Baaghi TV

Blog

  • سجاول میں نہر میں ڈوبنے سے دو بہنیں جاں بحق

    سجاول میں نہر میں ڈوبنے سے دو بہنیں جاں بحق

    ‎سجاول کے نواحی علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا، جہاں کراچی سے شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آنے والی دو کمسن بہنیں نہر میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گئیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا واقعہ گاؤں صدیق سومرو کے قریب پنیاری نہر میں پیش آیا۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ چند بچیاں نہر میں نہا رہی تھیں کہ اچانک ایک بچی پانی میں ڈوبنے لگی۔ اسے بچانے کی کوشش میں دیگر بچیاں بھی پانی کی لپیٹ میں آ گئیں۔
    ‎حادثے کے نتیجے میں تین بچیاں نہر میں ڈوب گئیں، جن میں سے ایک کو بروقت بچا لیا گیا جبکہ دو بہنیں زندگی کی بازی ہار گئیں۔ جاں بحق ہونے والی بچیوں کی شناخت 12 سالہ نمرہ اور 10 سالہ ندا کے نام سے ہوئی ہے، جو کراچی سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گاؤں آئی تھیں۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے دونوں بچیوں کی لاشیں نہر سے نکال لی گئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر طرف غم کی فضا چھا گئی۔
    ‎اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ نہر کے کنارے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث اس قسم کے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • جعلی ادویات پر ہنگامی الرٹ جاری

    جعلی ادویات پر ہنگامی الرٹ جاری

    ‎لاہور سے تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے 6 اہم ادویات کے مخصوص بیچز کے حوالے سے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ادویات انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دی گئی ہیں اور فوری طور پر انہیں مارکیٹ سے ہٹانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کے مختلف میڈیکل اسٹورز پر جعلی اور غیر معیاری ادویات کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ڈریپ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ ادویات کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران ان ادویات کے مخصوص بیچ نمبرز غیر مؤثر اور جعلی ثابت ہوئے ہیں، جس کے باعث مریضوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
    ‎ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام فارمیسیز اور ڈسٹری بیوٹرز فوری طور پر ان ادویات کا اسٹاک واپس لیں اور مزید فروخت روک دیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎خاص طور پر کالا موتیا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے آئی ڈراپس "گلینٹرم” کو جعلی قرار دیا گیا ہے، جس کے استعمال سے مریضوں کی بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی دوا کے استعمال سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں اور مشکوک ادویات سے فوری اجتناب کریں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ عوام اپنی صحت کے حوالے سے محتاط رہیں اور صرف مستند اور رجسٹرڈ میڈیکل اسٹورز سے ادویات خریدیں۔ اگر کسی شہری کو مذکورہ ادویات سے متعلق معلومات حاصل ہوں یا وہ ایسی ادویات دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

  • ایران امریکا جنگ بندی کل صبح ختم

    ایران امریکا جنگ بندی کل صبح ختم

    ‎وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ اس اہم مرحلے پر عالمی نظریں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں متوقع امن مذاکرات کے حوالے سے ایران کی جانب سے ابھی تک باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔
    ‎وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کی شرکت کے حوالے سے حتمی جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو یہ کشیدگی کم کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
    ‎سیاسی اور سفارتی ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں، اس لیے آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان موجود ہے۔
    ‎ادھر عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں گے۔

  • ایران امریکا مذاکرات، پاکستان میں واپسی کے اشارے

    ایران امریکا مذاکرات، پاکستان میں واپسی کے اشارے

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک نے پاکستان میں مذاکرات کی بحالی کے اشارے دیے ہیں۔ اس خبر نے خطے میں امن کی امید کو ایک بار پھر تقویت دی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایک امریکی خبررساں ایجنسی نے دو علاقائی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکا نے پاکستان میں مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ثالثوں کو یہ تصدیق موصول ہوئی ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کار اسلام آباد پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے اور ممکنہ کشیدگی میں اضافے کے خدشات موجود ہیں۔ تاہم مذاکرات کی بحالی کے اشارے اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں فریق اب بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنا ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات بڑھتے ہیں بلکہ پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت تشخص بھی اجاگر ہوتا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں سیکیورٹی، پابندیاں اور علاقائی استحکام جیسے اہم نکات زیر غور آ سکتے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • چین ایران کی مدد کر رہا ہے: ٹرمپ کا الزام

    چین ایران کی مدد کر رہا ہے: ٹرمپ کا الزام

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں شبہ ہے چین امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران ایران کی مدد کر رہا ہے، تاہم انہوں نے خود ہی اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اس حوالے سے وہ مکمل یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے۔
    ‎سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ حال ہی میں ایک جہاز کو روکا گیا جس میں مشکوک سامان موجود تھا۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ یہ سامان چین کی جانب سے بھیجا گیا ہو، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں حتمی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ان کے لیے حیران کن ہے کیونکہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر رہے ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان کچھ معاملات پر اتفاق موجود ہے۔
    ‎ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا کہ جنگ کے حالات میں اس طرح کی صورتحال سامنے آ سکتی ہے اور ممالک مختلف طریقوں سے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فوجی قیادت اور پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر وہ ماضی میں اقتدار میں ہوتے تو امریکا ویتنام اور عراق کی جنگوں میں بہتر نتائج حاصل کر سکتا تھا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ وہ ویتنام کی جنگ کو بہت جلد ختم کر سکتے تھے، اور ان کے مطابق مضبوط قیادت ہی کسی بھی جنگ میں کامیابی کی ضامن ہوتی ہے۔ ان کے ان بیانات نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات امریکا، چین اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔

  • ایرانی آئل ٹینکر بحفاظت ایران پہنچ گیا

    ایرانی آئل ٹینکر بحفاظت ایران پہنچ گیا

    ‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی آئل ٹینکر "سیلی سٹی” بحفاظت بحیرۂ عرب عبور کرنے کے بعد ایران کی حدود میں داخل ہو کر اپنی منزل تک پہنچ گیا ہے۔ اس پیش رفت کو موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے سمندری نگرانی اور سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ آئل ٹینکر بغیر کسی رکاوٹ کے بحیرۂ عرب سے گزرتے ہوئے ایران کی سمندری حدود میں داخل ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران ایرانی بحریہ نے ٹینکر کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
    ‎ذرائع کے مطابق "سیلی سٹی” آئل ٹینکر گزشتہ رات ایران کی حدود میں داخل ہوا اور اب جنوبی ایران کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز ہو چکا ہے۔ اس کامیاب سفر کو ایران کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب خطے میں سمندری راستوں پر دباؤ اور نگرانی میں اضافہ ہو چکا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت امریکی بیانات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جن میں ایران سے منسلک بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور پابندیوں کے نفاذ کا اعادہ کیا گیا تھا۔ تاہم ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی تجارتی اور توانائی کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا حق رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی سمندری حدود اور توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے۔ دوسری جانب یہ صورتحال عالمی سطح پر توانائی کی منڈی اور خطے کی سیکیورٹی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

  • ایران میں جنگ بندی کے خاتمے سے قبل حکومتی حمایت میں مظاہرے

    ایران میں جنگ بندی کے خاتمے سے قبل حکومتی حمایت میں مظاہرے

    ‎ایران میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب آتے ہی ملک کے مختلف شہروں میں حکومت اور افواج کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان مظاہروں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے، جن میں خواتین کی نمایاں شرکت بھی شامل ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق خرم آباد کے مغربی علاقے میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے حق میں نعرے لگائے۔ اس مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جو ملکی پالیسیوں کی حمایت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اسی طرح اصفحان میں ہونے والے مظاہروں میں برقعہ پوش خواتین کی موجودگی نے خاص توجہ حاصل کی، جن میں سے بعض کے پاس اسلحہ بھی دیکھا گیا، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
    ‎یہ مظاہرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا بھرپور طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔
    ‎دوسری جانب ایران کی سیاسی قیادت نے بھی سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا مذاکرات کو دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنا رہا ہے اور اسے یا تو مکمل اطاعت یا پھر جنگی ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
    ‎ادھر اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے پاکستان کو مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود جلد پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔

  • ہنگری کے وزیراعظم کی نیتن یاہو کو گرفتاری کی دھمکی

    ہنگری کے وزیراعظم کی نیتن یاہو کو گرفتاری کی دھمکی

    نومنتخب وزیراعظم پیٹر میگیار نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہنگری کا رخ کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس بیان نے عالمی سطح پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پیٹر میگیار نے اپنے ایک واضح اور دو ٹوک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے گی اور کسی بھی عالمی عدالتی حکم کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، چاہے معاملہ کسی بھی ملک یا عالمی رہنما سے متعلق کیوں نہ ہو۔
    ‎ہنگری کے وزیراعظم نے نیتن یاہو کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ہنگری میں داخل ہوئے تو انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت عالمی عدالت کے فیصلوں اور اصولوں کو اولین ترجیح دے گی اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
    ‎سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہنگری کا یہ مؤقف یورپی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے۔ خاص طور پر یورپی یونین کے اندر خارجہ پالیسی کے حوالے سے نئے زاویے سامنے آ سکتے ہیں، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو غزہ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث عالمی سطح پر تنقید اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں میں ان کے خلاف مقدمات اور تحقیقات جاری ہیں، جس کی وجہ سے ان کے غیر ملکی دوروں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • تہران کے بڑے ہوائی اڈے بحال، پروازیں دوبارہ شروع

    تہران کے بڑے ہوائی اڈے بحال، پروازیں دوبارہ شروع

    ‎ایران نے فضائی آپریشنز کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے دارالحکومت تہران کے دو بڑے ہوائی اڈوں، امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق پیر کے روز سے ان ایئرپورٹس پر مسافر پروازوں کی باقاعدہ بحالی شروع ہو چکی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث بند کی گئی فضائی سرگرمیوں کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔ نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ ارمیہ، کرمانشاہ، آبادان، شیراز اور کرمان کے ایئرپورٹس کو بھی جلد آپریشنل کر دیا جائے گا، جبکہ رشت، یزد، زاہدان، گورگان اور بیرجند کے ہوائی اڈے بھی اسی ہفتے کھلنے کا امکان ہے۔
    ‎اس سے قبل ایران نے مشہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کا اعلان بھی کیا تھا، جو شمال مشرقی صوبہ خراسان رضوی میں واقع ہے۔ اس اقدام کو ملک بھر میں فضائی نظام کی مکمل بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث تمام شہری پروازیں معطل ہو گئی تھیں اور بین الاقوامی فضائی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی تھی۔
    ‎حکام کے مطابق اب حالات میں بہتری آنے کے بعد فضائی حدود کو مرحلہ وار کھولا جا رہا ہے۔ ایران نے ہفتے کے روز اپنی مشرقی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دی تھیں، جس کے بعد اب اہم ایئرپورٹس بھی بحال کیے جا رہے ہیں۔
    ‎ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے تکنیکی اور سیکیورٹی معاملات مکمل ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے دیگر ایئرپورٹس پر بھی پروازوں کا سلسلہ معمول پر آ جائے گا۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائنز سے تازہ صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود ایران اپنی اندرونی اور بین الاقوامی فضائی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ معیشت اور سفری نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔

  • ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران تنازعہ بڑی ڈیل پر ختم ہوگا

    ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران تنازعہ بڑی ڈیل پر ختم ہوگا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازعہ بالآخر ایک بڑی ڈیل پر ختم ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس وقت مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں کھڑا ہے اور حالات اس کے حق میں جا رہے ہیں۔
    ‎سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ معاملہ سنبھالنے میں مؤثر حکمت عملی اپنائی ہے۔ ان کے مطابق ایران پر عائد کی گئی ناکہ بندی نہایت کامیاب ثابت ہوئی ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
    ‎صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور وہ اس میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں یا تو کوئی بڑی پیش رفت ہوگی یا حالات کسی اور رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے سخت مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ ایک جامع اور مؤثر ڈیل ہوگی جو خطے میں استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک جانب ممکنہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب جنگ بندی کے خاتمے کا خدشہ بھی موجود ہے۔