Baaghi TV

Blog

  • گوجر خان، سگے ماموں نے بھانجے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا

    گوجر خان، سگے ماموں نے بھانجے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا

    تھانہ جاتلی کے علاقے دیوی میں لرزہ خیز واردات:سنگدل ماموں کی فائرنگ سے 35 سالہ بھانجا جاں بحق، ملزم فرار
    دیوی داتا میں جائیداد کی دشمنی نے رشتوں کا تقدس پامال کر دیا، بھانجے کے قتل پر پولیس کی کارروائی، ملزم کی تلاش جاری
    گوجرخان (قمر شہزاد) تھانہ جاتلی کے علاقے دیوی داتا کی ڈھوک دھمیال میں زمین کے دیرینہ تنازعے نے ایک ہنستے بستے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا۔ سگے ماموں نے جائیداد کی ہوس میں اپنے ہی بھانجے کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ مقتول کی شناخت 35 سالہ راجہ گلبدین کے نام سے ہوئی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ ملزم اظہر مسعود اور مقتول گلبدین کے درمیان عرصے سے زمین کا تنازعہ چل رہا تھا، جس پر کئی بار تلخ کلامی بھی ہوئی، تاہم گزشتہ روز یہ جھگڑا اس وقت خونی رنگ اختیار کر گیا جب ماموں نے طیش میں آکر فائرنگ کر کے اپنے بھانجے کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ جاتلی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ سے اہم شواہد جمع کیے۔ ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیم نے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کیا۔ پولیس نے مقتول کے لواحقین کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اسے جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس اور سوگ کی فضا برقرار ہے۔

  • بلدیہ گوجرخان سفید ہاتھی، ٹیکسوں کی بھرمار مگر پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترستے شہری

    بلدیہ گوجرخان سفید ہاتھی، ٹیکسوں کی بھرمار مگر پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترستے شہری

    سی او بلدیہ کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور جھوٹے دلاسے بے نقاب نئے ٹیوب ویلز کا خواب چکنا چور، عوام کو مضرِ صحت زہریلا پانی پلایا جانے لگا
    ریٹائرڈ کرپٹ انجینئر کا بلدیہ پر بدستور قبضہ عوامی حلقوں کا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے سیاہ و سفید کے مالک مافیا کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ۔
    گوجرخان (قمر شہزاد) بلدیہ گوجرخان شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جہاں بھاری بھرکم ٹیکس وصول کرنے کے باوجود عوام پینے کے صاف پانی کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی لہر ابھی شباب پر بھی نہیں آئی لیکن میونسپل کمیٹی کی مجرمانہ غفلت نے ابھی سے پیاس کا عذاب مسلط کر دیا ہے۔سی او بلدیہ کی کارکردگی صرف باتوں اور لفاظی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ عملی میدان میں کام صفر ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے نئے ٹیوب ویل اور موٹروں کی تنصیب کا جھوٹا لولی پاپ دیا جا رہا ہے، ٹینڈر ہونے کے باوجود ٹھیکیدار نے تاحال کام شروع نہیں کیا جو انتظامیہ کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

    عوامی سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سی او نے نااہلی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ افسر شاہی صرف دلاسوں سے بہلا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن علاقوں میں تھوڑا بہت پانی فراہم کیا جا رہا ہے وہ اس قدر بدبودار اور مضرِ صحت ہے کہ جیسے اس میں کوئی مردار گرا ہو۔ یہ پانی شہریوں میں ہیپاٹائٹس اور دیگر مہلک بیماریاں بانٹ رہا ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ایک سابق کرپٹ انجینئر، جو ریٹائر ہو چکا ہے، آج بھی بلدیہ کے معاملات کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پورے پنجاب میں کوئی اور انجینئر نہیں جو اس ریٹائرڈ شخص کو اب بھی نوازا جا رہا ہے؟ اسی شخص کی سابقہ کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کا خمیازہ آج پورا شہر بھگت رہا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان بلدیہ کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے، کرپٹ گٹھ جوڑ کا خاتمہ کر کے فرض شناس افسران تعینات کیے جائیں اور پانی کی فراہمی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے ورنہ شدید گرمی میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال بدستور قائم رہی تو اہلیان گوجرخان بلدیہ دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • وزیراعظم  سے یورپی یونین کے سینئر حکام،کاروباری نمائندوں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے یورپی یونین کے سینئر حکام،کاروباری نمائندوں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے یورپی یونین کے سینئر حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں کے وفد نے آج صبح وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر (ایشیا پیسفک) مسٹر پیٹرس اسٹبس کررہے تھے.

    وفد میں ڈائریکٹر انٹرنیشنل پارٹنرز ، یورپین انویسٹمنٹ بینک تھوریا تریکی (Thourya Triki) ، ایڈیڈاز (Adidas)کے نائب صدر مینیول پاؤزر (Manuel Pauser) ، ایندراتز (Andritz)کے نائب صدر کارل شلوگل باؤر ( Karl Shloegelbauer) آئیکیا (IKEA) کے ریجنل ڈائریکٹر ڈائیٹر میٹکے (Dieter Metkke) شامل تھے۔ وفد میں پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر عزت مآب ریمنڈس کیروبلس بھی موجود تھے.

    وزیراعظم نے یورپی یونین کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کے سب سے زیادہ حجم کی منزل ہے۔ یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سمیت علاقائی چیلنجوں کے باوجود معیشت کے استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کے پختہ عزم کا یقین دلایا۔ اس سلسلے میں، وزیر اعظم نے خاص طور پر یورپی یونین کونسل کے صدر عزت مآب انتونیو کوسٹا، کے ساتھ اپنی دو حالیہ ٹیلی فونک روابط کا ذکر کیا جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا گیا تھا۔

    خطے میں امن کی کوششوں میں وزیراعظم کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے یورپی یونین کے وفد نے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کی میزبانی میں بھرپور تعاون کرنے پر حکومت کی تعریف کی۔ وفد کے اراکین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اپنے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان توانائی، مواصلات، آئی ٹی وغیرہ سمیت مختلف شعبوں میں B2B تعلقات کو مزید فروغ دینے کے قوی امکانات ہیں۔پاکستان کی جانب سے ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونین خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر خان کے علاوہ سینئر حکومتی حکام بھی موجود تھے۔

  • طالبان کی بلا اشتعال جارحیت،پاکستانی سیکورٹی فورسز کابھرپورجواب،چوکیاں تباہ

    طالبان کی بلا اشتعال جارحیت،پاکستانی سیکورٹی فورسز کابھرپورجواب،چوکیاں تباہ

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت پر بھرپور کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ افغان طالبان کی سرشان، المرجان، ایدھی پوسٹ، گاڑی اور دیگر تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کا دفاعِ وطن کے لیے عزم غیرمتزلزل ہے، دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے عزائم خاک میں ملا دیے جائیں گے، آپریشن غضب للحق تمام مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

  • آر ایل این جی کی عدم دستیابی، گیس بحران شدت اختیار کر گیا

    آر ایل این جی کی عدم دستیابی، گیس بحران شدت اختیار کر گیا

    ملک بھر میں گیس کا بحران آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سوئی ناردرن کے پاس موجود آر ایل این جی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاور اور کھاد کے شعبوں کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ توانائی بحران کے اس نئے مرحلے نے صنعتی پیداوار کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی سپلائی کم ہو کر 700 ملین کیوبک فٹ یومیہ رہ گئی ہے، جبکہ ایران،امریکا کشیدگی سے قبل یہ مقدار تقریباً 1200 ملین کیوبک فٹ یومیہ تھی۔ اس طرح ملک کو یومیہ بنیاد پر 600 ملین کیوبک فٹ سے زائد گیس کی کمی کا سامنا ہے۔مزید برآں، گھریلو صارفین کے لیے بھی گیس کی فراہمی میں کمی کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں کھانا پکانے کے اوقات میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    تاہم سوئی گیس حکام کا مؤقف اس صورتحال سے مختلف ہے۔ حکام کے مطابق گھریلو صارفین کو کھانے کے تینوں اوقات میں گیس کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور نظام کو متوازن رکھنے کی کوشش جاری ہے۔ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر آر ایل این جی کی بروقت درآمد نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت اور عوامی زندگی دونوں پر پڑیں گے۔

  • عامر خان نے تھری اڈیٹس کے سیکوئل کی تصدیق کر دی

    عامر خان نے تھری اڈیٹس کے سیکوئل کی تصدیق کر دی

    بالی ووڈ سُپراسٹار عامر خان نےمشہور فلم ’تھری اڈیٹس‘ کے سیکوئل کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے-

    عامر خان کی بلاک بسٹر فلم ’تھری ایڈیٹس‘ سیکوئل کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں تاہم اداکار نے خود اس منصوبے کی تصدیق کر دی ہےانہوں نےبتایا کہ کہانی میں اصل کرداروں کی زندگی کو ایک دہائی بعد دکھایاجائےگا اور یہ دیکھا جائے گا کہ وقت کےساتھ انکےحالات میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

    عامر خان نے کہا کہ انہوں نے فلم کی کہانی سنی ہے اور یہ انہیں بہت پسند آئی ہے اگرچہ اسکرپٹ پر ابھی مزید کام ہونا باقی ہے، لیکن کہانی نہایت منفرد ہے اور پہلی فلم کی طرح اس میں بھی مزاح موجود ہوگا فلم کی کہانی وہیں سے شروع ہوگی جہاں پہلا حصہ ختم ہوا تھا، لیکن اس میں 10 سال کا ٹائم جمپ دکھایا جائے گا رنچھو (پھنسکھ وانگڈو)، فرحان اور راجو کی تکون ایک بار پھر اسکرین پر جلوہ گر ہوگی، وہ دوبارہ اپنے کردار پھنسکھ وانگدو کو نبھانے کے لیے بہت پرجوش ہیں. یہ کہانی راجکمار ہیرانی اور ابھیجیت جوشی نے مشترکہ طور پر تخلیق کی ہے۔

    واضح رہے کہ، 2009 میں ریلیز ہونے والی ’تھری ایڈیٹس‘ آج بھی بھارتی سنیما کی سب سے مقبول اور اثر انگیز فلموں میں شمار کی جاتی ہے راجکمار ہیرانی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم تعلیم کے نظام، دوستی، اور اپنے شوق کے مطابق زندگی گزارنے جیسے موضوعات پر مبنی تھی۔

  • افغان طالبان رجیم میں سکیورٹی بحران،امدادی کارکن بھی غیر محفوظ

    افغان طالبان رجیم میں سکیورٹی بحران،امدادی کارکن بھی غیر محفوظ

    افغان طالبان رجیم میں سکیورٹی بحران سنگین ہوچکا ہے جہاں امدادی کارکن بھی غیر محفوظ ہیں۔دہشت گردوں کی سرپرست افغان طالبان رجیم نے عوامی فلاح و بہبود کو پسِ پشت ڈال دیا جس کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کرگیا۔

    اقوام متحدہ نے افغان طالبان رجیم میں سکیورٹی ناکامی اور افغانستان میں مفلوج امدادی نظام کی قلعی کھول دی ۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امدادی رابطہ(اوچا) نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں جاری بدامنی اور سکیورٹی بحران نے امدادی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔افغانستان میں مارچ میں امدادی سرگرمیوں کیخلاف 86 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ایک امدادی کارکن جاں بحق ہوا ۔اوچا کے مطابق افغان طالبان رجیم میں خواتین پر کام کی پابندیاں برقرار ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں شرکت پر 14 کیسز سامنے آئے،گلوبل فوڈ کرائسس 2026 کی رپورٹ میں افغانستان کو شدید غذائی عدم تحفظ کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاکھوں افغان تاحال انسانی امداد کے محتاج ہیں، سیکورٹی بحران اور رسائی میں رکاوٹوں نےصورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی ترجیحات عوامی فلاح و بہبود کے بجائے عسکری اور دہشتگردانہ مقاصد پر مرکوز ہیں جسکا خمیازہ افغان عوام بھگت رہے ہیں۔

  • ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا  راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے-

    امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے، یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑےصدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا-

    تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے،توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے، ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

  • اڑیسہ میں غربت کی تلخ تصویر، بھائی بہن کی لاش اٹھا کر بینک پہنچ گیا

    اڑیسہ میں غربت کی تلخ تصویر، بھائی بہن کی لاش اٹھا کر بینک پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اڑیسہ سے ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف مقامی افراد بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک شخص اپنی مرحوم بہن کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوانے کے لیے بینک پہنچا، تاہم بینک عملے نے رقم دینے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بہن کی موت کا ثبوت پیش کرے۔جیتو منڈا نامی شہری دیانالی گاؤں کا رہنے والا ہے، اس کی بہن کالرا منڈا نے اڑیسہ گرامین بینک میں 19ہزار 300 روپے جمع کرائے تھے۔خاتون کا 2 ماہ قبل انتقال ہوگیا تھا جب کہ اس کا شوہر اور اکلوتا بچہ بھی انتقال کرچکے ہیں، جیتو اس کا واحد زندہ رشتہ دار تھا، جیتو نے اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں جمع رقم نکلوانا چاہی جس پر بینک منیجر نے اسے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یا تو اکاؤنٹ ہولڈر کو لے آئیں یا موت کا سرٹیفکیٹ اور قانونی وراثت کا ثبوت فراہم کریں،جیتو کے پاس نہ تو دستاویزات تھے اور نہ ہی کاغذات بنوانے کا کیلئے کسی طریقہ کار کا کوئی علم تھا، اس کے بعد جیتو نے گاؤں جاکراپنی بہن کی قبر کھودی، اس کی باقیات کو نکال کر کپڑے میں لپیٹا اور اپنے کندھے پر رکھ کر بینک پہنچ گیا، اس دوران کسی راہگیر نے اس دلخراش منظر کی ویڈیو بنا لی، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک غریب شخص اپنی بہن کی لاش کو کندھے پر اٹھائے سڑک پر چل رہا ہے، ، صارفین کی بڑی تعداد نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے انسانی وقار کی تذلیل قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پر یہ واقعہ بھارت میں غربت اور بیوروکریسی کے سخت رویوں کی عکاسی کے طور پر زیر بحث ہے۔ ایک طرف مودی سرکار کے دعووں میں ترقی اور خوشحالی کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے واقعات زمینی حقائق کو بے نقاب کرتے ہیں۔

  • اداکارہ صحیفہ جبار خٹک کا ناقدین کو منفرد جواب، منی اسکرٹ میں تصاویر شیئر

    اداکارہ صحیفہ جبار خٹک کا ناقدین کو منفرد جواب، منی اسکرٹ میں تصاویر شیئر

    پاکستان کی معروف ماڈل و اداکارہ صحیفہ جبار خٹک نے حالیہ سوشل میڈیا تنقید کے بعد اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں ناقدین کو جواب دیتے ہوئے منی اسکرٹ میں اپنی نئی تصاویر شیئر کر دی ہیں، جس پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

    صحیفہ جبار خٹک، جو مختلف کامیاب ڈراموں میں اپنی جاندار اداکاری کے باعث شہرت رکھتی ہیں، سوشل میڈیا پر بھی کافی متحرک رہتی ہیں اور اکثر سماجی مسائل پر بے باک رائے دینے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔
    حال ہی میں ایک نجی ایونٹ میں بولڈ لباس پہننے پر انہیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اداکارہ نے روایتی خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ناقدین کو اپنے انداز میں جواب دیتے ہوئے مختلف مواقع پر لی گئی منی اسکرٹ میں تصاویر شیئر کر دیں۔شیئر کی گئی تصاویر میں اداکارہ کو سیاہ اور سفید اسکرٹس کے ساتھ کیژول شرٹس پہنے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک تصویر جم کے دوران لی گئی ہے، جو ان کی فٹنس روٹین کی عکاسی کرتی ہے۔

    صحیفہ نے تصاویر کے ساتھ طنزیہ کیپشن بھی تحریر کیا "میرا لیگ ڈے برباد نہ کرو”،جس نے سوشل میڈیا صارفین کی خاصی توجہ حاصل کی اور تیزی سے وائرل ہو گیا۔اداکارہ کے مداحوں اور شوبز شخصیات نے ان کے اعتماد، فٹنس اور جرات مندانہ انداز کو سراہا، جبکہ کچھ صارفین نے بدستور تنقید جاری رکھی۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ صحیفہ جبار نے ٹرولنگ کو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ لے لیا ہے۔