Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کے انٹراپارٹی انتخابات کو درست قرار دے دیا

    الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کے انٹراپارٹی انتخابات کو درست قرار دے دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان پیپلزپارٹی کے انٹراپارٹی انتخابات کو قانونی طور پر درست قرار دیتے ہوئے پارٹی کو سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلزپارٹی کے انٹراپارٹی انتخابات کے عمل کی جانچ پڑتال کی، جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انتخابی عمل تمام قانونی تقاضوں کے مطابق تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ میں کہا گیا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اہم عہدوں کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوئے ہیں۔سرٹیفکیٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ پیپلزپارٹی کے انٹراپارٹی انتخابات میں چیئرمین، سیکرٹری جنرل، سیکرٹری مالیات اور سیکرٹری اطلاعات کے عہدوں پر منتخب ہونے والے تمام امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

    یہ انتخابات پاکستان پیپلزپارٹی کے اندرونی امور کے لیے ایک اہم قدم ہیں، جس کے تحت پارٹی کے مختلف عہدوں پر بلا مقابلہ انتخابی عمل مکمل ہوا۔ اس فیصلے سے پیپلزپارٹی کے اندر داخلی نظم و ضبط اور شفافیت کی جھلک بھی ملتی ہے، جس کے ذریعے پارٹی کی قیادت نے اپنے کارکنان میں اعتماد پیدا کیا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس فیصلے کو پارٹی کی جمہوری اقدار کی کامیابی کے طور پر سراہا اور کہا کہ یہ انتخابات پارٹی کے اندر مضبوط اور ایک منظم قیادت کے قیام کی طرف ایک اور قدم ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ سیاسی حلقوں میں اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے داخلی انتخابات میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی مداخلت یا دھاندلی نہیں ہوئی۔پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اس سرٹیفکیٹ کو پارٹی کی جمہوری روایات اور اصولوں کی فتح قرار دیا اور کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات کے ذریعے پارٹی میں نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

  • پہلگام فالس فلیگ،بھارتی جنگی جنون،نیو یارک ٹائمز نے بے نقاب کر دیا

    پہلگام فالس فلیگ،بھارتی جنگی جنون،نیو یارک ٹائمز نے بے نقاب کر دیا

    بھارت کے جنگی جنون پر نیو یارک ٹائمز کی اہم رپورٹ سامنے آئی ہے

    نیویارک ٹائمز نے رپورٹ میں کہا ہے کہ اندرونی خلفشار سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے بھارت پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے،پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے فورا بعد بھارت نے پاکستان پر الزام دھر دیا ،مودی نےپاکستان کیخلاف اقدامات میں مدد اور تعاون مانگنے کیلئے درجنوں ملکی سربراہان سے رابطہ کیا،نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ؛”بھارت عالمی برادری میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز تیار کر رہا ہے”مودی نےپاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام اور شدید ردعمل کی بھی دھمکی دی، بھارتی وزارت خارجہ میں سفارت کاروں کو بریفنگ میں، بھارتی حکام نے ہندوستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنے پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا،

    بھارتی تجزیہ کاروں اور سفارتکاروں کے مطابق؛”بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے دہشت گردانہ حملے کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے”بھارت نے 1960 کے "انڈس واٹر ٹریٹی ” کو معطل کر دیا، مودی سرکار نے پہلگام حملے کے حوالے سے اب تک پاکستان کیخلاف کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا، دیگر ریاستوں نے بھارت سے ٹھوس شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا،بھارت نے سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے سفارتکاروں کو ملک بدر اور ویزے منسوخ کر دیے،بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھ گئیں،بھارت میں مسلم مخالف جذبات بھی شدت اختیار کر چکے ہیں،بھارت میں کشمیری طلباء کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں بے دخل کیا جا رہا ہے،

  • نیویارک کے ٹائمزسکوائر پر ہندوستانیوں کا احتجاج بری طرح ناکام

    نیویارک کے ٹائمزسکوائر پر ہندوستانیوں کا احتجاج بری طرح ناکام

    مودی حکومت کی مبینہ ایماء پر نیویارک کے ٹائمزسکوائر پر ہندوستانیوں کا احتجاج بری طرح ناکام ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق، یہ نام نہاد احتجاج سرحدی دہشت گردی کے خلاف ایک پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا۔
    بھارت کے اس متوقع احتجاج کے ردعمل میں پاکستانی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد بھی ٹائمز سکوائر پہنچ گئی، جس نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر بھارتی احتجاج کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

    اپنی اس ناکامی پر بوکھلاہٹ کا شکار مودی حکومت نے مبینہ طور پر سینکڑوں پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بند کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کا اصل ایجنڈہ بھارتی عوام کو سچ سے دور رکھ کر ہندوتوا کے نظریے کو فروغ دینا ہے۔ٹائمز سکوائر پر احتجاج کی ناکامی اور پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی کو مودی حکومت کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پہلگام فالس فلیگ،کشمیر میں ایک اور فیک انکاونٹر بے نقاب

    پہلگام فالس فلیگ،کشمیر میں ایک اور فیک انکاونٹر بے نقاب

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے فیک انکاونٹرز کی ایک اور شرمناک حقیقت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ایک اور بے گناہ کشمیری شہری، الطاف لالی کو بھارتی فوج نے جعلی انکاونٹر میں شہید کر دیا۔ یہ واقعہ 22 اپریل 2025 کو پیش آیا، جب بھارتی فوج نے الطاف لالی کو ان کے گھر سے اغوا کیا تھا، اور بعد میں دعویٰ کیا کہ وہ عسکریت پسند کمانڈر تھا۔

    مقبوضہ کشمیر کی ایک رہائشی خاتون نے اس فیک انکاونٹر کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ "پہلے میری بہن کو فون آیا اور کہا گیا کہ آپ پولیس سٹیشن آ کر الطاف لالی کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔” خاتون نے مزید بتایا کہ ان کی بہن کو پولیس نے تو چھوڑ دیا لیکن الطاف لالی کو نہیں چھوڑا۔ بعد ازاں، ان کی فیملی کو شام 6 بجے بلایا گیا اور بتایا گیا کہ الطاف لالی کا انکاونٹر ہو گیا ہے۔اس موقع پر کشمیر کی اس رہائشی خاتون نے سوالات اٹھائے کہ "اگر الطاف لالی ایک عسکریت پسند تھا تو وہ اپنے گھر میں کیسے رہ رہا تھا؟” اس نے مزید کہا کہ "ہم آواز اٹھا رہے ہیں لیکن ہماری آواز کوئی نہیں سنتا۔” انہوں نے بتایا کہ الطاف لالی کو ایک دور دراز جگہ لے جا کر مارا گیا، جہاں اس کی لاش تک کو نہیں دیکھا جا سکتا۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جعلی انکاونٹرز اور ماورائے عدالت قتل کی حقیقت عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت 1989 سے اب تک 7 ہزار سے زائد کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل کر چکا ہے۔اس سے قبل، بھارتی فوج نے 24 اپریل 2025 کو بھی فیک انکاونٹر میں محمد فاروق اور محمد دین کو شہید کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارتی فوج کے جھوٹے انکاونٹرز کی حقیقت پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے بے گناہ کشمیریوں کو جعلی انکاونٹرز میں قتل کرنے کے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کی ان غیر انسانی کارروائیوں کا نوٹس لینا ہوگا تاکہ کشمیری عوام کو ان ظلم و ستم سے نجات مل سکے۔بھارتی فوج کے فیک انکاونٹرز کی حقیقت اب دنیا کے سامنے آ چکی ہے اور کشمیری عوام اپنی آواز اٹھا رہے ہیں، مگر عالمی سطح پر اس کے خلاف کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • چین پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو گیا

    چین پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو گیا

    چین نے انسداد دہشت گردی کے مؤقف پر پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے پاکستانی ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اس دوران اسحاق ڈار نے چینی ہم منصب کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس گفتگو میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم پر پختہ ہے اور وہ خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا، بلکہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری سے حل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین خطے کی موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک عالمی ذمہ داری ہے جس میں تمام ممالک کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور وہ اس کے اس عزم میں بھرپور تعاون کرتا ہے۔وانگ ای نے مزید کہا کہ چین پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک بھارت کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کے لئے نقصان دہ ہے۔ چین اس کشیدگی کے حل کے لئے ایک پرامن طریقہ کار کی حمایت کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

    یہ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے کی ایک اہم قدم ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

  • پہلگام ڈرامہ،سچ سننے کا حوصلہ نہیں،بھارت میں درجنوں پاکستانی یوٹیوب چینل بلاک

    پہلگام ڈرامہ،سچ سننے کا حوصلہ نہیں،بھارت میں درجنوں پاکستانی یوٹیوب چینل بلاک

    پہلگام ڈرامہ، بھارت کو سچ برداشت نہ ہوا، پاکستانی یوٹیوب چینل بھارت میں بند کر دیئے

    بھارت کی حکومت نے پیر کے روز پاکستان سے تعلق رکھنے والے درجنوں یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پہلگام حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت پہلگام ڈرامے کے بعد خود پروپیگنڈہ کر رہا ہے

    بھارتی حکومت نے ان چینلز پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے انہیں ملک میں بلاک کر دیا ہے۔ ان میں اہم پاکستانی کرکٹر شعیب اختر کا یوٹیوب چینل اور معروف پاکستانی اینکر آرزو کاظمی کا چینل بھی شامل ہیں۔بھارت نے جن یوٹیوب چینلز کو انڈیا میں بند کیا ان میں ڈان ٹی وی،جیو ٹی وی،سما ٹی وی، اے آر وائی،سما سپورٹس، جی این این،عمر چیمہ،عاصمہ شیرازی،منیب فاروق و دیگر کے چینل شامل ہیں،بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ان چینلز کے ذریعے بھارت مخالف مواد، مخصوص نکتہ نظر اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی تھیں، جس سے بھارتی عوام میں بے چینی پیدا ہو رہی تھی اور خطے میں کشیدگی بڑھ رہی تھی۔

    بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یوٹیوب چینلز کی پابندی کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں دیگر چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جو جھوٹی معلومات کی حمایت کرنے والے مواد کو فروغ دے رہے ہیں۔

  • پاکستان کی جانب سے فضائی پابندی،بھارتی ایئر لائنز کو یومیہ 21 کروڑ کا نقصان

    پاکستان کی جانب سے فضائی پابندی،بھارتی ایئر لائنز کو یومیہ 21 کروڑ کا نقصان

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ائیر لائنز کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر ایندھن کی مد میں۔ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی طیاروں کو اضافی وقت کے لیے پروازیں جاری رکھنی پڑ رہی ہیں، جس سے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارتی ائیر لائنز کو یومیہ تقریباً 21 کروڑ پاکستانی روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور اگر یہ پابندیاں جاری رہیں تو ان کے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

    ماہرین کے مطابق، ایک بوئنگ 777 طیارہ ایک گھنٹے میں 6668 کلوگرام ایندھن استعمال کرتا ہے، جبکہ ائیر بس اے 319، 320 یا 321 طیارہ اوسطاً 2400 کلوگرام ایندھن استعمال کرتا ہے۔ جیٹ ایندھن کی قیمت فی کلوگرام تقریباً 82 ڈالر ہے، اور بھارت میں 6668 کلوگرام ایندھن کی قیمت تقریباً 5467 ڈالر بنتی ہے۔اگر ایک بوئنگ 777 یا 787 طیارہ 100 گھنٹے اضافی سفر کرتا ہے تو اسے صرف ایندھن کی مد میں 5 لاکھ 46 ہزار 776 ڈالر کا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح، اگر ائیر بس اے 319، 320 یا 321 طیارہ 100 گھنٹے اضافی پرواز کرتا ہے تو اس کے لیے ایک لاکھ 96 ہزار ڈالر اضافی ایندھن کی قیمت کا بوجھ ہوتا ہے۔

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے بھارتی ائیر لائنز کو روزانہ دو گھنٹے اضافی سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر 100 بوئنگ 777 اور 100 ائیر بس طیارے روزانہ دو گھنٹے اضافی سفر کرتے ہیں تو انہیں 7 لاکھ 42 ہزار 776 ڈالر اضافی ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ائیر انڈیا اور دیگر بھارتی ائیر لائنز کو روزانہ 6 کروڑ 35 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 21 کروڑ بنتے ہیں۔اس کے علاوہ، اگر یہ پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں تو بھارتی ائیر لائنز کو طویل دورانیے کی پروازوں کے دوران ایندھن بھرنے یا اسٹاف کی تبدیلی کے لیے کسی دوسرے ملک کے ائیرپورٹ پر اسٹاپ اوور بھی کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں اضافی اخراجات مزید بڑھ جائیں گے، کیونکہ بین الاقوامی فضائی راستوں پر اسٹاپ اوور کے دوران مختلف اضافی چارجز بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ائیر لائنز کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، جس سے نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اضافی وقت کی پروازوں کے باعث دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہ پابندیاں برقرار رہیں تو بھارتی ائیر لائنز کو مزید مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور ان کے لئے اس نقصان کی تلافی کرنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔

  • پہلگام ڈرامے پر تنقید،بھارت میں مسلمانوں کی گرفتاریاں

    پہلگام ڈرامے پر تنقید،بھارت میں مسلمانوں کی گرفتاریاں

    بھارتی سکیورٹی اداروں نے پہلگام واقعے پر تنقید کرنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب تک تین مختلف ریاستوں سے 25 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ ان گرفتاریوں کا تعلق سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق سوالات اٹھانے سے ہے۔

    بھارتی پولیس نے ریاستی سطح پر کارروائیاں کرتے ہوئے آسام، میگھالیہ اور تریپورہ میں کم از کم 25 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک ایم ایل اے، صحافی، طلبہ، وکیل اور ریٹائرڈ اساتذہ شامل ہیں۔ ان افراد کے خلاف گرفتاریوں کا سبب سوشل میڈیا پر پہلگام حملے کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات ہیں۔آسام سے تعلق رکھنے والے 16 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سب سے پہلے آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے ایم ایل اے امین الاسلام کی گرفتاری ہوئی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2019 کے پلوامہ اور حالیہ پہلگام حملوں کو "حکومتی سازش” قرار دیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔امین الاسلام کے علاوہ دیگر گرفتار شدگان میں صحافی جابر حسین، آسام یونیورسٹی کے طالب علم اے کے بہاؤالدین، وکیل جاوید مظفر اور کئی سوشل میڈیا صارفین شامل ہیں۔ ان افراد کو حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پر سوال اٹھانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    یہ تمام گرفتاریاں اس وقت ہو رہی ہیں جب بھارت میں اس نوعیت کے اقدامات کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ پہلگام حملے کی تحقیقات اور اس پر حکومتی موقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس واقعے نے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے، اور بھارت کے اندر اندرونی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

  • پہلگام حملے کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشتگرد چہرہ بے نقاب

    پہلگام حملے کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشتگرد چہرہ بے نقاب

    پہلگام حملے کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشتگرد چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے مزید 5 کشمیریوں کے گھر تباہ کر دئیے، ان مکانات کو دھماکہ خیز مواد لگا کر اڑایا گیا، تباہ کیے گئے مکانات عام کشمیری لوگوں کے تھے، تباہ ہونے والے گھر عامر نذیر وانی ، جمیل احمد، عدنان صفی ڈار، عامر احمد اور فاروق احمد کے والدین کے تھے، دھماکوں سے درجنوں قریبی مکانات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا،گزشتہ 3 دن میں 7 کشمیریوں کے آبائی گھروں کو تباہ کر دیا گیا،بھارتی فوج کی ناپاک کاروائی سے کئی خاندان بے گھر اور شدید پریشانی میں مبتلا ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کا مقصد کشمیریوں کے عزم کو توڑنا اور اجتماعی سزا دینا ہے، بھارت کشمیری مسلمانوں کی زمیں ہتھیانے کیلئے اسرائیلی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، بھارت کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کر کے اُنہیں بے گھر کر رہا ہے، یہ مہم مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ ہے، بھارت کا مقصد کشمیری عوام کو بے گھر اور بے دخل کرنا اور علاقے کے مسلم اکثریتی تشخص کو تبدیل کرنا ہے،

    کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں کشمیر شاخ نے مودی کی زیرقیادت بھارت کی ہندوتوا حکومت کی طرف سے پہلگام واقعے کی آڑ میں حریت پسند کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کرنے اور ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کی ہے،کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت اس طرح کی ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیریوں کو بے گھر اور ہراساں کر رہی ہے تاکہ اُنہیں بھارت کی غلامی تسلیم کر نے پر مجبور کیا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا کہ واقعہ پہلگام افسوسناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ تاہم اس المناک واقعے کو کشمیری عوام کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور ان کے گھروں کو تباہ کرنا انتہائی قابلِ مذمت اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ، انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مودی حکومت کی یہ پالیسی مقبوضہ جموں کشمیر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے اور حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی جائز آواز کو دبانے کی مذموم کوشش ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ہزاروں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری اور اُنہیں عقوبت خانوں میں ڈالنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف ان کے اہل خانہ اذیت کا شکار ہیں بلکہ پوری کشمیری قوم میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔بیان میں اقوام عالم اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ بھارتی حکومت کے غیرقانونی اور غیر آئینی اقدامات کو روکنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کرانے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مزید تاخیر دنیا کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اس سے خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہیگا۔ بیان میں عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

    دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ ،زاہد اشرف ، زاہد صفی اور دیگر نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ کشمیری عوام بھارتی جبر و استبداد کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت کرے اور انہیں ان کا بنیادی حق دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • امریکہ کی وہ ریاستیں جہاں سب سے زیادہ بے وفائی ہوتی ہے

    امریکہ کی وہ ریاستیں جہاں سب سے زیادہ بے وفائی ہوتی ہے

    اگر آپ سنگل ہیں اور رشتہ تلاش کر رہے ہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ ان امریکی ریاستوں سے بچیں جہاں تعلقات اور شادی میں سب سے زیادہ بے وفائی دیکھی گئی ہے۔

    یہ انکشاف حالیہ تحقیق میں سامنے آیا ہے جو ایک بالغوں کی ویب کیم سائٹ نے کی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکہ میں ایسی دس ریاستیں ہیں جہاں لوگ اپنے ساتھیوں سے دھوکہ دہی کرنے کی سب سے زیادہ کوشش کرتے ہیں۔تحقیق میں 80 مشہور ڈیٹنگ ایپس — جیسے کہ Tinder, BLK اور Ashley Madison (جو خاص طور پر شادی شدہ افراد کے افیئرز کے لیے جانی جاتی ہے) کی تلاشوں کا 2024 کے دوران تجزیہ کیا گیا اور پھر ان ریاستوں کی درجہ بندی کی گئی جہاں ان ایپس کی تلاش سب سے زیادہ رہی۔ آرٹ وین ڈائک کے مطابق "یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ میں شادی شدہ افراد کے درمیان افیئرز میں دلچسپی بہت عام ہو چکی ہے، کیونکہ ہر ماہ تقریباً ایک ملین تلاشیں صرف ان پلیٹ فارمز پر کی جاتی ہیں۔”

    سب سے زیادہ بے وفائی کہاں؟
    پہلے نمبر پر ے وفا ریاست کولوراڈو ہے، جہاں ہر ماہ 424 تلاشیں کی جاتی ہیں،دوسرے اور تیسرے نمبر پر بالترتیب نارتھ ڈکوٹا اور نیو ہیمپشائر ہیں۔ نارتھ ڈکوٹا میں ہر ایک لاکھ افراد پر 362 ماہانہ تلاشیں صرف Ashley Madison کے لیے کی گئیں، جبکہ نیو ہیمپشائر میں یہ تعداد 357 رہی۔اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ مشرقی ساحل (ایسٹ کوسٹ) محفوظ ہے تو ایسا نہیں ہے — نیویارک اگرچہ آخری نمبر پر ہے لیکن پھر بھی ٹاپ 10 میں شامل ہے، جو کسی فخر کی بات نہیں۔ نیویارک میں ہر ماہ 331 تلاشیں ریکارڈ ہوئیں۔ اسی طرح قریبی ریاست کنیکٹیکٹ بھی 335 تلاشوں کے ساتھ فہرست میں شامل ہے۔

    وہ 10 ریاستیں جہاں لوگ سب سے زیادہ بے وفائی کی تلاش میں ہیں
    کولوراڈو (424 ماہانہ تلاشیں)
    نارتھ ڈکوٹا (362)
    نیو ہیمپشائر (357)
    الینوائے (355)
    نیبراسکا (350)
    مونٹانا (342)
    واشنگٹن (341)
    میساچوسٹس (339)
    کنیکٹیکٹ (335)
    نیویارک (331)

    آرٹ وین ڈائک نے مزید کہا،”یہ دلچسپ ہے کہ Ashley Madison جیسی متنازعہ ایپ کے لیے کس ریاست میں سب سے زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ چونکہ یہ ایپ خاص طور پر شادی شدہ افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو افیئر کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اس کی مقبولیت بعض لوگوں کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے۔”انہوں نے مزید بتایا کہ "Tinder اور BLK کے بعد Ashley Madison امریکہ کی تیسری سب سے مقبول ڈیٹنگ ایپ ہے۔”

    اگر شک ہو کہ آپ کا ساتھی دھوکہ دے رہا ہے تو یہ علامات دیکھیں،
    مدیلین اسمتھ، جو ایک پیشہ ور "ہنی ٹریپر” (شک کی تصدیق کرنے والی ماہر) ہیں، کہتی ہیں کہ اگر آپ کے ساتھی کا رویہ ان باتوں میں شامل ہو تو محتاط ہو جائیں
    موبائل فون چھپانا یا پاسورڈ نہ بتانا۔
    سوشل میڈیا پر آپ کی تصاویر شیئر نہ کرنا۔
    Snapchat کا زیادہ استعمال (جہاں چیٹ جلدی غائب ہو جاتی ہے)۔
    لوکیشن شیئر نہ کرنا۔
    آپ پر بے بنیاد الزامات لگانا۔
    آخر میں، مدیلین کہتی ہیں کہ اپنی چھٹی حس پر اعتماد کریں۔
    "زیادہ تر خواتین مجھے یہی کہتی ہیں کہ کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا ہے — اور بدقسمتی سے، وہ اکثر درست ہوتی ہیں۔ اگر شک ہو تو سامنے لائیں — یا میری جیسی کسی پروفیشنل کی خدمات حاصل کریں.