Baaghi TV

Blog

  • لاہور پولیس نے نومولود کو دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی، 3 ملزمان گرفتار

    لاہور پولیس نے نومولود کو دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی، 3 ملزمان گرفتار

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک نومولود کو مبینہ طور پر دفنانے کی کوشش ناکام بنا دی اور اس سلسلے میں 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کی گئی، جس کے دوران ملزمان زمین میں گڑھا کھود کر نومولود کو دفنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ گرفتار افراد میں ایک مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے مبینہ اسقاط حمل سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ تاہم واقعے کی مختلف پہلوؤں سے شفاف اور میرٹ پر تفتیش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ممبئی ، ہائی پروفائل جسم فروشی کا اڈہ بے نقاب، دو اداکارائیں ہوٹل سےگرفتار

    ممبئی ، ہائی پروفائل جسم فروشی کا اڈہ بے نقاب، دو اداکارائیں ہوٹل سےگرفتار

    ممبئی: بھارت کے شہر ممبئی میں پولیس نے ایک ہوٹل پر چھاپہ مار کر مبینہ ہائی پروفائل جسم فروشی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    کارروائی کے دوران فلم انڈسٹری سے وابستہ دو خواتین کو ہوٹل کے ایک کمرے سے برآمد کیا گیا، جبکہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم فلمی دنیا میں میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کرتا تھا اور اسی حیثیت سے اپنے روابط کو مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔پولیس حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔ اطلاع موصول ہونے کے بعد خصوصی ٹیم نے منصوبہ بندی کے ساتھ ممبئی کے گرگاؤں (گوریگاؤں) علاقے میں واقع ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا، جہاں ایک کمرے میں دو خواتین موجود تھیں۔ ابتدائی طور پر وہ کسی شوٹنگ یا نجی تقریب کے لیے تیار دکھائی دے رہی تھیں، تاہم پولیس کی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر جسم فروشی کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔تحقیقات کے مطابق برآمد ہونے والی خواتین میں سے ایک مراٹھی فلموں کی اداکارہ بتائی جاتی ہے، جبکہ دوسری خاتون بنگالی فلموں میں کام کر چکی ہے اور چند بالی ووڈ فلموں میں مختصر کردار بھی ادا کر چکی ہے۔ پولیس نے دونوں خواتین کو وہاں سے نکال کر مزید کارروائی کے لیے تحویل میں لیا، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم فلمی صنعت سے وابستہ ہونے کے باعث متعدد فنکاروں اور ماڈلز سے رابطے میں تھا۔ تفتیشی حکام کا الزام ہے کہ وہ انہی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر خواتین کو گاہکوں تک پہنچانے کا انتظام کرتا تھا اور ایک منظم نیٹ ورک چلا رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم سے تفتیش جاری ہے اور اس کے موبائل فون، کال ریکارڈ، چیٹ ہسٹری، بینک لین دین اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس مبینہ ریکیٹ میں مزید کون کون افراد شامل تھے اور یہ نیٹ ورک کتنے عرصے سے سرگرم تھا۔پولیس نے بتایا کہ چھاپے سے قبل پورے آپریشن کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ تفتیشی ٹیم اب اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ کارروائیاں صرف ایک ہوٹل تک محدود تھیں یا شہر کے دیگر مقامات پر بھی اسی نوعیت کی سرگرمیاں جاری تھیں۔

    حکام نے کہا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد اضافی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں کسی بھی شخص کو اس وقت تک مجرم قرار دینے سے گریز کیا ہے جب تک عدالت میں الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔

  • پاکستان میں مردوں کو بھی ہراساں کیا جانے لگا،40 فیصد شکایات مردوں کی

    پاکستان میں مردوں کو بھی ہراساں کیا جانے لگا،40 فیصد شکایات مردوں کی

    اسلام آباد: کام کی جگہ ہراسانی اور ملازمت سے متعلق دیگر مسائل پر مردوں کی جانب سے بھی وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی سے رجوع کرنے کا رجحان نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران درج ہونے والی مجموعی شکایات میں تقریباً 40 فیصد شکایات مردوں کی جانب سے دائر کی گئیں۔

    دستاویزات کے مطابق ایک سال کے دوران وفاقی محتسب کے پاس 1,290 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1,104 شکایات نمٹا دی گئیں، جس سے ادارے کی جانب سے کیسز کے بروقت ازالے کی کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 521 مردوں نے کام کی جگہ ہراسانی، امتیازی سلوک اور ملازمت سے متعلق دیگر شکایات وفاقی محتسب کے سامنے پیش کیں۔ یہ تعداد مجموعی شکایات کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مرد بھی اپنے قانونی اور پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر رہے ہیں۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق مردوں کی سب سے زیادہ 231 شکایات وفاقی محتسب کے اسلام آباد ہیڈ آفس میں درج کی گئیں۔اس کے بعد پنجاب دوسرے نمبر پر رہا، جہاں 222 مردوں نے شکایات درج کرائیں۔ پشاور دفتر میں 42، کراچی میں 24 جبکہ کوئٹہ میں 2 مردوں نے وفاقی محتسب سے رجوع کیا۔

    دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران 769 خواتین نے بھی وفاقی محتسب کے پاس شکایات درج کرائیں۔ان میں سے 496 شکایات اسلام آباد جبکہ 154 شکایات پنجاب سے موصول ہوئیں۔ دیگر شکایات ملک کے مختلف علاقوں سے سامنے آئیں۔

    وفاقی محتسب کے حکام کے مطابق تمام شکایات صرف ہراسانی سے متعلق نہیں تھیں بلکہ متعدد درخواستیں ملازمت کے دیگر حقوق سے بھی متعلق تھیں۔ان شکایات میں بعض مرد ملازمین نے بچے کی پیدائش پر پدری رخصت نہ دیے جانے کے خلاف بھی درخواستیں دائر کیں، جبکہ دیگر کیسز میں ملازمت سے متعلق مختلف انتظامی اور قانونی نوعیت کے معاملات شامل تھے۔دستاویزات کے مطابق ایک سال کے دوران موصول ہونے والی 1,290 شکایات میں سے وفاقی محتسب نے 1,104 کیسز نمٹا دیے، جو ادارے کی جانب سے شکایات کے بروقت ازالے کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کام کی جگہ ہراسانی اور ملازمین کے حقوق سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب مرد و خواتین دونوں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی فورمز سے رجوع کرنے میں زیادہ اعتماد محسوس کر رہے ہیں۔

  • تعلیم یافتہ معاشرہ کبھی بھی معاشی یا فکری طور پر دیوالیہ نہیں ہو سکتا،خواجہ آصف

    تعلیم یافتہ معاشرہ کبھی بھی معاشی یا فکری طور پر دیوالیہ نہیں ہو سکتا،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تعلیم یافتہ معاشرہ کبھی بھی معاشی یا فکری طور پر دیوالیہ نہیں ہو سکتا، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض اداروں میں معیاری تعلیم کے بجائے صرف ڈگریاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اساتذہ، والدین اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم، تحقیق اور قومی شناخت کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔

    سیالکوٹ میں ایک نجی کالج کی سالانہ کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ تقریب میں طالبات کی تعداد نمایاں ہے۔ ان کے مطابق تقریب میں تقریباً 80 فیصد طالبات اور 20 فیصد طلبہ شریک ہیں، جو خواتین کی تعلیم کے فروغ کی مثبت علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا اور پوری زندگی بھی علم کے حصول کے لیے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈگری حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نے مکمل علم حاصل کر لیا، بلکہ سیکھنے کا سفر زندگی بھر جاری رہتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے دور میں تعلیمی ادارے کم تھے لیکن علم کی وسعت اور معیار بہت بلند تھا، اور انہیں عظیم اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اساتذہ اور طلبہ کے درمیان عزت و احترام میں کمی آئی ہے، جس کی ذمہ داری اساتذہ، والدین اور طلبہ تینوں پر عائد ہوتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ نصاب ملک کی ضروریات کے مطابق نہیں اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بڑی تعداد میں طالبات میڈیکل کی ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود عملی میدان میں خدمات انجام نہیں دیتیں، جو معاشرے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان کو تبدیل کرنے میں اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے سیاست پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سیاست دان خود اپنی منزل کا تعین نہیں کر پاتے، ایسے میں نوجوانوں کی رہنمائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو باہمی اختلافات کے بجائے ملکی ترقی اور قومی مفاد کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔قومی شناخت کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ آئین میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جن کا مقصد علاقائی شناخت کے بجائے پاکستانی شناخت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کے لیے ایسا نصاب مرتب کیا جانا چاہیے جو پنجاب سے لے کر گلگت بلتستان تک یکساں قومی شعور اور شناخت کو فروغ دے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو ابھی ترقی کی راہ میں ایک طویل سفر طے کرنا ہے، تاہم گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک نے جن اہم کامیابیوں اور معرکوں میں کامیابی حاصل کی، ان کی مثال گزشتہ 78 برس کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "معرکۂ حق” کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی اور ایک ایسا ملک جسے کبھی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، آج امن کے فروغ کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں قیادتوں نے خطے کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

  • جیوانی حملہ،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور "لاپتہ”بازیاب ہو گیا،جہنم واصل

    جیوانی حملہ،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور "لاپتہ”بازیاب ہو گیا،جہنم واصل

    گوادر: بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی انسدادِ اسمگلنگ پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد حملہ آور کی شناخت سے متعلق سامنے آئی ہے،ماہ رنگ بلوچ کا ایک اور لاپتہ بازیاب ہو گیا

    پوسٹ پرحملہ کرنے والا والا خودکش حملہ آور عطا اللہ ولد گاجی خان تھا، جسے "جبری لاپتہ شخص” قرار دے کر ریاست مخالف مہمات میں بطور مثال پیش کیا جاتا رہا۔ 3 جولائی 2026ء بروز جمعہ شام تقریباً 6 بج کر 32 منٹ پر گوادر کے علاقے جیوانی کے پانوان سیکٹر میں واقع پاکستان کوسٹ گارڈز کی انسدادِ اسمگلنگ پوسٹ پر بارود سے بھرے مزدا ٹرک کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا اور حملہ آور موقع پر ہلاک ہوگیا،
    ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد حملہ آور کے جسم کے اعضا اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا فرانزک تجزیہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی شناخت عطا اللہ ولد گاجی خان کے نام سے ہوئی عطا اللہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کے کیمپ سے وابستہ تھا۔

    ادھر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے مجید بریگیڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عطا اللہ کی تصویر ماضی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور PAANK کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی تھی۔ ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عطا اللہ کو 27 فروری 2025ء کو ضلع آواران سے مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ حملہ آور کی شناخت سامنے آنے کے بعد ان دعوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں جن کے تحت بعض افراد کو لاپتہ قرار دے کر مختلف سیاسی اور انسانی حقوق کی مہمات کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

    بعض کالعدم تنظیموں کے سہولت کار اور ہمدرد نیٹ ورکس نوجوانوں کی بھرتی، ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ماضی میں بھی بعض دہشت گرد حملوں کے بعد حملہ آوروں کے بارے میں ایسے دعوے سامنے آئے جنہیں پہلے مختلف حلقوں کی جانب سے "لاپتہ افراد” کے طور پر پیش کیا گیا تھا،

  • جیوانی چیک پوسٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ماضی کا ” لاپتا شخص” ،بی وائی سی،بی ایل اے کا گٹھ جوڑ

    جیوانی چیک پوسٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ماضی کا ” لاپتا شخص” ،بی وائی سی،بی ایل اے کا گٹھ جوڑ

    بلوچستان میں طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں کے نام پر چلائے جانے والے مبینہ انسانی بحران کے پیچھے چھپے اصل کردار، کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور بیرونی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کا سنسنی خیز پردہ فاش ہو گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع اور حالیہ عدالتی فیصلوں سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جن افراد کو مظاہروں اور لانگ مارچز میں ’مظلوم لاپتہ شہری‘ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، وہ دراصل کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے انتہائی خطرناک خودکش اسکواڈ ’مجید بریگیڈ‘ کے سرگرم دہشت گرد اور کمانڈرز نکلے۔ جیوانی میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے کا مبینہ سرغنہ عطااللہ ولد گاجی خان، جو ضلع آواران کا رہائشی ہے، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کالعدم بی ایل اے کا سرگرم کمانڈر ثابت ہوا ہے۔

    حیرت انگیز طور پر عطااللہ کا نام ماضی میں ماہ رنگ لانگو کی جانب سے ’پیس، جسٹس اینڈ ایکول رائٹس‘ (پاانک) نامی تنظیم کی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا،ماہ رنگ لانگو نے متعدد احتجاجی مظاہروں میں اس کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اس کی دہشتگردانہ کارروائیوں نے اس جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو ان کی وحشیانہ کارروائیوں، سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں کے باعث عالمی سطح پر دہشتگرد قرار دیا جا چکا ہے۔امریکا نے سال 2025 میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو باضابطہ طور پر ’فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن‘ کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ یہ تنظیمیں بھارتی پراکسیز کے طور پر کام کر رہی ہیں، جنہیں افغانستان میں قائم نیٹ ورکس کے ذریعے فنڈنگ، جدید ترین ہتھیار اور تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

    بلوچستان کے علاقے جیوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر خودکش حملے کے بعد لاپتا افراد کی فہرستوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عطا اللہ ولد گاجی خان، جو ضلع آواران کے علاقے ماشکئی کا رہائشی بتایا جا رہا ہے، کو کالعدم تنظیموں کی جانب سے فروری 2025 سے لاپتا قرار دیا گیا تھا۔ تاہم یہی شخص جیوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھا۔ بعض تنظیمیں، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC)، بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) اور PAANK شامل ہیں، لاپتا افراد کے معاملات کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کی شناخت چھپانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

    نادیہ بلوچ، سمیع دین، حامد میر، منیزے جہانگیر، ایمنسٹی اور دیگر اب احتجاج کے لیے باہر نہیں آئیں گے اور نہ ہی ایک لفظ بولیں گے کہ وہ دہشت گرد ہے پھر بھی جب ریاست ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو یہ سب گدھ نکل آتے ہیں۔

    عطا اللہ ولد گاجی خان کو ماضی میں مہرنگ بلوچ کی جانب سے ” لاپتا شخص”کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جبکہ اس کا نام اور تصویر متعدد بی وائی سی احتجاجی مظاہروں میں بھی بارہا آویزاں کی گئی۔تاہم، چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ہونے والی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ بی ایل اے کا ایک سرگرم کمانڈر تھا اور اسی حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔دہشتگرد تنظیم کے کمانڈر عطااللہ کو غیر سرکاری تنظیم ” پانک ” نے اپنی مسنگ لسٹ کے 122 نمبر میں شامل کیا تھا جو متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے۔

  • روالاکوٹ دھرنے میں سرعام منشیات کا استعمال جاری،مشکوک افراد موجود،انکشاف

    روالاکوٹ دھرنے میں سرعام منشیات کا استعمال جاری،مشکوک افراد موجود،انکشاف

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی شرپسندگی کےناقابل تردید شواہد منظرعام پر آ گئے

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےراولاکوٹ دھرنےمیں شریک ہونے والے نوجوان کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دھرنے سے واپس آنے والے نوجوان محمدعثمان کا کہنا تھا کہ راولا کوٹ دھرنے میں لمبے لمبے بالوں والے اسلحہ کیساتھ مشکوک افراد موجود ہیں،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ مہران کو بھی ان افراد نےاپنے حصارمیں رکھا ہوا ہے، دھرنے میں جانے والے افرادوہاں پھنس گئے کیونکہ انہیں اب واپس آنے سےزبردستی روکا جارہا ہے، دھرنے سے واپس آنے کی کوشش کرنےوالے افراد کی گاڑیوں کی چابیاں بھی زبردستی چھین لی گئیں، روالاکوٹ دھرنے میں سرعام منشیات کا استعمال اور خرید و فروخت جاری ہے،خدشہ ہے کہ دھرنے میں موجود افرادکو یہ شرپسند مار کرپولیس اور انتظامیہ کے ذمے لگا دیں گے، نوجوان نے انتظامیہ اور حکومت سے راولاکوٹ دھرنے میں پھنسے ہوئے افراد کو واپس لانے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے،

    وقت گزرنے کیساتھ نہ صرف کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی مسلسل مسترد ہو رہی ہے بلکہ اس کا مکروہ چہرہ بھی بے نقاب ہورہا ہے

  • 61 سالہ عامر خان تیسری شادی کے لیے تیار، جانیے کون ہیں گوری اسپریٹ

    61 سالہ عامر خان تیسری شادی کے لیے تیار، جانیے کون ہیں گوری اسپریٹ

    ممبئی: بالی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان 61 برس کی عمر میں تیسری بار شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں۔ اداکار نے خود تصدیق کی ہے کہ وہ 5 جولائی کو اپنی دیرینہ دوست اور گرل فرینڈ گوری اسپریٹ کے ساتھ سادہ تقریب میں شادی کریں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریب ممبئی میں عامر خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگی، جس میں صرف خاندان کے افراد، قریبی دوستوں اور فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی منتخب شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ تقریب میں تقریباً 150 مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔عامر خان کی شادی کی خبر سامنے آنے کے بعد مداحوں کی دلچسپی اس بات میں بڑھ گئی ہے کہ گوری اسپریٹ کون ہیں؟بھارتی میڈیا کے مطابق گوری کی والدہ تمل نژاد جبکہ والد آئرش ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق آزادی کی تحریک سے بھی رہا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے دادا مجاہدِ آزادی تھے۔

    تعلیم کے حوالے سے گوری اسپریٹ نے یونیورسٹی آف آرٹس لندن سے فیشن، اسٹائلنگ اور فوٹوگرافی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے، جبکہ وہ ایک پیشہ ور ہیئر ڈریسر بھی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کا ایک چھ سالہ بیٹا بھی ہے، تاہم ان کی پہلی شادی کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔رپورٹس کے مطابق گوری اسپریٹ اس وقت عامر خان کے پروڈکشن ہاؤس عامر خان فلمز کے ساتھ بھی کام کر رہی ہیں۔ دونوں کی شادی رجسٹرڈ میرج کی صورت میں ہوگی، جس کے بعد ایک مختصر نجی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔

    عامر خان نے گزشتہ سال اپنی سالگرہ کے موقع پر پہلی بار گوری اسپریٹ کو میڈیا سے متعارف کرایا تھا اور اپنے تعلق کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو تقریباً 25 برس سے جانتے ہیں، تاہم تقریباً ڈیڑھ سال قبل دوبارہ رابطہ ہوا، جس کے بعد ان کی قربتیں بڑھتی گئیں۔عامر خان کے مطابق، "ہماری ملاقات اچانک ہوئی، پھر بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا اور سب کچھ نہایت فطری انداز میں آگے بڑھتا گیا۔”انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ گوری نے ان کی صرف چند فلمیں، جن میں لگان اور دنگل شامل ہیں، دیکھی ہیں اور وہ اب بھی بالی ووڈ کی چکاچوند کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    گوری اسپریٹ کے ساتھ یہ عامر خان کی تیسری شادی ہوگی۔ انہوں نے پہلی شادی 1986 میں رینا دتہ سے کی تھی، جن سے ان کے دو بچے، جنید خان اور آئرہ خان ہیں۔ دونوں نے 2002 میں باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔بعد ازاں عامر خان نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، تاہم 2021 میں یہ رشتہ بھی ختم ہو گیا۔ اس شادی سے ان کا ایک بیٹا آزاد ہے، جو سروگیسی کے ذریعے پیدا ہوا۔ عامر خان کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے باوجود ان کے اپنی دونوں سابقہ اہلیاؤں، رینا دتہ اور کرن راؤ، کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار ہیں۔

  • سوات میں فائرنگ،پیپلز پارٹی رہنما قتل

    سوات میں فائرنگ،پیپلز پارٹی رہنما قتل

    اپر سوات کے علاقے مٹہ میں ہفتے کے روز نمازِ جنازہ کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے مقامی رہنما سمیع اللہ خان جاں بحق جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں ایک مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی۔ اسی دوران نامعلوم حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ شروع کر دی اور مبینہ طور پر پیپلز پارٹی اپر سوات کے صدرسمیع اللہ خان کو نشانہ بنایا۔ گولیاں لگنے سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے قریب کھڑا ایک شخص شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔سمیع اللہ خان کا شمار سوات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے متحرک اور سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے تھے اور مقامی سطح پر ایک فعال سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

    اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، شواہد اکٹھے کیے گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ واقعے کے محرکات کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔ تاحال کسی گروہ یا فرد نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

  • ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی،شرجیل میمن

    ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر،وزیر اطلاعات رہنما شرجیل میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیا ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم آج بھی عوامی مینڈیٹ کے بجائے شارٹ کٹ سیاست پر یقین رکھتی ہے، وفاقی مداخلت کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا سیاسی بلیک میلنگ کا ثبوت ہے،ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی ہے، اسی وجہ سے ایم کیو ایم اب شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، کراچی کے عوام کے وسائل کو ایم کیو ایم سیاسی سودے بازی کا ذریعہ نہ بنائے،سندھ کے معاملات وفاق کے ہاتھ دینے کی بات وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش ہے، سندھ کوئی تجربہ گاہ نہیں کہ کسی جماعت کی سیاست کمزور پڑے تو حملہ آور ہو جائے .فاروق ستار کو یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، یہ مینڈیٹ کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ سے تبدیل نہیں ہو سکتا، ایم کیو ایم کو اقتدار میں زیادہ حصہ چاہیے تو اس کا راستہ عوام کے ووٹ سے گزرتا ہے، وفاقی مداخلت یا آئینی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے سے اقتدار نہیں ملتا۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا وفاق میں حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کراچی کے لیے وعدوں پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاقی اتحادیوں سے سوال کرنا چاہیے، آئینی اختیارات، صوبائی خود مختاری اور کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، کراچی کی ترقی سیاسی بلیک میلنگ یا عہدوں کی تقسیم سے ممکن نہیں، سندھ حکومت صوبے کی ترقی، عوامی خدمت اور آئینی بالادستی کا سفر جاری رکھے گی

    واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا،کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں 2022ء میں کراچی کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا، بلاول بھٹو نے اس معاہدے کو مانا اور دستخط کیے، ایم کیو ایم کی بار بار یاد دہانی کے باوجود معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا، پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہے، کوئی اختیار نہیں مانگا گیا، وزیرِ اعظم اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کردار ادا کریں بصورتِ دیگر ایم کیو ایم احتجاج کرے گی،ملک بھر میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، ہر کوئی تکلیف اور کرب میں مبتلا ہے، شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، بلدیاتی قانون وضع کر دیتے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا، کوٹہ سسٹم کے خلاف ہماری جدوجہد رہی ہے، اسے آئین میں گھسایا گیا ہے، کوٹہ سسٹم کا 40 فیصد حصہ نہیں مل رہا، جعلی ڈومیسائل پر ہمارے کوٹے پر نوکریاں دی گئیں، وفاق کو کہتا ہوں کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کرے، ماورائے آئین و قانون حکومت چلائی جا رہی ہے، میں نہیں کہہ رہا کہ گورنر راج لگائیں مگر ریفرنڈم کرائیں، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں،ہمارے سڑکوں پر آنے کا وقت آ گیا ہے، تیاری کر رہے ہیں، کراچی کے عوام کو بعد میں نہ روکیں، اگر روکنا ہے تو ابھی روکیں۔