وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی امور کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
استنبول ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے کیا۔ اس موقع پر ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام اور دیگر سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی ترکیہ پہنچے ہیں۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے تفصیلی ملاقات کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کریں گے۔ بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
دورے کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا اہم حصہ ہوگی۔ پاکستان اور ترکیہ کی قیادت خطے میں امن و استحکام، باہمی تعاون اور مختلف بین الاقوامی امور پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کرے گی، جبکہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف استنبول میں منعقد ہونے والی ایک اہم بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعت اور نجکاری کے مختلف منصوبوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر ترک کاروباری رہنما، سرمایہ کار، صنعتکار، سرکاری حکام اور مختلف کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، اقتصادی روابط میں وسعت لانا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے سے تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی شراکت داری کے فروغ میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
Blog
-

وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ پہنچ گئے، صدر اردوان سے اہم ملاقات آج ہوگی
-

آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث شریک نہیں ہوں گے
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کے انتظامات جاری ہیں، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث موجودہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق تقریب کے دوران غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تہران میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریب میں ایرانی شوریٰ نگہبان کے ارکان نے شہید رہبر انقلاب کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اعلیٰ عسکری قیادت اور دیگر اہم سرکاری شخصیات بھی موجود تھیں۔ مختلف ممالک سے آنے والے سرکاری وفود نے بھی تعزیتی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے مرحوم رہنما کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق نماز جنازہ میں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے وفود سمیت تقریباً ایک سو ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جبکہ متعدد سربراہان مملکت اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بھی تعزیتی اجتماع میں شرکت کریں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق نماز جنازہ کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو پہلے تہران سے قم منتقل کیا جائے گا، اس کے بعد عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔ بعد ازاں میت کو دوبارہ ایران واپس لا کر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی حکومت نے جنازے کے جلوس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اسی تناظر میں ملک بھر میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں، جبکہ 8 جولائی کو ایران میں یوم سوگ منانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
سرکاری بیانات کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی صاحبزادی، داماد اور نواسی بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے سرکاری دفتر میں فرائض انجام دے رہے تھے جب حملہ ہوا۔
واضح رہے کہ اس خبر میں شامل حملوں، جانی نقصانات اور دیگر دعووں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ مختلف فریقین کی جانب سے اس حوالے سے متضاد مؤقف بھی سامنے آ چکے ہیں۔ -

زرافے گنتی کا اندازہ لگانے اور سادہ حساب سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: تحقیق
اسپین کے شہر بارسلونا میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زرافے اشیاء کی تعداد کا اندازہ لگانے اور سادہ ریاضیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ تحقیق بارسلونا یونیورسٹی، لیپزگ یونیورسٹی اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار ایوولوشنری اینتھروپولوجی نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ اس کے نتائج معروف سائنسی جریدے Scientific Reports میں شائع کیے گئے ہیں۔
تحقیق کے دوران بارسلونا چڑیا گھر میں موجود چار زرافوں پر تجربات کیے گئے۔ ان کے سامنے گاجر کے ٹکڑوں سے بھرے دو برتن رکھے گئے، جنہیں بعد میں ڈھانپ دیا گیا۔ اس کے بعد محققین نے بعض برتنوں میں مزید گاجر کے ٹکڑے شامل کیے یا کچھ ٹکڑے نکال دیے تاکہ دیکھا جا سکے کہ زرافے مقدار میں ہونے والی تبدیلی کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جب کسی برتن میں گاجر کے ٹکڑوں کی تعداد بڑھائی گئی تو زرافوں نے 68 فیصد مواقع پر درست اندازہ لگاتے ہوئے زیادہ گاجروں والا برتن منتخب کیا، جو محض اتفاق سے کہیں بہتر کارکردگی ثابت ہوئی۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ زرافوں میں مقدار کا اندازہ لگانے اور بنیادی ریاضیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کی ذہنی صلاحیت موجود ہے۔ اس سے قبل ایسی صلاحیتیں بندروں، ہاتھیوں، ڈولفنز اور کچھ پرندوں میں بھی دیکھی جا چکی ہیں، تاہم زرافوں پر ہونے والی یہ تحقیق ان کی ذہانت کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے جانوروں کی ذہنی صلاحیتوں، ارتقائی عمل اور ادراکی رویوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی اور مستقبل میں اس شعبے میں مزید تحقیق کی راہیں ہموار ہوں گی۔ -

لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی اور اغوا کا مقدمہ درج، ایس ایچ او سمیت کئی اہلکار نامزد
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے، زیادتی کا نشانہ بنانے اور ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کرنے کے سنگین واقعے کا مقدمہ سی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ جوڈیشل ریسٹ ہاؤس دھرم پورہ کے چوکیدار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں ایک ایس ایچ او اور دو پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق، مرکزی ملزم نے ان غیر ملکی خواتین سے بیرونِ ملک دوستی کی اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی، جس کے بعد وہ 29 جون کو لاہور پہنچیں تو ملزم انہیں ڈیفنس میں واقع ایک رہائش گاہ پر لے گیا۔
وہاں قیام کے دوران ایک خاتون سے زیادتی کی کوشش کی گئی جبکہ دوسری خاتون کو تین ملزمان نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، اور بعد ازاں خواتین کے ذریعے بیرونِ ملک رابطہ کروا کر 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
پولیس حکام کے خلاف درج اس مقدمے میں سرکاری رہائش گاہ میں غیر قانونی داخلے، بدسلوکی اور دھمکیوں کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں اور معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ -

وادی کالاش رومبور ، پولیس اور مقامی برادری منشیات کے خاتمے کیلیے پرعزم
چترال ( فتح اللہ) وادیٔ کالاش کے علاقے رومبور میں امن و امان کی صورتحال، منشیات کی روک تھام اور عوامی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم امن جرگہ منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈی ایس پی حسن اللہ نے کی، جبکہ ایس ایچ او عبد الرشید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
جرگے میں مسلم اور کالاش برادری کے عمائدین، منتخب نمائندوں، سماجی شخصیات اور خواتین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، کمیونٹی پولیسنگ، نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے اور باہمی تعاون کے فروغ سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ڈی ایس پی حسن اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادیٔ کالاش میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عوام اور پولیس کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی، جرائم پیشہ عناصر یا امن خراب کرنے کی کوشش کی فوری اطلاع پولیس کو دی جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کی بحالی اور منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس موقع پر ایس ایچ او عبد الرشید نے بھی شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کے تعاون سے جرائم کی روک تھام اور امن کے قیام میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور معاشرے کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے پاک بنانے میں پولیس کا ساتھ دیں۔اجلاس میں موجود مقامی عمائدین، کمیونٹی نمائندوں اور خواتین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔جرگے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ رومبور میں امن و امان کو مزید مستحکم بنانے، نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے اور پولیس و عوام کے درمیان اعتماد کو فروغ دینے کے لیے ایسے رابطہ اجلاس مستقبل میں بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔
-

بابا گرو نانک یونیورسٹی، ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام اوپن ڈے 2026 کا انعقاد
احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب
بابا گرو نانک یونیورسٹی، ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام اوپن ڈے 2026 کا شاندار انعقاد، طلبہ، والدین، کالجز کے پرنسپلز اور مقامی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی خان بہادر ڈوگر، رکن صوبائی اسمبلی محمد کاشف پڈھیاراور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران تھے
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا اور یونیورسٹی کےشعبہ جات کےبارے میں ڈاکٹر عثمان یونس نے پریزنٹیشن دی اس کےبعد شرکاء نے نئے کیمپس اور مختلف شعبہ جات کی پراجیکٹ نمائش کا بھی دورہ کیا۔جس میں ڈی سی او ننکانہ صاحب راؤ تسلیم اخترنے بھی شرکت کی۔اس موقع پر خان بہادر ڈوگر نے اپنے خطاب میں بابا گرو نانک یونیورسٹی کی خطہ ننکانہ صاحب کے لیے اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ علاقے کے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرے گا اور خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔رکن صوبائی اسمبلی محمد کاشف نے نئے کیمپس میں اوپن ڈے کے کامیاب انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ صوبائی سطح پر یونیورسٹی کی ترقی، فنڈنگ اور دیگر ضروریات کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے تاکہ ادارہ مزید ترقی کی منازل طے کر سکے۔تقریب کا مقصد داخلہ 2026 کے حوالے سے طلبہ اور والدین کو رہنمائی فراہم کرنا، یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیز، ڈگری پروگرامز، اسکالرشپس، جدید تعلیمی سہولیات اور کیریئر کے مواقع سے روشناس کرانا تھا۔ شرکاء کو نئے کیمپس کا خصوصی دورہ بھی کروایا گیا جہاں جدید کلاس رومز، لیبارٹریز، لائبریری اور دیگر تعلیمی سہولیات کا مشاہدہ کرایا گیا
-

ضلع اوکاڑہ میں میت منتقلی ایمبولنس سروس کا آغاز
اوکاڑہ(نامہ نگار ملک ظفر)وزیر اعلیٰ پنجاب کا عوام دوست اقدام، ضلع اوکاڑہ میں میت منتقلی ایمبولنس سروس کا آغاز، لواحقین کے لیے مفت سہولت فراہم کی جائے گی.
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایات پر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 اوکاڑہ کے زیرِ اہتمام میت منتقلی ایمبولنس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
اس سلسلے میں افتتاحی تقریب ریسکیو 1122 سنٹرل اسٹیشن اوکاڑہ میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی ممبر قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق تھے۔ تقریب میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال، ڈی ایچ او ڈاکٹر طارق اقبال طور، ریسکیو افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔تقریب کے دوران ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال نے میت منتقلی ایمبولنس سروس کے اغراض و مقاصد، طریقہ کار اور عوامی اہمیت کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کے وژن کے مطابق عوام کو مزید بہتر، باوقار اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لیے یہ سروس شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں سے میت کی منتقلی کی سہولت شہریوں کو مکمل طور پر مفت فراہم کی جائے گی۔ ریسکیو 1122 کا تربیت یافتہ عملہ میت کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ مقررہ مقام تک منتقل کرے گا۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے مزید کہا کہ اس سروس کا مقصد غم کی گھڑی میں لواحقین کو سہولت فراہم کرنا، مشکلات میں کمی لانا اور میت منتقلی کے اخراجات کا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔مہمانِ خصوصی چوہدری ریاض الحق نے میت منتقلی ایمبولنس سروس کے آغاز کو وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کا اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 ہنگامی خدمات کے ساتھ ساتھ فلاحی شعبے میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سروس کے آغاز سے لواحقین کو مشکل وقت میں باوقار، بروقت اور مفت سہولت میسر آئے گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور دیگر شرکاء نے میت منتقلی ایمبولنسز کا معائنہ کیا۔
-

اوکاڑہ،پولیس کی چھ ماہ کی کارکردگی سامنے آ گئی
اوکاڑہ (نامہ نگار)ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے پہلے چھ ماہ 2026 کی کارکردگی کا گزشتہ سال کے اسی عرصہ (01 جنوری 2025 تا 30 جون 2025) سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اوکاڑہ پولیس نے مؤثر حکمت عملی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سخت قانونی کارروائی اور عوامی تعاون کے ذریعے سنگین جرائم میں نمایاں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر سنگین جرائم میں 56 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ قتل کے مقدمات گزشتہ سال کے 43 کے مقابلے میں رواں سال 36 رہے، جو 20 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح اقدام قتل کے مقدمات میں 58 فیصد، ڈکیتی و رابری میں 59 فیصد، وہیکل سنیچنگ میں 64 فیصد، موٹر سائیکل چوری میں 49.6 فیصد جبکہ نقب زنی کے مقدمات میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈی پی او اوکاڑہ نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں 2041 اشتہاری ملزمان، 395 عدالتی مفروران اور 498 ٹارگیٹڈ آفینڈرز کو گرفتار کیا گیا۔
اسی طرح 70 خطرناک گینگز کا خاتمہ کر کے 195 ملزمان گرفتار کیے گئے ، گینگز کے قبضہ سے 6 کروڑ 34 لاکھ روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کر کے معزز شہریوں کے حوالے کیا گیا۔
منشیات فروشوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران 197 کلو گرام چرس، 8.32 کلو گرام آئس، 2.8 کلو گرام افیون، 1.1 کلو گرام ہیروئن اور 11,271 لیٹر شراب برآمد کی گئی۔ اسلحہ کی برآمدگی کے حوالے سے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے کہا کہ اوکاڑہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی اسی جذبے اور پیشہ ورانہ انداز میں جاری رہیں گی تاکہ ضلع اوکاڑہ کو مزید پرامن بنایا جا سکے۔ -

اوکاڑہ،حکام تجاوزات کے خاتمے کے لیے متحرک
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)سب ڈویژنل انفورسمنٹ محمد بن علی تجاوزات کے خاتمے کے لیے متحرک، گول چوک اور 7 نمبر چونگی کے اطراف انسپکشن کے دوران دکانداروں کو مقررہ حدود تک کاروباری سرگرمیوں کی ہدایات، شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر محمد بن علی نے انفورسمنٹ ٹیم کے ہمراہ شہر کے مصروف ترین تجارتی مراکز گول چوک اور 7 نمبر چونگی کا دورہ کیا اور انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت سخت چیکنگ کی۔ سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر محمد بن علی نے دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں صرف اور صرف مقررہ حدود کے اندر ہی محدود رکھیں۔ انہوں نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سامان سجانے اور ریڑھیاں کھڑی کر کے پیدل چلنے والوں اور ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والے عناصر کو موقع پر وارننگ دی۔ محمد بن علی نے کہا کہ گول چوک اور 7 نمبر چونگی شہر کے اہم ترین مقامات ہیں جہاں تجاوزات کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کاروباری طبقے کے روزگار کو متاثر نہیں کرنا چاہتی، لیکن عوامی راستوں کو بلاک کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دکاندار رضا کارانہ طور پر اپنی حدود سے باہر رکھا سامان ہٹا لیں، بصورتِ دیگر سامان بحق سرکار ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے اور دکانیں سیل کرنے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے انفورسمنٹ اسٹاف کو ہدایت کی کہ ان علاقوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھیں تاکہ دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کا پہیہ بحال رکھنا بھی از حد ضروری ہے۔ گول چوک اور 7 نمبر چونگی پر دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو وارننگ دی گئی ہے کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں مقررہ حدود میں رکھیں۔ عوامی راستے شہریوں کا حق ہیں اور ان پر کسی کو قابض ہونے نہیں دیا جائے گا۔ وارننگ کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔
-

وینزویلا زلزلہ: ہلاکتیں 2,595 تک پہنچ گئیں، امدادی کارروائیاں لاشوں کی تلاش میں تبدیل
وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2 ہزار 595 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی کارروائیاں اب زندہ بچ جانے والوں کی تلاش سے زیادہ ملبے تلے دبے افراد کی لاشیں نکالنے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں، تاہم حکومت اجتماعی قبریں بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق ہر متاثرہ شخص کی شناخت اور تدفین باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق زلزلوں کے باعث 189 عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں، جبکہ ساحلی ریاست لا گوائیرا میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ اس قدرتی آفت میں 11 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک نے وینزویلا کی بحالی کے لیے مالی امداد اور قرضوں کی پیشکش کی ہے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے تعاون سے 20 کروڑ ڈالر کا خصوصی تعمیر نو فنڈ قائم کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے تباہ شدہ گھروں کی دوبارہ تعمیر کے منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
عبوری صدر کے مطابق سابق صدر نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد امریکی نگرانی میں موجود وینزویلا کی تیل آمدنی کا ایک حصہ بھی تعمیر نو اور انسانی امداد کے لیے مختص کیا جائے گا۔
امریکا نے بھی وینزویلا کے لیے 30 کروڑ ڈالر سے زائد امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ تقریباً 900 فوجی اہلکار امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی ناظم الامور جان ایم بیریٹ کے مطابق یہ امداد رہائش، صحت، صفائی، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کی جائے گی۔
زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں، تاہم بین الاقوامی امدادی ٹیمیں اب بھی ملبے میں ممکنہ زندہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر ایک امید افزا واقعے میں 43 سالہ سیکیورٹی گارڈ ہرنان البرٹو گل فلورس کو تقریباً آٹھ روز بعد ایک منہدم شاپنگ مال کے ملبے سے زندہ نکال لیا گیا، جس پر امدادی کارکنوں اور متاثرہ خاندانوں نے خوشی اور حیرت کا اظہار کیا۔