Baaghi TV

Blog

  • یو اے ای اور چین کے درمیان 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط

    یو اے ای اور چین کے درمیان 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط

    متحدہ عرب امارات اور چین نے دوطرفہ غیر تیل تجارت کو 100 بلین ڈالر سے زائد تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط کیے ہیں،جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اور قدم ہے۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری میں اضافے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد تجارتی حجم کو بلند ترین سطح پر لانا ہے ان معاہدوں کا اعلان ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کے سرکاری دورے کے ساتھ بیجنگ میں منعقدہ یو اے ای-چین بزنس پروموشن کانفرنس کے دوران کیا گیا، جو ایک سینئر وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان شراکت داری پچھلی دہائی کے دوران مسلسل بڑھی ہے، جس کی حمایت بڑھتے ہوئے تجارتی حجم اور سیکٹر کے روابط میں توسیع سے ہوئی ہے،خارجہ تجارت کے وزیر ڈاکٹر تھانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ تعلقات ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں-

    قبل ازیں چینی وزیر خا رجہ وانگ ای نے بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے صدر کے چینی امور کے خصوصی ایلچی خالدون المبارک سے ملاقات کی ۔خالدون المبارک متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کے دورہ چین میں ان کے ہمراہ ہیں ۔ پیر کے روز وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی حکمت عملی کی رہنمائی میں ، چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ترقی کی جانب گامزن رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے ایک اہم دورہ ہے۔

    وانگ ای نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے یہ دورہ کامیاب ہوگا۔چینی وزیر خارجہ نے مشرق وسطی کے موجودہ حالات پر چینی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین خلیجی عرب ممالک کی جائز حفاظتی تشویش کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور متحدہ عرب امارات کی قومی خود مختار ی، سلامتی اور جائز حقوق کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد کے مطابق نہیں ہے، اور مسئلہ کے حل کا بنیادی طریقہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے مکمل اور دیرپا جنگ بندی کا حصول ہے ۔

    وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ امن کے قیام اور جنگ روکنے میں سرگرم رہا ہے، اور دیگر ممالک بشمول متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر مشرق وسطی کے حالات کو جلد از جلد امن اور استحکام کی جانب واپس لانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے-

  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر چین میں تیار کردہ ایک جدید جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس حاصل کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیک شدہ ایرانی عسکری دستاویزات کے مطابق یہ نظام 2024 کے آخر میں پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا یہ سیٹلائٹ،جسے ٹی ای ای-01بی کہا جاتا ہےچین سےخلا میں بھیجنے کےبعد ایک نجی کمپنی کے ذریعے ایران کے کنٹرول میں آیایہ سیٹلائٹ تقریباً آدھے میٹر ریزولوشن کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایران کے اپنے موجودہ سیٹلائٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ایرانی عسکری کمانڈروں نے مارچ کے دوران اس سیٹلائٹ کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی ان میں پرنس سلطان ایئر بیس اور دیگر اہم عسکری تنصیبات شامل ہیں، جہاں حالیہ کشیدگی کے دوران حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

    سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی چینی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا نظام صرف زرعی، سمندری اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوجی استعمال بھی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے اس منصوبے کے لیے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت حاصل کیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق چین کی بعض کمپنیوں اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنازعات میں اضافے کے بجائے امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

  • محسن نقوی کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات

    محسن نقوی کی چینی قونصل جنرل سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں چینی قونصل خانے کے دورے کے دوران چینی قونصل جنرل یانگ یونڈونگ سے ملاقات کی-

    محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کے حل اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے جلد اسلام آباد میں ایک خصوصی کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں چینی بزنس کمیونٹی کو مدعو کیا جائے گا ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری کے فروغ، سیکیورٹی صورتحال اور چینی شہریوں کو درپیش امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی،وزیرِ داخلہ نے کراچی میں مقیم چینی تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی سہو لت اور تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے-

    انہوں نے قونصل جنرل اور چینی سرمایہ کاروں کو مجوزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی محسن نقوی نے اس موقع پر پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاک چین تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ، اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے،وزیراعظم

    ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ، اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے، اس کی حفاظت ہمارا فرض اور ایک ایک پائی کا حساب دینا ذمہ داری ہے۔

    اجلاس کے موقع پر اوور انوائسنگ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی،اجلاس میں وفاقی وزراء مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 2017 سے 2022 کے دوران اوور انوایسنگ کامکروہ دھندا چلتا رہا اور متعلقہ ادارے اپنے فرائض سے مسلسل غافل رہےانہوں نے اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی تیز کر نے کی ہدایت کی۔

    انہوں نے مشتاق احمد سکھیرا کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کی توصیف کی جبکہ شاہد خان کی سربراہی میں غفلت کے مرتکب افراد اور اداروں کا تعین کرنے اور انکے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنا کر جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی وزیراعظم نے زور دیا کہ ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنے کے جامع حکمت عملی بنائی جائے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ فائننشل مونیٹرنگ یونٹ( FMU) کو ایک فعال ادارہ بنایا جائے اور اس میں ایف آئی اے اور انٹیلیجنس بیورو کے نمائندے بھی شامل کیے جائیں،اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی ار نے سنٹرلائز ڈپرائس ویریفکیشن پورٹل بنایا ہے،جون کے آخر تک یہ پورٹل بینکوں کے ساتھ منسلک ہو جائے گا ایف بی آر کے پوسٹ کلیرنگ آڈٹ ونگ نے اکتوبر 2022 میں اس اوور انوائسنگ دھندے کی نشاندہی کی اس دوران مرتکب افراد کے خلاف 13 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں ، اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • صحت سے متعلق افواہیں،فلپائنی صدر نے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے

    صحت سے متعلق افواہیں،فلپائنی صدر نے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے

    منیلا: فلپائن کے صدر مارکوس نے اپنی صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 68 سالہ صدر نے پریس کانفرنس میں جمپنگ جیکس لگا کر دکھائے اور اپنے دفتر کے باہر صحافیوں کی موجودگی میں ہلکی دوڑ بھی لگائی انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کی بیماری سے متعلق دعوے کر رہے ہیں وہ آ کر ان کے ساتھ ورزش کریں ان کے بیمار یا مفلوج ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں انہوں نے صحافیوں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ جم جا کر دیکھیں کہ کون بہتر انداز میں ورزش کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں کچھ عرصہ عوامی نظروں سے اوجھل رہنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی صحت اور حتیٰ کہ وفات سے متعلق افواہیں گردش کر رہی تھیں،بعد ازاں صدر نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ انہیں پیٹ کی تکلیف کے باعث اسپتال جانا پڑا، جس کی وجہ انہوں نے ذہنی دباؤ اور عمر کو قرار دیا۔

  • ایران کی یورینیئم افزودگی روکنے کا فیصلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہوگا، رافیل گروسی

    ایران کی یورینیئم افزودگی روکنے کا فیصلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہوگا، رافیل گروسی

    جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی یورینیئم افزودگی روکنے کا فیصلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہوگا، تکنیکی اعتبار سے 5، 10 یا 20 سال میں کوئی خاص فرق نہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اعتماد کی سطح کیا ہے-

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان افزودگی کی معطلی پر بات چیت جاری ہے تو اس کی مدت (5، 10 یا 20 سال) کے حوالے سے تکنیکی طور پر کوئی بڑا فرق نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر سیاسی اعتماد کا معاملہ ہےجب بات معطلی کی آتی ہے تو یہ ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے، تکنیکی اعتبار سے 5، 10 یا 20 سال میں کوئی خاص فرق نہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اعتماد کی سطح کیا ہے گروسی نے واضح کیا کہ وہ ان مذاکرات کا براہ راست حصہ نہیں، اس لیے ان کی تفصیلات کی تصد یق نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات جو کئی برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے براہ راست رابطے تھے، کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات کو حل کرنا تھا تاہم یورینیئم افزودگی کے معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں امریکا طویل المدتی پابندیوں کا خواہاں ہے جبکہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت اپنے حق پر قائم ہے۔

    رافیل گروسی نے زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی کامیابی کے لیے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رسائی اور نگرانی لازمی ہوگی بغیر تصدیق کے کوئی بھی معاہدہ محض ایک کاغذ یا وعدہ ہوگا، بصورت دیگر یہ حقیقی معاہدہ نہیں بلکہ اس کا محض تاثر ہوگا ایران کے وسیع جوہری پروگرام کے باعث اس کی تنصیبات اور جوہری مواد کی مکمل نگرانی ضروری ہوگی، اور ادارہ اس ضمن میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ایران کےموجودہ ذخیرے کے حوالے سے گروسی نےکہا کہ ادارے کے اندازے کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کا بڑا حصہ اب بھی انہی تنصیبا ت میں موجود ہے، خاص طور پر اصفہان میں، جہاں یہ پہلے محفوظ تھاانہوں نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2009 میں معائنہ کاروں کے اخراج کے باوجود وہاں سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    گروسی کے مطابق یونگ بیون کے 5 میگاواٹ ری ایکٹر، ری پروسیسنگ یونٹ اور لائٹ واٹر ری ایکٹر سمیت دیگر تنصیبات میں سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو درجنوں وارہیڈز تک پہنچ سکتی ہے یونگ بیون میں یورینیئم افزودگی کے ایک نئے پلانٹ جیسی تنصیب کی تعمیر دیکھی گئی ہے، جس سے اس کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم زمینی رسائی نہ ہونے کے باعث درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔

    روس اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ جوہری تعاون کے حوالے سے گروسی نے کہا کہ ادارے کو فوجی نوعیت کے کسی تعاون کے شواہد نہیں ملے، تاہم سویلین منصوبوں سےمتعلق حوالہ جات ضرور موجود ہیں اگردونوں ممالک کےدرمیان کوئی تعاون موجود ہےتو صرف پرامن مقاصد تک محدود رہنا چاہیے۔

    گروسی نے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بحالی کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کا دوبارہ آغاز ضروری ہے جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے لیے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ خصوصی انتظامات ضروری ہوں گے تاکہ جوہری مواد کا غلط استعمال نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے طویل المدتی ہوتے ہیں اور ان میں تحقیق، تجربات اور ریگولیٹری ہم آہنگی کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں، جو کئی برسوں پر محیط ہو سکتے ہیں،گروسی نے آسٹریلیا کے آکس معاہدے اور برازیل کے مقامی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کا جوہری آبدوز پروگرام تکنیکی اور سیاسی اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور سعودی ولی عہد کا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کا کردار: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید
    سعودی عرب کی متوازن حکمتِ عملی: جنگ کے بجائے سفارتکاری
    خطے کے بحران میں دانشمند قیادت: محمد بن سلمان کا وژن
    تجزیہ شہزاد قریشی
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بدامنی، کشیدگی اور جنگی حالات کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے نازک اور حساس وقت میں علاقائی قیادت کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بحرانی صورتحال میں جس حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف محتاط بلکہ دوراندیشی پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
    سعودی عرب، جو کہ عالمِ اسلام کی ایک اہم اور بااثر طاقت ہے، اگر چاہتا تو براہِ راست کسی بھی تنازع میں فریق بن سکتا تھا، مگر موجودہ قیادت نے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی پالیسی میں توازن، تحمل اور مکالمے کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

    ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک طرف اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا، تو دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مختلف علاقائی قوتوں کے درمیان رابطوں کا فروغ، اس پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اب محض ایک تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی قوت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

    مزید برآں، سعودی قیادت نے عالمی سطح پر بھی امن کے پیغامات کو تقویت دی ہے۔ جنگی ماحول میں ثالثی کی پیشکش اور مذاکرات کی حمایت، اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اب تنازعات کے حل میں ایک کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب ایک نئی سمت کی طرف گامزن ہے، جہاں جنگ کے بجائے استحکام، معیشت اور ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ موجودہ حالات میں یہ طرزِ عمل نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی ایک کرن بن سکتا ہے۔

  • ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک نافذ

    ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک نافذ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی اور ریگولیٹڈ دائرہ کار میں لانے کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا ہے-

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کو ورچوئل اثاثہ سروس پرووائیڈرز (VASPs) کی لائسنسنگ اور نگرانی کی مکمل ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کے تحت اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے صرف لائسنس یافتہ وی اے ایس پیز کے ساتھ اکاؤنٹس کھول سکیں گے، جبکہ بینکوں کے لیے ایسے اداروں کی تصدیق اور ریگولیٹری منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بینکوں کو وی اے ایس پیز کی مکمل جانچ پڑتال اور مسلسل نگرانی کرنا ہوگی تاکہ ریگولیٹری تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے، صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس رکھنا لازمی ہوگا اور مختلف رقوم کو آپس میں ملانے کی سختی سے ممانعت ہوگی، ان اکاؤنٹس میں تمام لین دین پاکستانی روپے میں ہوگا جبکہ نقد رقم جمع کروانے یا نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ مشکوک مالی سرگرمیوں کی صورت میں رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو ارسال کرنا لازم ہوگا، بینک یا مالی ادارے صارفین کے فنڈز کو ورچوئل اثاثوں میں براہِ راست سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے، اور تمام اداروں کے لیے نئے قواعد پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔

  • پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز

    پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز

    عالمی سفارتکاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور دوست ممالک کی جانب سے مالی تعاون کے اعلانات نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بلند سطح پر پہنچا دیا-

    سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کےبعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل دوسرے روز تیزی کا رجحان جاری ہے،مارکیٹ میں تیزی کا یہ تسلسل دوسرے روز بھی برقرار رہا –

    بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جہاں انڈیکس 5,005 پوائنٹس کے غیر معمولی اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا،گزشتہ روز بھی انڈیکس میں 5 ہزار پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح محض 2 کاروباری دنوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    بزنس ریکارڈ کے مطابق مارکیٹ میں بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے جس میں سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری جیسے اہم شعبے شامل رہے۔ انڈیکس کے بڑے حصص بشمول اے آر ایل، پی آر ایل، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ماری، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

    ایک اہم پیش رفت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کرائی ہے جن کی منتقلی آئندہ ہفتے متوقع ہے، پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹس اب سالانہ رول اوور (توسیع) کے سابقہ انتظامات کے پابند نہیں رہیں گے بلکہ اس کے بجائے ان کی مدت میں طویل عرصے کے لیے توسیع کر دی جائے گی۔

  • پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں،اسحاق ڈار

    پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹراسحاق ڈار پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں-

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وزارتِ خارجہ میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں علاقائی صورتحال اور حالیہ سفارتی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف سفارتی امور پر بریفنگ دی گئی اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جاری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اہم خارجہ پالیسی امور پر فعال اور پیشگی سفارتی رابطے جاری رکھنے چاہئیں تاکہ قومی مفادات کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔