Baaghi TV

Blog

  • چینی سفیر کی نائب وزیراعظم،وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات

    چینی سفیر کی نائب وزیراعظم،وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات

    پاکستان میں چین کے سفیر کی نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی ہے،

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے منگل کے روز نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔لاقات کے دوران چینی سفیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان روابط کے فروغ میں پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے خطے اور دنیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔اس موقع پر سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے عزم کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ترجمان کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا “آپریشن سندور” میں بھاری شکست کا اعتراف

    بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا “آپریشن سندور” میں بھاری شکست کا اعتراف

    آپریشن سندور میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے متنازع بیانات میں واضح نظر آتی ہے۔

    بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے باڈی لینگویج میں اعتماد کی کمی اور کانپتی ہوئی آواز نے شکست خوردہ ذہنیت کو بے نقاب کر دیا۔بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے آپریشن سندور میں ہونے والی ناکامی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا “مستقبل کے چیلنجز مختلف ہوں گے؛ ہمیں پرانے سندور کو بھول کر نئے سندور کی تیاری کرنی چاہیے۔”

    شکست کی ذمہ داری ٹیکنالوجی پر ڈالنا اور جدید ٹیکنالوجی کو واحد حل کے طور پر پیش کرنا ایک غیر حقیقی مؤقف ہے۔تینوں افواج (بری، بحری اور فضائی) کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی بات کرنا دراصل ناکامی کے کھلے اعتراف کے مترادف ہے۔“نئے سندور” کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ماضی کی شکست اور شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عملی خامیوں کو تکنیکی جواز کے پیچھے چھپانا ایک غیر پیشہ ورانہ، شرمناک اور بزدلانہ طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔

    بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی کمی نے آپریشن سندور میں تاریخی ناکامی کو جنم دیا۔
    بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی ایسے بیانات کو قابلِ اعتبار بنانے کے بجائے محض خود کو اہم ظاہر کرنے کی کوشش بناتی ہے۔یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت نے اس ناکامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، جبکہ پاکستان کی جانب سے خبردار کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کا سخت، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

  • امریکی حملے کی صورت میں ایران کی  خلیجی ممالک کو سخت وارننگ

    امریکی حملے کی صورت میں ایران کی خلیجی ممالک کو سخت وارننگ

    امریکا ایران جنگ بندی کے ممکنہ خاتمے اور امن معاہدے کے نہ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دی وہیں ایران نے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران فوری طور پر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، کویت اور قطر کے اہم تنصیبات پر حملہ کرے گا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی مراکز، صنعتی تنصیبات یا دیگر قومی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو پورے خلیجی خطے میں موجود حساس اقتصادی اور تزویراتی تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ ان ممکنہ اہداف میں تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں، بجلی گھر، ڈیٹا سینٹرز، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور عسکری اڈے شامل ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو عالمی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور کویت دنیا کے بڑے توانائی سپلائر ممالک ہیں۔ ان ممالک میں کسی بھی بڑے حملے سے تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان تک جا سکتی ہیں۔سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان میں متوقع ایران امریکہ مذاکرات کو اس بحران کے حل کی آخری امید سمجھا جا رہا ہے، تاہم موجودہ دھمکی آمیز بیانات نے ان مذاکرات کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

  • پاکستان اور سوڈان اسلحہ معاہدہ روکنے کی خبر بے بنیاد قرار

    پاکستان اور سوڈان اسلحہ معاہدہ روکنے کی خبر بے بنیاد قرار

    خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ معاہدہ روک دیا ہے کیونکہ سعودی عرب نے اس کی مالی معاونت سے انکار کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے پر زور دیا۔ تاہم یہ خبر جعلی اور بے بنیاد ہے۔

    خبر رساں ادارے نے خبر تو نشر کر دی لیکن اس پر پاکستانی حکام ،سعودی عرب کی جانب سے یا سوڈانی حکام کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی،ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی خبریں اکثر بغیر ثبوت کے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ سیاسی یا سفارتی ماحول کو متاثر کیا جا سکے،شہریوں کو چاہئے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن دعوؤں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں

  • گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کردی،شرجیل میمن

    گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کردی،شرجیل میمن

    سندھ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کردی ہے

    وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کہتے ہیں گندم فروخت کی حد کا خاتمہ اور فی ایکڑ 5 بوری کی شرط ختم کرنا ایک اہم ترین فیصلہ ہے، گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے مقرر کرنا اور خریداری کا ہدف 10 لاکھ میٹرک ٹن رکھنا حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کا ثبوت ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے فیصلے سے چھوٹے آبادگاروں کو براہ راست فائدہ اور کاشتکار بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی پیداوار سرکاری مراکز پر فروخت کرسکیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ گندم خریداری مہم کو تیز کرنے اور کم خریداری والے اضلاع میں اقدامات کی ہدایات سے ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آبادگاروں کو ایک دن کے اندر سندھ بینک کے ذریعے فیول سبسڈی کی فراہمی شفافیت اور کارکردگی کی بہترین مثال ہے، اب تک کروڑوں روپے کی بروقت ادائیگیاں ہاریوں کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔

  • بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع

    بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع

    پاکستان نے بھارتی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد یہ پابندی دوسرے سال میں داخل ہو گئی ہے۔ پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے نیا نوٹم جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹم کے مطابق بھارتی رجسٹرڈ، لیز پر حاصل کردہ، کمرشل اور فوجی طیارے آئندہ ایک ماہ تک بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی 24 مئی 2026 صبح 5 بجے تک برقرار رہے گی۔یاد رہے کہ پاکستان نے بھارتی طیاروں کیلئے اپنی فضائی حدود 23 اپریل 2025 سے بند کر رکھی ہے، جس کے بعد اب یہ بندش مسلسل دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن، آپریشنل اخراجات اور سفری اوقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بھارتی فضائی کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

  • بھارتی میڈیا کی پاکستان دشمنی،بھارتی تجزیہ کار ہی برس پڑے

    بھارتی میڈیا کی پاکستان دشمنی،بھارتی تجزیہ کار ہی برس پڑے

    بھارتی معروف تجزیہ کاراشوک سوین نے بھارتی میڈیا کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں تیل اور گیس کی کمی جیسے اہم مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ تمام توجہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی ناکامی پر مرکوز ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی پرواہ نہیں ہے کہ ہندوستان کے پاس تیل یا گیس نہیں ہے۔ لیکن اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور ناکام ہونے کی امید ہے۔ پاکستان سے شدید نفرت نے انہیں خودکشی پر مجبور کر دیا ہے۔

    تجزیہ کار کے مطابق پاکستان سے نفرت نے بھارتی میڈیا کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں قومی مفادات بھی پس پشت ڈالے جا رہے ہیں، خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات کامیاب ہونا ضروری ہیں، تاہم بعض حلقے پاکستان مخالفت میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ وہ مثبت پیش رفت بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں

    تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر عالمی نظریں جمی ہوئی ہیں اور یہ خطے کے مستقبل کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • پاکستان سے ایران ریلوے ٹریک جلد فعال ہوگا، حنیف عباسی

    پاکستان سے ایران ریلوے ٹریک جلد فعال ہوگا، حنیف عباسی

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان سے ایران تک ریلوے ٹریک کو جلد فعال کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں تجارتی، معاشی اور سفری روابط کو نئی جہت ملے گی۔ یہ منصوبہ مستقبل میں توسیع پا کر یورپ کے ریلوے نیٹ ورک سے بھی منسلک ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کو بین الاقوامی ٹرانزٹ حب بنانے میں مدد ملے گی۔

    اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے پر ماضی میں بھی مختلف مراحل میں پیش رفت ہو چکی ہے، خصوصاً سرحدی رابطوں اور فریٹ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے تکنیکی سطح پر کام جاری رہا ہے، جسے اب مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس اہم منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔حنیف عباسی کے مطابق روہڑی سے نوکنڈی تک تقریباً 900 کلومیٹر جبکہ نوکنڈی سے تافتان تک 87 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کی بحالی اور اپگریڈیشن پر بھی کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان کو ایران کی سرحد کے ساتھ مؤثر ریلوے رابطے میسر آئیں گے اور خطے میں لاجسٹکس، تجارت اور سفری سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ریلوے نظام کی بہتری ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ مضبوط ریلوے نیٹ ورک نہ صرف اندرونی رابطوں کو بہتر بناتا ہے بلکہ علاقائی تجارت کو بھی وسعت دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریلوے نہیں چلے گی تو پاکستان نہیں چلے گا۔

  • مذاکرات،اسلام آبادعالمی توجہ کا مرکز،امریکی نائب صدر کی واشنگٹن سے روانگی کا ممکنہ وقت

    مذاکرات،اسلام آبادعالمی توجہ کا مرکز،امریکی نائب صدر کی واشنگٹن سے روانگی کا ممکنہ وقت

    اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں آنے جا رہا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد متوقع ہے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی وفد، جس کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے ہیں، آج پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے واشنگٹن سے اسلام آباد روانہ ہوگا۔دوسری جانب ایرانی وفد بھی اپنی اعلیٰ قیادت سے حتمی منظوری ملنے کے بعد چند گھنٹوں میں روانگی اختیار کرے گا۔ ذرائع کے مطابق دونوں وفود کی آمد سے خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئے گی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    حکومتی و سفارتی حلقوں کے مطابق تمام نظریں اب اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں اہم ملاقاتوں اور ممکنہ پیش رفت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ یوں پاکستان کا دارالحکومت ایک مرتبہ پھر عالمی اسٹیج پر نمایاں حیثیت اختیار کرنے جا رہا ہے۔

  • ایران سے مذاکرات پر امریکا پُرامید، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے غیر یقینی برقرار

    ایران سے مذاکرات پر امریکا پُرامید، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے غیر یقینی برقرار

    امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر امید ظاہر کی ہے، تاہم پاکستان میں مجوزہ مذاکرات کے آغاز سے قبل اب بھی کئی رکاوٹیں اور غیر یقینی صورتحال موجود ہے، جبکہ دو ہفتے کی جنگ بندی بھی اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنگ بندی چند روز میں ختم ہونے والی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز اسلام آباد میں نئے دور کے مذاکرات متوقع ہیں۔ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور مذاکرات کل ہونے کے راستے پر ہیں۔ ذریعے کے مطابق اگر کسی معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی طور پر یا ورچوئل طور پر شریک ہو سکتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نے بھی مذاکرات میں شرکت پر مثبت غور کی تصدیق کی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

    ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت ایک ڈالر سے زائد کم ہو کر 94 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً دو فیصد نیچے آگیا۔ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ مذاکرات کی کامیابی سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور توانائی کی سپلائی پر دباؤ میں کمی آئے گی۔

    دوسری جانب ایران نے امریکی ناکہ بندی، ایرانی تجارتی جہاز توسکا کی ضبطی اور دیگر اقدامات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے جہاز اور عملے کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ایرانی فوجی کمانڈرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت دوبارہ ہوئی تو فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ایرانی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکی کے ماحول میں مذاکرات نہیں کریں گے۔

    پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ انعقاد کے پیش نظر اسلام آباد میں تقریباً 20 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کرے گا اور امید ہے کہ ایک منصفانہ معاہدہ ہوگا، تاہم ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔