Baaghi TV

Blog

  • روالاکوٹ دھرنے میں سرعام منشیات کا استعمال جاری،مشکوک افراد موجود،انکشاف

    روالاکوٹ دھرنے میں سرعام منشیات کا استعمال جاری،مشکوک افراد موجود،انکشاف

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی شرپسندگی کےناقابل تردید شواہد منظرعام پر آ گئے

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےراولاکوٹ دھرنےمیں شریک ہونے والے نوجوان کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دھرنے سے واپس آنے والے نوجوان محمدعثمان کا کہنا تھا کہ راولا کوٹ دھرنے میں لمبے لمبے بالوں والے اسلحہ کیساتھ مشکوک افراد موجود ہیں،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ مہران کو بھی ان افراد نےاپنے حصارمیں رکھا ہوا ہے، دھرنے میں جانے والے افرادوہاں پھنس گئے کیونکہ انہیں اب واپس آنے سےزبردستی روکا جارہا ہے، دھرنے سے واپس آنے کی کوشش کرنےوالے افراد کی گاڑیوں کی چابیاں بھی زبردستی چھین لی گئیں، روالاکوٹ دھرنے میں سرعام منشیات کا استعمال اور خرید و فروخت جاری ہے،خدشہ ہے کہ دھرنے میں موجود افرادکو یہ شرپسند مار کرپولیس اور انتظامیہ کے ذمے لگا دیں گے، نوجوان نے انتظامیہ اور حکومت سے راولاکوٹ دھرنے میں پھنسے ہوئے افراد کو واپس لانے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے،

    وقت گزرنے کیساتھ نہ صرف کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی مسلسل مسترد ہو رہی ہے بلکہ اس کا مکروہ چہرہ بھی بے نقاب ہورہا ہے

  • 61 سالہ عامر خان تیسری شادی کے لیے تیار، جانیے کون ہیں گوری اسپریٹ

    61 سالہ عامر خان تیسری شادی کے لیے تیار، جانیے کون ہیں گوری اسپریٹ

    ممبئی: بالی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان 61 برس کی عمر میں تیسری بار شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں۔ اداکار نے خود تصدیق کی ہے کہ وہ 5 جولائی کو اپنی دیرینہ دوست اور گرل فرینڈ گوری اسپریٹ کے ساتھ سادہ تقریب میں شادی کریں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریب ممبئی میں عامر خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگی، جس میں صرف خاندان کے افراد، قریبی دوستوں اور فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی منتخب شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ تقریب میں تقریباً 150 مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔عامر خان کی شادی کی خبر سامنے آنے کے بعد مداحوں کی دلچسپی اس بات میں بڑھ گئی ہے کہ گوری اسپریٹ کون ہیں؟بھارتی میڈیا کے مطابق گوری کی والدہ تمل نژاد جبکہ والد آئرش ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق آزادی کی تحریک سے بھی رہا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے دادا مجاہدِ آزادی تھے۔

    تعلیم کے حوالے سے گوری اسپریٹ نے یونیورسٹی آف آرٹس لندن سے فیشن، اسٹائلنگ اور فوٹوگرافی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے، جبکہ وہ ایک پیشہ ور ہیئر ڈریسر بھی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کا ایک چھ سالہ بیٹا بھی ہے، تاہم ان کی پہلی شادی کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔رپورٹس کے مطابق گوری اسپریٹ اس وقت عامر خان کے پروڈکشن ہاؤس عامر خان فلمز کے ساتھ بھی کام کر رہی ہیں۔ دونوں کی شادی رجسٹرڈ میرج کی صورت میں ہوگی، جس کے بعد ایک مختصر نجی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔

    عامر خان نے گزشتہ سال اپنی سالگرہ کے موقع پر پہلی بار گوری اسپریٹ کو میڈیا سے متعارف کرایا تھا اور اپنے تعلق کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو تقریباً 25 برس سے جانتے ہیں، تاہم تقریباً ڈیڑھ سال قبل دوبارہ رابطہ ہوا، جس کے بعد ان کی قربتیں بڑھتی گئیں۔عامر خان کے مطابق، "ہماری ملاقات اچانک ہوئی، پھر بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا اور سب کچھ نہایت فطری انداز میں آگے بڑھتا گیا۔”انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ گوری نے ان کی صرف چند فلمیں، جن میں لگان اور دنگل شامل ہیں، دیکھی ہیں اور وہ اب بھی بالی ووڈ کی چکاچوند کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    گوری اسپریٹ کے ساتھ یہ عامر خان کی تیسری شادی ہوگی۔ انہوں نے پہلی شادی 1986 میں رینا دتہ سے کی تھی، جن سے ان کے دو بچے، جنید خان اور آئرہ خان ہیں۔ دونوں نے 2002 میں باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔بعد ازاں عامر خان نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، تاہم 2021 میں یہ رشتہ بھی ختم ہو گیا۔ اس شادی سے ان کا ایک بیٹا آزاد ہے، جو سروگیسی کے ذریعے پیدا ہوا۔ عامر خان کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے باوجود ان کے اپنی دونوں سابقہ اہلیاؤں، رینا دتہ اور کرن راؤ، کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار ہیں۔

  • سوات میں فائرنگ،پیپلز پارٹی رہنما قتل

    سوات میں فائرنگ،پیپلز پارٹی رہنما قتل

    اپر سوات کے علاقے مٹہ میں ہفتے کے روز نمازِ جنازہ کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے مقامی رہنما سمیع اللہ خان جاں بحق جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں ایک مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی۔ اسی دوران نامعلوم حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ شروع کر دی اور مبینہ طور پر پیپلز پارٹی اپر سوات کے صدرسمیع اللہ خان کو نشانہ بنایا۔ گولیاں لگنے سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے قریب کھڑا ایک شخص شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔سمیع اللہ خان کا شمار سوات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے متحرک اور سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے تھے اور مقامی سطح پر ایک فعال سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

    اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، شواہد اکٹھے کیے گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ واقعے کے محرکات کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔ تاحال کسی گروہ یا فرد نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

  • ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی،شرجیل میمن

    ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر،وزیر اطلاعات رہنما شرجیل میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیا ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم آج بھی عوامی مینڈیٹ کے بجائے شارٹ کٹ سیاست پر یقین رکھتی ہے، وفاقی مداخلت کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا سیاسی بلیک میلنگ کا ثبوت ہے،ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی اور اس کو اقتدار کی یاد ستا رہی ہے، اسی وجہ سے ایم کیو ایم اب شارٹ کٹ ڈھونڈ رہی ہے، کراچی کے عوام کے وسائل کو ایم کیو ایم سیاسی سودے بازی کا ذریعہ نہ بنائے،سندھ کے معاملات وفاق کے ہاتھ دینے کی بات وفاقی ڈھانچے کے خلاف سازش ہے، سندھ کوئی تجربہ گاہ نہیں کہ کسی جماعت کی سیاست کمزور پڑے تو حملہ آور ہو جائے .فاروق ستار کو یاد رکھنا چاہیے کہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، یہ مینڈیٹ کسی پریس کانفرنس، دھمکی یا سیاسی بلیک میلنگ سے تبدیل نہیں ہو سکتا، ایم کیو ایم کو اقتدار میں زیادہ حصہ چاہیے تو اس کا راستہ عوام کے ووٹ سے گزرتا ہے، وفاقی مداخلت یا آئینی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے سے اقتدار نہیں ملتا۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا وفاق میں حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کراچی کے لیے وعدوں پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاقی اتحادیوں سے سوال کرنا چاہیے، آئینی اختیارات، صوبائی خود مختاری اور کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، کراچی کی ترقی سیاسی بلیک میلنگ یا عہدوں کی تقسیم سے ممکن نہیں، سندھ حکومت صوبے کی ترقی، عوامی خدمت اور آئینی بالادستی کا سفر جاری رکھے گی

    واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کر دیا،کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں 2022ء میں کراچی کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا، بلاول بھٹو نے اس معاہدے کو مانا اور دستخط کیے، ایم کیو ایم کی بار بار یاد دہانی کے باوجود معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا، پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہے، کوئی اختیار نہیں مانگا گیا، وزیرِ اعظم اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کردار ادا کریں بصورتِ دیگر ایم کیو ایم احتجاج کرے گی،ملک بھر میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، ہر کوئی تکلیف اور کرب میں مبتلا ہے، شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، بلدیاتی قانون وضع کر دیتے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا، کوٹہ سسٹم کے خلاف ہماری جدوجہد رہی ہے، اسے آئین میں گھسایا گیا ہے، کوٹہ سسٹم کا 40 فیصد حصہ نہیں مل رہا، جعلی ڈومیسائل پر ہمارے کوٹے پر نوکریاں دی گئیں، وفاق کو کہتا ہوں کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کرے، ماورائے آئین و قانون حکومت چلائی جا رہی ہے، میں نہیں کہہ رہا کہ گورنر راج لگائیں مگر ریفرنڈم کرائیں، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں،ہمارے سڑکوں پر آنے کا وقت آ گیا ہے، تیاری کر رہے ہیں، کراچی کے عوام کو بعد میں نہ روکیں، اگر روکنا ہے تو ابھی روکیں۔

  • حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید،جاہل کہہ دیا

    حنا پرویز بٹ کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید،جاہل کہہ دیا

    لاہور: رکنِ پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے بعض معروف سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور فیملی وی لاگرز پر سخت تنقید کرتے ہوئے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں۔

    حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں یوٹیوبرز رجب بٹ، علی حیدر آبادی اور سمیع رشید کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہمارے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں، ان جاہلوں کو ہماری عوام فالو کرتی ہے۔ جو بچے ان کو فالو کرتے ہیں، وہ اپنی تربیت کا ستیاناس کر رہے ہیں۔والدین کو سوچنا ہوگا۔۔اپنے بچوں کو ان سے دور رکھیں.

    حنا پرویز بٹ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی، جہاں صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو بچوں کے ڈیجیٹل استعمال اور آن لائن مواد پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ ان کی مثبت تربیت یقینی بنائی جا سکے۔دوسری جانب کئی صارفین نے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی انفلوئنسر کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے والدین اور معاشرے کو بچوں کی رہنمائی اور ڈیجیٹل آگاہی پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ کسی بھی کانٹینٹ کریئیٹر کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت اس کے مجموعی مواد اور ناظرین کی ذمہ داری کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

  • سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سلسلہ قصص الانبیاء ( تیس حصے ) ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    سادہ زبان ، دلکش اسلوب اور ایمان افروز واقعات کا حسین امتزاج ۔بچوں ، بڑوں اور خواتین کے لیے تعلیم ، تربیت اور اصلاح کا ایک مکمل نصاب

    انسانی تاریخ کے سب سے روشن، سب سے پاکیزہ اور سب سے مقدس صفحات وہ ہیں جن پر انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں رقم ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے دل نورِ وحی سے روشن، جن کی زبانیں حق کی گواہ ا ور جن کے قدم انسانیت کو اندھیروں سے اجالوں کی طرف لے جانے والے چراغ تھے۔ دارالسلام انٹرنیشنل نے ’’ سلسلہ قصص الانبیاء ‘‘ کے انہی چراغوں کی روشنی کو تیس کتابوں میں سمیٹ کر ایک ایسا روحانی خزانہ پیش کیا ہے جو دل کو بیدار اور روح کو پاکیزہ کرتا ہے۔ یہ سلسلہ صرف کہانیوں پر مشتمل نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری اخلاقی، معاشرتی اور روحانی تربیت کا ایک جامع نصاب ہے۔ ہر کتاب اپنے اندر ایک پیغام، ایک نکتہ، ایک نصیحت اور ایک ایمان افروز حقیقت رکھتی ہے۔

    ’’ سلسلہ قصص الانبیاء علیھم السلام ‘‘ کا آغاز قصہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے، جہاں انسان کی تخلیق، شیطان کا غرور، سجدہ آدم کا عظیم واقعہ اور آزمائش کا پہلا امتحان نہایت مؤثر اسلوب میں سامنے آتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ انسان کا اصل مقام اطاعت میں ہے غرور میں نہیں۔ پھر سیدنا ادریس علیہ السلام کا قصہ ہے جو قاری کو علم، حکمت اور تہذیب کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہولناک طوفان اور قصہ سیدنا نوح علیہ السلام انسان کے سامنے وہ عذاب کھول کر رکھتا ہے جس نے پوری دنیا کو پانی کے طوفان میں لپیٹ لیا۔موت کی ہوا اور سیدنا ہود علیہ السلام کا قصہ یہ بتاتا ہے کہ قومِ عاد کا غرور جب آسمان کو چھونے لگا تو ایک ہوا نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا ۔ا سی طرح ثمود کی تباہی اور سیدنا صالح علیہ السلام کی کتاب اس بات پر گواہ ہے کہ اللہ کی نشانی کو نقصان پہنچانا کیسے پوری قوم کی بربادی کا سبب بنا۔پھر آتی ہے ہولناک آگ ۔ یہ قصہ سیدنا ا براہیم علیہ السلام کا ایمان، نمرود کا غرور اور اللہ کی قدرت کا ایسا معجزہ ہے کہ جس سے آگ گلِ گلزار بن گئی۔ اس کے بعد عظیم قربانی میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا وہ لمحہ آتا ہے کہ جب باپ بیٹے کی رضا کے ساتھ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے۔ یہ داستان انسان کے ایمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ انوکھے مہمان اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری اللہ کی رحمت اور قدرت کے نئے پہلو سامنے لاتی ہے، جبکہ پتھروں کی بارش میں قومِ لوط علیہ السلام کی گمراہی اور اس کا ہولناک انجام تاریخ کا ایسا ورق ہے جو آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی "عجیب بشارت” امید، صبر اور یقین کا درس دیتی ہے، جبکہ ظالم بھائی، بادشاہ کا خواب اور ستاروں کا سجدہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی کا ایسا ہمہ گیر بیان پیش کرتے ہیں جو کردار، بصیرت، معافی اور حسنِ اخلاق کا ایک آئینہ بن جاتا ہے۔سیدنا شعیب علیہ السلام کا قصہ "ہولناک عذاب” کے عنوان سے یہ سکھاتا ہے کہ ناپ تول میں کمی جیسا بظاہر معمولی گناہ بھی قوموں کو برباد کر دیتا ہے۔ اس کے بعد پرانی لاش، جادوگروں سے مقابلہ، عبرت کا نشان، سونے کا بچھڑا ، تین سوال اور زمین کی پکڑیہ چھ کتابیں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عظیم جدوجہد، فرعون کی سرکشی، جادوگروں کی توبہ، بنی اسرائیل کی نافرمانی اور اللہ کے عذاب کے بے شمار عبرت ناک مناظر دکھاتی ہیں ۔ پھر سیدنا الیاس علیہ السلام کی داستان ایک مردِ مجاہد کی طرح سامنے آتی ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے بے خوف کھڑے ہو کر توحید کا پرچم بلند کرتے ہیں۔صندوق کی واپسی اورا ڑنے والا تخت یہ دونوں کتابیں بادشاہوں کے بادشاہ سیدنا دائود اور سیدنا سلمان کی ایسی شان دکھاتی ہیں جو انسانوں، جانوروں، پرندوں، جنّات اور ہواؤں پر حکم چلانے کے باوجود اللہ کے ایک سچے بندے کی عاجزی، عدل اور حکمت کو نمایاں کرتی ہیں۔ صبر کا بدلہ میں سیدنا ایوب کا ایمان انسان کی روح کو پاک کر دیتا ہے۔ ان کا صبر، بیماری کے شدید ترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ ہر غم زدہ دل کے لیے ایک نعمت ہے۔خوش قسمت قوم سیدنا یونس کی قوم کی توبہ اور اللہ کی رحمت کا ظہور، اللہ کی قبولیت اور محبت کی خوبصورت دلیل ہے۔ اسی طرح انوکھی خوشخبری میں سیدنا زکریا کی دعا اور ان کے بڑھاپے میں عطا ہونے والے فرزند کی بشارت انسان کے دل میں امید کی شمع روشن کر دیتی ہے۔ ظالم ملکہ سیدنا یحیٰ علیہ السلام کی شہادت کا دردناک منظر پیش کرتی ہے، جبکہ پتھر کی گواہی میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات انسانیت کو اللہ کی قدرت کے حیرت انگیز جلوے دکھاتے ہیں۔ ا ور سب سے آخر میں ہے ۔۔۔۔’’ سب سے پیارے: محمد رسول اللہ ﷺ ‘‘ یہ کتاب صرف ایک قصہ نہیں بلکہ تمام قصص کی روشنی کا مرکز ہے۔ یہ کتاب اس محبوب ہستی کی زندگی کا نچوڑ ہے جن کے اخلاق قرآن ہیں ، جن کی زبان حق ہے ، جن کا دل رحمت ہے ، جن کی نگاہیں ہدایت ہیں اور جن کا وجود اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے ۔ دارالسلام نے اس عظیم سلسلے کو نہایت سادہ، دلکش، فصیح اور جامع انداز میں ترتیب دے کر ہر عمر کے مسلمانوں کے لیے نورِ ہدایت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یہ سلسلہ بچوں کے لیے سبق، بڑوں کے لیے عبرت، والدین کے لیے تربیت، خطباء کے لیے مواد اور ہر مسلمان کے لیے ایمان کی غذا ہے۔4کلر باتصویر اور آفسٹ پیپر پر طبع شدہ تیس حصوں پر مشتمل اس سیٹ کی قیمت 6600روپے ہے ۔ انبیاء علیھم السلام کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل یہ حسین گلدستہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے یا براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کریں ۔

  • خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کرنے والا بین الاقوامی نیٹ ورکس بے نقاب، 57 ملزمان گرفتار

    خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کرنے والا بین الاقوامی نیٹ ورکس بے نقاب، 57 ملزمان گرفتار

    یورپ: سات ممالک پر مشتمل ایک بڑے بین الاقوامی پولیس آپریشن میں ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا پردہ فاش کیا گیا ہے جو خواتین کو نشہ آور ادویات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے اور آن لائن خفیہ چیٹ گروپس کے ذریعے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی، منصوبہ بندی اور مجرمانہ معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔

    یورپی پولیس ادارے (یوروپول) اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق ان گروہوں میں شامل افراد نہ صرف متاثرہ خواتین کو بے ہوش یا نیم بے ہوش کرنے کے طریقے ایک دوسرے کو سکھاتے تھے بلکہ زیادتی کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتے تھے، جبکہ مختلف ادویات کے استعمال، ان کی مقدار اور پولیس سے بچنے کے طریقوں پر بھی رہنمائی فراہم کی جاتی تھی۔برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق جرمنی اور برطانیہ کی قیادت میں امریکا، برازیل، کینیڈا، فرانس، ہنگری، نیدرلینڈز اور اسپین کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا، جسے "پروجیکٹ میڈوسا” کا نام دیا گیا ہے۔یہ آپریشن رواں سال اپریل میں شروع کیا گیا تھا تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے منظم ہونے والے ایسے جنسی جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے، جنہیں حکام نے تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی خطرہ قرار دیا ہے۔یوروپول کے مطابق اب تک اس کارروائی کے دوران 150 سے زائد متاثرین اور مشتبہ ملزمان کی شناخت کی جا چکی ہے، جبکہ 270 سے زیادہ نئی تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق اب تک 57 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

    برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق زیادہ تر متاثرہ خواتین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔ کئی خواتین کو اس وقت اس ہولناک حقیقت کا علم ہوا جب پولیس نے تحقیقات کے دوران ان سے رابطہ کیا۔تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اکثر واقعات میں زیادتی کرنے والا کوئی اجنبی نہیں بلکہ متاثرہ خاتون کا شوہر، ساتھی یا قریبی جاننے والا شخص ہوتا ہے، جبکہ بعض کیسز میں ایک ہی خاتون کو متعدد افراد اجتماعی منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بناتے رہے۔یوروپول کے مطابق مجرم انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، بند فورمز اور خفیہ چیٹ گروپس استعمال کرتے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کو نشہ آور ادویات کے استعمال، متاثرہ شخص کو بے ہوش کرنے، شواہد مٹانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے طریقے سکھاتے ہیں۔ان گروپس میں مجرمان اپنے جرائم کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتے ہیں، جس سے ایسے رویوں کو معمول کا عمل بنا کر مزید افراد کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

    برطانیہ کے کراؤن پراسیکیوشن سروس کی نمائندہ سیوبھن بلیک نے کہا کہ یہ ان کے پورے پیشہ ورانہ کیریئر میں دیکھے جانے والے "سب سے ہولناک” جنسی جرائم میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کو ان ہی کے گھروں میں، ایسے افراد کے ہاتھوں نشانہ بنایا جاتا ہے جن پر وہ مکمل اعتماد کرتی ہیں، جو اعتماد کی بدترین خلاف ورزی ہے۔

    یہ تحقیقات فرانس کے معروف گیزیل پیلیکو کیس کے بعد سامنے آئیں، جس میں خاتون کے شوہر نے برسوں تک اسے نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کیا اور درجنوں اجنبی مردوں کو اس کے ساتھ زیادتی کی دعوت دیتا رہا۔اس مقدمے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور صنفی امتیاز پر نئی عالمی بحث چھیڑ دی تھی۔ اس کیس میں مرکزی ملزم کو 2024 میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ مزید 50 افراد بھی مختلف سزاؤں کے مستحق قرار پائے تھے۔

    حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں یورپ میں اس نوعیت کے متعدد مقدمات سامنے آئے ہیں۔جرمنی میں ایک شخص کو برسوں تک اپنی بے ہوش بیوی کے ساتھ زیادتی کرنے اور اس کی ویڈیوز آن لائن شیئر کرنے کے جرم میں آٹھ سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔اسی طرح 2025 میں چین سے تعلق رکھنے والے ژین ہاؤ زو کو برطانیہ اور چین میں دس خواتین سے زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ اپریل میں پولینڈ میں بھی ایسے ہی ایک مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کا تعلق ایک خفیہ ٹیلیگرام گروپ سے بتایا گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے جرائم کا شکار کسی بھی عمر، سماجی حیثیت یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین ہو سکتی ہیں۔پولیس نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو شبہ ہو کہ اسے نشہ آور ادویات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے تو وہ بلا خوف متعلقہ حکام سے رابطہ کرے تاکہ متاثرین کو انصاف اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔یوروپول کا کہنا ہے کہ "پروجیکٹ میڈوسا” اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی آپریشن ہے، جس کا مقصد ایسے منظم جرائم کو بے نقاب کرنا ہے جو برسوں سے آن لائن خفیہ نیٹ ورکس اور بند دروازوں کے پیچھے پنپ رہے تھے۔

  • ایران، شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات،تعزیتی اجتماع جاری

    ایران، شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات،تعزیتی اجتماع جاری

    تہران: ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع اور نمازِ جنازہ کے لیے ملک بھر میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف اسلامی اور علاقائی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود بھی تہران پہنچ رہے ہیں۔

    ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق وزارتِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والے زائرین اور شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر ملک بھر کے 5 ہزار سرکاری اسکول عارضی رہائش کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ان اسکولوں میں تقریباً 40 سے 50 ہزار کلاس رومز کو قیام، آرام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کو توقع ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں 100 سے زائد ممالک کے سرکاری اور غیر سرکاری نمائندے شرکت کریں گے، جبکہ مجموعی شرکاء کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کے باعث تہران اور دیگر شہروں میں سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    تعزیتی تقریبات کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں وہ تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے انہیں الوداع کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق مختلف ممالک اور تنظیموں کے نمائندے بھی تعزیتی اجتماع میں شریک ہوئے، جن میں سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید بن عبد الکریم الخریجی کی قیادت میں وفد، افغانستان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیر خارجہ امیر خان متقی، طالبان مخالف افغان رہنما احمد مسعود اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا اعلیٰ سطحی وفد شامل تھا۔حماس کے وفد میں اسماعیل درویش، موسیٰ ابو مرزوق، ظاہر جبارین، باسم نعیم اور ڈاکٹر خالد قدومی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جنہوں نے تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    روس کی سلامتی کونسل کے سربراہ دیمتری میدودیف تہران پہنچ گئے، جہاں انہوں نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم امریکا کیخلاف جدوجہد میں فاتح بن کر ابھرے گی، یہ کسی بھی دوسرے ملک کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔دیمتری میدودیف کا کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کی شہادت پر روس بھی دوست ملک کے دکھ میں شریک ہے۔روسی وفد نے دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی ہے۔

    جمعے کی دوپہر کو مسلح افواج کی قیادت نے الوداعی ہال میں حاضر ہوکر مجاہد عظیم، سپریم کمانڈر، رہبر شہید کو سلام اور خراج عقیدت پیش کیا، اس موقع پر خاتم الانبیا (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی، پولیس کے کمانڈر ان چیف بریگیڈیئر جنرل احمدرضا رادان، وزارت دفاع کے سرپرست، فوج کے چیف کوآرڈینیٹر افسر اور متعدد دیگر افسروں اور کمانڈروں نے الوداعی ہال میں حاضر ہوکر آيت اللہ العظمی شہید سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا،فوجی قیادت نے اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کے خون سے سینچے گئے راستے پر گامزن رہنے کا عہد اور ملک اور انقلاب کی حفاظت کے لیے مکمل تیاری کا اعلان کیا۔

    ایرانی حکام کے مطابق تعزیتی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے موقع پر غیر ملکی وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں ہزاروں ایرانی مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے، ایران میں ایک ہفتے پر مشتمل تدفینی تقریبات جاری ، حکام کے مطابق میت کو قم، نجف اور کربلا لے جانے کے بعد 9 جولائی کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا

    علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایران میں شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کی، پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے اظہار تعزیت کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ شہید علی خامنہ ای کی قیادت اور بصیرت کو نسلیں یاد رکھیں گی، ایران سے اظہار یکجہتی کیلئے میرے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد بھی گیا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل تھے، بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر ایاز صادق سمیت سینئر ارکان پارلیمنٹ بھی ساتھ تھے، سینئر وفاقی وزراء اور حکومتی اہلکار بھی پاکستان کے وفد کاحصہ تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    بلوچستان بس حادثہ، ٹرانسپورٹ کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج، کمپنی سیل

    دھانہ سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کے بعد پولیس نے تھانہ شیرانی میں ٹرانسپورٹ کمپنی اور کوچ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر غفلت، لاپرواہی، غیر ذمہ داری اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

    محکمہ ٹرانسپورٹ نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کوچ کمپنی کو سیل کر دیا ہے، جبکہ حادثے کی جامع تحقیقات کی ذمہ داری سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ٹرانسپورٹ کمپنی کی قانونی حیثیت، کوچ کی فٹنس، ڈرائیور کی اہلیت، حفاظتی اقدامات اور حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد تحقیقات کی رپورٹ وزیراعلیٰ بلوچستان کو پیش کی جائے گی، جس کی روشنی میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب پولیس کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے دو نامعلوم افراد کی شناخت کے لیے نادرا سے رابطہ کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر تمام جاں بحق افراد کی میتیں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

  • جائیداد کی نیلامی،بحریہ ٹاؤن نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خط میں اپیل کر دی

    جائیداد کی نیلامی،بحریہ ٹاؤن نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے خط میں اپیل کر دی

    اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کو خط ارسال کرتے ہوئے اپنی قیمتی جائیدادوں کی مبینہ طور پر کم قیمت پر نیلامی کے خلاف مداخلت کی اپیل کی ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو کموڈور (ر) محمد الیاس کی جانب سے لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں اور دیگر املاک ان کی اصل مارکیٹ ویلیو سے کہیں کم قیمت پر نیلام کی جا رہی ہیں، جس سے نیلامی کے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔خط کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مختلف منصوبوں میں اوورسیز پاکستانیوں، بیواؤں، عام شہریوں اور دیگر سرمایہ کاروں سمیت لاکھوں خاندانوں کی 372 ارب روپے سے زائد کی عمر بھر کی جمع پونجی سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہے، جو موجودہ صورتحال میں شدید خطرے سے دوچار ہے۔بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی آزادانہ، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک املاک کی نیلامی کا عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا اور وہ اپنے تمام دیرینہ قانونی تنازعات کو قانون، باہمی بات چیت اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انتظامیہ نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی قانونی کارروائی کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کسی ذمہ داری یا خلاف ورزی کا تعین ہوتا ہے تو ادارہ قانون کے مطابق تمام واجبات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی تیار ہوگا۔