Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل  میں غیر قانونی تقرریوں پر اعتراض

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل میں غیر قانونی تقرریوں پر اعتراض

    آڈٹ رپورٹ میں 164 اشتہار شدہ آسامیوں پر 332 تقرریوں کا انکشاف

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے وزارت قومی خوراک تحفظ اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے سی) میں انتظامی اور مالی بدعنوانیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر غیر قانونی تقرریوں کے حوالے سے۔ خوراک تحفظ کے سیکریٹری کو کمیٹی کے سامنے تیاری نہ ہونے پر سخت سرزنش کی گئی۔

    کمیٹی کی کارروائی کے دوران، پی اے سی کی رکن ایم این اے شازیہ مری نے سیکریٹری کی جانب سے آڈٹ پیراگراف کے بارے میں بار بار درخواست کی جانے والی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ "کم از کم آپ کو یہ دکھانا چاہیے کہ آپ پی اے سی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں،” پی اے سی کے چیئرمین ایم این اے جنید اکبر نے کہا، "آپ سے آج جو جوابات دیے جانے تھے، وہ نہیں دیے گئے۔ اگر آپ تیاری نہیں کر کے آئے تو آپ یہاں کیوں ہیں؟” انہوں نے مزید کہا، "ہم نے آپ کو پہلے ہی وقت دیا تھا، یہ عوامی وسائل کا ضیاع ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟” ناقص بریفنگ کی بنیاد پر، کمیٹی نے سیکریٹری کو تفصیلی جوابات دینے کے لیے ایک ماہ کی توسیع دے دی۔

    کمیٹی نے پی اے سی میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے کی جانے والی 332 غیر قانونی تقرریوں پر بھی سنگین تشویش کا اظہار کیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ صرف 164 آسامیوں کا اشتہار دیا گیا تھا، مگر 332 افراد کو بغیر ضابطے کے بھرتی کر لیا گیا۔پی اے سی کے سامنے عبوری چیئرمین نے شرکت کی، کیونکہ ڈاکٹر غلام محمد علی، چیئرمین جو تین ماہ کی چھٹی پر ہیں، ان کی عدم موجودگی میں یہ اجلاس ہوا۔ تاہم، پی اے سی کے اراکین نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین کو جان بوجھ کر غیر حاضری میں رکھا گیا تاکہ وہ احتساب سے بچ سکیں۔ ایم این اے عامر ڈوگر نے کہا، "چیئرمین کو اس لیے ہٹایا گیا ہے تاکہ ان کی جانچ پڑتال سے بچا جا سکے۔”کمیٹی نے صوبائی اور علاقائی کوٹوں کے حوالے سے بھی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی، اور کہا کہ زیادہ تر تقرریاں صرف تین اضلاع تک محدود ہو کر رہ گئیں۔شازیہ مری نے سوال کیا کہ "دوسرے علاقوں کے مستحق امیدواروں کے لیے مواقع کہاں ہیں؟”

    آڈٹ حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تقرریوں کے لیے منتخب افراد کے لیے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم نہیں کیے گئے۔ جبکہ عبوری چیئرمین نے یہ کہا کہ 206 منتخب افراد کو محض میرٹ پر سائنسدان کے طور پر بھرتی کیا گیا ہے، تاہم کمیٹی نے اس عمل کی شفافیت پر سوال اٹھائے۔ان سنگین الزامات کے جواب میں، پی اے سی نے ڈاکٹر غلام محمد علی کے کیس کو نیب (قومی احتساب بیورو) کے حوالے کرنے پر غور کیا۔ پی اے سی کے چیئرمین نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر علی کو 6 مئی کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ "اگر وہ ان تقرریوں کو جواز فراہم نہیں کر سکے، تو کیس نیب کے حوالے کر دیا جائے گا،” ایم این اے جنید اکبر نے مزید الزام عائد کیا کہ بھرتی ہونے والوں کی فہرست میں ایک وفاقی وزیر اور پی اے سی کے چیئرمین کے رشتہ دار شامل ہیں۔ "مجھے بالکل پتا ہے کہ کس کے خاندان کے افراد کو بھرتی کیا گیا ہے،” ایم این اے حسین طارق نے مزید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 250 نئی تقرریاں جاری ہیں اور ان کی فوری طور پر چھان بین کی ضرورت ہے۔

  • بھارتی اشتعال انگیزی علاقائی امن اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے،عاصم افتخار

    بھارتی اشتعال انگیزی علاقائی امن اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے،عاصم افتخار

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر اور غیر ذمہ دارانہ انداز سے انتہائی اشتعال انگیزی پر اترا ہوا ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے یہ بات او آئی سی گروپ کے سفیروں کو جنوبی ایشیا کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہی۔یہ میٹنگ نیویارک میں ہوئی،پاکستانی مشن کے مطابق او آئی سی اراکین نے حکومت پاکستان اورپاکستانی عوام سے اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا ، عاصم افتخار نے کہا ہے کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر اور غیر ذمہ دارانہ انداز سے انتہائی اشتعال انگیزی پر اترا ہوا ہے جو کہ علاقائی امن اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے،آئی سی اراکین نے زور دیا کہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی ختم کی جائے اور مسائل کی جڑوں کو ختم کیا جائے جس میں جموں و کشمیر کے تنازعہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی قرار دادوں کے مطابق منصفانہ حل بھی شامل ہے۔

  • امریکا کا بھارت کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر کا دفاعی معاہدہ منظور

    امریکا کا بھارت کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر کا دفاعی معاہدہ منظور

    امریکا نے بھارت کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر مالیت کا ایک اہم دفاعی معاہدہ منظور کرلیا ہے جس کا اعلان امریکی دفاعی ادارے، ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کی سمندری نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

    اس دفاعی معاہدے میں بھارت کو سسمندری ویژن سافٹ ویئر اور تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس سافٹ ویئر کی مدد سے بھارت کی بحری نگرانی کی صلاحیتوں میں مزید بہتری آئے گی، جس کے ذریعے وہ اپنے بحری حدود میں زیادہ مؤثر طریقے سے نگرانی کر سکے گا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے بھارت کی سمندری نگرانی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا،

    امریکی حکام نے اس معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد بھارت کے دفاعی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا ہے۔

    امریکا بھارت کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید فروغ دے رہا ہے تاکہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی بھارت میں بلاک

    پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی بھارت میں بلاک

    اسلام آباد: پاکستان کی معروف فنکاروں بشمول اداکارہ ماہرہ خان، ہانیہ عامر اور علی ظفر کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بدھ کی شام بھارت میں بلاک کر دیے گئے،

    پیر کے روز پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کیا گیا تھا، جو برف پوش ہمالیائی پہاڑوں کے نیچے خوبصورت وادی میں تفریح کر رہے تھے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں بیشتر بھارتی شہری تھے اور ایک نیپالی شہری بھی شامل تھا۔ حملہ آوروں نے مردوں کو الگ کیا، کئی افراد سے ان کے مذہب کے بارے میں سوالات کیے اور پھر قریبی فاصلے سے ان کا قتل کر دیا۔فنکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کا یہ فیصلہ 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز کے خلاف بھارتی حکومت کے ایک اور اقدام کے بعد سامنے آیا، ہانیہ عامر، جو بھارتی مداحوں میں پاکستانی ڈراموں "میرے ہمسفر” اور "کبھی میں کبھی تم” کی وجہ سے بہت مشہور ہیں، نے پہلگام حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ "جہاں بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے، وہ سب کے لئے سانحہ ہوتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "میرا دل ان بے گناہ زندگیوں کے ساتھ ہے جو حالیہ واقعات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں۔ درد، غم اور امید میں، ہم سب ایک ہیں۔ جب بے گناہ جانیں ضائع ہوتی ہیں، تو یہ درد ان کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہوتا ہے۔ چاہے ہم کہاں سے ہوں، غم ایک ہی زبان بولتا ہے۔ ہم ہمیشہ انسانیت کا انتخاب کریں۔”

    ماہرہ خان نے 2017 میں بالی وڈ فلم "رئیس” کے ذریعے بالی وڈ میں ڈیبیو کیا تھا۔ وہ اس فلم میں شاہ رخ خان کے ساتھ نظر آئیں۔

    2016 میں اڑی، جموں و کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد سے کوئی پاکستانی اداکار بھارتی فلم انڈسٹری میں کام نہیں کر رہا ہے۔

    پہلگام حملے کے ایک دن بعد، بھارت نے پاکستان کے خلاف متعدد سخت اقدامات کا اعلان کیا، جن میں انڈس واٹرز معاہدے کی معطلی، اٹاری کے واحد آپریشنل زمینی سرحد کو بند کرنا اور حملے کے حوالے سے پاکستان سے تعلقات میں کمی کے اقدامات شامل تھے۔اس کے جواب میں پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز کے لیے اپنا فضائی حدود بند کر دی اور بھارت کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات معطل کر دیے، بشمول تیسری ملکوں کے ذریعے تجارت۔ پاکستان نے انڈس واٹرز معاہدے کی معطلی کو مسترد کر دیا اور کہا کہ پانی کی فراہمی روکنا "جنگ کا ایک عمل” سمجھا جائے گا۔

  • پیپلز پارٹی ہمیشہ  مزدوروں کے ساتھ کھڑی رہے گی،بلاول

    پیپلز پارٹی ہمیشہ مزدوروں کے ساتھ کھڑی رہے گی،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یومِ مزدور کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے محنت کش طبقے کے حقوق، وقار اور انہیں بااختیار بنانے کے متعلق اپنی جماعت کے تاریخی اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہےکہ یکم مئی نہ صرف اُن مزدوروں کی قربانیوں کی یاد دہانی کا دن ہے جنہوں نے مناسب اجرت اور باعزت کام کے حالات کی جدوجہد میں اپنی جانیں دیں، بلکہ یہ دن ہمیں اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کا عزم بھی دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آغاز سے ہی مزدور طبقے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کی ہے۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف مزدوروں کو یونین سازی کا حق دیا، بلکہ ان کی فلاح کے لیے ای او بی آئی جیسے ادارے قائم کیے۔ جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو اُن کا پہلا حکم اُن مزدور رہنماؤں کی رہائی تھا جنہیں آمریت کے دور میں سیاسی بنیادوں پر قید کیا گیا تھا۔ صدر آصف علی زرداری کے پہلے دورِ حکومت میں تمام مزدور مخالف شقوں کو آئین سے نکالا گیا اور تنخواہوں و پنشنز میں تاریخی اضافہ کیا گیا۔ ہم اس ورثے کو فخر کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ باعزت روزگار، منصفانہ اجرت اور سماجی تحفظ ہر محنت کش کا بنیادی حق ہے — چاہے وہ فیکٹری میں کام کرنے والا ہو، کسان ہو، گھریلو ملازم ہو یا غیر رسمی اور ڈیجیٹل معیشت کا حصہ ہو۔ پیپلز پارٹی مزدوروں کی بہبود کو اولین ترجیح دینے والی پالیسیوں پر کاربند ہے، جن میں مناسب کم از کم اجرت، طبی سہولیات، پنشنز، اور محفوظ کام کی جگہیں شامل ہیں۔

    بلاول نے زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور کی اکانومی کی حقیقتوں کے مطابق مزدور قوانین کو جدید بنانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی مزدور پیچھے نہ رہ جائے۔ محنت کشوں کے حقوق اور فلاح کے حوالے سے سندھ اسمبلی نے جو قانون سازی کی ہے، اس کی مثال ملک کے کسی اور صوبے میں نہیں ملتی۔ سندھ حکومت کا بینظیر مزدور کارڈ ایک انقلابی اقدام ہے، جس کے ذریعے مزدوروں کو تعلیم، صحت، شادی گرانٹ، مالی امداد اور وظائف جیسی بنیادی سہولیات حاصل ہوں گی۔ انہوں نے پاکستانی مزدوروں کی ثابت قدمی اور محنت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے محنت کش ہی ہماری معیشت اور قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی — جدوجہد میں بھی، خدمت میں بھی۔

  • کراچی میں ریلوے کی 954 ایکڑ اراضی پر قبضے کا انکشاف

    کراچی میں ریلوے کی 954 ایکڑ اراضی پر قبضے کا انکشاف

    اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ریلوے کا 10 واں اجلاس پاکستان ریلوے کراچی کے دفتر کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت رائے حسن نواز خان، ممبر قومی اسمبلی نے کی۔

    اجلاس کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا۔ بعد ازاں، پاکستان ریلوے کراچی کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے کمیٹی کو کراچی ڈویژن میں اراضی کے قبضوں کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی ڈویژن کی کل ریلوے اراضی 19,594 ایکڑ ہے، جس میں سے 954 ایکڑ اراضی پر نجی افراد کا قبضہ ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران تقریباً 340 ایکڑ اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے۔ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے کمیٹی کو ریلوے اراضی پر قبضے ہٹانے میں درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا، جن میں سب سے اہم مسئلہ صوبائی حکومت سے ریلوے اراضی کی ملکیت کی منتقلی کا تھا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر فوری کارروائی کی سفارش کی اور تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو ایک ماہ کی مدت دی تاکہ وہ ریلوے اراضی کے قبضے پاکستان ریلوے کے حوالے کریں، ورنہ ان چیف سیکریٹریز کو اجلاس میں بلایا جائے گا تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔

    اس کے بعد، کمیٹی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ، کیماڑی کا دورہ کیا تاکہ وہاں مال برداری کی ٹرینوں کے ذریعے لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے طریقہ کار کو ملاحظہ کیا اور اس کے لیے بنائی گئی مکینزم کی تعریف کی۔آخر میں، کمیٹی نے کراچی کے کینٹ ریلوے اسٹیشن کا دورہ کیا تاکہ اسٹیشن کی حالت اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے کمیٹی کو اس دورے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

  • ڈاکٹر  راغب نعیمی سٹیٹ بینک کی شرعیہ ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین مقرر

    ڈاکٹر راغب نعیمی سٹیٹ بینک کی شرعیہ ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین مقرر

    معرو ف دینی سکالرڈاکٹر راغب حسین نعیمی سٹیٹ بینک کی شرعیہ ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین مقرر کردیئے گئے۔

    ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان سلیم اللہ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیاہے۔ڈاکٹر راغب حسین نعیمی جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات سرانجام دے ہیں۔ڈاکٹر محمد راغب نعیمی گورنمنٹ کالج کے گریجویٹ ہیں. وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ایم اے معاشیات اور اسلامی معاشیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔آپ نے دینی تعلیم دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہورسے حاصل کی ہے۔

    یاد رہے ڈاکٹرراغب حسین نعیمی اس وقت کئی پوزیشن پرخدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر راغب حسین نعیمی لاہور میں معروف دینی درسگاہ جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ ہیں ، آپ پنجاب قران بورڈ اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین اورپنجاب زکوةٰ کونسل کے ممبر بھی رہے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ آپ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔پنجاب یونیورسٹی لاہور اورزرعی یورنیورسٹی فیصل آباد کے سنڈیکٹ کے ممبر ہیں۔معاشرے میں تعلیم کے فروغ،امن وامان کے قیام اوربین المذاہب ومسالک رواداری کے فروغ کیلئے آپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔گزشتہ سال آپ کو دینی،تعلیمی اورسماجی خدمات کے اعتراف میں صدرمملکت کی جانب سے ستارہ امتیازسے نوازا گیا ہے۔

  • ایسے معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کریں جو مزدوروں کا احترام کرے، وزیراعظم

    ایسے معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کریں جو مزدوروں کا احترام کرے، وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مزدوروں کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ آج، جب پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم مزدوراں منایا جا رہا ہے، پاکستان اپنے محنت کشوں کے لیے روزگار کے حصول کے دوران محفوظ، صحت مند، اور باوقار حالات کو فروغ دینے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے – ہماری محنت کش افرادی قوت، ہماری قوم کی ترقی اور حالات سے نمٹنے کی ہماری استعداد کے پیچھے اصل محرک ہے۔

    وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ پاکستان کے آئین میں درج ہے اور یہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے بنیادی کنونشنز کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جس کا پاکستان بطور ایک ذمہ دار دستخط کنندہ ملک ہے۔ ان نظریات کی پیروی میں، پاکستان نے مزدوروں اور افرادی قوت کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قانون سازی اور انتظامی اصلاحات کی ہیں۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران حفاظت اور صحت سے متعلق نئے وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے ہم نے کلیدی بین الاقوامی لیبر کنونشنز بشمول جبری مزدوری کنونشن اور میری ٹائم لیبر کنونشن کے 2014 کے پروٹوکول کی توثیق کی ہے۔ پہلی بار، پاکستان میں ہر مزدور قومی پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کی پروفائل سے مستفید ہو رہا ہے، جو پورے ملک میں روزگار کے حصول کے ماحول کو محفوظ اور صحت مند جگہوں میں تبدیل کرنے کو یقینی بنا رہا ہے۔ ہماری حکومت نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (EOBI) اور ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) جیسے اداروں میں شمولیت کو وسیع اور انہیں مؤثر بنانے کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہمارے مزدوروں کے تحفظ کے ثمرات افرادی قوت کے تمام طبقات میں زیادہ مساوی طور پر تقسیم کیے جائیں۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹائزیشن اور لیبر لا ریفارمز کے ذریعے، ہم ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں ہر مزدور کو باوقار اور محفوظ روزگار تک رسائی حاصل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہنر و پیشہ ورانہ تربیت کی ترقی کے اقدامات، خاص طور پر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹیز (TEVTAs) کے ذریعے، ترجیحی بنیادوں پر نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس اہم دن پر، میں مزدوروں، کارکنوں، سول سوسائٹی اور حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں جو مزدوروں کا احترام کرے، ان کے حقوق کو برقرار رکھے اور سب کے لیے باوقار روزگار کے حصول کے مواقع پیدا کرے۔

  • پہلگام ڈرامہ،بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی خفیہ دستاویزات لیک،مقصدپاکستان کو بدنام کرنا

    پہلگام ڈرامہ،بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی خفیہ دستاویزات لیک،مقصدپاکستان کو بدنام کرنا

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی 9 خفیہ کلاسیفائڈدستاویزات مبینہ طور پر عسکریت پسند گروہ ٹی آر ایف نے لیک کر دی ہیں۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے دستاویزی ثبوت لیک ہوگئے،پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کیلئے راء نے دہشت گرد حملہ پلانٹ کیا

    انکشافات کے مطابق، پہلگام حملہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا اور بھارت پاکستان کے خلاف بڑے فوجی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے، جس میں بلوچ شدت پسند گروہوں کو استعمال کر کے اندرونی تخریب کاری شامل ہے۔منظر عام پر آنے والے دستاویزات کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں‌کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنی تھی، اس کا مقصد عالمی طاقتوں کو پاکستان کے خلاف متنفر کرنا تھا، فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی فوج کو ایک اعشاریہ دو کلومیٹر پاکستان کے اندر کاروائیوں کا ہدف دیا گیا تھا

    پہلگام حملہ ایک عسکریت پسندانہ کارروائی نہیں تھی۔ یہ ایک بہت ہی منصوبہ بندی شدہ جعلی کارروائی تھی جسے بھارت کی خفیہ ایجنسی،را نے تیار اور عملی طور پر انجام دیا۔لیک ہونے والی دستاویزات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ حملہ ایک اعلیٰ تعداد میں جانی نقصان اور بڑا پروفائل حملہ دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جو ایک کشمیری عسکریت پسند گروہ کے حملے کے طور پر پیش کیا جائے۔ لیکن اس حملے کے ہر پہلو کو چالاکی سے بدلا گیا تھا کال لاگ، اسلحہ کے نشانات، زبانیں ،

    آپریشن کا اصلی مقصد کیا تھا؟
    بین الاقوامی رائے کو متاثر کرنا، خاص طور پر امریکی محکمہ خارجہ، ایف وی وائی ہائبرڈ وارفیئر یونٹس، اور یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکشن سروس کو یہ یقین دلانا کہ پاکستان پھر سے دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔اس آپریشن کا دوہرا مقصد تھا،پاکستان کے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بیانیہ کو بدنام کرنا۔بھارت کی داخلی کریک ڈاؤن اور فوجی اقدامات کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے گلوبل کاؤنٹر ٹیررزم کمپیکٹ کے تحت جواز فراہم کرنا۔

    راکا منصوبہ یہ تھا کہ پاکستان کی فوجی ردعمل کی پیش گوئی کی جائے۔ بارہویں کور کو مشرقی محاذ کی طرف حرکت کرنے پر مجبور کیا جائے گا، جس سے بلوچستان غیر محفوظ ہو جائے گا اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں جیسے بی ایل اے اور بی این اے کو ایک شاندار موقع مل جائے گا۔حتیٰ کہ سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ بھی اس سلسلے میں شامل تھا۔ایک اور مقصد یہ تھا کہ ایک محدود بھارتی دراندازی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کی جائے، جس میں ایک بفر زون کو حملے کی صورت میں قبضہ کیا جائے، تاکہ پاکستان کے ردعمل کو اشتعال دلایا جا سکے۔ اس حملے کو "عارضی” اور "دفاعی” کے طور پر پیش کیا جانا تھا۔

    اس منصوبے کا اہم پہلو وقت تھا۔ مثالی وقت کا انتخاب امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کی بھارت کے دورے کے دوران کیا گیا تھا، تاکہ مغربی دنیا سے زیادہ سے زیادہ ہمدردی اور سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

    پہلگام کیوں؟
    پہلگام کو ایک آسان ہدف کے طور پر منتخب کیا گیا کیونکہ وہاں ہندو سیاحوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور یہ ایک اہم فوجی رسد کا مقام بھی ہے۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نظر آنا اور زیادہ سے زیادہ غصہ پیدا کرنا تھا۔دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بھارتی میڈیا اور حکومتی اہلکاروں کو اس حملے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام لگانے کی تیاری کرائی گئی تھی تاکہ ملکی اور عالمی سطح پر رائے کو اس کے حق میں موڑا جا سکے۔

    جو کچھ اس لیک سے سامنے آیا ہے وہ نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو خونریزی کو منصوبہ بندی کرے، بیانیہ کو بدلنے کی کوشش کرے، اور محض اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ کو خطرے میں ڈالے۔بھارتی حکومت اور”را”نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اور اب، دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی لیک دستاویز کے مطابق، رانے مقبوضہ کشمیر میں ایک خطرناک حملے کی منصوبہ بندی کی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محدود مداخلت اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ اس آپریشن کو ایک "ڈوئل ایکسس اسٹریٹیجک ماڈل” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں مقبوضہ کشمیر کے اندر عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی سلامتی کی تشہیر کو بھی مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق اس آپریشن کا مقصد کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ذریعے ایک ایسا حملہ کرانا ہے جو بڑی تعداد میں جانی نقصان اور عالمی سطح پر توجہ کا باعث بنے۔ اس حملے کو کشمیر کے مقامی گروپوں، جیسے "دی ریزسٹنس فرنٹ” اور "پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ” کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جو آپریشن کی سرپرستی کریں گے۔آپریشن کا عمومی مقصد پاکستان کے خلاف ایک بیرونی جنگی فریم ورک تیار کرنا ہے جس سے بھارت کی داخلی سلامتی کو بھی مضبوطی ملے گی اور عالمی سطح پر پاکستان کے روایتی بیانیہ کو خراب کیا جائے گا۔

    را کی لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق یہ آپریشن نہ صرف بھارت کی داخلی سلامتی کو تقویت دینے کے لیے ہے، بلکہ اس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ قائم کرنا بھی ہے، جس سے بھارت کے لیے عالمی دہشت گردی کی روک تھام کے اقدامات میں حمایت حاصل ہو سکے۔ بین الاقوامی سطح پر اس آپریشن کے ذریعے بھارت کو اپنے قومی مفادات کے دفاع میں مزید کامیاب بنانے کی کوشش کی جائے گی، خصوصاً امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور کینیڈا جیسے ممالک کے ساتھ مل کر۔اس منصوبے کی تشہیر کے لیے ایک مربوط میڈیا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اس کی کامیاب تشہیر کو نیشنل اور بین الاقوامی میڈیا میں فروغ دیا جائے گا۔ اس میں بھارت کے اہم میڈیا ادارے جیسے این ڈی ٹی وی گروپ، انڈین ایکسپریس، اور غیر متنازعہ میڈیا چینلز جیسے ڈوئچے ویلے جنوبی ایشیا کو شامل کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر اس کی جھلک دکھائی جا سکے۔

  • بھارتی خفیہ ایجنسی  ’’را‘‘ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو خود قتل کیا،مبشر لقمان

    بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو خود قتل کیا،مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کےسینئر، معروف صحافی اور تجزیہ نگار،اینکر مبشر لقمان نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوؤں کو خود قتل کیا تاکہ اس کا الزام پاکستان اور کشمیری مزاحمتی تنظیموں پر ڈالا جا سکے۔

    مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرپوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی انتہائی خفیہ دستاویزات موجود ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ بھارت نے خود اپنے لوگوں کو بے رحمی اور سفاکی سے قتل کیا، اور اب ان ثبوتوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے گا تاکہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کا چہرہ بے نقاب ہو۔ پلوامہ حملہ دراصل ایک مکمل طور پر ’’را‘‘ کی منصوبہ بندی تھی، جسے بھارت نے اپنی عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا ، اس حملے میں بھارتی ایجنسی کے اہلکاروں نے خود اپنے شہریوں کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد ایک جعلی بیانیہ دنیا بھر میں پھیلایا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ’’پلوامہ حملہ ایک خود ساختہ ڈرامہ تھا، جس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی نے اپنے ہی سپاہیوں کو مار کر اس کا الزام پاکستان پر دھر دیا۔ میرے پاس اندرونی خطوط اور کلاسیفائیڈ معلومات موجود ہیں جو اس سازش کی مکمل تصدیق کرتی ہیں،‘‘ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ان دستاویزات اور دیگر شواہد کو عوام کے سامنے پیش کریں گے، تاکہ عالمی برادری کو یہ اندازہ ہو سکے کہ بھارت خود اپنے شہریوں کو قتل کر کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتا رہا ہے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1917671088558944397

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ "را” نے کچھ مخصوص تنظیموں کو فنڈنگ اور سہولت فراہم کی تاکہ ان کے ذریعے ایسے حملے کرائے جا سکیں جو بھارت اپنے بیانیے کے لیے استعمال کر سکے۔ اب شواہد موجود ہیں جو ’’را‘‘ اور ان تنظیموں کے درمیان رابطوں کو ثابت کرتے ہیں۔پاکستان عشروں سے بھارتی جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ رہا ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ان جھوٹوں کو بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان شواہد کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی را ہی تھی جس نے مقوضہ کشمیر میں قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

    پہلگام ڈرامہ، ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    بھارت میں مبشر لقمان یوٹیوب بند،ایکس بھی بند ہو سکتا، مبشر لقمان کا بھارتیوں کو مشورہ

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    بھارت کو "کھرا سچ”ہضم نہ ہوا، مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کر دیا

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا