Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی فوج کی جنگی تیاری پر  رپورٹ لیک ،افسران اور سپاہیوں میں مایوسی کی لہر

    بھارتی فوج کی جنگی تیاری پر رپورٹ لیک ،افسران اور سپاہیوں میں مایوسی کی لہر

    پہلگام ڈرامہ کے بعد بھارت نے فوری الزام پاکستان پر لگا دیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے سمیت کئی اقدامات اٹھائے،پاکستان نے بھی جوابی وار کیا، تاہم اسکے باوجود بھارتی وزیراعظم مودی، راجناتھ سنگھ اور بھارتی عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھی ہے کہ پہلگام ڈرامہ کے بعد دی جانے والی دھمکیوں کے بعد اب کیا کیا جائے، راجناتھ سنگھ کی جہاں مودی سے ملاقاتیں ہوئیں وہیں بھارتی عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، ان ملاقاتوں کے بعد بھارتی فوج کی جنگی تیاریوں کے حوالے سے ایک خفیہ داخلی جائزہ رپورٹ لیک ہو گئی ہے جس نے بھارت کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی موجودہ حالت نہ صرف کسی بڑی جنگ کے لیے ناکافی ہے بلکہ فوجی قیادت کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی کارروائی کا دائرہ محدود جھڑپوں سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ذرائع کے مطابق، انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (IDS HQ) نے حالیہ جائزے میں اعتراف کیا ہے کہ فوج کی عمومی تیاری خطرناک حد تک ناکافی ہے اور کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں بھارت کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کا حوصلہ بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔بھارتی سپاہیوں اور افسران میں بددلی اور بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔صیہونی ماہرین کی ایک بڑی تعداد بھارتی عسکری نظام میں سرگرم عمل ہے ،متعدد سپاہی اور افسران اپنی ملازمتیں چھوڑ رہے ہیں یا جنگی ذمہ داریوں سے کترا رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں اور مشیر، بھارتی افواج کی جدید کاری اور آپریشنل تیاری کے عمل میں براہِ راست شامل ہیں، لیکن اس شمولیت کے باوجود عملی صورتِ حال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، بیرونی اثرورسوخ نے فوج میں اندرونی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرونی رپورٹ میں بعض اہم مسائل اسلحے اور گولہ بارود کی کمی،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ناکامی،قیادت میں فیصلہ سازی کی سست روی،فرنٹ لائن پر تعینات دستوں کو مناسب سہولتوں کی عدم فراہمی جیسے مسائل کو نمایاں کیا ہے

    بھارتی فوج کے اندر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) اور لائن آف کنٹرول (LoC) پر موجود افواج میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اور حکام شدید دباؤ میں ہیں کہ اگر کسی قسم کی بڑی فوجی کارروائی کی نوبت آتی ہے تو وہ شاید اس کا مؤثر جواب نہ دے سکیں۔سیاسی حلقوں میں بھی اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف (آئی ڈی ایس) کی جانب سے تیار کردہ ایک انتہائی خفیہ رپورٹ میں بھارتی دفاعی نظام میں موجود سنگین خامیوں اور آپریشنل تیاری کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے گئے ہیں۔ 26 اپریل 2025 کی اس رپورٹ میں پاکستان، آزاد کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس میں انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (ڈی آئی اے) سے حاصل کردہ معلومات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ موجودہ بحرانی صورتحال کو قومی مقاصد کے حصول کے لیے صرف ٹیکٹیکل سطح تک محدود رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ tactical سطح سے کسی بھی قسم کی پیش قدمی دشمن کو صورتحال پر حاوی ہونے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، بھارتی فضائیہ کے سکواڈرن کی تعداد، فوج کے ٹینکوں کی مرمت و اپ گریڈیشن اور بحریہ کے آبدوز بیڑے کی تیاری میں اہم خلاء موجود ہیں۔ کسی بھی آپریشنل یا اسٹریٹجک پیش قدمی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں پیش آنے والے واقعات، جیسے کہ آئی این ایس وکرانت کی واپسی، آئی اے ایف کی جانب سے ایندھن کے ٹینک کا گر جانا اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر دشمن کی مقامی فائر سپیریورٹی حاصل کرنے کی صلاحیت، اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دشمن اپنی عددی برتری کے زعم میں ایک وسیع تر تنازعہ بھڑکانے کے درپے ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ اپنی قوت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر صورتحال tactical سطح سے آگے بڑھی تو شمالی کمانڈ اور مغربی کمانڈ کے علاقوں میں سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں تینوں مسلح افواج، خاص طور پر فوج میں غیر معمولی حد تک فرار کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ حال ہی میں طاقت کے مظاہرے کے شرمناک واقعات کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ چھٹیوں پر گئے ہوئے افسران اور جوان واپس آنے سے انکار کر رہے ہیں اور اسٹیشن پر موجود اہلکار طبی بنیادوں پر چھٹی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوجیوں کو حالیہ حملے کے بارے میں تیار کردہ بیانیے پر یقین نہیں ہے اور انہوں نے پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے خلاف فضائی تحفظ فراہم کرنے کی آئی اے ایف کی صلاحیت پر اعتماد کھو دیا ہے۔ اہم اثاثوں کو چلانے کے لیے اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی سے بھی حوصلے پست ہو رہے ہیں، کیونکہ بھارتی فوجی اپنی صلاحیتوں پر عدم اعتماد محسوس کر رہے ہیں۔ پہلگام واقعے کے بیانیے میں تضادات اور دشمن کی نفسیاتی جنگ کو رائج فوجی قوانین کے مطابق ان غیر متوقع مسائل سے نمٹنے کی کسی بھی کوشش سے پہلے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    رپورٹ میں بجلی کے گرڈ، صنعتی مراکز، لاجسٹک نوڈس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو دشمن کی فضائیہ سے خطرہ لاحق بتایا گیا ہے، جس کی وجہ آئی اے ایف کی آپریشنل صلاحیتوں میں کمی ہے۔ زمینی بنیادوں پر غیر فعال فضائی دفاعی نظام پر انحصار فعال فضائی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد پیدا نہیں کرتا اور بیشتر سیکٹرز، خاص طور پر دفاعی شعبے کے سرکاری ادارے (DPSUs)، اپنی premises پر فضائی دفاعی میزائل بیٹریوں (AD SAM Btys) اور فوری ردعمل ٹیموں (QRTs) کی تعیناتی کی درخواست کر رہے ہیں۔ کسی بھی بے قابو پیش قدمی سے بھارتی معیشت کو 50 سال پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خود انحصاری کے اقدامات اور اس پر خرچ کیے جانے والے فنڈز کے باوجود، مسلح افواج اب بھی غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کرتی ہیں اور ابھی تک بہت سے آرڈرز کی تکمیل ہونا باقی ہے۔ ملکی دفاعی مینوفیکچررز ابھی تک انتہائی بنیادی ساز و سامان سے آگے مطلوبہ ٹیکنالوجیز کو مقامی سطح پر تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ دشمن کی جانب سے بحریہ کی تنصیبات پر کسی بھی بڑے حملے کے نتیجے میں بحری ناکہ بندی ہو سکتی ہے اور جنگی ساز و سامان کی لاجسٹکس پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید مدد کے لیے کیپٹن (آئی این) آر کے سنگھ، ڈائریکٹر (این اے) سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جن کے رابطہ کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کی نقول چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) سیکرٹریٹ، آئی ایچ کیو آف ایم او ڈی (آرمی، ایئرفورس، نیوی) اور ہیڈ کوارٹرز اسٹریٹجک فورس کمانڈ (ایچ کیو ایس ایف سی) کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

  • ریاست مخالف پروپیگنڈا ، صنم جاوید   شوہر سمیت گرفتار

    ریاست مخالف پروپیگنڈا ، صنم جاوید شوہر سمیت گرفتار

    ریاست پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والی صنم جاوید خان اور اسکے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا

    صنم جاوید کو ٹاؤن شپ پولیس نے جبکہ شوہر کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے،ایف آئی اے اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سرگرم کارکن اور مشہور ٹک ٹاکر صنم جاوید اور ان کے شوہر عتیق کو گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں افراد پر ریاست مخالف سرگرمیوں اور جھوٹی معلومات پھیلانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    تھانہ ٹاؤن شپ پولیس نے صنم جاوید کو اپنی حراست میں لیا، جبکہ ان کے شوہر عتیق کو صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے حوالے سے ایک جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صنم جاوید پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اینٹی اسٹیٹ مواد اپ لوڈ کرنے کا بھی الزام ہے، جس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عوامی شکایات اور سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے ردعمل کے پیش نظر کی گئی۔ مختلف پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر فیک ویڈیوز اور ریاست مخالف مواد کی موجودگی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری ایکشن لینے پر مجبور کیا۔

    گرفتاری کے بعد پولیس حکام نے معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے سے فی الحال گریز کیا ہےصنم جاوید، جو کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں نمایاں طور پر شریک رہی ہیں، کی گرفتاری سے پی ٹی آئی کے کارکنان میں خاصی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، قانونی ماہرین اس کیس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی پر غور کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جو بھی سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا کرے گا یا جھوٹی معلومات پھیلائے گا، اس کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔

  • پہلگام ڈرامہ، کھیل بے نقاب،بھارتی خاتون کے مودی سے سوال

    پہلگام ڈرامہ، کھیل بے نقاب،بھارتی خاتون کے مودی سے سوال

    پہلگام فالس فلیگ، مودی کا کھیل بے نقاب، بھارتی عوام جاگ اٹھی

    ایک اور بھارتی خاتون مودی سرکار پر سیخ پا ہو گئی،بھارتی خاتون کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کو روکنے میں ناکامی پر مودی سرکار سے ابھی تک کوئی استعفی کیوں نہیں آیا ، آپ پاکستان کا پانی روکنے کے دعوے کر رہے ہیں، آپ نے ابھی تک دہشتگردوں کو کیوں نہیں پکڑا، جوبھارتی ہندو مسلم کا راگ الاپ رہا ہے اور مسلمانوں کو دہشتگرد کہہ رہا ہے اسے تاریخ کا جائزہ لینا چاہئے، بھارتی عوام بیوقوف نہیں ہے، میرا سوال ہے کہ کیا 1984 میں سکھوں کا قتل عام مسلمانوں نے کیا تھا۔ ؟مسلمانوں کو جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر ہندوؤں نے قتل کر دیا، کیا یہ دہشتگردی نہیں تھی ؟بات بات پر اسلام اور مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانا انتہائی غلط ہے، مودی سرکار کیوں پریس کانفرنس نہیں کرتی کہ کشمیریوں کا کوئی قصور نہیں ، کشمیری طلباء کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے، مودی نے کشمیریوں کو نہیں کشمیر کو اپنا مانا ہے، پہلگام حملے میں ملوث لوگوں کو پکڑنے کی بجائے مودی اپنے ہی لوگوں کر لڑوا رہا ہے،

  • تاج حیدر کی خالی سیٹ پرسینیٹ انتخابات،ایم کیو ایم نے ٹکٹ جاری کر دیا

    تاج حیدر کی خالی سیٹ پرسینیٹ انتخابات،ایم کیو ایم نے ٹکٹ جاری کر دیا

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول نے سینیٹ کے انتخاب کے لیے نگہت مرزا کو پارٹی کا ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی امیدوار نگہت مرزا آج ہی اپنا پارٹی ٹکٹ آر او کو جمع کرائیں گی۔ یہ اقدام سینیٹ کے انتخاب کے لیے آخری تاریخ کے قریب پہنچنے پر اٹھایا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ سینیٹ انتخاب سے دستبردار ہو جائے، لیکن ایم کیو ایم پاکستان نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنی امیدوار کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سینیٹ انتخاب کے لیے دستبرداری کا آخری دن آج ہے، اور انتخاب 6 مئی کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں ہوگا۔ اس نشست کی خالی ہونے کی وجہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر کا انتقال ہے، جنہوں نے حال ہی میں وفات پائی تھی۔

    یہ صورتحال سندھ میں سیاسی کشمکش کو مزید بڑھا سکتی ہے، جہاں ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تعلقات پیچیدہ ہیں۔

  • بھارت، تمام  دہشتگرد حملے بی جے پی کے دور اقتدار میں،خاتون نے سب گنوا دیئے

    بھارت، تمام دہشتگرد حملے بی جے پی کے دور اقتدار میں،خاتون نے سب گنوا دیئے

    پہلگام فالس فلیگ،بھارت میں ہونے والے تمام دہشتگرد حملے بی جے پی کے دور اقتدار میں ہوئے

    مودی حکومت کی پالیسیاں عوام میں بے چینی اور غصے کا سبب بننے لگیں, بھارتی عوام مودی کی ناکامیوں پر سخت سوال اٹھانے لگی،بھارتی خاتون نے بی جے پی حکومت کے تمام ادوار پر سوالات اٹھا کر، تمام حملوں کی تفصیل گنوا دیں، بھارتی خاتون کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والے تمام دہشت گرد حملے بی جے پی کے دور حکومت میں ہوئے،

    بھارتی خاتون نے مودی سرکار پر سیخ پا ہوتے ہوئے حملوں کی فہرست بتاتے ہوئے کہا کہ؛1999 میں کارگل میں خون ریزی کی ذمہ دار بی جے پی،2002 اور 2017 میں امرناتھ میں یاتریوں پر حملے کی ذمہ دار مودی سرکار،مودی سرکار نے 2016 میں پٹھان کوٹ اور اڑی میں حملہ کروایا،2019 پلوامہ حملے بھی مودی سرکار کی ایماء پر ہوئے، 2025 پہلگام حملہ بھی مودی سرکار کی سیاسی چال ہے،مودی کی حکومت آتے ہی بھارت اور اس کے باسی خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں، خصوصاً انتخابات کے نزدیک آتے ہی بھارت میں اس طرح کے حملے کروائے جاتے ہیں،اب بھی بہار انتخابات قریب آتے ہی پہلگام حملہ کروا دیا گیا، پہلگام حملے کے بعد بھارتی سرکار نے پاکستان کے خلاف محاذ کھول دیا، مودی سرکار پاکستانیوں کے کٹے ہوئے سر چاہتی ہے دراصل ان میں سے کوئی بھی پاکستان جانے کی ہمت نہیں رکھتا، پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے وزیراعظم نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا،بھارتی میڈیا کبھی بھی مودی سرکار سے یہ سوال نہیں پوچھے گا،

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام مودی سرکار اور اس کے گودی میڈیا کے فریب میں نہیں آنے والے، اب سچ کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے،

  • ہارورڈ یونیورسٹی میں‌وزیر خزانہ کی عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    ہارورڈ یونیورسٹی میں‌وزیر خزانہ کی عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    کیمبرج، میساچوسٹس :وزیر خزانہ، سینیٹر محمد اورنگزیب، نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ "پاکستان کانفرنس 2025” میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ملک کی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے مواقع، اور پائیدار ترقی کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔​

    وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اقتصادی استحکام حاصل کیا ہے، جس میں افراطِ زر کی شرح 0.7 فیصد تک کم ہوئی ہے، جو پچھلے 60 سالوں میں سب سے کم ہے۔ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 44 فیصد اضافہ ہوا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 24 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں معدنی وسائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور سبز توانائی کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ حکومت نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات، اور معاشی ترقی کے لیے جامع حکمتِ عملی شامل ہیں۔حکومت کا مقصد نہ صرف اقتصادی ترقی ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ بھی ہے۔​

    کانفرنس میں عالمی سطح پر ماہرینِ اقتصادیات، سرمایہ کاروں، اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ وزیر خزانہ نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی حکمتِ عملی، اصلاحات، اور عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن پر تفصیلی بات کی۔​

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ہارورڈ پاکستان کانفرنس میں خطاب پاکستان کی اقتصادی ترقی اور عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع تھا۔ انہوں نے عالمی سامعین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا، جو ملک کی پائیدار ترقی کے لیے اہم ہیں-

  • یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں سول نظام ناکام،سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں،سپریم کورٹ

    یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں سول نظام ناکام،سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی.

    سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے کی،دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے 3 نکات پر دلائل دینے ہیں، 9 مئی کے واقعات پر وزرات دفاع کے وکیل خواجہ حارث بھی دلائل دے چکے ہیں، میں بھی اس معاملے پر کچھ تفصیل عدالت کے سامنے رکھوں گا، میرے دلائل کا دوسرا حصہ مرکزی کیس کی سماعت کے دوران کروائی جانے والی یقین دہانیوں پر ہوگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ دلائل کا تیسرا نکتہ اپیل کے حق سے متعلق ہوگا، ملٹری ٹرائل کا سامنا کرنے والوں کو اپیل کا حق دینے کا معاملہ پالیسی میٹر ہے، اس پر ہدایات لے کر ہی گذارشات عدالت کے سامنے رکھ سکتا ہوں، پہلے سندھ کنال کا معاملہ زیرِ بحث رہا، اب بھارت نے جو کچھ کیا اس پر سب کی توجہ ہے، آج عالمی عدالت انصاف روانگی تھی لیکن منسوخ کردی۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ نے جو کرنا ہے کرے وہ ان کا پالیسی کا معاملہ ہے، ہم نے صرف اس کیس کی حد تک معاملے کو دیکھنا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے تو صرف گذارشات رکھی ہیں، آگے وقت دینا ہے یا نہیں، عدالت نے طے کرنا ہے، ملٹری ایکٹ میں شقیں 1967 سے موجود ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ پالیسی فیصلہ بھی کر لیں سول نظام ناکام ہو چکا سب کیسز فوجی عدالت بھیج دیں،جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ دلائل میں کتنا وقت درکار ہو گا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 45 منٹ میں دلائل مکمل کر لوں گا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کیس کی سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • علیمہ خان کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    علیمہ خان کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان کا نام سفری پابندی (ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا اسٹاپ لسٹ) میں شامل کرنے کے معاملے پر فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔

    پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خان کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی، جس میں انہوں نے اپنا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کی استدعا کی ہے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس سومرو نے استفسار کیا کہ آیا درخواست گزارہ کے خلاف فوجداری ضابطے کی سیکشن 87 یا 88 کے تحت کوئی کارروائی زیرِ التوا ہے یا نہیں۔درخواست گزارہ کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ علیمہ خان کے خلاف نہ تو دفعہ 87 کے تحت کوئی اشتہاری قرار دینے کی کارروائی جاری ہے اور نہ ہی دفعہ 88 کے تحت کوئی ضبطگی کا عمل ہو رہا ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ علیمہ خان کا نام بغیر کسی قانونی جواز کے سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    عدالت نے فریقین سے سوال کیا کہ علیمہ خان کا نام کس بنیاد پر فہرست میں شامل کیا گیا اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری کے نقل و حرکت کے حق میں مداخلت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کے لیے ٹھوس قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت سے قبل تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں۔ کیس کی مزید سماعت 5 مئی 2025 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  • پہلگام ڈرامہ،مودی پر تنقید،بھوجپوری گلوکارہ پر مقدمہ درج

    پہلگام ڈرامہ،مودی پر تنقید،بھوجپوری گلوکارہ پر مقدمہ درج

    بھوجپوری گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور کے خلاف لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ’قابل اعتراض‘ پوسٹ کے ذریعے نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کی، جس میں انہوں نے پہلگام دہشت گرد حملے کو حکومت کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیا تھا۔

    ایف آئی آر کے مطابق نیہا سنگھ کا ایک ویڈیو پاکستانی صحافیوں کے ایکس (X) ہینڈل پر ری پوسٹ کیا گیا، جس میں وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اب بہار میں پہلگام حملے کے متاثرین کے نام پر ووٹ مانگیں گے، جیسا کہ انہوں نے 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد کیا تھا۔ایف آئی آر میں مزید یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ نیہا کی پوسٹس قومی یکجہتی کو متاثر کرتی ہیں اور مذہب و ذات کی بنیاد پر لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ نیہا سنگھ راٹھور کے ’ملک دشمن‘ بیانات پاکستان میں وائرل ہو رہے ہیں، جہاں ان کی مودی حکومت پر تنقید کو سراہا جا رہا ہے اور پاکستانی میڈیا میں ان کے بیانات کو بھارت کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

    نیہا سنگھ راٹھور نے 25 اپریل 2025 کو اپنے ویڈیو میں وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’جو شخص روس-یوکرین جنگ میں مداخلت کر سکتا ہے، وہ اپنے ملک میں دہشت گرد حملہ روکنے میں ناکام رہا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے حامیوں نے ان سے سوال نہ کرنے کا مطالبہ کیا، جو ان کے مطابق انتہائی افسوسناک ہے۔نیہا نے کہا، ’’تعلیم اور صحت جیسے اہم مسائل اب غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ ملک میں قوم پرستی اور ہندو-مسلم سیاست اپنے عروج پر ہیں، پھر بھی لوگ مارے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں وزیر اعظم مودی کے ’’56 انچ کے سینے‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’56 انچ کے سینے کے باوجود لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔‘‘نیہا نے آخر میں سوال کیا، ’’کیا مجھے محمد علی جناح سے سوال کرنا چاہیے؟‘‘

    نیہا سنگھ راٹھور پر یہ پہلا مقدمہ نہیں ہے۔ 2023 میں بھی انہیں اپنے مشہور گانے "یوپی میں کا با – سیزن 2” پر پولیس کی جانب سے نوٹس موصول ہوا تھا۔ اس گانے میں انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیرِ قیادت اتر پردیش حکومت پر تنقید کی تھی، خاص طور پر کانپور دیہات میں ایک خاتون اور اس کی بیٹی کی موت پر۔

  • نومئی،جی ایچ کیو حملہ کیس، سماعت بغیر کاروائی ملتوی

    نومئی،جی ایچ کیو حملہ کیس، سماعت بغیر کاروائی ملتوی

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 3 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

    سماعت کے دوران عمر ایوب، شیخ رشید، راشد شفیق اور عالیہ حمزہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی عملے نے ملزمان کی حاضری لگائی اور انہیں جانے کی اجازت دے دی ،دورانِ سماعت وکلاء صفائی اور پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے مقدمے میں دو اہم گواہان، مجسٹریٹ مجتبیٰ اور سب انسپکٹر ریاض کو بھی طلب کر رکھا تھا، تاہم کارروائی نہ ہونے کے باعث گواہان کے بیانات قلمبند نہ ہو سکے،ملزمان پر اہم سرکاری تنصیبات پر حملے، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے الزامات عائد ہیں۔ کیس کی مزید سماعت اب 3 مئی کو ہوگی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد نومئی کو پی ٹی آئی شرپسندوں نے جی ایچ کیو سمیت ملک بھر میں عسکری مقامات، شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنایا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی