امریکا کی معروف گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے خلاف ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنی آواز اور شناخت کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کو تفریحی صنعت میں اے آئی کے استعمال پر بڑھتی تشویش کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 36 سالہ پاپ اسٹار نے اپنی آواز کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں تین ٹریڈ مارک درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان میں ’ہے‘، ’ہے، اٹس ٹیلر سوئفٹ‘ اور ’اٹس ٹیلر سوئفٹ‘ جیسے ساؤنڈ مارکس شامل ہیں، جن کا مقصد ان کی آواز کی شناخت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ ایک درخواست ان کے اسٹیج امیج سے متعلق بھی دی گئی ہے، جس میں انہیں گلابی گٹار کے ساتھ رنگین لباس اور چاندی کے جوتے پہنے دکھایا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے وہ اپنی بصری شناخت کو بھی محفوظ بنانا چاہتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جعلی آڈیو اور ویڈیوز تیزی سے تیار کی جا رہی ہیں، جس سے فنکاروں کی شناخت اور ساکھ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ہالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات اب قانونی تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ٹیلر سوئفٹ کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانونی کوششیں نہ صرف فنکاروں بلکہ دیگر شعبوں کے افراد کے لیے بھی مثال بن سکتی ہیں۔
Blog
-

ٹیلر سوئفٹ کی اے آئی کے خلاف قانونی جنگ
-

چین میں 40 گھنٹے بعد دل دوبارہ دھڑک اٹھا
چین کے صوبے ژجیانگ میں ایک حیران کن طبی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کی دل کی دھڑکن تقریباً 40 گھنٹے بند رہنے کے بعد دوبارہ بحال ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی اور کم دیکھنے میں آنے والا کیس ہے جس نے طبی دنیا کو حیران کر دیا۔
ہاسپٹل آف ژجیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ایمرجنسی ڈاکٹر لیو شیاؤ کے مطابق 40 سالہ مریض کو کارڈیک اریسٹ کا سامنا ہوا تھا اور ابتدائی طور پر دیے گئے برقی جھٹکوں سے بھی دل کی دھڑکن بحال نہ ہو سکی۔ عام طور پر ایسی صورتحال میں فوری بحالی نہ ہونے پر مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹرز نے مریض کی جان بچانے کے لیے ایکسٹراکورپورئیل ممبرین آکسیجینیشن مشین کا استعمال کیا، جو مصنوعی دل اور پھیپھڑوں کا کام انجام دیتی ہے اور جسم میں آکسیجن کی فراہمی جاری رکھتی ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے مریض کو زندگی کی طرف واپس لانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
طبی ماہرین کے مطابق اس دوران مریض کی مسلسل نگرانی کی گئی تاکہ خون کے لوتھڑے بننے جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔ دل کی دھڑکن بحال ہونے کے بعد بھی مریض کو 10 دن تک اسی مشین کے ساتھ رکھا گیا تاکہ اس کی حالت مستحکم ہو سکے۔
ڈاکٹر لیو کے مطابق تقریباً 20 دن کے علاج کے بعد مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو گیا اور خود چل کر اسپتال سے گھر گیا۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک طرح کا معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مریض کی جان بچنا انتہائی خوش آئند اور غیر معمولی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید طبی ٹیکنالوجی، خاص طور پر ایسی مشینیں، سنگین حالات میں زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم ایسے کیسز اب بھی نہایت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ -

اوکاڑہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی عدالت میں تیز رفتار فیصلے، متعدد کیسز نمٹا دیے گئے
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو نے ریونیو کورٹ میں کیسز کی سماعت کرتے ہوئے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا اور متعدد مقدمات کو موقع پر ہی نمٹا دیا۔انہوں نے زیر التواء کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر سنا اور ہدایت کی کہ تمام کیسز کی تیاری مکمل اور ریکارڈ درست رکھا جائے تاکہ سائلین کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو نے کہا کہ ریونیو معاملات میں عوام کو بروقت اور بلا امتیاز انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریونیو سسٹم میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور کسی بھی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
-

دیپالپور میں کرایوں کی اوورچارجنگ پر کریک ڈاؤن، 3 گاڑیاں بند، ڈرائیورز گرفتار
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) دیپالپور میں اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ نے کرایوں میں اوور چارجنگ کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 3 مسافر گاڑیوں کو بند کر دیا جبکہ ڈرائیورز کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔انہوں نے جنرل بس اسٹینڈ پر گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران مسافروں سے براہِ راست کرایوں کے بارے میں دریافت کیا، جس پر زائد کرایہ وصول کرنے کی شکایات درست ثابت ہوئیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی آڑ میں اوور چارجنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کا استحصال کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی کہ سرکاری مقرر کردہ کرایہ ناموں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کرایہ لسٹیں نمایاں جگہوں پر آویزاں کی جائیں، بصورت دیگر اڈہ مالکان کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔
-

سری لنکا میں قرض کی رقم ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل
سری لنکا میں ایک سنگین مالیاتی غفلت یا سائبر حملے کا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں آسٹریلیا کو ادا کی جانے والی 25 لاکھ ڈالر کی قرض قسط اصل قرض دہندہ کے بجائے ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ابتدائی طور پر اسے سائبر فراڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ رقم آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان جاری قرض پروگرام کے تحت ادا کی جانی تھی، جو ستمبر 2025 میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم انکشاف ہوا ہے کہ یہ رقم جنوری کے دوران کسی وقت ہیکرز کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی، جس کا علم بعد میں سامنے آیا۔
سری لنکا کے وزیر خزانہ ہرشنا سوریاپروما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ادائیگی تو کی گئی تھی مگر سائبر مجرموں نے مداخلت کرتے ہوئے رقم کو اصل وصول کنندہ کے بجائے کسی اور بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا۔ ان کے مطابق اس معاملے میں سنگین غفلت یا تکنیکی خامی کا امکان بھی زیر غور ہے۔
حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پبلک ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے چار سینئر افسران کو معطل کر دیا ہے جبکہ بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ رقم کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہیکرز نے ای میل کے ذریعے دی جانے والی ادائیگی ہدایات میں رد و بدل کیا اور رقم کو اپنے اکاؤنٹس کی طرف موڑ دیا۔ تاہم اس بات کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے کہ یہ عمل کس طریقے سے انجام دیا گیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب آسٹریلوی قرض دہندہ نے شکایت کی کہ اسے متوقع ادائیگی موصول نہیں ہوئی۔ اس کے بعد حکام نے معاملے کی چھان بین شروع کی جس میں اس بڑی مالی بے ضابطگی کا انکشاف ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سرکاری اداروں میں سائبر سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ -

ایرانی ریال کی مانگ میں اضافہ، قیمتیں بلند
پاکستان کی غیر سرکاری اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث اس کی قیمتوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 28 اپریل 2026 کو کراچی، کوئٹہ اور لاہور کی مارکیٹس میں ریال کی قدر میں واضح اضافہ سامنے آیا ہے۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق کیش مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کا بنڈل 8 ہزار سے 10 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر ایرانی ریال کی قدر کم ہونے کے باوجود پاکستان میں اس کی قیمت کئی گنا زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔
اوپن مارکیٹ کے مطابق ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 1000 ایرانی ریال کے برابر ہے، جبکہ 1000 روپے کے بدلے تقریباً 10 لاکھ ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح 8 ہزار سے 10 ہزار روپے میں ایک کروڑ ریال کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔
اس کے برعکس بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4725 ایرانی ریال کے برابر ہے، جس کے مطابق ایک کروڑ ریال کی قیمت تقریباً 2 ہزار 100 روپے بنتی ہے۔ اس طرح پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال عالمی ریٹ کے مقابلے میں تین سے چار گنا مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فرق کی بڑی وجوہات میں سرحدی تجارت، غیر رسمی لین دین اور بینکنگ چینلز کی کمی شامل ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلوچستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے کاروباری روابط بھی اس رجحان کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔ -

آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا فتح ٹو میزائل کا کامیاب تجربہ
آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ایویونکس اور جدید ترین نیویگیشنل معاون نظام سے لیس ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس تربیتی تجربے کا مقصد افواج کی تربیت، مختلف تکنیکی پہلوؤں کی توثیق اور بہتر درستگی اور بڑھتی ہوئی بقا کی صلاحیت کے لیے شامل مختلف ذیلی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا،تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور پاک فوج کے سینیئر افسران نے کیا، جبکہ اس موقع پر اسٹریٹجک اداروں کے سائنسدان اور انجینیئرز بھی موجود تھے۔
فورم نے فتح سیریز کے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے کو سراہا،جبکہ دوسری جانب صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس فورسز اور سروسز چیفس نے میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے میں حصہ لینے والے تمام افراد کی تکنیکی مہارت، لگن اور عزم کو سراہا۔
-

امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، ایران
گفتگو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع اجلاس میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں گفتگو کرتے ہوئےایرانی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ امریکا اب آزاد اور خود مختار ملکوں کی پالیسی متعین کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا-
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ امریکا اب آزاد ملکوں پر اپنی پالیسی مسلط نہیں کر سکتا ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، عالمی برادری اب امریکا اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں ’ایس سی او‘ کر فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے ترجمان وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں دیگر خودمختار ممالک، خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا کو یک قطبی نظام سے نکال کر کثیر قطبی نظام کی طرف لے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بشکیک میں ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کرغزستان، روس، پاکستان اور بیلاروس کے وزرائے دفاع سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
-

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کیخلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج
جامعہ ملیہ اسلامیہ (JMI) میں آر ایس ایس (RSS) سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کے خلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
آر ایس ایس نے آج منگل کو جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ‘یووا کمبھ’ (یوتھ کنکلیو) کا انعقاد کیا ہے۔ اس پروگرام کے خلاف کئی طلبہ تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں۔ طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی سے وابستہ طلبہ نے اس تقریب کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔
(آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں AISA اور دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے یونیورسٹی میں آر ایس ایس کی موجودگی کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کیمپس میں منعقدہ "یووا کمبھ” کے عنوان سے آر ایس ایس کے پروگرام کے خلاف احتجاج کیا ہے–
اے آئی ایس اے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس اس بینر تلے مختلف یونیورسٹیوں میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کرتی ہے، جو قوم کی تعمیر اور ترقی کے سو سال کی میراث کا دعویٰ کرتی ہے۔ اے آئی ایس اے نے دلیل دی کہ آر ایس ایس – جس نے آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور یہاں تک کہ انگریزوں کے ساتھ کھل کر تعاون کیا – آج صرف اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے "قوم پرستی کا کارڈ” کھیل رہی ہے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے شہیدوں اور آزادی کے جنگجوؤں کی وراثت – جنہوں نے ایک جمہوری، سیکولر ہندوستان کے لیے جدوجہد کی – آج آر ایس ایس کے خلاف متحد ہے، چاہے وہ جامعہ میں ہو یا کہیں اور۔
انہوں نے آر ایس ایس کو کھلی دعوت دینے پر جامعہ کی انتظامیہ پر بھی تنقید کی جبکہ مبینہ طور پر ترقی پسند گروپوں کو تعلیم، جمہوریت اور آئینی اقدار پر پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا مظاہرین نے مزید دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس فرقہ وارانہ ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے جو کہ تفرقہ انگیز ہے اور اس لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ یا کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے،احتجاجی طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے کیمپس میں ایسی تنظیموں کی موجود گی پر روک لگانے اور جامعہ کی شناخت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا
احتجاج کے دوران، طلباء تنظیموں بشمول AISA اور دیگر طلباء تنظیموں نے نعرے لگائے اور اس تقریب اور اس کے پیغام رسانی کی مخالفت کرنے والے پوسٹرز آویزاں کیے، اس بات پر زور دیا کہ وہ کیمپس میں ایسے پروگراموں کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جہاں آزادی پسندوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، ان کے مطابق آر ایس ایس نے قومی تحریک کے برعکس کام کیا۔
صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے دہلی پولیس کے جوانوں کو جامعہ میں تعینات کیا گیا ہے سیکورٹی فورسز یونیورسٹی کے احاطے کے اندر اور باہر دونوں جگہ چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ایک کے باہر دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں کی ایک بڑی نفری کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ این ایس یو آئی کے طلباء یونیورسٹی کیمپس کے اندر احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔
دریں اثناء جامعہ انتظامیہ نے الزامات یا جاری احتجاج پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے مظاہرے جاری رہنے کے باعث کیمپس میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
-

پی آئی اے نجکاری:عارف حبیب کنسورشیم 100 فیصد شیئرز کا مالک بن گیا
عارف حبیب کنسورشیم نے پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد شیئرز خریدنے کے لیے رقم جمع کرا دی ہے، جس کے بعد اب ایئرلائن کی مکمل ملکیت اس کنسورشیم کو منتقل ہوگئی ہے۔
عارف حبیب کنسورشیم کے مطابق معاہدے کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے 45 ارب روپے کی بینک گارنٹی جمع کرا دی گئی ہے،حکومتِ پاکستان نے نجکاری معاہدے کے تحت عارف حبیب کنسورشیم کو بقیہ 25 فیصد شیئرز خریدنے کا آپشن فراہم کیا تھا، جسے کنسورشیم نے استعمال کر لیا ہے اس سے قبل یہ گروپ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کا مالک تھا، عارف حبیب کنسورشیم نے بقیہ 25 فیصد شیئرز کے لیے لیٹر آف کریڈٹ جمع کرا دیا ہے جب کہ اسٹینڈ بائی ایل سی اور بینک گارنٹی نجکاری کمیشن کو سونپ دی ہے۔
عارف حبیب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پی آئی اے کو جلد ٹیک اوور کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں 28 اپریل آخری تاریخ تھی اور آج باقی شیئرز کے لیے پیشکش بھیج دی ہے، نجکاری کمیشن کو کہا ہے کہ ایف بی آر سے جہازوں کے لیے این او سی فوری دلوایا جائے۔
مکمل کنٹرول سنبھالنے کے بعد عارف حبیب کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے خسارے میں کمی آئے گی اور طیاروں کی تعداد میں اضافے سمیت بین الاقوا می روٹس پر سروسز کو بہتر بنایا جا سکے گا، اور یہ ملکی معیشت اور ہوا بازی کی صنعت کے لیے ایک سنگ ہے۔
پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام مالیاتی اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد توقع ہے کہ مئی 2026 میں عارف حبیب کنسورشیم پی آئی اے کا مکمل انتظامی کنٹرول سنبھال لے گا۔