ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا ساتھ ہی اپنی ریڈ لائنز بھی بتادیں۔
ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کسی بھی قیمت پر بات چیت کرے، اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا دارومدار امریکی مذاکرات کاروں اور مثبت پیغامات پر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران نے جو حدود واضح کی ہیں اُن کا احترام لازمی ہے، لبنان جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط میں سے ہیں، سابقہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو سمجھیں گے ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف بھی کہہ چکے ہیں کہ بات چیت تب ہی کریں گے جب دوبارہ حملے نہ ہونے کی یقین دہانی ہو۔محمد رضا عارف کا کہنا تھا آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دشمن اب مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات کی، جس میں اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے سیکیورٹی انتظامات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔محسن نقوی اور نیٹلی بیکر کے درمیان ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کے فروغ، خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ امریکی سفیر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کے مخلصانہ کردار کو سراہا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام خاص مہمانوں کیلئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں، اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں۔محسن نقوی نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے سیکیورٹی انتظامات سے آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا، امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر خود بھی پاکستان جانے کا عندیہ دے چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔امریکی صدر کہتے ہیں معاہدہ ضرور ہوگا۔ تہران نے بھی واضح کیا ہے کہ مذاکرات کیلئے لبنان میں جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
