانات آزاد مرضی سے، بغیر کسی دباؤ یا جبر کے دیے۔

    یاد رہے کہ ان تمام ملزمان کو گزشتہ دو سال سے ضمانت پر رہا رکھا گیا تھا، تاہم ٹرائل کے دوران انہوں نے اعترافِ جرم کرلیا جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے انہیں سزا دی۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کو ہونے والے واقعات قومی سلامتی اور قانون کی عملداری کے خلاف سنگین حملہ تھے، جن میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی گئی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • وزیراعلی پنجاب  کی انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت

    وزیراعلی پنجاب کی انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے انڈیا سے واپس آنے والے پاکستانی مریضوں کے لیے بڑا ریلیف پیکج دیتے ہوئے اُن کے مکمل مفت علاج کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے باعث مشکلات کا شکار ہونے والے شہریوں کو فوری اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق حالیہ سرحدی کشیدگی اور سفری پابندیوں کے باعث متعدد پاکستانی شہری جو علاج کے لیے بھارت گئے تھے، وہاں سے بغیر علاج مکمل کرائے وطن واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔ ان میں جگر اور گردے کی پیوندکاری، دل کے امراض، کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریض شامل ہیں، جن کا علاج بھارت میں جاری تھا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ ان تمام مریضوں کی فوری نشاندہی کی جائے اور انہیں اعلیٰ معیار کی مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا”انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا علاج مکمل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہم ان کے لیے پنجاب کے بہترین اسپتالوں اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات مہیا کریں گے۔”

    وزیراعلیٰ نے صحت کے شعبے سے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیں، جو ان مریضوں کی کیفیت کا جائزہ لے کر فوری علاج کے لیے سفارشات پیش کرے۔ اس کے علاوہ، مریضوں کے لیے نفسیاتی معاونت، ادویات اور دیگر سہولیات بھی مہیا کی جائیں گی تاکہ وہ جسمانی و ذہنی طور پر جلد صحتیاب ہو سکیں۔محکمہ صحت پنجاب نے فوری طور پر مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے اور مختلف اسپتالوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ایسے مریضوں کو ترجیحی بنیادوں پر داخل کریں اور ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔

  • پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان کا ایک اور میزائل ’’فتح‘‘ کا کامیاب تجربہ، میزائل زمین سے زمین پر 140 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

    پاکستان نے آج اپنے دفاعی نظام میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے "فتح سیریز” کے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ جاری جنگی مشق "ایکس انڈس” کا حصہ تھا، جس کا مقصد افواج کی آپریشنل تیاری کو یقینی بنانا اور میزائل کے کلیدی تکنیکی پہلوؤں کی جانچ کرنا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، "فتح” میزائل 120 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجربے کے دوران میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم اور بڑھتی ہوئی نشانے کی درستگی کو جانچا گیا، جس میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔

    تربیتی تجربے کو پاکستان آرمی کے سینیئر افسران، اسٹریٹیجک اداروں کے سائنسدانوں اور انجینئروں نے مشاہدہ کیا۔ ان سب نے میزائل کے تمام تکنیکی پہلوؤں کی کامیاب آزمائش پر اطمینان کا اظہار کیا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف نے تجربے میں شامل تمام افسران، جوانوں، سائنسدانوں اور انجینئروں کو کامیاب تجربے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ مہارت اور مکمل جنگی تیاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ہماری افواج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    یہ کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • جارحیت کا آغاز نہیں،البتہ جواب "بھرپور” ہو گا،نائب وزیراعظم

    جارحیت کا آغاز نہیں،البتہ جواب "بھرپور” ہو گا،نائب وزیراعظم

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دنیا پر ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن کا داعی ملک ہے اور کسی بھی جارحیت کا آغاز نہیں کرے گا، لیکن اگر بھارت یا کسی اور جانب سے جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان اپنی پوری قومی طاقت اور عزم کے ساتھ اس کا جواب دے گا۔

    انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا کا خطہ سنگین خطرات اور کشیدگی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی ہم سب کا مشترکہ ہدف ہونا چاہیے اور پاکستان ہمیشہ اس مشن پر گامزن رہا ہے۔اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں بھارت کی جانب سے حالیہ "پہلگام فالس فلیگ آپریشن” پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈرامہ بھارت نے اپنی اندرونی ناکامیوں اور جاری آزادی کی تحریکوں سے توجہ ہٹانے کے لیے رچایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کئی ریاستوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور پورے خطے کو خطرات میں دھکیل رہا ہے۔

    وزیر خارجہ نے بتایا کہ بھارتی اشتعال انگیزی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا فوری اجلاس بلایا گیا، جس میں اہم فیصلے کیے گئے اور ان پر فوری عملدرآمد بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھارت کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے اور اس کا یہ اقدام خطے کو جنگ کی طرف لے جانے کی کوشش ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں مختلف ممالک کی قیادت سے رابطہ کیا ہے اور وزارت خارجہ میں کئی ممالک کے سفیروں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کو خطے کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو خطے میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔نائب وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں مقبوضہ علاقوں کے عوام کو حق خودارادیت فراہم کرنے کی ضمانت دیتی ہیں، لیکن بھارت ان قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کسی صورت پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا، اور اس کا حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ممکن ہے۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کی مہم جوئی کو لمحوں میں ناکام بنایا اور مستقبل میں بھی کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان خطے میں امن کا علمبردار ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان قومی غیرت، اتحاد اور عسکری طاقت کے ساتھ دشمن کو اس کی زبان میں جواب دے گا۔

  • پہلگام فالس فلیگ: سی این این کے  صحافی  کا ایل او سی  کا دورہ

    پہلگام فالس فلیگ: سی این این کے صحافی کا ایل او سی کا دورہ

    بین الاقوامی سفارتی امور کے معروف ایڈیٹر اور امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے وابستہ نک رابرٹسن نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع سرجیوار گاؤں کا دورہ کیا، جہاں حالیہ دنوں میں بھارتی فوج کے مبینہ فیک انکاونٹر میں دو کشمیری شہریوں کو شہید کیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق، نک رابرٹسن نے محمد فاروق شہید اور محمد دین شہید کے گاؤں کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے شہداء کے لواحقین سے تفصیلی انٹرویوز کیے، جنہوں نے سی این این کو بھارتی فوج کے مظالم اور اس فیک انکاونٹر کی سنگینی پر دل دہلا دینے والے انکشافات فراہم کیے۔عینی شاہدین نے بھی نک رابرٹسن کو بتایا کہ 24 اپریل 2025 کو بھارتی افواج نے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا تصادم کے، آزاد کشمیر کے رہائشی محمد فاروق اور محمد دین کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں ان کے قتل کو ایک "انکاونٹر” کا نام دیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سی این این کی ٹیم کو گاؤں کے دیگر باسیوں نے بھی بھارتی فوج کی طرف سے کیے گئے مظالم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ نک رابرٹسن نے اپنی رپورٹ کے لیے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے اس نوعیت کے فیک انکاونٹرز اب صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں رہے، بلکہ یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر ایک سنجیدہ انسانی حقوق کا بحران بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائیں۔شہداء کے لواحقین نے بین الاقوامی میڈیا کے توسط سے دنیا بھر کے انصاف پسند حلقوں سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف دلایا جائے اور بھارتی فوج کے ان مبینہ جنگی جرائم کو عالمی عدالت میں اٹھایا جائے۔