بہار: بھارتی ریاست بہار کے ضلع ویشالی میں شادی کی ایک تقریب اس وقت میدانِ جنگ میں تبدیل ہوگئی جب دولہے کے ایک جملے پر دلہن نے نکاح سے انکار کردیا، جس کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان شدید جھڑپ شروع ہوگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریب ایک بینکوئٹ ہال میں جاری تھی جہاں بارات کا استقبال کیا گیا، مہمانوں نے کھانا کھایا اور جے مالا کی رسم بھی خوش اسلوبی سے مکمل ہوئی۔ تاہم خوشی کا ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب بارات کے دو نوجوان مبینہ طور پر دلہن کے کمرے میں داخل ہوگئے،لڑکی والوں نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے دونوں افراد کو باہر نکال دیا، جس پر تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ ہاتھا پائی میں بدل گیا اور دونوں فریق آمنے سامنے آگئے،عینی شاہدین کے مطابق ہال میں کرسیاں چلیں، لاٹھیاں برسیں اور شدید افراتفری پھیل گئی، جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ ہال کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسی دوران دولہا غصے میں آگیا اور اس نے دلہن کو دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ "شادی کے بعد ٹھیک کردیں گے”۔ یہ جملہ سن کر دلہن نے فوری طور پر شادی سے انکار کردیا،اہل خانہ نے معاملہ سنبھالنے اور دلہن کو منانے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ بعد ازاں پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پایا،پولیس نے دونوں خاندانوں کو تھانے منتقل کیا جہاں رات گئے تک مذاکرات جاری رہے، لیکن کشیدگی بڑھنے کے باعث شادی دوبارہ شروع نہ ہوسکی۔ آخرکار دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے شادی منسوخ کرنے پر اتفاق کرلیا۔
