Baaghi TV

Blog

  • ایک جہاز پکڑا  جس میں کچھ چیزیں جو چین کی طرف سے تحفہ ہیں، ٹرمپ

    ایک جہاز پکڑا جس میں کچھ چیزیں جو چین کی طرف سے تحفہ ہیں، ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایک ایسا جہاز تحویل میں لیا ہے جس میں “ایسی اشیاء موجود تھیں جو بالکل اچھی نہیں تھیں” اور دعویٰ کیا کہ یہ سامان چین کی جانب سے بطور “تحفہ” بھیجا گیا تھا۔

    اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس پیش رفت پر انہیں کچھ حیرت ہوئی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر ہیں اور وہ چینی صدر کے ساتھ ایک خاص نوعیت کی مفاہمت (انڈراسٹینڈنگ) رکھتے ہیں۔امریکی صدر نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پکڑے گئے جہاز میں موجود سامان تشویشناک نوعیت کا تھا، تاہم انہوں نے اس کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کے بیان کے بعد اس معاملے کی نوعیت اور جہاز کی اصل منزل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر بیجنگ کی جانب سے تہران کو اسلحہ فراہم کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیان اسی تناظر کا تسلسل ہو سکتا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

  • آبنائے ہرمز ناکہ بندی ختم ہو گی تو مذاکرات میں شرکت کر سکتے،ایران

    آبنائے ہرمز ناکہ بندی ختم ہو گی تو مذاکرات میں شرکت کر سکتے،ایران

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے واضح کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی ختم کی جاتی ہے تو ایران اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

    اپنے تازہ بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران کو ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کی صورت میں مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ناکہ بندی کا خاتمہ ہی مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے مذاکرات میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، جن میں سب سے اہم آبنائے ہرمز میں امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے کم از کم 28 جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا۔ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعض بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو اس کشیدگی میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔
    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست،ٹرمپ کا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

    وزیراعظم شہباز،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست،ٹرمپ کا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے اور سفارتی کوششوں کو مزید وقت ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کردیا،امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں، جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا، اس لیےجنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک کہ ایران کی تجویز پیش نہیں کی جاتی،انہوں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جا رہی ہے جب تک تہران اپنی تجویز پیش نہیں کر دیتا اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔

    ٹرمپ کے اس اعلان سے قبل وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران سے متعلق آئندہ حکمت عملی، مذاکراتی عمل اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دن بھر ایران سے مذاکرات کے مستقبل اور جنگ بندی کے خاتمے کے وقت سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی بدھ کی شام واشنگٹن وقت کے مطابق ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے کوئی واضح وقت نہیں دیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہوگی، جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 7 بج کر 50 منٹ بنتا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی میں توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق فوری تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار ایران کی مجوزہ شرائط اور مذاکراتی نتائج پر ہوگا۔

  • 
ایران کا مؤقف، پاکستان مذاکرات پر فیصلہ تاحال نہیں ہوا

    
ایران کا مؤقف، پاکستان مذاکرات پر فیصلہ تاحال نہیں ہوا

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور جب مذاکرات کو نتیجہ خیز سمجھا جائے گا تو شرکت سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
    ‎اسماعیل بقائی نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے متضاد بیانات اور اقدامات سامنے آ رہے ہیں، جس سے اعتماد کی فضا متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے جنگ کا آغاز کیا اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل پیچیدگی کا شکار ہو گیا ہے۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عالمی تجارت اور سمندری سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی ذمہ دارانہ طرز عمل اپنائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں، ایک جنگ اور دوسرا سفارتکاری۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے اور اسی تناظر میں تمام فیصلے کیے جائیں گے۔

  • 
ایرانی وزیر خارجہ کا سخت بیان، بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگ قرار

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کھلی جارحیت ہے اور اسے جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ جاری جنگ بندی کی بھی واضح خلاف ورزی ہیں۔
    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا انتہائی سنگین اقدام ہے، جو عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
    ‎عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو بخوبی علم ہے کہ پابندیوں کا مقابلہ کیسے کرنا ہے، اپنے قومی مفادات کا دفاع کیسے کرنا ہے اور کسی بھی قسم کی دھونس کے سامنے کیسے کھڑا ہونا ہے۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی سطح پر سمندری تجارت کے تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر اہم بحری راستوں میں سیکیورٹی کے مسائل نے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل بحال ہو سکے۔

  • ایران کی خاموشی، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر

    ایران کی خاموشی، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر

    ‎اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے واضح جواب نہ ملنے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔
    ‎وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں مذاکرات کی بحالی اور پیش رفت خطے کے امن کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کا دورہ منسوخ نہیں بلکہ عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے اور اسے کسی بھی وقت دوبارہ شیڈول کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکا اس کے بعد کیا حکمت عملی اپنائیں گے۔
    ‎امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات موجود ہیں، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ کسی طویل المدتی معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ اس بیان نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت ہی مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کرے گا جب اسے یقین ہو گا کہ بات چیت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔

  • اسلام آباد امن مذاکرات، ایران کا جواب تاحال موصول نہیں: عطا اللہ تارڑ

    اسلام آباد امن مذاکرات، ایران کا جواب تاحال موصول نہیں: عطا اللہ تارڑ

    اسلام آباد میں امن مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں ایران کی جانب سے وفد کی شرکت کی باضابطہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آ سکی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام مسلسل ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں اور سفارتی سطح پر بات چیت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے تاکہ مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں۔
    ‎پاکستان اس پورے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق دو ہفتوں کے لیے جاری جنگ بندی کا وقت 22 اپریل کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گا، جس کے بعد صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ اس سے خطے میں امن کے امکانات جڑے ہوئے ہیں۔
    ‎پاکستانی سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کی شرکت نہ صرف مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دے گی بلکہ کشیدگی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اسی لیے پاکستان نے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کے لیے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایران جلد مثبت فیصلہ کرے گا

  • ٹرمپ کا 8 ایرانی خواتین کو رہا کرنے کا مطالبہ

    ٹرمپ کا 8 ایرانی خواتین کو رہا کرنے کا مطالبہ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کی منتظر آٹھ خواتین کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو براہ راست پیغام دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک اسرائیل کے حمایتی ایکٹوسٹ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اس معاملے کو اجاگر کیا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ درخواست ایران کے رہنماؤں کے لیے ہے، جو جلد ہی ان کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین کی رہائی کو وہ مثبت قدم کے طور پر دیکھیں گے اور یہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک بہتر اشارہ ہوگا۔
    ‎امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے ایرانی قیادت اس درخواست کا احترام کرے گی اور ان خواتین کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی کے تحت ان قیدی خواتین کو رہا کیا جانا چاہیے۔
    ‎اس پوسٹ کے ساتھ آٹھ خواتین کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں، تاہم اب تک صرف ایک خاتون کی شناخت ہو سکی ہے جو رواں برس حکومت مخالف مظاہروں میں شریک رہی تھی۔ دیگر خواتین کے بارے میں تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
    ‎دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان خواتین کی گرفتاری اور قید کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث اس معاملے پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی باتیں جاری ہیں۔

  • جے ڈی وینس تاحال روانہ نہیں ہوئے

    جے ڈی وینس تاحال روانہ نہیں ہوئے

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس تاحال واشنگٹن سے روانہ نہیں ہوئے۔
    ‎غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت مزید پالیسی اجلاسوں میں مصروف ہیں، جس کے باعث وہ ایران سے مذاکرات کے لیے ابھی تک روانہ نہیں ہو سکے۔
    ‎حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد ہی کسی حتمی پیش رفت کا امکان ہے۔ اس تاخیر نے ممکنہ مذاکرات کے وقت اور نوعیت کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس وقت میں کسی بھی اعلیٰ سطحی دورے سے قبل مکمل تیاری اور پالیسی ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے، اسی لیے امریکی قیادت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری ممکنہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے پرامید ہے۔

  • ‎جاپان میں فوجی مشقوں کے دوران ٹینک کے اندر گولہ پھٹنے سے 3 فوجی ہلاک

    ‎جاپان میں فوجی مشقوں کے دوران ٹینک کے اندر گولہ پھٹنے سے 3 فوجی ہلاک

    ‎جاپان کے جنوبی علاقے میں ایک فوجی مشق کے دوران افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ٹینک کے اندر گولہ پھٹنے سے تین فوجی ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ یہ واقعہ اوئیتا صوبے کے ہیجودائی ٹریننگ ایریا میں اس وقت پیش آیا جب لائیو فائر مشق جاری تھی۔
    ‎حکام کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹائپ 10 مین بیٹل ٹینک کے اندر اچانک گولہ پھٹ گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ٹینک کے گن ٹرٹ کے اندر موجود کمانڈر، گنر اور سیفٹی افسر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ٹینک میں موجود چوتھا اہلکار، جو ڈرائیور تھا، شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس مشق میں دیگر تین ٹینک بھی شامل تھے اور تمام یونٹس لائیو فائر ایکسرسائز میں حصہ لے رہے تھے۔ دھماکے کی نوعیت اور اسباب جاننے کے لیے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
    ‎جاپان گراؤنڈ سیلف ڈیفنس فورس کے چیف آف اسٹاف ماسایوشی آرائی نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، ٹائپ 10 اور ٹائپ 90 ٹینکوں کے ساتھ تمام لائیو فائر مشقیں معطل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ٹینک ایک ہی قسم کے گولے استعمال کرتے ہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ ٹائپ 10 ٹینک جاپان کا جدید ترین مین بیٹل ٹینک ہے جس کی تعیناتی 2011 میں شروع کی گئی تھی۔ اسے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر دفاعی صلاحیتوں کے باعث جاپانی فوج کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔