Baaghi TV

Blog

  • مذاکرات کیلئے فی الحال پاکستان جانے کا ارادہ نہیں، ثالث کار پاکستان کو بتادیا، ایران

    مذاکرات کیلئے فی الحال پاکستان جانے کا ارادہ نہیں، ثالث کار پاکستان کو بتادیا، ایران

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کا اب تک امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا پلان نہیں ہے، مذاکرات کیلئے فی الحال پاکستان جانے کا ارادہ نہیں، ثالث کار پاکستان کو بتادیا،

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا، ایران کا اب تک امریکا سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا پلان نہیں ہے، مذاکرات کیلئے فی الحال پاکستان جانے کا ارادہ نہیں، ثالث کار پاکستان کو بتادیا، امریکا اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر اصرار کررہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، ایران کو امریکا پر اعتماد نہیں ہے، امریکا اور اسرائیل، ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کا مؤقف اور مطالبات بدلتے رہتے ہیں جو بات چیت کی راہ میں رکاوٹ ہیں، آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں، امریکی افواج کی جانب سے کسی بھی احماقانہ اقدام کا ایرانی افواج جواب دیں گی۔

  • دلہن کے کمرے میں لڑکے گھس گئے،دولہا کی دھمکی،دلہن کا انکار،نہ ہوئی شادی

    دلہن کے کمرے میں لڑکے گھس گئے،دولہا کی دھمکی،دلہن کا انکار،نہ ہوئی شادی

    بہار: بھارتی ریاست بہار کے ضلع ویشالی میں شادی کی ایک تقریب اس وقت میدانِ جنگ میں تبدیل ہوگئی جب دولہے کے ایک جملے پر دلہن نے نکاح سے انکار کردیا، جس کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان شدید جھڑپ شروع ہوگئی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریب ایک بینکوئٹ ہال میں جاری تھی جہاں بارات کا استقبال کیا گیا، مہمانوں نے کھانا کھایا اور جے مالا کی رسم بھی خوش اسلوبی سے مکمل ہوئی۔ تاہم خوشی کا ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب بارات کے دو نوجوان مبینہ طور پر دلہن کے کمرے میں داخل ہوگئے،لڑکی والوں نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے دونوں افراد کو باہر نکال دیا، جس پر تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ ہاتھا پائی میں بدل گیا اور دونوں فریق آمنے سامنے آگئے،عینی شاہدین کے مطابق ہال میں کرسیاں چلیں، لاٹھیاں برسیں اور شدید افراتفری پھیل گئی، جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ ہال کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسی دوران دولہا غصے میں آگیا اور اس نے دلہن کو دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ "شادی کے بعد ٹھیک کردیں گے”۔ یہ جملہ سن کر دلہن نے فوری طور پر شادی سے انکار کردیا،اہل خانہ نے معاملہ سنبھالنے اور دلہن کو منانے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ بعد ازاں پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پایا،پولیس نے دونوں خاندانوں کو تھانے منتقل کیا جہاں رات گئے تک مذاکرات جاری رہے، لیکن کشیدگی بڑھنے کے باعث شادی دوبارہ شروع نہ ہوسکی۔ آخرکار دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے شادی منسوخ کرنے پر اتفاق کرلیا۔

  • اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا کہ تصویر ایک اسرائیلی فوجی کی ہے جو جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کے دوران لی گئی ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔

    کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتےشاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟-

    یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایااسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔

    دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

  • ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    تہران میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت سنا دی گئی-

    ایرانی عدالتی ذرائع کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے حساس معلومات دشمن ملک تک پہنچائیں جسے قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا ہے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دونوں افراد کو سزائے موت کا حکم دیا حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس نوعیت کے مقدمات اور فیصلے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

  • ایران کا امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ،ریڈلائنز بھی بتا دیں

    ایران کا امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ،ریڈلائنز بھی بتا دیں

    ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا ساتھ ہی اپنی ریڈ لائنز بھی بتادیں۔

    ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کسی بھی قیمت پر بات چیت کرے، اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا دارومدار امریکی مذاکرات کاروں اور مثبت پیغامات پر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران نے جو حدود واضح کی ہیں اُن کا احترام لازمی ہے، لبنان جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط میں سے ہیں، سابقہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو سمجھیں گے ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

    ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف بھی کہہ چکے ہیں کہ بات چیت تب ہی کریں گے جب دوبارہ حملے نہ ہونے کی یقین دہانی ہو۔محمد رضا عارف کا کہنا تھا آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دشمن اب مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات کی، جس میں اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے سیکیورٹی انتظامات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔محسن نقوی اور نیٹلی بیکر کے درمیان ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کے فروغ، خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ امریکی سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام خاص مہمانوں کیلئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں، اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں۔محسن نقوی نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے سیکیورٹی انتظامات سے آگاہ کیا۔

    واضح رہے کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا، امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر خود بھی پاکستان جانے کا عندیہ دے چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔امریکی صدر کہتے ہیں معاہدہ ضرور ہوگا۔ تہران نے بھی واضح کیا ہے کہ مذاکرات کیلئے لبنان میں جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

  • مودی سرکار کا عالمی سطح پر بھی نااہلی،ناکامی کا اظہار

    مودی سرکار کا عالمی سطح پر بھی نااہلی،ناکامی کا اظہار

    مودی سرکار نے بھارتی معیشت اور انتظامی مشینری کو نقصان پہنچانے کے بعد عالمی سطح پر بھی اپنی نااہلی اور ناکامی کا اظہار کر دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق بھارتی حکومت نے کوپ 33 کی میزبانی کی اپنی پیشکش واپس لے لی ہے جو 2028 میں منعقد ہونا تھی،انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ فیصلہ ایک واضح یوٹرن قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2023 میں دبئی میں ہونے والی کانفرنس کے دوران 2028 کی کانفرنس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی،بھارتی جریدے کے مطابق یہ اقدام صرف ایک بین الاقوامی ایونٹ کی منسوخی تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے،رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت پہلے ہی 2035 کے لیے اپنے قومی ماحولیاتی اہداف جمع کرانے کی دو ڈیڈ لائنز کو نظر انداز کر چکا ہے، جو اس کی ماحولیاتی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    عالمی ماہرین کے مطابق کانفرنس کی میزبانی سے دستبرداری موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات اور گلوبل ساؤتھ کے نمائندہ ہونے کے بھارتی دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنی ماحولیاتی ذمہ داریوں اور عملی اقدامات کے درمیان موجود تضاد پر بحث سے بچنا چاہتا ہے،واضح رہے کہ دہلی فضائی آلودگی کے باعث دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے اور اس کی آلودگی پورے خطے کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

  • یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    یک دل و یک جان سعودی عرب اور پاکستان،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    عالمی سیاست کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے منظرنامے میں کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں جو محض سفارتی یا مفاداتی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کی جڑیں تاریخ، عقیدے،مذہب اور مشترکہ اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق بھی اسی نوعیت کا ایک لازوال رشتہ ہے ایک ایسا رشتہ جسے بجا طور پر ’’ یک دل و یک جان ‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ہر آن، ہر لمحہ اور ہردم بدلتے حالات کے تناظر میں دنیا اس بات کا مشاہدہ کررہی ہے کہ واقعتا سعودی عرب اور پاکستان’’ یک دل ویک جان ‘‘ ہیں ۔ امریکہ کے حملوں کی آڑ میں ایران نے سعودی عرب کی تیل اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایسے حساس وقت میں جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا وہاں کور کمانڈر کانفرنس میں بھی سعودی عرب کے ساتھ بھر پورطریقے سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ۔ یہ اظہار یکجہتی نہ صرف ایک بروقت اقدام تھا بلکہ ایک ایسی ذمہ دار ا نہ ا ور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کا بھی عکاس ہے جس کی بنیاد سعودی عرب کے ساتھ بے لوث محبت پر رکھی گئی ہے ۔ یہ یکجہتی محض رسمی بیان نہیں بلکہ اس امر کا واضح اعلان تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی پر خطرات کے منڈلاتے سائے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے ۔ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پاکستان کی متوازن اور مدبرانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی تھا اور اس امر کا اظہار بھی تھا کہ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے ۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی محض رسمی بیان نہ رہا بلکہ چند ہی دن بعد دنیا نے اس وقت اسے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا جب پاکستان کے شاصہین صفت لڑاکا طیارے سعودی سرزمین پر اترے اور فضائوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ یہ محض ایک عسکری سرگرمی نہ تھی بلکہ ایک بھرپور پیغام تھا۔۔۔۔اتحاد کا۔۔۔۔ اعتماد کا ۔۔۔۔اور مشترکہ دفاع کا۔ یہ لمحہ دراصل اس دیرینہ رفاقت کا عملی اظہار تھا جو آزمائش کی ہر گھڑی میں سرخرو رہی ہے۔یہ طیارے جن میں JF-17 تھنڈر اور F-16 جیسے جدید شاہکار شامل ہیں صرف دھات اور مشینری کا مجموعہ نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری مہارت، خودانحصاری اور دفاعی خودداری کے جیتے جاگتے مظاہر ہیں۔ جب یہ شاہین فضائوں میں پرواز کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے تو ہر پاکستانی کا دل فخر وانبساط سے بھر گیا ۔ اب الحمد للہ پاک فوج کے چنیدہ اور تربیت یافتہ دستے سعودی عرب میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کسی جارحیت کی علامت نہیں بلکہ امن، تربیت اور دفاعی ہم آہنگی کا استعارہ ہے۔ یہ شاہین صفت جوان اپنی مہارت، نظم و ضبط اور تجربے کے ذریعے سعودی افواج کے ساتھ ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں جو کسی بھی ممکنہ خطرے کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ کنگ عبدالعزیز جیسے اسٹریٹجک ایئر بیس کا انتخاب خود اس تعاون کی سنجیدگی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خلیجی خطے کے قریب واقع یہ ائیر بیس دفاعی اعتبار سے کلیدی حیثیت بھی رکھتا ہے اور عالمی سطح پر بھی ایک اہم عسکری مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں پاکستانی طیاروں کی موجودگی دراصل ایک واضح اعلان ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں یک دل اور یک جان ہیں اور دونوں ممالک کسی بھی چیلنج کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ عسکری اشتراک صرف ہتھیاروں اور مشقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط نظریاتی اور جذباتی رشتہ بھی کارفرما ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ پر استوار ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھا ہے یہی جذبہ آج بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔ آج جب دنیا طاقت کے توازن کی نئی صف بندیوں میں مصروف ہے پاکستان کا یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بھی کرتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایک ذمہ دار، قابلِ اعتماد اور عسکری اعتبار سے مضبوط ومستحکم ریاست ہونے کا تاثر بھی اجاگر کرتا ہے۔دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات سے دنیا کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ آل سعود خادم الحرمین ہیں تو پاکستان کو اللہ نے محافظ الحرمین کا اعزاز بخشا ہے ۔

    دوسری طرف سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کا سچااور مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ خوشی ہو یا غم سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے ۔ آج اگر پاکستان دنیا میں سربلند ہے تو سعودی عرب کی بدولت ہے کہ جس کے تعاون سے پاکستان ایک مضبوط عسکری قوت اور ملک بنا ہے ۔ اس وقت پاکستان معاشی اعتبار سے مشکلات کا شکار ہوا تو سب سے پہلے سعودی عرب ہی پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے آگے بڑھا دو ارب ڈالر امداد دی اور تین ارب ڈالر قرضے روول اوور کئے ۔

    مذہبی ، سفارتی ، دفاعی اور عسکری تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک نہایت اہم ستون ہے۔ 1960 ء کی دہائی سے ہی پاکستان نے سعودی عرب کی فوجی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں معاونت فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ پاکستانی فوجی ماہرین اور ٹرینرز سعودی عرب میں تعینات رہے جہاں انہوں نے سعودی افواج کو جدید جنگی مہارتوں سے آراستہ کیا۔ 1982 ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان نے سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں تعینات رہی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    1990 ء کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک کا تعلق محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں بھی جھلکتا ہے۔
    حالیہ برسوں میں مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصا امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کو ایک نازک صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ ایسے حساس موقع پر پاکستان نے نہایت دانشمندانہ اور متوازن پالیسی اپنائی تاہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کو برقرار رکھا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی سعودی موقف کی حمایت کی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بھی فعال کردار ادا کیا۔ یہ ایک نازک توازن تھا، جس میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی پختگی اور بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی قابلِ رشک ہے۔ عالمی فورمز پر بھی پاکستان اور سعودی عرب اکثر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ہو یا امتِ مسلمہ کو درپیش دیگر چیلنجز سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کو اہمیت دی ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ بھی اسی دیرینہ تعلق کا تسلسل ہے ۔ وزیراعظم نے سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    آج جب دنیا مختلف سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا ’’ یک دل، یک جان ‘‘ کا رشتہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے یہ تعلق نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے استحکام، اتحاد اور امید کی علامت ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض دو ممالک کا تعلق نہیں بلکہ دو دلوں کی دھڑکن، دو قوموں کی امید اور ایک امت کی مشترکہ طاقت کا مظہر ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھرتا ہے۔

  • تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    تبصرہ کتب،حجیت ِ حدیث یعنی شریعتِ اسلامیہ میں حدیثِ رسول ﷺ کا مقام ومرتبہ

    اسلامی علوم میں سب سے اہم اور بنیادی حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے۔ قرآنِ کریم شریعتِ اسلامیہ کی اساس ہے تو حدیثِ رسول ﷺ اس کی شرح، وضاحت اور عملی تفسیر ہے ۔ انہی دو سرچشموں سے امتِ مسلمہ کا دینی و اخلاقی نظام تشکیل پاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب "جیتِ حدیث” میں نامور محدث و محقق شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد نے نہایت مدلل، علمی اور تحقیقی انداز میں سنتِ رسول ﷺ کی حجیت، اہمیت اور استنادی حیثیت کو ثابت کیا ہے۔یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں ’’ حدیث کی استنادی حیثیت قرآن و سنت اور عملِ صحابہ کی روشنی میں ‘‘ پر گفتگو کی گئی ہے ۔ شیخ الحدیث ابو حماد حافظ عبدالستار حماد نے حدیثِ نبوی ﷺ کی حیثیت کو قرآنِ مجید کے ساتھ تعلق کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ صاحب کتاب نے عملِ صحابہ رضی اللہ عنہ کی روشنی میں مدلل انداز میں بتایا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہر معاملے میں حدیثِ رسول ﷺ کو فیصلہ کن حجت مانا۔ وہ قرآن کے بعد سنت کو ہی قانون و شریعت کا دوسرا بنیادی ماخذ سمجھتے تھے۔کتاب کا دوسرا حصہ ’’ فتنہ انکارِ حدیث ،اسباب، شبہات و مغالطات کا مدلل جواب‘‘ پر مشتمل ہے ۔ یہ باب آج کے فکری و اعتقادی انتشار کے پس منظر میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکارِ حدیث کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اس فتنہ کی جڑیں ابتدا میں خارجی اور معتزلی فکر میں پائی جاتی ہیں۔اس باب میں انھوں نے انکارِ حدیث کے اہم شبہات جیسے:حدیث انسانی یادداشت کا نتیجہ ہے، وحی نہیں، قرآن کافی ہے، منصب رسالت سے بے اعتنائی ، سنت کی ضرورت نہیں، محدثین نے حدیث بعد میں جمع کی اور منکرین حدیث کی خود ساختہ اصطلاح ’’ مرکزملت ‘‘ کا نہایت علمی و عقلی تجزیہ کرتے ہوئے دلائلِ قرآن و سنت، تاریخِ حدیث اور علمِ رجال کی روشنی میں مکمل اور مدلل رد کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ حدیث دراصل وحیِ غیر متلو ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے قلب پر نازل فرمایا۔اس باب میں منکرین کے دس اعتراضات کے مدلل جوابات بھی دیے گئے ہیں ۔انھوں نے مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے کہ اگر سنت کو نظر انداز کر دیا جائے تو قرآنِ کریم کی بہت سی آیات کا عملی فہم ممکن ہی نہیں رہتا مثلاً نماز، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق اور حدود کے احکام۔حقیقت یہ ہے کہ شیخ عبد الستار حماد کا اسلوب واضح، مدلل، اور اعتدال پر مبنی ہے ایک طرف یہ کتاب حدیث کے علمی مقام کو سمجھنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف فتنہ انکارِ حدیث کا توڑ بھی ہے ۔مختصر یہ کہ "حجیت ِ حدیث ” ایک ایسی جامع، مدلل اور ایمان افروز تصنیف ہے جو علمِ حدیث کے دفاع میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ کتاب صرف محدثین اور طلبہ کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس مسلمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ سنتِ رسول ﷺ شریعت کا زندہ اور لازمی حصہ ہے۔کتاب میں جہاں عقلی استدلال موجود ہے، وہاں نقلی دلائل کی روشنی میں ایمان افروز تاثر بھی نمایاں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر نکتے کو قرآن، حدیث اور آثارِ سلف سے مضبوط کیا گیا ہے۔ہر صفحے پر علمی وقار، ترتیب اور تحقیقی توازن جھلکتا ہے۔جبکہ دارالسلام نے حسبِ روایت اس کتاب کو نہایت معیاری طباعت، دیدہ زیب سرورق اور مستند حوالہ جاتی انداز میں شائع کیا ہے۔اس بیش قیمت علمی کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور سے حاصل کی جاسکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • کالاش رومبور میں نیٹ ورک بحران، فور جی سروس بند

    کالاش رومبور میں نیٹ ورک بحران، فور جی سروس بند

    وادی کالاش کے علاقے رومبور میں ٹیلی نار سروس کی بندش اور فور جی انٹرنیٹ کی خراب صورتحال نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ علاقے کے مختلف مقامات پر موبائل انٹرنیٹ یا تو مکمل طور پر بند ہے یا انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث مقامی افراد اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی صحافی فتح اللہ کے مطابق ماضی میں اس علاقے میں انٹرنیٹ سروس تیز اور ہر جگہ دستیاب تھی، تاہم اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور کئی مقامات پر فور جی سروس غیر فعال ہو چکی ہے، جس سے رابطہ نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کالاش گرام میں قائم ٹیلی نار ٹاور پر بجلی کا کوئی مستقل انتظام موجود نہیں، جبکہ نصب سولر سسٹم بھی ناکارہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں فیول کی فراہمی بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث مواصلاتی نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔فتح اللہ کا کہنا ہے کہ فیول سپلائی کے نظام میں بھی شدید انتظامی مسائل ہیں۔ متعلقہ عملہ اکثر اپنی ڈیوٹی بروقت انجام نہیں دیتا اور چوبیس گھنٹے دستیاب نہیں ہوتا۔ عملے کے مطابق کم تنخواہوں کے باعث وہ دیگر کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے فیول کی ترسیل میں تاخیر اور نظام میں مزید بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔اس صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، آن لائن تعلیم کا نظام ٹھپ ہو چکا ہے جبکہ صحت کے شعبے میں بھی سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ایمرجنسی حالات میں رابطہ نہ ہونے کے باعث بروقت مدد حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔فتح اللہ نے اس امر پر زور دیا کہ فوری طور پر سولر سسٹم کی بحالی، فیول سپلائی کے مؤثر انتظامات، عملے کی بہتر ڈیوٹی شیڈولنگ اور فور جی انٹرنیٹ کی مکمل بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی خاموشی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور پرامن ذرائع سے اپنی آواز بلند کریں تاکہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لے کر مواصلاتی نظام بحال کر سکیں۔

  • راجن پور میں کم عمری کی شادی کی کوشش ناکام، دولہا اور والدین گرفتار

    راجن پور میں کم عمری کی شادی کی کوشش ناکام، دولہا اور والدین گرفتار

    راجن پور کے علاقے بھنڈو والا میں کم عمر لڑکی اور لڑکے کی شادی کروانے کی کوشش کو بارڈر ملٹری پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

    بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے مطابق اطلاع ملنے پر اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور جاری شادی تقریب رکوا دی۔ کارروائی کے دوران دولہا، نکاح خواں اور دونوں بچوں کے والدین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے کم عمری کی شادی پر پابندی کا آرڈیننس منظور کیا تھا۔ آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی نہیں ہو سکے گی جبکہ نکاح کے وقت دولہا اور دلہن دونوں کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔قانون کے تحت کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم ہے اور اس پر کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی۔ کم عمر نکاح رجسٹر کرنے والے رجسٹرار اور نکاح خواں کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔