بھارت کی ریاست اڑیسہ سے ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف مقامی افراد بلکہ سوشل میڈیا صارفین کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک شخص اپنی مرحوم بہن کے بینک اکاؤنٹ سے 20 ہزار روپے نکلوانے کے لیے بینک پہنچا، تاہم بینک عملے نے رقم دینے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بہن کی موت کا ثبوت پیش کرے۔جیتو منڈا نامی شہری دیانالی گاؤں کا رہنے والا ہے، اس کی بہن کالرا منڈا نے اڑیسہ گرامین بینک میں 19ہزار 300 روپے جمع کرائے تھے۔خاتون کا 2 ماہ قبل انتقال ہوگیا تھا جب کہ اس کا شوہر اور اکلوتا بچہ بھی انتقال کرچکے ہیں، جیتو اس کا واحد زندہ رشتہ دار تھا، جیتو نے اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں جمع رقم نکلوانا چاہی جس پر بینک منیجر نے اسے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یا تو اکاؤنٹ ہولڈر کو لے آئیں یا موت کا سرٹیفکیٹ اور قانونی وراثت کا ثبوت فراہم کریں،جیتو کے پاس نہ تو دستاویزات تھے اور نہ ہی کاغذات بنوانے کا کیلئے کسی طریقہ کار کا کوئی علم تھا، اس کے بعد جیتو نے گاؤں جاکراپنی بہن کی قبر کھودی، اس کی باقیات کو نکال کر کپڑے میں لپیٹا اور اپنے کندھے پر رکھ کر بینک پہنچ گیا، اس دوران کسی راہگیر نے اس دلخراش منظر کی ویڈیو بنا لی، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک غریب شخص اپنی بہن کی لاش کو کندھے پر اٹھائے سڑک پر چل رہا ہے، ، صارفین کی بڑی تعداد نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے انسانی وقار کی تذلیل قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پر یہ واقعہ بھارت میں غربت اور بیوروکریسی کے سخت رویوں کی عکاسی کے طور پر زیر بحث ہے۔ ایک طرف مودی سرکار کے دعووں میں ترقی اور خوشحالی کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے واقعات زمینی حقائق کو بے نقاب کرتے ہیں۔
