Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی فوج میں "سکھ”اہلکاروں کی وفاداری پرشک،خفیہ دستاویزات لیک

    بھارتی فوج میں "سکھ”اہلکاروں کی وفاداری پرشک،خفیہ دستاویزات لیک

    بھارتی فوجی انٹیلی جنس کی ایک خفیہ دستاویز کے مطابق بھارتی وزارت دفاع نے مختلف محاذوں پر تعینات سکھ اہلکاروں کی مخصوص حساس تقرریوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    دستاویز میں فوجی کمانڈز کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ سکھ اہلکاروں کی جانچ پڑتال کو مزید سخت بنایا جائے،یہ خفیہ ہدایت نامہ، جو 29 اپریل 2025 کو ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کیا گیا، "ڈیپلائمنٹ پروٹوکول ، سکھ اہلکار برائے حساس تقرریاں” کے عنوان سے سامنے آیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس سے پتا چلا ہے کہ محدود تعداد میں سکھ فوجی اہلکاروں میں نظریاتی کمزوری دیکھنے میں آئی ہے، جس کا سبب مبینہ طور پر خالصتانی سوچ ہے۔دستاویز کے مطابق بعض سکھ افسران اور جوان، اگرچہ مجموعی طور پر وفادار ہیں، لیکن انہوں نے پاکستان سے منسلک پنجاب سرحدی علاقوں میں براہ راست کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جو ان کے اندر ممکنہ نظریاتی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اس قسم کی سوچ، حساس آپریشنز میں مشن کی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔فوجی کمانڈرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حساس شعبوں میں تعینات تمام اہلکاروں کی فوری جانچ کریں ،یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی سکھ اہلکار کو حساس ذمہ داری سونپنے سے پہلے سخت کاؤنٹر انٹیلیجنس اسکریننگ ضروری ہوگی۔

    تمام کور زونز کی ملٹری انٹیلیجنس یونٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر دو ہفتے بعد ’آئیڈیالوجیکل رسک اسیسمنٹ‘ رپورٹ تیار کریں، تاکہ خطرے سے دوچار اہلکاروں کی ذہنی کیفیت اور نظریاتی جھکاؤ کا جائزہ لیا جا سکے۔تمام فارمیشن کمانڈرز کو اس ہدایت پر فوری عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے، اور 72 گھنٹوں کے اندر تعمیل کی رپورٹ DG MI (ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس) کو جمع کروانے کی تاکید کی گئی ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق یہ بھارتی فوج کی اصل حالت ہے۔ یہ جنگ کیسے لڑے گی،جب اس کے سپاہیوں پر ہی شک کیا جائے گا اور اتنی سخت پالیسی نافذ کی جائے گی

    india

  • پہلگام،بھارت ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کردہ حقائق کو جھٹلا نے میں بری طرح ناکام

    پہلگام،بھارت ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کردہ حقائق کو جھٹلا نے میں بری طرح ناکام

    پہلگام فالس فلیگ ، حقائق منظر عام پر آنے اور گمراہ کن پروپیگنڈہ بےنقاب ہونےپربھارت حواس باختہ ہو گیا

    پاکستان کی جانب سےالزامات کی بجائےحقائق بیان کرنےپربھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے،پاکستان نے ریاستی سرپرستی میں بھارتی دہشتگردی کے شواہد پوری دُنیا کے سامنے آشکار کیے، جنگی جنون مین مبتلا بھارت حقائق کی بجائےالزامات درالزامات کی سیاست کر رہا ہے،بھارت ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کردہ حقائق کو جھٹلا نے میں بری طرح ناکام ہوگیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے حقائق بیان کئے، حقائق بیان کرنے پر بی جے پی کے انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے کانگریس لیڈران کو شدید تنقید اور دھمکیوں کاسامنا کرناپڑا،

    کانگریس لیڈر وجے ودیتیوار نے پہلگام حملے کے بعد بی جے حکومت اور بھارتی فوج کی ناکامی پرشدید تنقید کی تھی، بھارتی سول سوسائٹی اور کئی اپوزیشن رہنماؤں نے بھارتی فوج کی ناکامی پر سوالات اٹھائے،بھارتی میڈیاپہلےبھی حقائق چھپانے کےلیے سچ بولنے والی آوازوں پر پابندیاں لگا چکا ہے، پہلگام حملے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار بھارت نے پاکستان کے کئی چینلز اور سوشل میڈیااکاؤنٹس پر پابندی لگائی،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حقائق کا سامنا کرنے کی بجائے بھارت اختلافی آوازوں پر ظلم و ستم میں مصروف ہے، بھارت کی بوکھلاہٹ سے واضح ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقائق بیان کئے، مودی سرکار کوحقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرکے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہئے،

  • پاکستان کی ہندو برادری کا بھارت کیخلاف احتجاج

    پاکستان کی ہندو برادری کا بھارت کیخلاف احتجاج

    کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہندو پنچایت کے زیر اہتمام بھارت مخالف ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس ریلی میں بھارت کی جارحیت اور جنگی جنون کی سخت مذمت کی گئی۔

    ریلی کا آغاز آریا مندر سے ہوا، جو مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچی۔ شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔اس موقع پر اقلیتی امور کے لیے پارلیمانی سیکرٹری سنجے کمار نے ریلی کی قیادت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سنجے کمار نے کہا کہ "پاکستان پر الزام لگانا بھارت کی پرانی عادت ہے، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کرکے بھارت کو لاجواب کر دیا ہے۔”

    سنجے کمار نے بھارت کی جانب سے جنگی جنون اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اصل مجرموں کو تلاش کرنے کے بجائے بھارت کا جنگی جنون اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن ہے۔”پارلیمانی سیکرٹری نے واضح کیا کہ "ہندو برادری سمیت تمام غیر مسلم پاکستانی اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قیمت پر اپنے وطن عزیز کا دفاع کریں گے۔” انہوں نے بھارت کے اندر اقلیتی برادریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت آج اقلیتوں اور بے گناہ انسانوں کی قتل گاہ بن چکا ہے، جبکہ پاکستان میں ہمیں مذہبی اور تمام شہری آزادیوں کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔”

    انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ "پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم جان دے کر اس کی حفاظت کریں گے۔” ریلی کے دوران شرکاء نے "پاکستان زندہ باد، بھارت مردہ باد” اور "پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔ریلی میں شامل افراد نے بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے اور پاکستان کی سلامتی کے دفاع کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

  • افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار

    افواج پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار

    پاکستان کی مسلح افواج نے ایک مرتبہ پھر اپنی جنگی تیاریوں کا عزم ظاہر کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور دندان شکن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فوج کی جنگی مشقیں اس وقت پورے ملک میں جاری ہیں، جن میں جدید ہتھیاروں اور فوجی حکمت عملی کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔یہ مشقیں افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنے اور جنگی تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد دشمن کے کسی بھی ممکنہ حملے کا مؤثر اور فوری جواب دینا ہے۔ یہ مشقیں اس بات کا بھی پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نہ صرف اپنی دفاعی حکمت عملی میں ماہر ہے بلکہ جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال میں بھی مکمل طور پر تربیت یافتہ ہے۔

    اس سے قبل، 29 اپریل کو پاکستان نے بھارت کو عملی طور پر منہ توڑ جواب دیا تھا جب پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کے دو کواڈکواپٹر مار گرائے تھے۔ یہ واقعہ بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزام تراشی اور جارحانہ رویے کے بعد پیش آیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے دفاعی حکمت عملی کے تحت کی گئی تھی، تاکہ بھارت کو اس کی اشتعال انگیزیوں کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔

    پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان پر مختلف الزامات لگانے کے باوجود، پاکستان کی مسلح افواج نے ہر موقع پر اپنے دفاعی عزم اور جنگی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے وہ ہر دم تیار ہیں۔

  • کوئی مزدور کسی کا غلام نہیں ہوتا، ہم فیصلہ کرتے،انصاف اللہ کا کام،جسٹس جمال مندوخٰل

    کوئی مزدور کسی کا غلام نہیں ہوتا، ہم فیصلہ کرتے،انصاف اللہ کا کام،جسٹس جمال مندوخٰل

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم ججز انصاف نہیں کرتے، آپ حیران ہوں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں،انصاف تو اللّٰہ کا کام ہے ہم تو بس فیصلہ کرتے ہیں، ہم اپنے سامنے موجود دستاویز کو دیکھ کر فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں۔

    اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ آپ نے سنا ہو گا کہ ججز بولتے نہیں لکھتے ہیں، سوچا تھا لکھی ہوئی تقریر پڑھ لوں گا مگر اب دل کی اور آئین کی بات کروں گا،صدیقی صاحب نے مشکل میں ڈال دیا کہ میں بالکل اچھا مقرر نہیں مگر بات کرنا ہو گی، آئین کے مطابق تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں، آئین کے مطابق کسی سے آپ زبردستی کام نہیں لے سکتے، ہم نے قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے حلف لیا ہے،پالیسی فیصلوں پر میں بات نہیں کر سکتا، ہمارا کلچر ہے کہ مل بیٹھ کر جرگے کی صورت میں بات کریں، میرا کوئی کمال نہیں کہ میں جج ہوں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کام کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں،سوال ہے کہ کیا میں بحیثیت جج اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہوں؟ صرف آپ کو مزدور اور مجھے جج کا نام دیا گیا ہے، میرا کوئی کمال نہیں کہ میں اس عہدے پر بیٹھا ہوں،مجھے خوف ہے کہ جو میرا حلف ہے کہیں میں اس کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا؟ کوئی فریق کہے گا کہ میرا حق ہے مگر میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو میرے سامنے دستاویز ہے، اللّٰہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو حلف کی پابندی کرنے کی توفیق دے، مجھےجو اتنے پرتعیش دفاتر اور وسائل ملے ہیں وہ مزدور اور آپ کے توسط سے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا مزید کہنا ہے کہ جب ہم آپس میں بیٹھیں گے تو یقین ہے کہ مسائل حل ہوں گے، کسی بھی ادارے کے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ یونین بنائے، یہی بہتر طریقہ ہے کہ مسائل بات چیت سے حل کیے جائیں، بہت سارے چھوٹے چھوٹے مسائل مل بیٹھ کر حل ہو سکتے ہیں، جس صوبے سے میرا تعلق ہے وہاں کان کنی کا کام ہے جو مزدور کرتے ہیں، جو کان کے اندر جاتے ہیں ان مزدوروں کے حوالے سے قوانین حکومت کو بنانے چاہئیں،آئین میں درج حقوق سب کو ملنا چاہئیں، کوئی مزدور کسی کا غلام نہیں ہوتا، آئین کے مطابق ہم فیصلہ کرتے اور اس کا تحفظ کرتے ہیں، آئین میں درج پوری قوم کے حقوق کے تحفظ کا ہم نے حلف لیا ہے، ہم نے جو بھی فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہ کسی کے دباؤ، خوف اور لالچ میں آئے بغیر کرنا ہے، اپنے اور ساتھی ججز کی جانب سے یقین دلاتا ہوں ہم انصاف اور حقوق کا تحفظ کریں گے، آئیں جو بھی مسئلہ ہے اس پر مل بیٹھیں، ججز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ میل جول نہ رکھیں، ہم جب کسی کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے، معلوم نہیں صدیقی صاحب نے تعریف کی یا غیبت کہ میں صبح سویرے نہیں اٹھتا۔

    چیئرمین این آئی آر سی شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں،مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی کانفرنس کا اسلام آباد میں آغاز ہوا، جس میں جج صاحبان، ماہرینِ قانون اور آئی ایل او کے نمائندے شریک ہیں،
    اسلام آباد میں کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر شوکت عزیز صدیقی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقے کا قومی ترقی میں اہم کردار ہے، این آئی آر سی کا بنیادی مقصد ملک میں صنعت کا پہیہ رواں رکھنا ہے، صنعت چلتی رہے گی تو مزدور کا چولہا جلتا رہے گا، 4 دسمبر 2024ء کو مجھے چیئرمین این آئی آر سی کی ذمے داری سونپی گئی، جب اس ذمے داری کے تحت قانون پڑھا پتہ چلا ہمارا کام مزدور اور مالک کو اکٹھا کرنا ہے، ہم نے کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا جہاں ورکرز اور مالکان ایک ساتھ بیٹھ کر بات کریں، ہم کامیاب ہوئے کہ آج ورکرز اور مالکان ایک میز پر ہوں گے، کانفرنس کا عنوان ’WE‘ ان 2025ء ہے، اس WE میں ڈبلیو سے مراد ورکر اور ای سے مراد امپلائر ہے، ہم نے کوشش کی ہے کہ ورکر اور امپلائر کے درمیان صلح رحمی اور یکجانیت لائیں۔

  • پہلگام ڈرامہ،سیکورٹی کی ناکامی،بھارت میں بھی سوال اٹھنے لگے

    پہلگام ڈرامہ،سیکورٹی کی ناکامی،بھارت میں بھی سوال اٹھنے لگے

    پہلگام حملے کے بعد سکیورٹی کی ناکامی پر بھارت میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس حملے میں مارے گئے افراد میں ریاست گجرات کے شیلیش بھائی کلاٹھیا بھی شامل تھے، جن کی بیوی نے اس حوالے سے بھارتی وزیر سی آر پاٹل پر شدید تنقید کی۔

    شیلیش کی بیوہ کا کہنا تھا کہ "آپ کے پاس بہت سی وی آئی پی کاریں ہیں لیکن پہلگام میں نہ کوئی فوجی تھا اور نہ ہی کوئی میڈیکل ٹیم موجود تھی۔” اس تبصرے نے بھارتی حکومت کی سکیورٹی تدابیر پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔بھارتی صحافی اور کشمیر کے امور کی ماہر انورادھا بھسین نے اس حملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ واقعہ دنیا کے سب سے زیادہ فوجی زون میں پیش آیا ہے، اس لیے اس پر بڑے سوالات اٹھتے ہیں۔” انورادھا کا کہنا تھا کہ حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی مبینہ حملہ آوروں کے نام کس طرح سامنے آ گئے؟ سکیورٹی فورسز کو پہنچنے میں وقت لگا، لیکن چند ہی گھنٹوں میں حملہ آوروں کی تصاویر بھی منظر عام پر آ گئیں، جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ تحقیقات میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "تحقیقات زیادہ قابل اعتبار نہیں لگتیں۔”

    ماہر سکیورٹی امور امیتابھ مٹو نے اس حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ سکیورٹی کی بڑی کوتاہی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حملے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونے چاہئیں اور اس کی ذمہ داری سکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

    پہلگام حملہ بھارت میں سکیورٹی کے نظام پر سوالیہ نشان بن گیا ہے، اور اس کے بعد سکیورٹی کی خامیوں پر بڑے پیمانے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ حکام کو ان سوالات کا جواب دینا ہوگا کہ آخر کیوں اتنی حساس علاقے میں سکیورٹی میں اتنی بڑی غفلت برتی گئی اور اس کے پیچھے کون سے عناصر ملوث تھے۔

  • پہلگام ڈرامہ،سعودی عرب،ایران،کویت کی پاک بھارت کشیدگی کم کروانے کی کوشش

    پہلگام ڈرامہ،سعودی عرب،ایران،کویت کی پاک بھارت کشیدگی کم کروانے کی کوشش

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 بھارتی سیاحوں کے قتل کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سنگین واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا، جس پر عالمی برادری نے فوری طور پر مداخلت کی کوششیں تیز کردی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔

    سعودی وزارت خارجہ نے پاکستان اور بھارت کو کشیدگی سے گریز کرنے اور تمام تنازعات کو سفارتی سطح پر حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سعودی عرب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے مسائل کو تحمل اور حکمت کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

    کویت نے بھی پاکستان اور بھارت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اختلافات میں تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ کویتی حکام نے دونوں ملکوں سے کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے کی کوشش کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم رکھا جا سکے۔

    اس کے علاوہ ایران نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایران کے حکام نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اس موقع پر پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن کے قیام کے لیے ان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    چین نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ چین نے دونوں ممالک سے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی طرح روس نے بھی پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو تحمل کے ساتھ حل کریں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کریں۔

    بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے اقدامات کے بعد پاکستان نے بھی بھرپور جواب دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کو کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کرے اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوشش کرے۔

    پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے عالمی برادری کی مخلصانہ کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ حالات کشیدہ ہیں، تاہم عالمی طاقتوں اور پڑوسی ممالک کی کوششوں سے دونوں ممالک میں مذاکرات کا دروازہ کھل سکتا ہے، جس سے خطے میں امن کا قیام ممکن ہو سکے گا۔

  • بھارت اپنی ناکام سیکورٹی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    بھارت اپنی ناکام سیکورٹی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اسلام آباد میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بین الاقوامی اور خطے کی صورتحال پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ خاص طور پر حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور خطے کے امن پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی ناکام سیکورٹی پالیسیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے، جو کہ ایک غیر منصفانہ اور اشتعال انگیز رویہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اپنی سیاست کو بچانے کے لیے دونوں ملکوں کے عوام کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ اور عالمی برادری کو اس صورتحال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر نظر رکھنی چاہیے اور اسے امن کی طرف رہنمائی کرنی چاہیے۔

    ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے داخلی معاملات میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے اور وطن کی دفاع کے لیے تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم اپنے اتحاد کے ذریعے مودی سرکار کا مقابلہ کرے گی اور ملک کے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گی۔اس ملاقات میں مولانا اسجد محمود، مفتی ابرار احمد اور طارق بھی موجود تھے،

  • قدرتی وسائل ،  امریکا اور یوکرین کے درمیان معاہدہ طے

    قدرتی وسائل ، امریکا اور یوکرین کے درمیان معاہدہ طے

    واشنگٹن: امریکا اور یوکرین کے درمیان قدرتی وسائل، خاص طور پر نادر معدنیات کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ کئی ماہ کی طویل بات چیت کے بعد کیا گیا اور دونوں ممالک نے اس پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت یوکرین امریکا کو ترجیحی بنیادوں پر اپنی نادر معدنیات تک رسائی فراہم کرے گا۔

    یوکرین کی اوّل نائب وزیراعظم، یولیا سویریڈینکو نے بدھ کے روز اس معاہدے پر دستخط کی تصدیق کی اور بتایا کہ یوکرین خود فیصلہ کرے گا کہ کون سی معدنیات کہاں سے نکالی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی حکومت ان معدنیات کے نکالنے کے حوالے سے مکمل اختیار رکھے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نادر معدنیات کو نکالنے کے لیے کم از کم دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، تاہم اگر یوکرین سے ان معدنیات کا حصول ممکن ہو گیا تو امریکا چین اور روس سے ان معدنیات کی درآمدات پر اپنے انحصار کو کم کر لے گا۔

    یوکرین میں دنیا کے گریفائٹ کا تقریباً 6 فیصد ذخیرہ موجود ہے اور یورپ میں لیتھیم، ٹائٹینیم اور یورینیم کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی یوکرین ہی میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ، یوکرین بیریلیئم کی بڑی مقدار کا حامل بھی ہے، جو کہ جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی استعمال کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، اس معاہدے کے تحت ایک مشترکہ سرمایہ کاری اور تعمیر نو فنڈ قائم کیا جائے گا، جس کا انتظام امریکا اور یوکرین مل کر کریں گے۔ یہ فنڈ نادر معدنیات، تیل اور گیس کے نئے لائسنس سے حاصل ہونے والے 50 فیصد ریونیو سے چلایا جائے گا۔ امریکا اس فنڈ میں براہ راست سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ فوجی امداد فراہم کرے گا۔معاہدے کے مطابق، یوکرین کی معدنیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں امریکا کو بھی حصہ ملے گا، جس سے یوکرین کو اب تک دی جانے والی 175 ارب ڈالر کی فوجی امداد کی واپسی ممکن ہو سکے گی۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ معاہدہ روس کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین کے لیے ایک آزاد، خودمختار اور خوشحال ریاست کی حمایت میں پرعزم ہے۔

    صدر زیلنسکی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے امریکا کے ساتھ کئی اہم مذاکرات کیے۔ فروری میں واشنگٹن کے دورے کے دوران انہوں نے امریکا سے 500 ارب ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ان کی درخواست اس وقت مسترد کر دی گئی جب انہوں نے یہ کہا کہ امریکا نے یوکرین کو اس قدر فوجی امداد نہیں دی اور نہ ہی کوئی سکیورٹی گارنٹی فراہم کی۔تاہم بعد ازاں، امریکا کے دباؤ کے بعد صدر زیلنسکی نے اس معاہدے کو یوکرین کی سکیورٹی اور سلامتی کی ضمانت کے طور پر پیش کیا۔آخرکار، پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے موقع پر امریکی اور یوکرینی صدور کی ملاقات نے اس معاہدے کو حتمی شکل دی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ یوکرین کی تعمیر نو میں حصہ لینے والے ممالک کی نگرانی کی جائے گی، اور جن ممالک نے روس کی مدد کی ہے، انہیں اس عمل میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی۔

    کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکا نے یوکرین کو فوجی امداد دینے کے بدلے اس سے نادر معدنیات کے حصول کا معاہدہ کیا ہے، جو کہ یوکرین کے قدرتی وسائل پر امریکا کی بڑھتی ہوئی انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ یوکرین کی اقتصادی خودمختاری پر سوالات اٹھاتا ہے اور اس سے یوکرین کی خودمختاری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

  • بنوں،دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ، 3 سی ٹی ڈی اہلکار شہید،دو زخمی

    بنوں،دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ، 3 سی ٹی ڈی اہلکار شہید،دو زخمی

    خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین سی ٹی ڈی اہلکار شہید ہو گئے ہیں.

    بنوں میں سپینہ تنگی کے علاقے چشمی میں سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 سی ٹی ڈی اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے ہیں، ڈی پی او سلیم عباس کلاچی کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی پولیس کی فائرنگ سے 2 حملہ آور ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں، لاشیں اور زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،زخمیوں کا علاج جاری ہے،حملہ آور ساتھیوں کی لاشیں اور زخمی اپنے ساتھ لے گئے۔ حملہ آوروں سے اسلحہ، ہینڈ گرینیڈ، آئی ای ڈی اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے،پولیس کی بھاری نفری علاقے کا سرچ آپریشن کر رہی ہے،دہشت گردوں کا ہر صورت پیچھا کیا جائے گا،پاکستان کا امن تباہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں