پاکستان کے ضلع میانوالی میں چشمہ بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں دو نوجوان بہنیں ڈوب کر لاپتہ ہوگئیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیموں کا آپریشن تاحال جاری ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں بہنیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چشمہ بیراج کے قریب پکنک منانے آئی ہوئی تھیں۔ تفریح کے دوران وہ کسی موقع پر دریائے سندھ کے پانی میں اتر گئیں، جہاں اچانک گہرے پانی میں چلی جانے کے باعث ڈوب گئیں۔ اہل خانہ نے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم تیز بہاؤ اور گہرے پانی کی وجہ سے دونوں کو فوری طور پر باہر نہ نکالا جا سکا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاپتہ لڑکیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ غوطہ خور کشتیوں اور ضروری آلات کی مدد سے دریا کے مختلف حصوں میں مسلسل تلاش کر رہے ہیں تاکہ دونوں لڑکیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والی لڑکیوں کی شناخت 16 سالہ حوا اور 18 سالہ شمائلہ کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں اپنے خاندان کے ساتھ تفریح کی غرض سے چشمہ بیراج آئی تھیں، لیکن خوشیوں بھرا یہ سفر چند لمحوں میں غم میں تبدیل ہو گیا۔
واقعے کے بعد اہل خانہ شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور جائے وقوعہ پر موجود ہیں، جہاں وہ اپنی بیٹیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ مقامی افراد بھی امدادی کارروائیوں میں ریسکیو اہلکاروں سے تعاون کر رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دریا میں پانی کے بہاؤ اور گہرائی کے باعث سرچ آپریشن انتہائی احتیاط سے جاری رکھا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دریاؤں، جھیلوں اور بیراجوں کے قریب تفریح کے دوران خصوصی احتیاط کریں، غیر محفوظ مقامات پر پانی میں داخل ہونے سے گریز کریں اور بچوں و نوجوانوں پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
Blog
-

چشمہ بیراج میں پکنک کے دوران دو بہنیں دریائے سندھ میں ڈوب کر لاپتہ
-

زبان کا صوتی نظام،تحریر : پارس کیانی
ہر زبان کا اپنا صوتی نظام ہوتا ہے، جس میں کچھ مخصوص آوازیں زیادہ استعمال ہوتی ہیں اور کچھ آوازیں یا تو کم ہوتی ہیں یا موجود ہی نہیں ہوتیں۔ پنجابی زبان میں:
"خ” [voiceless uvular fricative] ہے) کا استعمال اردو یا عربی کے مقابلے میں کم ہے۔
لہٰذا بہت سے پنجابی بولنے والے اس آواز کو ادا کرنے کی عادت نہیں رکھتے یا مشکل محسوس کرتے ہیں۔
جب پنجابی بولنے والے اردو بولتے ہیں، تو ان کی مادری زبان (پنجابی) کا لہجہ اور آوازوں کا اثر ان کی اردو پر بھی آتا ہے۔ اسے لسانیات میں زبان کی بین اللسانی مداخلت (interference) کہا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ "خ” کی جگہ "ہ” یا کبھی "ح” بول دیا جاتا ہے۔جیسے کہ:
خوبصورت → ہوبصورت
خطرہ → ہطرہ
یہ لہجے کا فرق تو ہے، مگر اس کی جڑیں لسانیاتی نظام میں ہیں۔
یہ فرق عام طور پر ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے:
جنھوں نے اردو کو ثانوی زبان کے طور پر سیکھا ہو۔
یا جنھیں "خ” کی صحیح صوتی ادائیگی کی تربیت نہ ملی ہو۔
تعلیم یافتہ پنجابی بولنے والے اگر اردو کو فصاحت کے ساتھ بولنا چاہیں تو وہ اس فرق پر قابو پا لیتے ہیں۔
پنجاب کے دیہی علاقوں میں "خ” کی ادائیگی اکثر "ہ” کے طور پر ہوتی ہے۔
شہری علاقوں میں، خاص طور پر لاہور جیسے شہروں میں، بہت سے لوگ اردو تلفظ کے قریب تر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ فرق محض بولنے کا انداز (لہجہ) ہی نہیں، بلکہ زبان کی ساختی اور صوتی خصوصیات کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اگر کوئی چاہے تو "خ” کی درست ادائیگی سیکھ سکتا ہے، اور اس میں کوئی لسانی رکاوٹ مستقل نہیں ہے۔ -

ایف بی آر اصل ٹیکس ہدف حاصل نہ کر سکا، 1306 ارب روپے کی کمی
اسلام آباد: وفاقی حکومت کے ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کیا گیا اصل ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کو مقررہ ہدف کے مقابلے میں ایک ہزار 306 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے حکومتی محصولات پر دباؤ برقرار رہا۔
دستیاب مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے آغاز میں ایف بی آر کے لیے 14 ہزار 131 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام پر ادارہ یہ ہدف حاصل نہ کر سکا اور مجموعی طور پر مقررہ ہدف سے 1306 ارب روپے کم ٹیکس جمع کیا گیا۔
اگرچہ ایف بی آر اصل ہدف پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کے بعد مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کا ہدف کم کر کے 12 ہزار 957 ارب روپے مقرر کر دیا تھا۔ ایف بی آر نے نظرثانی شدہ اس ہدف کو حاصل کر لیا، جسے حکومت کے لیے ایک اہم مالیاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل ہدف حاصل نہ ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے حوالے سے اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔ دوسری جانب نظرثانی شدہ ہدف کی تکمیل سے حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی اہداف پر عمل درآمد میں مدد ملے گی اور آئندہ قسطوں کے حصول کے لیے مثبت اشارہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولی میں پائیدار اضافہ صرف نئے ٹیکس عائد کرنے سے نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس چوری کی روک تھام، دستاویزی معیشت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں مالیاتی استحکام کے لیے ایف بی آر کو ٹیکس نظام میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر مزید توجہ دینا ہوگی تاکہ محصولات میں مستقل اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔ -

اولاد میں فرق رکھنے والے والدین،تحریر :نور فاطمہ
اللہ کی سب سے بڑی نعمت اولاد ہے۔ ہر بچہ والدین کے لیے ایک امانت ہے۔ مگر افسوس کہ بہت سے گھروں میں "سب برابر ہیں” کہنے کے باوجود عمل میں فرق صاف نظر آتا ہے۔ کوئی بیٹا ہے تو لاڈلا، کوئی بیٹی ہے تو خاموش۔ کوئی بڑا ہے تو سمجھدار، کوئی چھوٹا ہے تو "ابھی بچہ ہے”۔ یہ فرق رشتوں کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔
فرق کیوں پڑتا ہے؟
بیٹا بیٹی کا فرق*: ہمارے معاشرے میں ابھی بھی بہت سے والدین بیٹے کو "گھر کا وارث” اور بیٹی کو "بوجھ” سمجھتے ہیں۔ بیٹے کی تعلیم، موبائل، آزادی سب کچھ۔ بیٹی پر پہرے۔ نتیجہ یہ کہ بیٹی دل میں ایک خلا لے کر بڑی ہوتی ہے۔
ہونہار اور کمزور بچہ جو بچہ پڑھائی میں تیز ہو اس کی تعریفیں، تحفے، توجہ۔ جو تھوڑا کمزور ہو اسے "ناکام” کا ٹائٹل۔ والدین بھول جاتے ہیں کہ ہر بچے کا دماغ، صلاحیت اور رفتار الگ ہے۔
بڑا اور چھوٹا بڑے بچے سے توقع ہوتی ہے کہ وہ "سمجھوتہ” کرے۔ چھوٹے کو ہر چیز معاف۔ بڑا بچہ اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے کہ مجھ سے ہی سب قربانی کیوں؟
شکل و صورت اور مزاج جو بچہ زیادہ میٹھا بولے یا خوبصورت ہو اسے زیادہ توجہ۔ شرمیلا یا سنجیدہ بچہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔فرق کے نقصانات کیا ہیں؟
فرق رکھنے سے بچے کے اندر حسد، نفرت اور عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں، دوست نہیں رہتے۔ جس بچے کو کم اہمیت ملے وہ یا تو باغی ہو جاتا ہے یا خود اعتمادی کھو دیتا ہے۔ بڑے ہو کر یہی بچے والدین سے بھی بدظن ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں "آپ نے کبھی ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا”۔گھر کا ماحول ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک گھر میں کئی "خیمے” بن جاتے ہیں۔ والدین بڑھاپے میں روتے ہیں کہ اولاد متحد نہیں، مگر بیج انہوں نے خود بوئے ہوتے ہیں۔
اسلام اور انصاف کا حکم
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو”۔ تحفہ ہو یا محبت، ڈانٹ ہو یا شاباش، پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ اللہ نے ہر بچے کو الگ فطرت دی ہے۔ ہمارا کام موازنہ کرنا نہیں، ہر ایک کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہے۔حل کیا ہے؟
ہر بچے کو الگ پہچان دیں کسی سے دوسرے کا موازنہ نہ کریں۔ "دیکھو تمہارا بھائی کتنا اچھا ہے” جیسے جملے زہر ہیں۔
وقت بانٹیں ہر بچے کے ساتھ روز 10 منٹ اکیلے بیٹھیں۔ اس کی بات سنیں۔ اسے "خاص” محسوس کروائیں۔
ضرورت کے مطابق دیں، محبت برابر رکھیں ہو سکتا ہے ایک کو ٹیوشن کی ضرورت ہو، دوسرے کو کھیل کے جوتے۔ خرچہ الگ، مگر عزت اور توجہ برابر۔
اپنی سوچ بدلیں بیٹا بیٹی، بڑا چھوٹا، گورا کالا سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ فرق صرف ہمارے دل میں ہوتا ہے۔نتیجہ
والدین کا انصاف ہی اولاد کی تربیت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر گھر میں عدل ہوگا تو باہر معاشرہ بھی سنور جائے گا۔ اولاد کو وراثت میں جائیداد نہیں، ایک دوسرے کا بھروسہ دے کر جائیں۔ کیونکہ جس گھر میں فرق ہوتا ہے وہاں برکت نہیں رہتی۔ -

مذاکرات صرف پیشکش تک محدود، احتجاج جاری رہے گا، بیرسٹر گوہر
پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے حامی رہے ہیں، تاہم اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات عملی مرحلے میں داخل نہیں ہوئے بلکہ صرف پیشکشوں اور بیانات کی حد تک محدود ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ جمہوری انداز میں اپنے مؤقف کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی اپنے سیاسی حقوق کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی نے ماضی میں بھی احتجاج کیے ہیں اور مستقبل میں بھی پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے مختلف سیاسی ملاقاتوں اور روابط کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے مصافحہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس عمل کو پی ٹی آئی کی کمزوری یا پسپائی نہ سمجھا جائے، کیونکہ سیاسی شائستگی اور جمہوری روایات کو کمزوری سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کے حوالے سے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، وہ ابھی صرف ابتدائی نوعیت کی ہیں اور ان پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ہوتے ہیں تو پارٹی اپنی پالیسی کے مطابق مناسب فیصلہ کرے گی، تاہم فی الحال صورتحال صرف اعلانات اور پیشکشوں تک محدود ہے۔
انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کشمیر کے معاملے پر مصلحت، تدبر اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہییں تاکہ پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جا سکے۔
بیرسٹر گوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی اور قانونی اقدام اٹھایا جائے گا اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ -

سانحہ کاہنہ افسوسناک ،حقیقی ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ سانحہ کاہنہ افسوسناک،پوری قوم غم میں مبتلا ہے، ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے بچوںکو کچی عمارت میں تعلیم پر مجبور کیا،14 بچوں کے والدین سے اظہار افسوس، زخمیوں کی صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں،مرکزی مسلم لیگ کاہنہ میں تعلیم و صحت کے منصوبوں پر کام کرے گی
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کاہنہ ٹیوشن سنٹر واقعہ میں جاں بحق بچوں کے والدین سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی موت کی وجہ سے پوری قوم غم میں مبتلا ہے،ہم والدین سے اہل علاقہ سے تعزیت کرتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ سانحہ کاہنہ کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین اور پھر انکے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،سانحہ کاہنہ کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ بچوںکو کچی عمارتوں میںتعلیم دی جائے،یہ وہی لوگ ہیں جو 11 ارب کا جہاز خریدتے ہیں اور اسمبلی فلور پر کہتے ہیں کہ ہم نے خریدے ہیں کیا کر لو گے، ذمہ دار وہ ہیں جو بجلی کے بلوں کے نیچے غریبوں کو دفن کر رہے ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ والدین کے ساتھ کھڑی ہے، کاہنہ نو میں مرکزی مسلم لیگ صحت وتعلیم کے منصوبوں پر کام کرے گی،
-

مسلم ریسکیو مشن کے زیر اہتمام اپر چناب کے کنارے پری فلڈ موک ایکسرسائز کا انعقاد
ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے، ریسکیو رضاکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ذیلی مسلم ریسکیو مشن کے زیر اہتمام اپر چناب کے کنارے پری فلڈ موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔ موک ایکسرسائز میں رضاکاروں نے ممکنہ سیلاب کے دوران ریسکیو، ریلیف اور انخلاء کی مختلف عملی مشقوں کا کامیاب مظاہرہ کیا۔
چیئرمین شعبہ خدمت خلق پاکستان چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ، نائب صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ گوجرانوالہ راشد علی سندھو، صدر مرکزی کسان لیگ ذوالفقار علی اولکھ اور رہنما پاکستان مرکزی مسلم لیگ چوہدری حمید الحسن گجر عملی مشقوں کا جائزہ لیا
مسلم ریسکیو مشن کے انچارج ابرار وحید نے مہمانوں کو ریسکیو کے مختلف شعبہ جات، ایمرجنسی رسپانس سسٹم، واٹر ریسکیو یونٹ، بوٹس، لائف جیکٹس، ریسکیو آلات اور دیگر حفاظتی سامان کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر رضاکاروں نے بوٹ ہینڈلنگ، سرچ اینڈ ریسکیو، واٹر ریسکیو، فلڈ ایویکیوشن، ابتدائی طبی امداد، متاثرین کی محفوظ منتقلی، ریلیف مینجمنٹ اور ایمرجنسی کوآرڈینیشن کی عملی مشقوں کا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شعبہ خدمت خلق پاکستان چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ غیر معمولی بارشوں، دریاؤں میں طغیانی، گلیشیئر پگھلنے اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث ہزاروں خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ ان حالات میں صرف امدادی سرگرمیاں کافی نہیں بلکہ پیشگی تیاری، جدید تربیت اور مؤثر منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کی جانب سے بھی مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال کے خدشات ظاہر کیے جا چکے ہیں، اسی لیے شعبہ خدمت خلق پاکستان نے ملک بھر کے دریا کنارے اور سیلاب کے خطرے سے دوچار اضلاع میں پری فلڈ موک ایکسرسائزز کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ رضاکار کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری، منظم اور مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ نے بتایا کہ گزشتہ سال سیلاب کے دوران شعبہ خدمت خلق پاکستان کے 16 ہزار سے زائد تربیت یافتہ رضاکاروں نے گلگت بلتستان سے دریائے پنجند تک متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں بھرپور کردار ادا کیا، لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ، خوراک، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا اور مشکل ترین حالات میں خدمتِ انسانیت کی روشن مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بروقت تیاری، تربیت یافتہ رضاکار، جدید ریسکیو وسائل، مضبوط رابطہ کاری اور عوامی آگاہی کے ذریعے جانی و مالی نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسی وژن کے تحت ملک بھر میں اپنی ریسکیو استعداد کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ ہر ہنگامی صورتحال میں عوام کو بروقت اور مؤثر امداد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے نوجوانوں اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ خدمتِ انسانیت کے اس مشن کا حصہ بنیں، ریسکیو تربیت حاصل کریں اور ہر مشکل وقت میں اپنی قوم کے لیے امید، حوصلے اور عملی خدمت کی علامت بنیں۔
تقریب کے اختتام پر ریسکیو ٹیموں کی پیشہ ورانہ تیاری، نظم و ضبط اور عملی مہارت کو سراہا گیا، جبکہ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مون سون سیزن کے دوران پنجاب سمیت ملک کے مختلف اضلاع میں پری فلڈ موک ایکسرسائزز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ قدرتی آفت کی صورت میں بروقت، منظم اور مؤثر ریسکیو آپریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔
-

اسرائیل نے جارحیت کی تو بھرپور جواب ملے گا،امریکا تل ابیب کو قابو میں رکھے : عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی کا راستہ اختیار کیا تو اسے فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ طے پانے والے عارضی سمجھوتے کے دوران یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل کو کشیدگی بڑھانے سے روکے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی تمام شرائط واضح ہیں اور ان سے متعلق کسی قسم کا ابہام موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نکات تمام فریقین کے علم میں ہیں اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری بھی واضح طور پر طے کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام، ملکی قیادت یا ایران کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی دھمکی، حملے یا جارحانہ اقدام کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا نے تل ابیب میں اپنے اتحادی کو قابو میں رکھنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اگر اسرائیل نے اس یقین دہانی کو نظر انداز کرتے ہوئے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی تو ایران سخت ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے دفاع سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مفاہمتی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، اس لیے عالمی برادری کی توجہ بھی مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں پر مرکوز ہے۔ -

مون سون کی پیشگی تیاری مکمل کی جائے، وزیراعظم کی اجلاس میں خصوصی ہدایت
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاریوں اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے موسمی تغیرات سے درپیش خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور جامع تعاون ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کریں اور مون سون سے قبل تمام پیشگی انتظامات کو ہر صورت مکمل بنایا جائے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی نگرانی میں ایک ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی صوبائی اداروں کے ساتھ عملی تعاون کو یقینی بنائے گی اور ہر ہفتے اپنی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ مون سون کے دوران ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی فنڈ کی تشکیل کی پیشگی تیاری مکمل کی جائے، جبکہ غیر ملکی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کو متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 330 ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی ہے تاکہ سیلابی خطرات میں کمی اور پانی کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے زور دیا کہ مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے بچاؤ کے لیے تمام اقدامات ایک جامع روڈ میپ کے تحت کیے جائیں، جبکہ تمام صوبے دریاؤں کی گزرگاہوں، سیلابی راستوں میں تجاوزات اور دیگر رکاوٹوں کا بروقت اور مؤثر حل یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی مکمل ادارہ جاتی اور تکنیکی صلاحیتیں عوام کے تحفظ اور سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔
اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو مون سون کی پیشگی تیاریوں، ممکنہ سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تغیرات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں رواں سال شدید گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں کے واضح امکانات موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی جولائی کے دوران شدید گرمی اور معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ مجوزہ مون سون حکمت عملی کے تحت تمام ضروری انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
-

نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پردلی رنج کا اظہار
سابق وزیراعظم و صدر پاکستان مسلم لیگ ن نواز شریف نے لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر دلی رنج کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں نواز شریف نے کہا کہ یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے، دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں،مریم نواز شریف نے مجھے بتایا ہےکہ وہ مصمم ارادے کےساتھ اس افسوسناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروا کر مجرمان کو قرار واقعی سزا دلوائیں گی،اور اس بات کو یقینی بنایا جائےگا کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو مثالی سزا ملے، اللہ تعالیٰ بچوں کو جوارِ رحمت میں جگہ، زخمیوں کو کامل شفا اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
واضح رہے گزشتہ روز لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ابتدائی رپورٹ طلب کر لی تھی۔