Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پہلگام فالس فلیگ: سی این این کے  صحافی  کا ایل او سی  کا دورہ

    پہلگام فالس فلیگ: سی این این کے صحافی کا ایل او سی کا دورہ

    بین الاقوامی سفارتی امور کے معروف ایڈیٹر اور امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے وابستہ نک رابرٹسن نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع سرجیوار گاؤں کا دورہ کیا، جہاں حالیہ دنوں میں بھارتی فوج کے مبینہ فیک انکاونٹر میں دو کشمیری شہریوں کو شہید کیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق، نک رابرٹسن نے محمد فاروق شہید اور محمد دین شہید کے گاؤں کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں انہوں نے شہداء کے لواحقین سے تفصیلی انٹرویوز کیے، جنہوں نے سی این این کو بھارتی فوج کے مظالم اور اس فیک انکاونٹر کی سنگینی پر دل دہلا دینے والے انکشافات فراہم کیے۔عینی شاہدین نے بھی نک رابرٹسن کو بتایا کہ 24 اپریل 2025 کو بھارتی افواج نے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا تصادم کے، آزاد کشمیر کے رہائشی محمد فاروق اور محمد دین کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں ان کے قتل کو ایک "انکاونٹر” کا نام دیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سی این این کی ٹیم کو گاؤں کے دیگر باسیوں نے بھی بھارتی فوج کی طرف سے کیے گئے مظالم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ نک رابرٹسن نے اپنی رپورٹ کے لیے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے اس نوعیت کے فیک انکاونٹرز اب صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں رہے، بلکہ یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر ایک سنجیدہ انسانی حقوق کا بحران بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائیں۔شہداء کے لواحقین نے بین الاقوامی میڈیا کے توسط سے دنیا بھر کے انصاف پسند حلقوں سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف دلایا جائے اور بھارتی فوج کے ان مبینہ جنگی جرائم کو عالمی عدالت میں اٹھایا جائے۔

  • ہندوؤں کو مار کر مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا مودی کا پرانا ہتھکنڈہ ہے،ہندوخاتون

    ہندوؤں کو مار کر مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا مودی کا پرانا ہتھکنڈہ ہے،ہندوخاتون

    پہلگام حملے کو مودی حکومت کی ایک منصوبہ بند "فالس فلیگ” کارروائی قرار دیتے ہوئے نہ صرف بین الاقوامی برادری بلکہ خود بھارت کے باشعور ہندو عوام نے بھی اس ڈرامے کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف بھارتی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر عام شہریوں، ماہرین، اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس واقعے پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    بھارتی ہندو خاتون میناکشی بالی نے ایک ویڈیو پیغام میں پہلگام حملے کو مودی سرکار کی سیاسی چال قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، "یہ حملہ کوئی دہشت گردی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند فالس فلیگ آپریشن ہے جس کا مقصد عوام کی توجہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدانتظامی جیسے حقیقی مسائل سے ہٹانا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "اب بہار کے انتخابات قریب آ رہے ہیں، اور کشمیر میں اس حملے کے ذریعے مودی سرکار ایک مرتبہ پھر ووٹ حاصل کرنے کے لیے فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتی ہے۔”میناکشی نے کہا، "مودی تو دعویٰ کرتا تھا کہ بھارت کی فوج اتنی طاقتور ہے کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، پھر یہ حملہ آور کشمیر میں اندر گھس کر کیسے حملہ کر گئے؟ یہ فوج یا حکومت کی ناکامی ہے یا پھر جان بوجھ کر ہونے والی چال؟”انہوں نے مزید کہا کہ، "ہندوؤں کو مار کر مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا مودی کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔ یہ سازش اب عوام کی نظروں سے اوجھل نہیں رہی۔”

    میناکشی بالی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور مخصوص قوانین پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "وقف قانون صرف مسلمانوں کی جائیدادیں ہڑپنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ آج مسلمان بھارت میں سب سے زیادہ نشانے پر ہیں۔ ان کے خلاف قوانین بنا کر ہندو ووٹ بینک کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔””مودی بندوق مسلمانوں کے کندھوں پر رکھ کر، ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہا ہے۔ یہ صرف سیاست نہیں، یہ ظلم ہے، فسطائیت ہے۔”انہوں نے مودی حکومت کو بڑے سرمایہ داروں کا غلام قرار دیتے ہوئے کہا، "مودی نے ایئرپورٹ بیچ دیے، تیل بیچ دیا، اب ملک کی ہر چیز بیچ رہا ہے۔ اڈانی اور امبانی جیسے سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ملک کو قربان کیا جا رہا ہے۔”

    بھارتی تجزیہ کاروں اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی فوج اتنی باصلاحیت ہے تو حملہ آور اتنی گہرائی تک کیسے پہنچے؟ یہ سیکیورٹی کی بہت بڑی ناکامی ہے، یا پھر ایک سوچی سمجھی سازش۔ماہرین کے مطابق، "مودی سرکار اس قسم کے حملے کرواتی ہے تاکہ مسلمانوں پر غداری کا الزام لگا کر عوام میں نفرت پیدا کی جائے اور ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔”ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ سازش صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہے گی۔ اگر آواز نہ اٹھائی گئی تو ظلم کا دائرہ دلتوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں تک پھیل جائے گا۔

  • پہلگام فالس فلیگ،بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیز کی ناکامی پر مودی سرکار پر شدید عوامی تنقید

    پہلگام فالس فلیگ،بھارتی انٹیلیجنس ایجنسیز کی ناکامی پر مودی سرکار پر شدید عوامی تنقید

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ فالس فلیگ آپریشن نے بھارتی حکومت اور انٹیلیجنس ایجنسیز کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر بھارتی عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جس میں حکومت سے مؤثر اقدامات نہ کرنے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں کی جانب سے سخت سکیورٹی کے باوجود موقع واردات تک پہنچنا اور واردات کے بعد بحفاظت فرار ہو جانا ایک ناقابلِ فہم پہلو ہے جس نے بھارتی سکیورٹی نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ایک بھارتی خاتون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا”جب سکیورٹی خدشات پہلے سے موجود تھے تو مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ دہشتگرد کھلے عام واردات کر کے فرار ہو جائیں؟”خاتون کا مزید کہنا تھا کہ اگر واقعے کی پیشگی اطلاعات دستیاب تھیں تو روک تھام کے لیے کوئی عملی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ یہ غفلت اور ناکامی بھارتی نظام کی سنگینی کو عیاں کرتی ہے۔

    دوسری جانب، دفاعی ماہرین نے واقعے کو بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسیز کی مکمل ناکامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے شواہد واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا عمل تھا، جو اندرونی سطح پر ناقص منصوبہ بندی اور ناکامی کی علامت ہے۔”ماہرین نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت کو پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔”عوام کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں اور سوالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ واقعہ مودی سرکار کی پالیسیوں کی ناکامی کا عکاس ہے

  • پہلگام فالس فلیگ، بلوچستان قبائل کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی ریلی

    پہلگام فالس فلیگ، بلوچستان قبائل کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی ریلی

    بلوچستان متحدہ قبائل کی طرف سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی مذمت اور پاک فوج سے اظہار یکجہتی ریلی

    بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے قبائل نے ایک بڑی ریلی نکالی، جس میں انہوں نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی سخت مذمت کی اور پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا عزم ظاہر کیا۔ یہ ریلی بلوچستان کے مختلف قبائل کے رہنماؤں کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں قبائل کے غیور افراد نے بھرپور شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق، اس موقع پر شرکاء نے بھارت کی جانب سے کیے گئے فالس فلیگ حملے اور آبی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے بھارت اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنی بھرپور حمایت کا پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے اندر تخریب کاری کے لیے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کیا اور بلوچستان کے قبائل ایسے حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔متحدہ قبائل کے چیف امان اللہ کاکڑ نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ حملہ کیا، جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ ہم بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہیں اور اس کے تمام اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے قبائل کے لیے یہ ایک فخر کا مقام ہے کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی تخریب کاری کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    ریلی کے شرکاء نے نہ صرف بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کی مذمت کی بلکہ بلوچستان کے قبائل کی یکجہتی اور پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے قبائل کا اس طرح کا عزم اور حوصلہ افزائی کرنا نہ صرف پاکستان کی قومی یکجہتی کا مظہر ہے بلکہ یہ خطے میں بھارت کی تخریبی سرگرمیوں کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھی ہے۔

    ریلی میں شامل افراد نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور پاکستان کی سالمیت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان کے قبائل کی متحد آواز بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی تخریب کاری یا جارحیت کی کوشش کرے گا تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • چین پاکستان کے ساتھ، چینی سفیر کی صدر مملکت سے ملاقات

    چین پاکستان کے ساتھ، چینی سفیر کی صدر مملکت سے ملاقات

    اسلام آباد میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے چین کے سفیر چیانگ زئے ڈونگ نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور اہم امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں حالیہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدہ صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیانات پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے، تاہم بھارتی حکومت کا جارحانہ رویہ اس بات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو بھارتی حکومت کے ان اقدامات پر غور کرنا چاہیے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

    چینی سفیر چیانگ زئے ڈونگ نے اس موقع پر چین اور پاکستان کے درمیان پائیدار اور آزمودہ دوستی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان ہمیشہ آہنی برادر رہے ہیں اور دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔ سفیر چین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، اور چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، خاص طور پر علاقائی امن اور استحکام کے حوالے سے دونوں ممالک کے اہم کردار پر بات کی گئی۔ چینی سفیر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ چین پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا بھرپور حمایتی ہے۔

    اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر چین اور پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے تحت اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔

  • وزیراطلاعات کا عالمی و قومی میڈیا کے ہمراہ ایل او سی کا دورہ،بھارتی پروپیگنڈہ "وڑ”گیا

    وزیراطلاعات کا عالمی و قومی میڈیا کے ہمراہ ایل او سی کا دورہ،بھارتی پروپیگنڈہ "وڑ”گیا

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ نے بین الاقوامی اور مقامی میڈیا کے نمائندوں کے ہمراہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کا دورہ کیا۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے اس دورے کے دوران میڈیا نمائندوں کو مکمل سہولتیں فراہم کی گئیں تاکہ وہ زمینی حقائق کو براہ راست دیکھ سکیں۔

    اس دورے کا مقصد بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے جانے والے بے بنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈے کو حقیقت کے ساتھ بے نقاب کرنا تھا۔ عطا اللہ تارڑ نے میڈیا کے نمائندوں کو وہ مخصوص مقامات دکھائے، جنہیں بھارت مبینہ طور پر دہشت گردی کے ٹھکانے قرار دیتا رہا ہے۔دورے کے دوران صحافیوں کو مقامی آبادی سے ملاقات کرنے کا موقع ملا، جس کے ذریعے انہوں نے خود حالات کا مشاہدہ کیا اور بھارت کے بے بنیاد الزامات کی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ مقامی آبادی کی گواہیوں نے بھارتی دعووں کی حقیقت کو مزید اجاگر کیا۔

    عطا اللہ تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ بھارت جو مقامات خیالی دہشت گرد کیمپ کے طور پر پیش کرتا ہے، وہ دراصل عام شہریوں کی آبادیاں ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی پرعزم ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ انہوں نے بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کو الزام تراشی سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے لائن آف کنٹرول پر جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے، لیکن عالمی میڈیا نے آج خود آنکھوں سے سچائی دیکھ لی ہے۔عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

    اس دورے نے پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر مزید مضبوط کیا اور بھارتی جھوٹے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے نمائندوں نے اس دورے کے دوران خود زمینی حقائق کو دیکھ کر پاکستان کے موقف کی تائید کی اور بھارتی الزامات کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔

  • لاہور میں پولیس اہلکار ہی "ڈاکو”بن گئے،تاجر کو اغوا کر کے بھتہ وصول

    لاہور میں پولیس اہلکار ہی "ڈاکو”بن گئے،تاجر کو اغوا کر کے بھتہ وصول

    لاہور میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں پولیس کے اہلکاروں نے محافظ فورس کے یونیفارم میں سندھ کے ایک تاجر کو اغوا کرکے نہ صرف اس پر تشدد کیا بلکہ اس سے ایک لاکھ روپے کا بھتہ بھی وصول کیا۔ یہ واقعہ 29 اپریل کی رات ایبٹ روڈ پر پیش آیا، جب قلعہ گجر سنگھ پولیس کی محافظ فورس کے پانچ اہلکاروں نے سکھر سے آئے ہوئے تاجر مشتاق احمد کو گن پوائنٹ پر روک کر اغوا کر لیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، تاجر کو اغوا کرنے کے بعد پانچوں اہلکاروں نے اس پر شدید تشدد کیا اور اسے پولیس مقابلے میں مار دینے کی دھمکیاں دیں۔ یہ واقعہ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ریکارڈ ہوا جس میں دیکھا گیا کہ دو اہلکار باوردی تاجر کو اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے جا رہے ہیں۔ فوٹیج کے مطابق، جب وہ نیلا گنبد کے علاقے میں پہنچے، تو تاجر کو بینک کے باہر روکا گیا جہاں اس نے اے ٹی ایم سے رقم نکلوائی۔اس کے بعد، اہلکار تاجر سے رقم لے کر اسے سڑک پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ تاجر نے اس واقعہ کی شکایت تھانہ پرانی انارکلی پولیس سے کی جس پر پولیس نے فوراً مقدمہ درج کر لیا۔

    پولیس حکام کے مطابق، پانچوں ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا تاکہ اس نوعیت کے جرائم کا قلع قمع کیا جا سکے۔

  • بھارتی آبی دہشتگردی،بگلہار کا پانی روک لیا

    بھارتی آبی دہشتگردی،بگلہار کا پانی روک لیا

    بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف آبی دہشتگردی کا مظاہرہ کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بگلیہار ڈیم کے ذریعے پاکستان کی طرف آنے والے پانی کو روکنا شروع کر دیا ہے۔

    اتوار کے روز بھارت نے بگلیہار ڈیم کے ذریعے پاکستان کی طرف آتا ہوا پانی روک دیا جس کے نتیجے میں دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہوگیا ہے،محکمہ انہار کے مطابق، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 87 ہزار کیوسک تھی، جو آج صرف 10 ہزار 800 کیوسک تک محدود ہوگئی ہے۔ یہ پانی کی کمی پاکستانی کسانوں اور عوام کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن سکتی ہے، جو اس پانی پر انحصار کرتے ہیں،آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں کے رامبن علاقے میں واقع بگلیہار ڈیم میں 3 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ بھارت کی جانب سے اس پانی کو روکنے کے بعد، پاکستان کے لیے آبی قلت کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارت اگلے مرحلے میں شمالی مقبوضہ کشمیر کے کشن گنگا ڈیم میں بھی پانی روکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دریائے جہلم میں پانی کی کمی کا خدشہ ہے۔ کشن گنگا ڈیم میں 15 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اگر بھارت نے اس ڈیم میں پانی روک لیا تو یہ پاکستانی علاقوں میں مزید آبی بحران پیدا کر سکتا ہے۔اس سے پہلے 26 اپریل کو بھی بھارت نے بغیر کسی اطلاع کے دریائے جہلم میں ایک بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا تھا، جس کے نتیجے میں چکوٹھی کے مقام پر دریا اچانک 15 فٹ تک بلند ہوگیا تھا۔

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ پاکستان نے کہا کہ بھارت کا یہ یکطرفہ اقدام غیر قانونی اور عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے اس اعلان کو بلا جواز قرار دیا اور عالمی سطح پر بھارت کے اس عمل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔

  • ایرانی وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

    ایرانی وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

    اسلام آباد: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا استقبال وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام اور ایرانی سفیر نے اسلام آباد کے ایئرپورٹ پر کیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی ایرانی کوششوں کا حصہ ہے، خاص طور پر پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی تناؤ کے بعد،دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس دورے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ عباس عراقچی پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم سے ملاقاتیں کریں گے، جہاں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات، علاقائی امور اور عالمی سطح پر اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ پاکستان کے بعد بھارت کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اسی ہفتے بھارت بھی جائیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق، دونوں ملکوں کے دوروں کا مقصد پہلگام حملے کے بعد ہونے والی کشیدگی میں کمی لانا ہے، جسے ایران نے ایک سنگین صورتحال قرار دیا تھا۔

    یاد رہے کہ عباس عراقچی نے اس سے قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجودہ بحران کو کم کرنا اور امن قائم کرنا ہے۔ اس دورے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران کی ثالثی کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں اور اس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تناؤ میں کتنی کمی آتی ہے۔

  • حوا کی ایک اور بیٹی مبینہ طور پر سسرالیوں کے ہاتھوں قتل

    حوا کی ایک اور بیٹی مبینہ طور پر سسرالیوں کے ہاتھوں قتل

    ملتان کے علاقے میں انسانیت سوز واقعہ، 23 سالہ آسیہ بی بی کی گلہ کٹی لاش سسرال کے گھر سے برآمد ہوئی۔ پولیس اور متاثرہ خاندان کے مطابق آسیہ بی بی کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جس کے پیچھے سسرالی رشتہ داروں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔

    آسیہ بی بی کی شادی صرف چھ ماہ قبل محمد رفیق نامی شخص سے ہوئی تھی، اور وہ پانچ ماہ کی حاملہ بھی تھی۔ والد کا دعویٰ ہے کہ آسیہ کو اُس کے شوہر محمد رفیق، دیور عتیق اور نند شمیم نے مل کر قتل کیا۔ ان کے مطابق سسرالی افراد شروع سے ہی آسیہ کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے رہے تھے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حرکت میں آئی اور مقتولہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق، مقتولہ کے شوہر اور دیگر مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ تھانہ کوتوالی پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔