عمان میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں سفارت خانہ پاکستان نے پاسپورٹ وصولی کے اوقات کار اور فیسوں میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق یہ تبدیلیاں یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی، جن کا مقصد قونصلر خدمات کو بہتر بنانا اور سفارت خانے میں غیر ضروری رش کو کم کرنا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اب پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ شہری اتوار سے جمعرات کے درمیان دوپہر 1 بجے سے 2 بجے تک اور سہ پہر 3 بجے سے 4 بجے تک اپنے تیار شدہ پاسپورٹ وصول کر سکیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اوقات کی پابندی سے سروس کو منظم بنانے میں مدد ملے گی اور انتظار کا وقت بھی کم ہوگا۔
مزید برآں، پاسپورٹ وصول کرتے وقت شہریوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنا اصل ٹوکن اور پرانا پاسپورٹ ہمراہ لائیں۔ سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ ان دستاویزات کے بغیر پاسپورٹ کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی، اس لیے شہری پہلے سے تیاری مکمل رکھیں۔
پاسپورٹ فیسوں میں بھی مختلف کیٹیگریز کے تحت وضاحت کی گئی ہے۔ پانچ سالہ مدت کے 36 صفحات والے پاسپورٹ کی نارمل فیس 12 عمانی ریال جبکہ ارجنٹ فیس 19 ریال مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 10 سالہ مدت کے 36 صفحات والے پاسپورٹ کی فیس 17 ریال سے شروع ہوتی ہے، جس میں سروس کی نوعیت کے مطابق اضافہ ہو سکتا ہے۔
سفارت خانے نے پاسپورٹ کی حفاظت پر خصوصی زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گمشدگی کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ پہلی بار پاسپورٹ گم ہونے پر فیس دگنی وصول کی جائے گی جبکہ دوسری بار گم ہونے پر فیس میں چار گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شہری دوسری بار اپنا 100 صفحات پر مشتمل ارجنٹ پاسپورٹ گم کرتا ہے تو اس کی فیس 208 عمانی ریال تک پہنچ سکتی ہے۔
Blog
-

پاسپورٹ وصولی کے نئے اوقات اور فیسوں کا اعلان
-

اوکاڑہ: گندم خریداری مراکز فعال، باردانہ رجسٹریشن شروع
اوکاڑہ میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے بینظیر روڈ پر قائم گندم خریداری مرکز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے باردانہ کی تقسیم کے لیے جاری رجسٹریشن عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محسن گجر نے انہیں بریفنگ دی۔ کسانوں کی سہولت کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی غرض سے ایم سی بی اور یو بی ایل کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے موقع پر موجود کسانوں سے سہولیات کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کسانوں نے حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور رجسٹریشن مکمل ہوتے ہی باردانہ کی تقسیم شروع کر دی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال گندم خریداری پرائیویٹ ایگریگیٹرز کے ذریعے کی جائے گی جبکہ سرکاری نرخ 3500 روپے فی من مقرر کیا گیا ہے۔ ضلع میں مجموعی طور پر 9 خریداری مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ہر کسان کو فی ایکڑ 100 کلو کے 10 بیگز دیے جائیں گے، جبکہ زیادہ سے زیادہ 12 ایکڑ تک باردانہ فراہم کیا جائے گا۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کو ترجیح دی جائے گی۔
-

نواز شریف کا دیگر صوبوں کو پنجاب کا ترقیاتی ماڈل اپنانے کا مشورہ
سابق وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت ترقی کے میدان میں ملک میں سب سے آگے ہیں، جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے دیگر صوبوں پر زور دیا کہ وہ پنجاب کے کامیاب ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کریں تاکہ ملک بھر میں یکساں ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔
مری میں گلگت بلتستان کے لیے قائم پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ گلگت بلتستان کی خدمت کی ہے اور اس خطے کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف خصوصی طور پر گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ وہاں کے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں،انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبے وہاں کے عوام کا بنیادی حق ہیں، کیونکہ یہ خطہ قدرتی حسن، سیاحت اور معاشی امکانات کے اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے سیاح گلگت بلتستان آنا چاہتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہاں جدید انفراسٹرکچر، سڑکوں، ہوٹلنگ اور دیگر سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ سیاحت کو فروغ مل سکے۔
نواز شریف نے اپنی گفتگو میں ملکی ترقی کے حوالے سے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں متعدد بڑے منصوبے مکمل کیے گئے جن سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر صوبے بھی اسی طرز پر منصوبہ بندی کریں تو پورا ملک ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔انہوں نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 برس سے وہاں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہے، مگر اس عرصے میں عوام کو وہ سہولیات فراہم نہیں کی جا سکیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ اتنے طویل عرصے کے باوجود خیبرپختونخوا میں تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں تبدیلی کیوں نظر نہیں آتی۔صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں سفارتی سطح پر بھی اپنا نام بلند کیا ہے اور عالمی برادری میں ملک کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ بھی عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام کے ایجنڈے پر کام جاری رکھے گی۔
-

خاتون ٹک ٹاکر کی پیرا فورس کی گاڑی پر چڑھ کر ماڈلنگ
لاہور: خاتون ٹک ٹاکر کی پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی سرکاری گاڑی پر چڑھ کر ماڈلنگ کرنے کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، جس کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون ٹک ٹاکر پیرا فورس کی گاڑی پر چڑھ کر ویڈیو بنا رہی ہیں اور مختلف انداز میں پوز دے رہی ہیں۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سرکاری املاک کے استعمال اور سیکیورٹی انتظامات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔اس معاملے پر ترجمان پیرا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ گاڑی ایک پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی، اسی دوران لڑکی نے گاڑی پر چڑھ کر ٹک ٹاک ویڈیو بنائی۔ ترجمان کے مطابق ویڈیو بنائے جانے کے وقت گاڑی کے قریب کوئی افسر یا اہلکار موجود نہیں تھا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ویڈیو بنانے والی خاتون کون ہے اور وہ وہاں کیسے پہنچی۔ واقعے کی مزید جانچ جاری ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے واقعے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں اور اداروں کی امیج کو نقصان پہنچانے والے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں۔ بعض صارفین نے اسے سیکیورٹی غفلت قرار دیا ہے جبکہ کچھ افراد نے اسے صرف سوشل میڈیا اسٹنٹ قرار دیا۔
-

کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،سربراہ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر
ایرانی فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللہی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری، سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اپنے بیان میں جنرل عبداللہی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مضبوط اور مؤثر ہے، اور تہران خطے کی زمینی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں خطے کی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، علاقائی خودمختاری اور دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر کسی جانب سے اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا فوری جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ حملوں کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی طیارے یا کسی بھی ایرانی اثاثے کے خلاف کارروائی کی گئی تو اس کا یقینی اور مناسب جواب دیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت کے یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران خطے میں کسی بھی ممکنہ عسکری دباؤ یا حملے کے لیے خود کو تیار رکھے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک اہمیت کے باعث دنیا بھر کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہیں، کیونکہ عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
-

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کیلیے اجلاس
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کیلئے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی.
وزیرِ اعظم نے ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (P3A) اور اس سے متعلقہ نظام کو مزید مربوط بنانے کی اصولی منظوری دے دی.اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پی تھری اے کی کارکردگی کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کیلئے یہ ادارہ نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرے گا. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹرنرشپ کی ذریعے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی استعداد میں بہتری لائی جائے.
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی جانچنے (KPIs) کا حصہ بنایا جائے. پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف اور تیز بنا رہے ہیں.
اجلاس کو خطے اور عالمی سطح پر مختلف ممالک میں رائج پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈلز کا موازنہ پیش کیا گیا. اجلاس کو مجوزہ نئے نظام کے خدوخال پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری ڈویژن کریں گے. وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
-

میرا کو امریکا میں پاگل خانے میں داخل کروایا گیا تھا؟ میرا نے خود بتا دیا
پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ فلم ’سائیکو‘ کی شوٹنگ کے دوران شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران میزبان نے ان سے ان کے فلمی کیریئر اور ذاتی زندگی سے متعلق مختلف سوالات کیے۔ اسی دوران ان سے ایک پرانی خبر کے بارے میں پوچھا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں امریکا کے کسی نفسیاتی ادارے میں داخل کروایا گیا تھا۔اس سوال کے جواب میں اداکارہ میرا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ انہیں کسی “پاگل خانے” میں داخل کروایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اصل صورتحال یہ تھی کہ ہدایتکار شان شاہد کی فلم ’سائیکو‘ میں ان کا کردار بہت زیادہ شدید اور جذباتی تھا، جس کے باعث شوٹنگ کے ابتدائی مرحلے میں وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور ان کی طبیعت متاثر ہوئی۔
میرا کے مطابق اس کیفیت کے بعد وہ علاج کے لیے نیویارک گئیں جہاں انہوں نے ایک ماہرِ نفسیات سے مشاورت کی جنہوں نے ان کی رہنمائی کی اور ان کی ذہنی صحت بحال کرنے میں مدد کی۔اداکارہ نے مزید کہا کہ اس کردار سے باہر نکلنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم اس تجربے نے انہیں اداکاری کے نئے پہلو سکھائے۔ ان کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب انہیں احساس ہوا کہ کسی کردار میں مکمل طور پر کیسے ڈھلا جاتا ہے۔ انہوں نے ہدایتکار شان شاہد کو ایک اچھا ڈائریکٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انہیں کردار کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی۔
-

پاک بحریہ کا کروز میزائل تیمور کی کامیاب فائرنگ کے ذریعے جنگی قوت کا مظاہرہ
پاک بحریہ نے کامیابی کے ساتھ تیمور ایئر سے لانچ کئے جانے والے کروز میزائل کا لائیو ویپن فائرنگ تجربہ کیا ہے، جو کہ مقامی طور پر تیار کردہ ایک اینٹی شپ ہتھیار نظام ہے۔ یہ تجربہ درست نشانے کی صلاحیت اور آپریشنل تیاری کے ایک طاقتور مظاہرے کے طور پر انجام دیا گیا۔
پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے کروز میزائل ‘تیمور’ کا کامیاب تجربہ کیا، جس کے ذریعے سمندر میں درست نشانہ لگانے اورآپریشنل تیاری کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔فضا سے سمندر پر فائر کئے گئے میزائل نے انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ اس کامیاب تجربے سے پاک بحریہ کی سمندر میں درپیش خطرات اور اپنے اہداف کی طویل فاصلے پر نشاندہی کرنے اور فیصلہ کن انداز میں تباہ کرنے کی جنگی صلاحیت کی توثیق ہوتی ہے۔ پاک بحریہ کی جانب سے فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے میزائل تیمور کی فائرنگ کا مظاہرہ قومی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے، جس سے پاکستان کی مسلح افواج کی روایتی میدان میں کثیرالجہتی مربوط دفاعی حکمت عملی اور صلاحیتوں کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔پاک بحریہ قومی بحری مفادات اور اپنی سمندری حدود کے دفاع کے لیے پر عزم ہے۔صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس فورسز اور سروسز چیفس نے سائنسدانوں اور انجینئرز کو اس اہم سنگِ میل کے حصول پر مبارکباد پیش کی۔
-

چینی سفیر کی نائب وزیراعظم،وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات
پاکستان میں چین کے سفیر کی نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی ہے،
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے منگل کے روز نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔لاقات کے دوران چینی سفیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان روابط کے فروغ میں پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے خطے اور دنیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔اس موقع پر سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے عزم کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ترجمان کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعاون خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
-

بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا “آپریشن سندور” میں بھاری شکست کا اعتراف
آپریشن سندور میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے متنازع بیانات میں واضح نظر آتی ہے۔
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے باڈی لینگویج میں اعتماد کی کمی اور کانپتی ہوئی آواز نے شکست خوردہ ذہنیت کو بے نقاب کر دیا۔بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے آپریشن سندور میں ہونے والی ناکامی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا “مستقبل کے چیلنجز مختلف ہوں گے؛ ہمیں پرانے سندور کو بھول کر نئے سندور کی تیاری کرنی چاہیے۔”
شکست کی ذمہ داری ٹیکنالوجی پر ڈالنا اور جدید ٹیکنالوجی کو واحد حل کے طور پر پیش کرنا ایک غیر حقیقی مؤقف ہے۔تینوں افواج (بری، بحری اور فضائی) کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی بات کرنا دراصل ناکامی کے کھلے اعتراف کے مترادف ہے۔“نئے سندور” کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ماضی کی شکست اور شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عملی خامیوں کو تکنیکی جواز کے پیچھے چھپانا ایک غیر پیشہ ورانہ، شرمناک اور بزدلانہ طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی کمی نے آپریشن سندور میں تاریخی ناکامی کو جنم دیا۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی ایسے بیانات کو قابلِ اعتبار بنانے کے بجائے محض خود کو اہم ظاہر کرنے کی کوشش بناتی ہے۔یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت نے اس ناکامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، جبکہ پاکستان کی جانب سے خبردار کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی مہم جوئی کا سخت، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔