نومنتخب وزیراعظم پیٹر میگیار نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہنگری کا رخ کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس بیان نے عالمی سطح پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیٹر میگیار نے اپنے ایک واضح اور دو ٹوک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے گی اور کسی بھی عالمی عدالتی حکم کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، چاہے معاملہ کسی بھی ملک یا عالمی رہنما سے متعلق کیوں نہ ہو۔
ہنگری کے وزیراعظم نے نیتن یاہو کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ہنگری میں داخل ہوئے تو انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت عالمی عدالت کے فیصلوں اور اصولوں کو اولین ترجیح دے گی اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہنگری کا یہ مؤقف یورپی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے۔ خاص طور پر یورپی یونین کے اندر خارجہ پالیسی کے حوالے سے نئے زاویے سامنے آ سکتے ہیں، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو غزہ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث عالمی سطح پر تنقید اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں میں ان کے خلاف مقدمات اور تحقیقات جاری ہیں، جس کی وجہ سے ان کے غیر ملکی دوروں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
Blog
-

ہنگری کے وزیراعظم کی نیتن یاہو کو گرفتاری کی دھمکی
-

تہران کے بڑے ہوائی اڈے بحال، پروازیں دوبارہ شروع
ایران نے فضائی آپریشنز کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے دارالحکومت تہران کے دو بڑے ہوائی اڈوں، امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق پیر کے روز سے ان ایئرپورٹس پر مسافر پروازوں کی باقاعدہ بحالی شروع ہو چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث بند کی گئی فضائی سرگرمیوں کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ ارمیہ، کرمانشاہ، آبادان، شیراز اور کرمان کے ایئرپورٹس کو بھی جلد آپریشنل کر دیا جائے گا، جبکہ رشت، یزد، زاہدان، گورگان اور بیرجند کے ہوائی اڈے بھی اسی ہفتے کھلنے کا امکان ہے۔
اس سے قبل ایران نے مشہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کا اعلان بھی کیا تھا، جو شمال مشرقی صوبہ خراسان رضوی میں واقع ہے۔ اس اقدام کو ملک بھر میں فضائی نظام کی مکمل بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث تمام شہری پروازیں معطل ہو گئی تھیں اور بین الاقوامی فضائی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی تھی۔
حکام کے مطابق اب حالات میں بہتری آنے کے بعد فضائی حدود کو مرحلہ وار کھولا جا رہا ہے۔ ایران نے ہفتے کے روز اپنی مشرقی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دی تھیں، جس کے بعد اب اہم ایئرپورٹس بھی بحال کیے جا رہے ہیں۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے تکنیکی اور سیکیورٹی معاملات مکمل ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے دیگر ایئرپورٹس پر بھی پروازوں کا سلسلہ معمول پر آ جائے گا۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائنز سے تازہ صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود ایران اپنی اندرونی اور بین الاقوامی فضائی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ معیشت اور سفری نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔ -

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران تنازعہ بڑی ڈیل پر ختم ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازعہ بالآخر ایک بڑی ڈیل پر ختم ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس وقت مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں کھڑا ہے اور حالات اس کے حق میں جا رہے ہیں۔
سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ معاملہ سنبھالنے میں مؤثر حکمت عملی اپنائی ہے۔ ان کے مطابق ایران پر عائد کی گئی ناکہ بندی نہایت کامیاب ثابت ہوئی ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور وہ اس میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں یا تو کوئی بڑی پیش رفت ہوگی یا حالات کسی اور رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے سخت مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ ایک جامع اور مؤثر ڈیل ہوگی جو خطے میں استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک جانب ممکنہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب جنگ بندی کے خاتمے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ -

ٹرمپ کی ایران پر سخت تنقید، مظاہرین کے معاملے پر بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حکومت پر ایک بار پھر سخت تنقید کرتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ سلوک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ہزاروں غیر مسلح مظاہرین کے خلاف کارروائی کی گئی، جنہیں انہوں نے "معصوم اور نہتے افراد” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کا ذکر کم کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں بڑی تعداد میں مظاہرین کو سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایسے لوگوں کے ساتھ معاملہ کر رہا ہے جن کے بارے میں ان کے بقول نرم رائے نہیں رکھی جا سکتی، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھال رہا ہے۔ انہوں نے ایران کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرین کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں ہونے والی بدامنی کا الزام امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن نے مظاہرین کو کھلے عام حمایت کا پیغام دیا اور حالات کو خراب کرنے میں کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کے آغاز میں ایران میں دو ہفتوں سے زائد جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا۔ اس صورتحال نے امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ -

ٹرمپ کا عندیہ، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر حملے جاری رہیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا ایران پر حملے جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدھ کی شام تک کی ڈیڈ لائن انتہائی اہم ہے اور اس کے بعد حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔
سی این بی سی کے پروگرام میں ٹیلیفونک گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس مؤقف کے ساتھ آگے بڑھنے کو بہتر سمجھتے ہیں کہ امریکا حملوں کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دور میں امریکی فوج کی مضبوطی کا بھی ذکر کیا اور اسے غیر معمولی قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ جنگ بندی میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہیں اور یہ انتہائی کم امکان ہے کہ ڈیڈ لائن آگے بڑھائی جائے۔ ان کے مطابق اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے اور یا تو کوئی بڑا معاہدہ ہوگا یا صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام آج پاکستان پہنچنے کا امکان رکھتے ہیں جہاں ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اہم بات چیت کی جائے گی۔ ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا سخت لہجہ اور فوجی آپشن پر زور دینا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، تاکہ مذاکرات میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم اس سے خطے میں خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں۔ -

آبنائے ہرمز بحران، پاکستانی بندرگاہیں متبادل بن سکتی ہیں؟
آبنائے ہرمز کی 18 اپریل 2026 کو دوبارہ بندش نے عالمی سمندری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی بلکہ عالمی سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستانی بندرگاہیں اس بحران میں متبادل کردار ادا کر سکتی ہیں؟
تفصیلات کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی نے سمندری تجارت کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ کے خطرے کی انشورنس پریمیم میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ کر تقریباً 10 ہزار ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری ملاح بھی غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں انہیں خطرناک علاقوں میں کام جاری رکھنے یا طویل معاہدوں کی مجبوری کا سامنا ہے۔
عالمی شپنگ کمپنیاں جیسے Maersk، Hapag-Lloyd اور CMA CGM نے خلیجی بندرگاہوں کے لیے اپنی سروسز کم یا معطل کر دی ہیں۔ جنگی حالات کے باعث اب تک 20 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جس نے خطے کی حساسیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج عرب میں موجود تمام بندرگاہیں آبنائے ہرمز پر انحصار کرتی ہیں، جس کی بندش سے پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً گوادر اور کراچی، ایک محفوظ اور قابل عمل متبادل کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں۔
گوادر بندرگاہ جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتی ہے جو خلیجی راستوں سے باہر واقع ہونے کی وجہ سے نسبتاً محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ بھی خطے میں ایک بڑی تجارتی سرگرمی کا مرکز ہے جو بڑھتی ہوئی عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بندرگاہی سہولیات، انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کو مزید بہتر بنائے تو وہ نہ صرف اس بحران سے فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ عالمی تجارت میں اپنا کردار بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ چین، یورپ اور امریکا جیسے بڑے معاشی ممالک بھی متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں، جس سے پاکستان کے لیے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ -

آئی ایم ایف کی نئی شرائط عوامی مفادات کے خلاف ہیں،خالد مسعود سندھو
مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے نئی شرائط عوامی مفادات کے خلاف ہیں،حکمرانوں کوفیصلے ملکی مفادات ،قومی جذبات کو سامنے رکھ کر کرنے چاہئے،کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل ملک میں سودی نظام کا خاتمہ کر دیا جائے تو معیشت کو استحکام ملے گا،
خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے بدلے نئی شرائط عائد کرنا درحقیقت پاکستان کی معیشت پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے،آئی ایم ایف کی جانب سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا مطالبہ عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دے گا،حکمران ملکی مفاد کے مطابق فیصلے کریں ، پاکستان کی عوام نے حکمرانوں کو مینڈیٹ دیا، پاکستانی قوم کے جذبات کی قدر کی جائے اور بیرونی دباؤ پر عوامی جذبات کے خلاف فیصلے نہ کیے جائیں، حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر چلنے کے بجائے خودمختار معاشی پالیسیاں اپنائے،سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے، برکتیں آسمانوں سے آئیں گی.
-

ادریس تبسم کی سید نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بننے پر مبارکباد
گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کو ادریس تبسم کی مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما ادریس تبسم نے گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کو ان کی تعیناتی پر ٹیلی فون کے ذریعے دلی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، صوبہ سندھ کی سیاسی صورتحال اور پارٹی کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے ادریس تبسم کو گورنر ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی۔
ادریس تبسم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید نہال ہاشمی کی گورنر سندھ کے عہدے پر تعیناتی سے صوبہ سندھ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) مزید مضبوط اور فعال ہو گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارٹی قیادت کی رہنمائی میں سندھ میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی ترقی، استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی اور سندھ میں بھی پارٹی کو ایک مضبوط سیاسی قوت بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ -

پاک فوج میں شمولیت کے لیے گوجرخان کے غیور نوجوانوں کا سمندر امڈ آیا
وطن کے دفاع کے لیے جنون اور جذبے کی انتہا گورنمنٹ بوائز ایسوسی ایٹ کالج دولتالہ میں بھرتی میلہ سج گیا
میرٹ پر بھرتی، شفاف عمل اور نوجوانوں کا جوش اسسٹنٹ کمشنر اور پاک آرمی کی نگرانی میں بھرتی کا کامیاب عمل
گوجرخان (قمر شہزاد) شہیدوں اور غازیوں کی زرخیز مٹی، تحصیل گوجرخان ایک بار پھر وطنِ عزیز کی محبت سے گونج اٹھی۔ پاک فوج میں شمولیت کے لیے گورنمنٹ بوائز ایسوسی ایٹ کالج دولتالہ میں بھرتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں جذبہ حب الوطنی سے سرشار نوجوانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع دیکھنے میں آیا۔ بھرتی کا یہ تمام عمل اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان، کالج پرنسپل اور پاکستان آرمی کے ماہر بھرتی عملے کی سخت نگرانی میں مکمل شفافیت اور سو فیصد میرٹ پر مکمل ہوا۔ اس موقع پر انتظامی افسران نے تمام انتظامات کو اپنی نگرانی میں رکھا تاکہ نوجوانوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستان فوج کا حصہ بننے کے لیے آئے ہوئے نوجوانوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیدنی تھا۔دور دراز سے آئے سینکڑوں امیدواروں نے کڑی دھوپ اور سخت مراحل کے باوجود اپنے عزم سے ثابت کر دیا کہ تحصیل گوجرخان کی نئی نسل اپنی دھرتی ماں کی حفاظت اور دفاعِ وطن کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ بھرتی کیمپ میں موجود نظم و ضبط اور نوجوانوں کے حوصلوں نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ یہ سرزمین آج بھی دفاعِ وطن کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
-

اوکاڑہ: ماں نے دوسرے شوہر کی خاطر 7 سالہ بیٹے کو قتل کر دیا
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ماں قاتل بن گئی، دوسرے شوہر کی خوشی کیلئے سات سالہ بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا
اوکاڑہ کے علاقے 27 والا روڈ، شفقت بلاک میں انسانیت سوز واقعہ، ماں نے اپنے ہی 7 سالہ بیٹے کی جان لے لی۔خاتون نے دوسری شادی کر رکھی تھی جبکہ سوتیلے باپ کو بچہ قبول نہیں تھا۔ مبینہ طور پر ماں نے اپنے دوسرے شوہر کے کہنے پر اپنے بیٹے 7 سالہ علی حمزہ کا گلا دبا دیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا .