Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چاروں حملہ آور کہاں گئے؟کیا ابھی بھی پہلگام میں ہیں،بھارتی فوج میں خوف و ہراس

    چاروں حملہ آور کہاں گئے؟کیا ابھی بھی پہلگام میں ہیں،بھارتی فوج میں خوف و ہراس

    پہلگام، جنوبی کشمیر میں 22 اپریل کو حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد سے مفرور چارحملہ آوروں کے بارے میں تازہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ذرائع کے مطابق یہ چاروں افراد اب بھی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے فوج اور مقامی پولیس کی جانب سے چلائے گئے وسیع پیمانے پر آپریشنز سے بچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    این آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چاروں افراد "خود مختار” ہو سکتے ہیں، یعنی ان کے پاس خوراک اور دیگر ضروریات کی فراہمی کا سامان ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گھنے جنگلات میں چھپ کر رہنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ این آئی اے نے اس حملے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں، جو حالیہ برسوں میں بھارت میں ہونے والا سب سے بھیانک حملہ ہے، خصوصاً 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد، جس میں 40 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں نے پہلگام میں واقع بایسران ویلی میں حملے سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے موجودگی کا آغاز کر دیا تھا۔ این آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) یا حملہ آوروں کے ہمدردوں کو جو اس حملے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا تھا، ان کے بیانات میں انکشاف ہوا کہ حملہ آوروں نے بایسران ویلی کے علاوہ دیگر چار مقامات کی بھی سروے کیا تھی، تاہم، ان تمام مقامات پر سیکیورٹی زیادہ تھی،

    پہلگام حملے کے بعد بھارتی اپوزیشن کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ آیا فوج کی موجودگی کی کمی نے حملہ آوروں کو حملہ کرنے کا موقع دیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ حملہ آوروں کے پاس جدید کمیونیکیشن سامان تھا، جو کسی بھی قسم کے انٹرسیپٹ سے بچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ایک دفاعی ماہر، میجر جنرل یش مور (ریٹائرڈ) نے بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے جو آلات استعمال کیے وہ سیٹلائٹ فونز تھے، جو سم کارڈز کے بغیر کام کرتے تھے اور ان کا مقصد اپنے مقام کو چھپانا تھا تاکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کو حملے کے آغاز تک بے خبر رکھا جا سکے۔

    حملے کی منصوبہ بندی سادہ تھی – تین حملہ آوروں نے بایسران کے ارد گرد چھپ کر سیاحوں پر فائرنگ کی، جب کہ چوتھا حملہ آور چھپ کر ان کی مدد کے لیے موجود تھا، حملہ 1:15 بجے دوپہر شروع ہوا، جس میں 26 افراد کی ہلاکت ہوئی۔اس کے بعد کی تحقیقات اور حملہ آوروں کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک بھارت کو ناکامی ہی ملی ہے

  • بھارت کوبتانا ہوگا کہ حملے میں کون ملوث ہے،عطا تارڑ

    بھارت کوبتانا ہوگا کہ حملے میں کون ملوث ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے عالمی نشریاتی ادارے "سی این این” سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ بھارت نے بغیر کسی شواہد کے پاکستان پر الزامات لگائے ہیں، اور وہ پہلگام واقعہ کا ذمہ دار خود ہے۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔ "ہمارے پاس مستند انٹیلی جنس اطلاعات تھیں کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا،” پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ ایسی اہم معلومات شیئر کرے۔

    عطاء اللہ تارڑ نے پاک فوج کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "پاک فوج ایک بہادر فورس ہے جو وطن عزیز کا دفاع کرنا جانتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام اپنے ملک کے دفاع میں متحد ہیں اور اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ وطن عزیز کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔پاکستان کے حوالے سے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ہمیشہ سے پرامن بقائے باہمی کا خواہاں رہا ہے۔ "پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور ہم اپنے دفاع کو یقینی بنائیں گے۔”وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعہ کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی تھی لیکن بھارت نے بغیر تحقیقات کے الزامات عائد کیے اور انگلی اٹھانا جاری رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ماضی میں بھی بھارت نے بغیر تحقیقات کے ایسے الزامات پاکستان پر عائد کیے ہیں۔”

    عطاء اللہ تارڑ نے سوال کیا کہ "کیا بھارت کے پاس کوئی شواہد ہیں کہ پہلگام حملے میں ملوث شدت پسند پاکستان میں مقیم ہیں؟” ان کا کہنا تھا کہ بھارت ابھی تک کسی بھی گروپ کا تعین نہیں کر سکا جو اس واقعے میں ملوث ہو۔انہوں نے کہا کہ "بھارت کو دنیا کو بتانا ہوگا کہ اس حملے میں کون ملوث ہے۔ صرف یہ الزام عائد نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے پیچھے پاکستان ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اس واقعے پر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی، جس کا بھارت نے کوئی جواب نہیں دیا۔عطاء اللہ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہم اپنا نکتہ نظر عالمی برادری کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ "اس ساری صورتحال میں پاکستان نہ تو جارح ہے اور نہ ہی اشتعال دلانے والا ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافے میں ملوث نہیں ہے، اور پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ "پاکستان کی مسلح افواج چوکس ہیں اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔”

    عطاء اللہ تارڑ کی اس گفتگو سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان اپنے دفاع میں پوری طرح سے پرعزم ہے اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • عاصم افتخار کی اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل سے ملاقات،جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات

    عاصم افتخار کی اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل سے ملاقات،جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات

    پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس سے ملاقات کی ہے جس میں جنوبی ایشیا کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اس ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امن کے حوالے سے کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    عاصم افتخار نے اس ملاقات کے دوران بھارت کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت نے سیاسی بنیادوں پر غیر ذمہ دارانہ انداز میں اشتعال انگیزی اختیار کر رکھی ہے جو کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی اس طرح کی سرگرمیاں خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے جنوبی ایشیا میں امن و سکون کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

    عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بتایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف ہے اور وہ کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور آئندہ بھی اسی عزم کو برقرار رکھے گا۔

    اسی دوران، عاصم افتخار آج نیویارک میں ایک اہم پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔ پاکستانی وقت کے مطابق یہ پریس کانفرنس رات آٹھ بجے ہوگی، جس میں انہوں نے جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کے موقف پر بات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ پریس کانفرنس عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو واضح کرنے اور اس کے موقف کو دنیا کے سامنے رکھنے کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

    اس سے قبل عاصم افتخار نے او آئی سی گروپ کے سفیروں کو بھی جنوبی ایشیا کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت کی اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی موجودہ حکمت عملی علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن کی فضا کو بچایا جا سکے۔

    پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ امن کا قیام ضروری ہے اور اس کے لیے عالمی برادری کو بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا۔ پاکستان عالمی اداروں کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

  • ٹرمپ نے مشیر قومی سلامتی کو ہٹا دیا

    ٹرمپ نے مشیر قومی سلامتی کو ہٹا دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے 100 دن مکمل ہوتے ہی اہم تبدیلیاں کیں، جن میں سب سے بڑی تبدیلی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کی برطرفی تھی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، صدر ٹرمپ نے مائیک والٹز کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے کی اطلاع سوشل میڈیا پر دی۔

    ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مائیک والٹز کی خدمات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ مائیک والٹز کی جگہ اب وزیر خارجہ مارکو روبیو کو قومی سلامتی کے مشیر کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ مارکو روبیو بدستور امریکا کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے رہیں گے اور اب ان کی ذمہ داریوں میں قومی سلامتی کے امور بھی شامل ہوں گے۔ٹرمپ نے اس موقع پر مائیک والٹز کو اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ میں ایک اور بڑی تبدیلی کا آغاز ہوا جس سے امریکی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ مائیک والٹز کو حالیہ دنوں میں یمن پر حملوں کی منصوبہ بندی سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر سخت تنقید کا سامنا تھا۔ اس اسکینڈل نے انہیں امریکی عوام کی نظر میں کمزور کر دیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے ان کی برطرفی کا فیصلہ کیا۔یہ تبدیلی امریکی سیاست میں ایک اور اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، اور اس سے آنے والے دنوں میں قومی سلامتی کی پالیسیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • جنگ کا خطرہ باقی،پاکستان بھر پور جواب دینے کو تیار ہے، مبشر لقمان

    جنگ کا خطرہ باقی،پاکستان بھر پور جواب دینے کو تیار ہے، مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت کی فوج میں متعدد مسائل کے باوجود بھارت کی طرف سے جنگی خطرات ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بھارت کسی کارروائی کرنے اور ایسی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے مصر ہے جس سے مودی کی کمزور ہوتی ہوئی مقبولیت کو بچایا جا سکے۔ پاکستان اس صورتحال میں جواب دینے کے لئے تیار ہے اور بھارت کو ایک اور خونریز اور الجھی ہوئی ناکامی کا سامنا کرانے کے لیے تیار ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی فوج میں بغاوت، فوجیوں کے حوصلے پست، فوجیوں کا لڑنے سے انکار، چھٹیوں‌پر جانے، افسران کو ہٹائے جانے کے باوجود مودی سرکارجنونی ہو ئی پڑی ہے اور خطے میں جنگ کی صورت حال ابھی تک مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ بھارت کی حکومت اس بات کو تسلیم کرنے کی بجائے کہ اس کو اندرونی مسائل اور بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے، ایک جنگی منظر نامہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مودی کی مقبولیت کو بہتر بنایا جا سکے۔تاہم اگر بھارت کوئی کارروائی کرتا ہے تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا، جس میں بھارت کو ایک اور خونریز اور گندا ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • گھر میں چوری کر کے بھاگنے والی لڑکی آشنا سمیت گرفتار

    گھر میں چوری کر کے بھاگنے والی لڑکی آشنا سمیت گرفتار

    لاہور کے داخلی راستے بابو صابو ناکے پر موبائلز سکواڈ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے ایک مشتبہ جوڑے کو حراست میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ہونے والی لڑکی اپنے آشنا کے ساتھ مل کر میانوالی میں اپنے ہی گھر میں چوری کی واردات میں ملوث ہے۔

    ڈی ایس پی موبائلز مبشر اعوان کے مطابق ناکے پر تعینات اہلکاروں نے جوڑے کو مشکوک حرکات کے باعث روکا اور چیکنگ کے دوران ان کے قبضے سے تین تولہ سونے کے زیورات اور چھ لاکھ روپے نقدی برآمد ہوئی۔ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار لڑکی مصباح اور اس کا آشنا شہزاد، دونوں میانوالی کے رہائشی ہیں اور ان کے خلاف تھانہ موسیٰ خیل میانوالی میں مقدمہ درج ہے۔ دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے تھانہ شیراکوٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ڈی ایس پی مبشر اعوان نے بروقت کارروائی کی اطلاع میانوالی پولیس کو فراہم کر دی ہے تاکہ مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

    ایس پی موبائلز ارسلان زاہد نے بتایا کہ شہر میں قائم ناکہ جات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ای پولیس ایپ کے ذریعے مجرمان کی فوری شناخت کا عمل جاری ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا سکے۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں۔

  • بھارتی فوجی اہلکاروں کے ساتھ”نوکروں” سے بھی بدترسلوک،اہلکار پھٹ پڑا

    بھارتی فوجی اہلکاروں کے ساتھ”نوکروں” سے بھی بدترسلوک،اہلکار پھٹ پڑا

    بھارتی فوج میں سپاہیوں کے ساتھ ناروا سلوک، حوصلے پست، ڈیوٹی سے دلبرداشتہ ہو گئے ہیں

    بھارتی فوج کے ایک سپاہی نے کھل کر اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ فوج کے جوانوں کو ان کے اصل فرائض سے ہٹا کر افسران اور ان کے اہل خانہ کی ذاتی خدمت پر مامور کیا جا رہا ہے۔ اس رویے نے نہ صرف جوانوں کا حوصلہ شدید متاثر کیا ہے بلکہ ان میں فوجی خدمات کے لیے جذبہ بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مذکورہ سپاہی نے واضح الفاظ میں کہا "جب ہمیں دشمن کے خلاف لڑنے کی تیاری کی بجائے افسران کے گھریلو کام کرنے پر لگا دیا جائے تو ہم کیسے اپنے اصل فرض یعنی ملک کی حفاظت پر توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں؟”سپاہی کے مطابق افسران اپنے گھریلو کام کرواتے ہیں۔ اس استحصالی رویے نے فوجی جوانوں کی پیشہ ورانہ قابلیت اور وقار کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔سپاہی نے مزید بتایا کہ اس غیر مساوی سلوک کے باعث فوج کے اندر حوصلہ بدترین سطح پر آ چکا ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فوج کے جوانوں کا حوصلہ گھٹنوں تک آ جائے، وہ مسلسل ذلت آمیز سلوک کا شکار ہوں اور وہ خود کو صرف ایک نوکر سمجھنے لگیں، تو کیا ایسی فوج کسی جنگ میں دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو سکتی ہے؟ماہرین کے مطابق بھارتی فوج کا یہ اندرونی بحران اس کے جنگی تیاریوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ اس کے برعکس پاک فوج اپنے سپاہیوں کے حوصلے، تربیت اور وقار کے لیے جانی جاتی ہے۔

  • پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کامزدورمارچ، افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کامزدورمارچ، افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان

    مزدور پاکستان کے استحکام کے ضامن،ملکی دفاع کیلیے ہمہ وقت تیار ہیں، خالد مسعود سندھو،حافظ طلحہ سعید
    مال روڈ مزدورمارچ سےمیاں غلام مصطفیٰ، چوہدری محمد سرور، رانا جبران،تابش قیوم و دیگر کا خطاب

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام یوم مئی،مزدور ڈے کے موقع پر لاہور سمیت کئی شہروں میں ریلیوں،مزدور مارچ کا انعقاد کیا گیا، کراچی،پشاور،گجرات،کوئٹہ،لالہ موسی سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے مزدور مارچ،ریلیوں میں‌ہزاروں افراد نے شرکت کی.

    لاہور میں سب سے بڑا پروگرام مال روڈ پر ہوا،پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام مال روڈ پر مزدور مارچ میں واپڈ یونین، لیبر یونین، ریلوے یونین ، ٹرانسپورٹرز یونین نے شرکت کی۔مارچ میں ملی رکشہ یونین کے ہزاروں رکشہ ڈرائیورر نے شرکت کی۔ مزدور مارچ استنبول چوک تا مسجد شہداء نکالا گیا۔ مارچ کی قیادت پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے صدر میاں غلام مصطفی، جنرل سیکرٹری رانا جبران نے کی،اس موقع پر شرکا مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے رہے،مزدور مارچ سے صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو، نائب صدر حافظ طلحہ سعید،ترجمان تابش قیوم، ملی لیبر فیڈریشن کے صدر غلام مصطفیٰ، سیکرٹری جنرل رانا جبران ،صدر پنجاب چوہدری محمد سرور سمیت دیگر مزدور رہنماؤں نے خطاب کیا.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے مزدور مارچ سے خطاب میں کہا کہ مودی کسی شخص کا نام نہیں بلکہ آر ایس ایس کی گندی سوچ ہے، پوری دنیا میں آج مودی بدامنی اور دہشتگردی کے نام پر جانا چاہتا ہے،مودی نندوستان میں اقلیتوں کے لیے دہشت کی علامت بنا ہوا ہے،مودی تم نہیں جانتے پاکستان کیا ہے، پاکستان کے لوگ کون ہے،مودی اگر تم نے کوئی حرکت کی ہندوستان کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں گے۔پاکستان کی قوم ،پاکستان کے مسلح ادارے اس جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں

    نائب صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دشمن پاکستان کو نقصان پہنچانے کے در پر ہے،دنیا کے تمام ملک پاکستانی قوم کو دیکھ رہے ہیں،پاکستانی قوم جرات مند دلیر اور بہادر قوم ہے،پاکستان ملی لیبر فیڈریشن مزدور کو یقین دلاتی ہے ہم اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرینگے،پاکستان کی افواج ،پاکستان کی عوام اور طبقات ایک پلیٹ فارم پر نظر آئیں گے،ہم نے ہمیشہ اپنا ذمہ دارانہ اور تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے،یہ پاکستان اللہ نے بنایا ہے، پوری پاکستانی قوم کو اللہ کے حکم پر کھڑا ہونا ہوگا۔

    صدر پاکستان ملی لیبر فیڈریشن میاں غلام مصطفیٰ نے کہا کہ مزدور کی محنت سے ملک ترقی کرے گا ،مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرورنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو حملے کی دھمکی دی جا رہی ہے،ہم مزدور کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،مزدور پاکستان کے استحکام کے ضامن ہیں ،پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا،ہم ریاست اور پاک فوج کے ساتھ ہیں،ہم سب مل کر ہندوتوا کا مقابلہ کریں گے،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کاکہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ مزدوروں کی نمائندہ جماعت ہے،مرکزی مسلم لیگ نے آج مزدور طبقے کو دشمن کیخلاف متحد کر دیا ہے

    ملی لیبر فیڈریشن کے یکرٹری جنرل رانا جبران،میاں محمد ریاض ،افتخار احمد،مسرور خٹک،نواز چغتائی، چوہدری شفاقت علی تتلا،چوہدری مختار گجر ،چوہدری اسماعیل،چوہدری ابو ہریرہ ،محبوب عالم سندھو ،اصغر گجرو دیگر نے کہا کہ ہم مزدور کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،مودی نے اگر جارحیت کی کوشش کی تو مزدور بھرپور جواب دیں گے، پاکستان ملی فیڈریشن کا ہر مزدور تیار ہے،

  • پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے سے  قبل عمررسیدہ شخص کی واہگہ بارڈر پر موت

    پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے سے قبل عمررسیدہ شخص کی واہگہ بارڈر پر موت

    ایک عمر رسیدہ اور ضعیف شخص جسے مقبوضہ جموں کشمیر سے پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے لایا گیا تھا، اٹاری واہگہ بارڈر پر اچانک گر کر جاں بحق ہوگیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری نژاد معمر شخص عبدالحمید بٹ 80 کی دہائی کے آخر میں پاکستان سے مقبوضہ جموں کشمیر واپس گیا تھا اور وادی کشمیر میں آباد ہوا تھا۔ تاہم اسے بھارتی پولیس زبردستی لے گئی اور ملک بدری کے لئے سرحد پر بھیج دیا جہاں وہ اچانک دم توڑ گیا۔اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا گیا ہے۔ اس سے قبل پولیس نے متعدد افراد کو ڈی پورٹ کیا۔

  • بھارتی فوجی کے ہوش رباانکشافات نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بھانڈہ پھوڑ دیا

    بھارتی فوجی کے ہوش رباانکشافات نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بھانڈہ پھوڑ دیا

    بھارتی فوج کے نائب صوبیدار سورندر سنگھ نے ایک دھماکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے اپنی ہی فوج کے خلاف احتجاج کیا ہے، جس میں انہوں نے پہلگام میں ہونے والے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے چشم کشا حقائق بیان کیے ہیں۔ نائب صوبیدار نے اپنی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کو براہ راست غدار قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فوج خود سرحد پار سے دراندازی میں ملوث ہے۔

    نائب صوبیدار سورندر سنگھ کا تعلق 1 مہار رجمنٹ سے ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ "بھارتی فوج کشمیر کے بارڈر پر دہشتگردوں کی سہولت کاری کر رہی ہے۔” ان کے مطابق، مخصوص علاقوں پر تعینات بھارتی فوجی جوانوں کو ہٹا کر ان کی جگہ پر دانستہ طور پر ایسے عناصر کو داخل ہونے دیا جاتا ہے جو بعد میں دہشتگرد قرار دیے جاتے ہیں۔سورندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ان تمام انکشافات کو روزنامہ "راشٹریا” اور "ڈیفنس گزٹ” میں شائع بھی کیا جا چکا ہے، تاہم بھارتی حکام نے اس پر کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فوجی قیادت کی سرپرستی میں دہشتگردوں کو نہ صرف ہتھیار بلکہ سرکاری گاڑیاں بھی فراہم کی جاتی ہیں تاکہ کارروائیوں کو سرکاری حمایت حاصل ہو۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام کو باقاعدہ شکایت درج کروائی، لیکن اس کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ "اس انکشاف کے بعد مجھے بارڈر سے ہٹا دیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں،” نائب صوبیدار نے انکشاف کیا۔

    نائب صوبیدار سورندر سنگھ کے مطابق، ان کے علاوہ 20 مزید جوانوں کو بھی سرحدی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا تاکہ دہشتگردوں کو راستہ دیا جا سکے۔ "اپنی نااہلی چھپانے کے لیے مجھے ذہنی مریض قرار دے کر زبردستی فوجی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا، جبکہ میری میڈیکل رپورٹ کے مطابق میں مکمل طور پر فِٹ ہوں،” انہوں نے دعویٰ کیا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہوشربا انکشافات کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پہلگام حملہ بھارت کی جانب سے رچایا گیا ایک فالس فلیگ آپریشن تھا تاکہ اپنے مذموم عزائم کو عالمی سطح پر جواز فراہم کیا جا سکے۔ماہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کا سخت نوٹس لے اور جنوبی ایشیا کے امن کو لاحق اس خطرے کا سدباب کرے۔