امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں لبنان میں فوجی کارروائیاں محدود رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ مکمل جنگ سے گریز کریں اور صرف محدود اور ہدفی کارروائیوں تک رہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر تباہی اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کارروائیوں کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کو گرانا اور وسیع حملے صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں، جبکہ محتاط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی، حالانکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دونوں ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران سے متعلق معاملات سے الگ ہے، تاہم اگر کشیدگی بڑھی تو خطے میں سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
زمینی صورتحال کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ بھی راکٹ اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دے رہی ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔ ساتھ ہی امریکا لبنان میں سیاسی دباؤ بڑھانے اور فوج کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی پر بھی کام کر رہا ہے۔
Blog
-

ٹرمپ کی نیتن یاہو کو لبنان میں محدود کارروائی کی ہدایت
-

حج سیزن شروع، زائرین کیلئے جدید سہولتوں کا اعلان
حج سیزن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں زائرین مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سال بھی سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کو بہتر اور جدید سہولتیں فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کا سفر آسان اور محفوظ بنایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اس بار زائرین کو کئی نئی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں اسمارٹ گائیڈ سسٹم اور جدید موبائل کاؤنٹر ڈیوائسز شامل ہیں۔ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کی جانب سے ہوائی اڈوں، زمینی اور بحری داخلی راستوں پر یہ موبائل ڈیوائسز نصب کی گئی ہیں، جن کا مقصد امیگریشن کے عمل کو تیز اور آسان بنانا ہے۔
ان موبائل کاؤنٹرز کے ذریعے بایومیٹرک ڈیٹا، چہرے کی تصاویر اور پاسپورٹ کی معلومات فوری طور پر حاصل کی جاتی ہیں، جس سے زائرین کو طویل انتظار سے نجات ملتی ہے۔ خاص طور پر بزرگ اور معذور افراد کے لیے یہ سہولت انتہائی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ انہیں کم وقت میں تمام مراحل مکمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسری جانب سعودی رائل کمیشن برائے مکہ شہر و مقدس مقامات نے "Discover Makkah” کے نام سے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کروایا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے زائرین اپنے سفر کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور مکہ مکرمہ کے اہم مقامات، تاریخی نشانات اور ثقافتی مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم اسمارٹ نقشے اور ٹرپ پلانر جیسی سہولتیں بھی فراہم کرتا ہے، جس سے زائرین کو ایک ہی جگہ پر مکمل اور مستند معلومات میسر آتی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کا حصہ ہیں، جن کا مقصد حجاج کرام کے تجربے کو بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ -

اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی واضح ہونے لگے ہیں، جہاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں منفی رجحان غالب رہا اور سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق کاروبار شروع ہوتے ہی فروخت کے دباؤ میں اضافہ ہوا جس کے باعث بینچ مارک ہنڈریڈ انڈیکس اپنی اہم سطح برقرار نہ رکھ سکا۔ دورانِ سیشن انڈیکس میں 3 ہزار 56 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار کی سطح سے نیچے گر کر 1 لاکھ 62 ہزار 766 پوائنٹس پر آ گیا۔
اس اچانک گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر شیئرز فروخت کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مندی کی بنیادی وجہ عالمی سیاسی صورتحال ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے متعلق خدشات نے عالمی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔ ان حالات نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مارکیٹس کو بھی متاثر کیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محتاط حکمت عملی اپنائیں اور عالمی صورتحال پر نظر رکھیں۔ -

ایران کی سوشل میڈیا حکمت عملی، جنگ کے دوران طنز و میمز کا استعمال
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے دوران ایک نیا پہلو سامنے آیا، جہاں ایران نے سوشل میڈیا کو بطور مؤثر ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی کو نمایاں کیا۔ اس عرصے میں ایرانی سفارتی مشنز نے روایتی سفارتی انداز کے بجائے طنز، مزاح اور میمز کا سہارا لیا تاکہ عالمی بیانیے پر اثر انداز ہو سکیں۔
جنگ بندی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ معاہدہ کرے، بصورت دیگر اہم انفراسٹرکچر جیسے پلوں اور پاور اسٹیشنز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے زمبابوے میں ایرانی سفارتخانے نے طنزیہ انداز اپنایا اور ڈیڈ لائن کے وقت پر مذاق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا، جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی سفارتی اکاؤنٹس، خاص طور پر ایکس پلیٹ فارم پر، نہایت سرگرم رہے اور انہوں نے مختلف پیغامات کے ذریعے امریکی مؤقف کا جواب دینے کی کوشش کی۔ ان اکاؤنٹس نے نہ صرف سیاسی بیانات دیے بلکہ میمز اور طنزیہ مواد کے ذریعے بھی اپنے مؤقف کو پیش کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس ڈیجیٹل مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران لڑائی کے ساتھ ساتھ جعلی خبروں اور پبلک ریلیشنز میں بھی مہارت رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آن لائن سرگرمیاں امریکی توجہ کا مرکز بن چکی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ حکمت عملی ممکنہ طور پر اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے اپنائی گئی۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی تنقید کا سامنا تھا۔ -

امریکا کے ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاری
خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے اور اس حوالے سے اعلیٰ عسکری قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دینے والی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس میں توانائی اور اسٹریٹجک تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے کیونکہ اس سے خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کارروائی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی رپورٹس خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی روابط بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم اگر ایسے منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ -

ججز تبادلوں پر وکلا سراپا احتجاج، آئینی بحث تیز
اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں وکلا نے احتجاج کیا ہے، جس کے باعث اس معاملے پر آئینی اور قانونی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے مظاہرے کیے گئے، جبکہ کچھ وکلا نے اس اقدام کو آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت بھی کی۔
یاد رہے کہ قائم مقام صدر مملکت یوسف رضا گیلانی نے جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ان تبادلوں کے تحت ججز کو بالترتیب پشاور، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ منتقل کیا گیا۔
ان تبادلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار اور پشاور بار کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ لاہور میں ہونے والے احتجاج میں سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن بھی شامل تھے۔
لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ نے موقف اختیار کیا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں 26 اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف کیس زیر سماعت ہے، ایسے میں ججز کے تبادلے کرنا آئینی طور پر مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عدالتی نظام پر سوالات اٹھ سکتے ہیں اور اسے مؤخر کیا جانا چاہیے تھا۔
دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت ججز کے تبادلے ممکن ہیں اور یہ ایک قانونی عمل ہے، تاہم اس پر اختلاف رائے موجود ہے۔ -

چین کی بڑی کامیابی، کاربن ڈائی آکسائیڈ سے طیاروں کا ایندھن تیار
چینی سائنسدانوں نے ایک اہم سائنسی پیشرفت حاصل کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعے فضائی آلودگی کا باعث بننے والی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو طیاروں کے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی ایڈوانسڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف دی چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے ماہرین نے اس منصوبے پر تحقیق کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہ راست ہائیڈرو کاربن میں تبدیل کرنے کا مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔ ہائیڈرو کاربن طیاروں کے ایندھن کا بنیادی جز ہوتا ہے، اس لیے یہ ٹیکنالوجی ہوابازی کے شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پانی کے ساتھ ملا کر ایک کیمیائی عمل کے ذریعے سیال ایندھن میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف نقصان دہ گیسوں میں کمی آئے گی بلکہ متبادل ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔
تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے ACS Catalysis میں شائع کیے گئے ہیں، جہاں اسے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ماضی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مؤثر طریقے سے ایندھن میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج رہا، تاہم اب اس میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔
ماہرین اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر صنعتی سطح پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اگر یہ کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف خام تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش تیز ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں صاف توانائی کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ -

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی کے دوران ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کو اپنے نام سے منسوب کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس اہم بحری گزرگاہ کا نقشہ شیئر کیا اور اسے ’آبنائے ٹرمپ‘ کا نام دیا، جس پر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے اس قسم کا بیان دیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ ایک عوامی خطاب میں اسی اصطلاح کا استعمال کر چکے ہیں، جسے ابتدا میں بعض حلقوں نے مذاق یا غیر ارادی جملہ سمجھا، تاہم اب دوبارہ اس کا استعمال کیے جانے سے معاملہ سنجیدہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی قسم کا سیاسی یا متنازع بیان عالمی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی اس پوسٹ کو بعض حلقے سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے غیر سنجیدہ رویہ قرار دے رہے ہیں، جو پہلے ہی کشیدہ صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اہم جغرافیائی مقامات اور تنازعات میں محتاط اور ذمہ دارانہ بیانات کی کتنی ضرورت ہے۔ -

ایران تنازع امریکا پر مہنگا، 25 ارب ڈالر خرچ
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اگرچہ فی الحال عارضی جنگ بندی میں داخل ہو چکی ہے، تاہم اس دو ماہ طویل تنازع نے امریکی معیشت پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جنگی صورتحال کے باعث امریکا کو اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ تنازع 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔ اگرچہ اس وقت کھلی جنگ بندی موجود ہے، لیکن دونوں جانب سے سخت بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ مالیاتی عہدیدار نے آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان اخراجات کا بڑا حصہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور جنگی سازوسامان پر خرچ ہوا، جبکہ کچھ رقم مینٹیننس اور آلات کی تبدیلی پر بھی صرف کی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ اخراجات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1500 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کر رکھی ہے۔ اس تناظر میں موجودہ جنگی اخراجات دفاعی پالیسی اور بجٹ میں اضافے کے جواز کے طور پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت دفاعی صنعتی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے تاکہ اسے جنگی بنیادوں پر چلنے والے نظام میں تبدیل کیا جا سکے۔ -

چین کی بڑی کامیابی، کاربن ڈائی آکسائیڈ سے طیاروں کا ایندھن تیار
چینی سائنسدانوں نے ایک اہم سائنسی پیشرفت حاصل کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس کے ذریعے فضائی آلودگی کا باعث بننے والی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو طیاروں کے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی ایک بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی ایڈوانسڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف دی چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے ماہرین نے اس منصوبے پر تحقیق کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہ راست ہائیڈرو کاربن میں تبدیل کرنے کا مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔ ہائیڈرو کاربن طیاروں کے ایندھن کا بنیادی جز ہوتا ہے، اس لیے یہ ٹیکنالوجی ہوابازی کے شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پانی کے ساتھ ملا کر ایک کیمیائی عمل کے ذریعے سیال ایندھن میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف نقصان دہ گیسوں میں کمی آئے گی بلکہ متبادل ایندھن کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے ACS Catalysis میں شائع کیے گئے ہیں، جہاں اسے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ماضی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مؤثر طریقے سے ایندھن میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج رہا، تاہم اب اس میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔
ماہرین اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر صنعتی سطح پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اگر یہ کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف خام تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔