اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی اور ریگولیٹڈ دائرہ کار میں لانے کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا ہے-
میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کو ورچوئل اثاثہ سروس پرووائیڈرز (VASPs) کی لائسنسنگ اور نگرانی کی مکمل ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کے تحت اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے صرف لائسنس یافتہ وی اے ایس پیز کے ساتھ اکاؤنٹس کھول سکیں گے، جبکہ بینکوں کے لیے ایسے اداروں کی تصدیق اور ریگولیٹری منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بینکوں کو وی اے ایس پیز کی مکمل جانچ پڑتال اور مسلسل نگرانی کرنا ہوگی تاکہ ریگولیٹری تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے، صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ کلائنٹ منی اکاؤنٹس رکھنا لازمی ہوگا اور مختلف رقوم کو آپس میں ملانے کی سختی سے ممانعت ہوگی، ان اکاؤنٹس میں تمام لین دین پاکستانی روپے میں ہوگا جبکہ نقد رقم جمع کروانے یا نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مشکوک مالی سرگرمیوں کی صورت میں رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو ارسال کرنا لازم ہوگا، بینک یا مالی ادارے صارفین کے فنڈز کو ورچوئل اثاثوں میں براہِ راست سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے، اور تمام اداروں کے لیے نئے قواعد پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔
