سی او بلدیہ کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور جھوٹے دلاسے بے نقاب نئے ٹیوب ویلز کا خواب چکنا چور، عوام کو مضرِ صحت زہریلا پانی پلایا جانے لگا
ریٹائرڈ کرپٹ انجینئر کا بلدیہ پر بدستور قبضہ عوامی حلقوں کا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے سیاہ و سفید کے مالک مافیا کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ۔
گوجرخان (قمر شہزاد) بلدیہ گوجرخان شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جہاں بھاری بھرکم ٹیکس وصول کرنے کے باوجود عوام پینے کے صاف پانی کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی لہر ابھی شباب پر بھی نہیں آئی لیکن میونسپل کمیٹی کی مجرمانہ غفلت نے ابھی سے پیاس کا عذاب مسلط کر دیا ہے۔سی او بلدیہ کی کارکردگی صرف باتوں اور لفاظی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ عملی میدان میں کام صفر ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے نئے ٹیوب ویل اور موٹروں کی تنصیب کا جھوٹا لولی پاپ دیا جا رہا ہے، ٹینڈر ہونے کے باوجود ٹھیکیدار نے تاحال کام شروع نہیں کیا جو انتظامیہ کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے۔
عوامی سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سی او نے نااہلی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ افسر شاہی صرف دلاسوں سے بہلا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن علاقوں میں تھوڑا بہت پانی فراہم کیا جا رہا ہے وہ اس قدر بدبودار اور مضرِ صحت ہے کہ جیسے اس میں کوئی مردار گرا ہو۔ یہ پانی شہریوں میں ہیپاٹائٹس اور دیگر مہلک بیماریاں بانٹ رہا ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ایک سابق کرپٹ انجینئر، جو ریٹائر ہو چکا ہے، آج بھی بلدیہ کے معاملات کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پورے پنجاب میں کوئی اور انجینئر نہیں جو اس ریٹائرڈ شخص کو اب بھی نوازا جا رہا ہے؟ اسی شخص کی سابقہ کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کا خمیازہ آج پورا شہر بھگت رہا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان بلدیہ کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے، کرپٹ گٹھ جوڑ کا خاتمہ کر کے فرض شناس افسران تعینات کیے جائیں اور پانی کی فراہمی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے ورنہ شدید گرمی میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال بدستور قائم رہی تو اہلیان گوجرخان بلدیہ دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
