Baaghi TV

Blog

  • بلوچ قوم محب وطن،محرومیوں کے ازالے کی ضرورت ہے،سیف اللہ قصوری

    بلوچ قوم محب وطن،محرومیوں کے ازالے کی ضرورت ہے،سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا علمبردار،امریکا ،ایران کے مابین مذاکرات کے لئے دوبارہ اسلام آباد کی کوششیں قابل تحسین ہیں،بلوچستان پاکستان کا دل،بلوچ قوم محب وطن،محرومیوں کے ازالے کی ضرورت ہے، مرکزی مسلم لیگ بلوچستان سمیت تمام صوبوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی، کارکنان بھر پور طریقے سے تیاری کریں

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں صدر مرکزی مسلم لیگ بلوچستان عقیل احمد لغاری، سردار احمد مجتبی رند، حافظ ادریس، عبداللہ شر و دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان بھی شریک ہوئے، اس موقع پرجنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ کوئٹہ میر شاہجہان گرگناڑی کی طرف سے سیف اللہ قصوری کو روایتی بلوچی دستار بھی پہنائی گئی، اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ دو قومی نظریئے کی بنیاد پر بننے والا ملک پاکستان آج امن کا علمبردار بن کر دنیا کے سامنے کھڑا ہے، امریکا ایران جنگ بندی کے لئے پاکستان کا کردار عالمی دنیا تسلیم کر رہی ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دیں،بلوچستان میں دشمن قوتیں دہشتگردی و تخریب کاری کروا رہی ہیں تا کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جا سکے،مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ نہ صرف دہشت گردی کی مذمت کی بلکہ اس فتنے کے خلاف قوم کو متحد و بیدار بھی کیا،ایک قوم بن کر رہیں گے تو ملک مضبوط ہو گا،دفاع وطن کے لئے اہل بلوچستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں،بلوچستان کی محرومیوں کے خاتمے کے لئے مرکزی مسلم لیگ ہر ممکن کوشش کرے گی، آئی ٹی تربیتی پروگرام شروع کر کے نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں گے،

    سیف اللہ قصوری کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان سمیت پنجاب، خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں مرکزی مسلم لیگ حصہ لے گی،کارکنان اس ضمن میں تیاریاں شروع کر دیں، ہم سیاسی سطح پر کوئی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بھی حصہ لیں گے،عوامی مسائل کے حل کے لئے مرکزی مسلم لیگ کوشاں رہے گی، خدمت کی سیاست ہمارا منشور اور مرکزی مسلم لیگ کی خدمت ملک بھر میں دیکھنے کو ملے گی.

  • عبداللہ ٹاؤن میں سست رفتار ترقیاتی کام، شہری پانی میں گھر گئے

    عبداللہ ٹاؤن میں سست رفتار ترقیاتی کام، شہری پانی میں گھر گئے

    ڈیرہ غازی خان کی یونین کونسل 17 کے علاقے عبداللہ ٹاؤن میں پائپ لائن بچھانے کا ترقیاتی کام جاری ہے، تاہم کام کی سست رفتار نے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ترقیاتی سرگرمیوں کے دوران نالیوں کو بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث گلیوں میں پانی جمع ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف آمد و رفت کو مشکل بنا دیا ہے بلکہ صفائی کے مسائل بھی سنگین ہو گئے ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود نکاسی آب کا کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا، جس سے بدبو پھیل رہی ہے اور بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اہل علاقہ نے واسا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گلیوں میں کھڑے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے اور پائپ لائن بچھانے کے کام کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو مزید پریشانی سے بچایا جا سکے۔

  • میرپورخاص میں معذور افراد کی فلاح کیلئے اہم پیش رفت، MSSWA وفد کی کمشنر سے ملاقات

    میرپورخاص میں معذور افراد کی فلاح کیلئے اہم پیش رفت، MSSWA وفد کی کمشنر سے ملاقات

    میرپورخاص میں معذور افراد کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں میرپورخاص اسپیشل اسپورٹس اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (MSSWA) گلستانِ معذورین کے وفد نے کمشنر میرپورخاص جناب جلال الدین مہر سے ملاقات کی۔وفد کی قیادت خزانچی محمد فیصل نے کی، جبکہ انفارمیشن سیکرٹری جئے رام اور جوائنٹ سیکرٹری جمعہ خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات کے دوران معذور افراد کو بااختیار بنانے، ان کی سماجی شمولیت بڑھانے اور فلاحی اقدامات کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وفد نے MSSWA کی جاری سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ادارہ خصوصی کھیلوں کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے، جن میں وہیل چیئر کرکٹ، وہیل چیئر باسکٹ بال اور دیگر انکلوسیو اسپورٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ معذور افراد میں شعور بیدار کرنے کیلئے سیمینارز اور آگاہی مہمات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔اس موقع پر وفد نے اپنے آئندہ پروگراموں سے بھی کمشنر کو آگاہ کیا اور انتظامی تعاون کی درخواست کی تاکہ ان سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔کمشنر میرپورخاص جلال الدین مہر نے MSSWA کی خدمات کو سراہتے ہوئے معذور افراد کی فلاح کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور جلد ادارے کا دورہ کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

  • امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکی نیوی نے خلیج فارس میں اپنے جدید اور انتہائی مہنگے جاسوس ڈرون کی تباہی کی تصدیق کردی-

    ایرانی نیوز ایجنسی ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق امریکی نیوی کے مطابق MQ-4C ٹرائٹن نامی بغیر پائلٹ نگرانی کرنے والا طیارہ 9 اپریل کو خلیج فارس کے علاقے میں تباہ ہوا، حکام نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے، تاہم اس کے اسباب کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ڈرون کے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز سے غائب ہونے کے بعد متعدد ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، اگرچہ اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واقعے نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ایک انتہائی جدید اور قیمتی ڈرون ہے، جس کی مالیت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی زیادہ قیمت کے باعث اب تک صرف 20 طیارے ہی سروس میں شامل کیے گئے ہیں یہ ڈرون طویل فاصلے تک سمندری نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور 13 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے ساتھ وسیع علاقے پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس میں جدید ریڈار سسٹم، الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ سینسرز نصب ہوتے ہیں جو سمندر میں جہازوں اور دیگر اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ڈرون کے غائب ہونے سے قبل اس کی پرواز میں اچانک تبدیلی آئی اور وہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آتے ہوئے 10 ہزار فٹ سے کم سطح پر پہنچ گیااس دوران ڈرون نے ہنگامی سگنل بھی نشر کیے، جن میں پہلے کمیونیکیشن کی خرابی کا کوڈ اور بعد میں مکمل ایمرجنسی کا کوڈ شامل تھا امریکی نیوی کےمطابق یہ ڈرون خلیج فارس اور آبنائےہرمز میں نگرانی کا مشن مکمل کرنے کےبعد اٹلی کے نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا میں اپنے اڈے کی جانب واپس جا رہا تھا۔

    واضح رہے کہ 2019 میں بھی ایران نے اسی نوعیت کے ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔

  • پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    بی بی سی کی خفیہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ قانونی مشیر پناہ گزینوں کو ہم جنس پرستوں کے طور پر سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کچھ مشیر اور وکیل پناہ گزینوں کو سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے ہم جنس پرست ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ترغیب اور مدد دیتے ہیں یہ پناہ کے قوانین کو غلط استعمال کرنے کی ایک کوشش ہے۔

    تحقیقات میں سامنے آیا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ حکام کو بتائیں کہ انہیں ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے اپنے ملک میں خطرہ ہے، یہ مسئلہ ان پناہ کے متلاشیوں کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے جو واقعی خطرے کا شکار ہیں، برطانوی حکومت نے پناہ کے طریقہ کار میں سختی کی ہے، جس سے اس طرح کے معاملات پر مزید نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اس کے بعد وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعوی کرتے ہوئے پناہ کی درخواست دیتے ہیں اور اگر وہ پاکستان یا بنگلہ دیش واپس لوٹتے ہیں تو انہیں اپنی جانوں کا خطرہ ہے بی بی سی کی اس رپورٹ کے جواب میں ہوم آفس نے کہا کہ "جو کوئی بھی نظام کا استحصال کرنے کی کوشش کرتا پایا گیا اسے قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول برطانیہ سے اخراج بھی۔”

    برطانیہ کا سیاسی پناہ کا عمل ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنے آبائی ممالک واپس نہیں جا سکتے کیونکہ وہ خطرے میں ہوں گے، مثال کے طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں جہاں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق غیر قانونی ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی،پاکستانی طالب علم اور وزٹ ویزا رکھنے والے، وکلاء کی مدد سے، پناہ کے دعوے کرنے کے لیے "شواہد” جمع کرتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرست ہیں-

    لیکن بی بی سی نیوز کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ قانونی مشیروں کی طرف سے اس عمل کا منظم طریقے سے استحصال کیا جا رہا ہے جو ملک میں رہنے کے خواہشمند تارکین سے فیسیں لے رہے ہیں یہ اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سٹوڈنٹ، ورک یا سیاحتی ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ لوگ جو چھوٹی کشتیوں پر یا دوسرے غیر قانونی راستوں سے ملک میں پہنچے ہوں یہ گروپ اب تمام سیاسی پناہ کے دعووں کا 35% بناتا ہے، جو 2025 میں 100,000 سے اوپر تھا۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد، بشمول ٹپ آف، خفیہ رپورٹرز کو یہ تحقیق کرنے کے لیے بھیجا کہ امیگریشن ایڈوائزر کس طرح لوگوں کو پناہ کے جھوٹے دعوے کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار تھےرپورٹرز نے خود کو پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی طلباءظاہر کیا جن کے ویزے ختم ہونے والے تھے۔

    تحقیقات نے دریافت کیا ایک قانونی فرم نے سیاسی پناہ کا من گھڑت دعویٰ لانے کے لیے 7,000 پاؤنڈ تک چارج کیا اور وعدہ کیا کہ ہوم آفس کی طرف سے انکار کا امکان "بہت کم” ہے جعلی سیاسی پناہ کے متلاشی اپنے کیسوں کو تقویت دینے کے لیے طبی ثبوت حاصل کرنے کے لیے افسردہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے جی پیز کے پاس گئے، یہاں تک کہ ایک نے ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے کا جھوٹ بھی بولا۔

    ایک امیگریشن ایڈوائزر نے فخر کیا کہ اس نے جعلی دعوے لانے میں مدد کرنے میں 17 سال سے زیادہ کا وقت گزارا ہے اور کہا کہ وہ کسی کو یہ دکھاوا کرنے کا بندوبست کر سکتی ہے کہ اس کے کسی کلائنٹ کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے جنسی تعلقات ہیں خفیہ رپورٹر کو یہاں تک کہا گیا کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد اپنی بیوی کو پاکستان سے لا سکتا ہے اور پھر وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

    ایک اور فرم سے منسلک ایک وکیل نے ایک خفیہ رپورٹر کو بتایا کہ اس نے لوگوں کو ہم جنس پرست یا ملحد ہونے کا بہانہ کرنے میں کامیابی سے پناہ حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ اس نے £1,500 کی فیس کے لیے جعلی دعوے میں مدد کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ ثبوت بنانے کے لیے مزید £2,000-£3,000 خرچ ہوں گے جبکہ یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے’.

    مشرقی لندن کے بیکٹن کے ایک پُرسکون کونے میں واقع ایک کمیونٹی سنٹر میں منگل کی شام، 175 سے زیادہ لوگ ایک تقریب کے لیے جمع ہوئےکچھ نے Worcester LGBT کے زیر اہتمام ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے ساؤتھ ویلز، برمنگھم اور آکسفورڈ تک کا سفر کیا ہے، جو خود کو ہم جنس پرستوں اور ہم جنس پرست پناہ گزینوں کے لیے ایک معاون گروپ کے طور پر بیان کرتا ہے۔

    گروپ کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ صرف حقیقی ہم جنس پرستوں کو ہی پناہ دی جاتی ہے لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا لگتا ہےفہر نامی ایک شخص کا کہنا ہے کہ "یہاں زیادہ تر لوگ ہم جنس پرست نہیں ہیں ذیشان نامی شخص نے کہا کہ "یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے۔ 1٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔ 0.01٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔”

  • سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    سینٹکام کا ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 36 گھنٹوں کے اندر ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر معطل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ’سینٹرل کمانڈ‘ نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بحری راستوں سے ایران آنے اور جانے والی تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے آبنائے ہرمز سے یہ پابندی صرف ایران کے لیے ہے، دیگر بندرگاہوں کے لیے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور جہاز رانی کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز اس رکاوٹ کو عبور نہیں کر سکا جبکہ چھ تجارتی جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے واپس مڑ کر خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ کا رخ کیا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر جہازوں کی آمدورفت جاری ہے پریس ٹی وی کے مطابق امریکی دھمکی کے باوجود کم از کم چار جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں پر آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کیا، جن میں سے دو جہاز باقاعدہ طور پر اس اہم گزرگاہ کو عبور کر گئے۔

    ایرانی میڈیا نے میرین ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ لائبیریا کے جھنڈے تلے چلنے والا بحری جہاز ’کرسٹیانا‘ ایرانی بندرگاہ بندر امام خمینی پر 74 ہزار ٹن مکئی اتارنے کے بعد 13 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ جہاز نے آبنائے میں ایرانی جزیرے لارک کے قریب کا راستہ اختیار کیا،اسی طرح کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’ایلپس‘ بھی جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا اور بعد ازاں آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔ یہ جہاز 31 ہزار ٹن میتھانول لے کر 31 مارچ کو ایرانی بندرگاہ بوشہر سے روانہ ہوا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق چین کا ایک ٹینکر ’رچ اسٹاری‘ بھی رات کے وقت لارک جزیرے کے جنوب میں ایران کے منظور شدہ روٹ سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کر گیا بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جہازوں کے سگنلز میں خلل اور ممکنہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث در ست ٹریکنگ مشکل ہو گئی ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، جب کہ ایرانی فوجی قیادت نے بھی ایرانی بندرگاہوں پر حملے کی صورت میں پورے خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

  • افغانستان پر انحصار  ختم،ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے نیا تجارتی راستہ فعال

    افغانستان پر انحصار ختم،ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے نیا تجارتی راستہ فعال

    پاکستان نے اپنی علاقائی تجارت کو وسعت دینےکے لیے پاک ایران سرحد پر واقع ’گبد بارڈر ٹرمینل‘ کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) سسٹم کے تحت فعال کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اب پاکستان، افغانستان کے راستے پر انحصار کیے بغیر ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکے گا، جو کہ نہ صرف ایک مختصر راستہ ہے بلکہ موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ اور جدید متبادل بھی ہے اس نئے تجارتی راستے کے زریعے کراچی سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے گوشت کے کنٹینرز کی پہلی کھیپ کامیابی کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے کسٹمز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کنٹینرز ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے را ستے اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔

    یہ تجارتی راہداری نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) کی جانب سے فعال کی گئی ہے جو اس سے قبل بھی چین، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک تک متعدد تجارتی راہداریاں فعال کر چکی ہے گبد بارڈر کا فعال ہونا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کو متبادل راستوں کی شدید ضرورت تھی۔

    گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اور بار بار سرحد کی بندش کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا تھاافغانستان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے پاکستان سے وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات رک گئی تھیں، جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے، گبد بارڈر ٹرمینل، جو گوادر سے صرف 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، مستقبل میں علاقائی تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔

    پاکستان کے ساتھ ایران کی 900 کلومیٹر طویل سرحد پر ہمیشہ سے ایک مضبوط غیر رسمی تجارت پہلے سے ہی جاری ہے حکومتِ پاکستان نے برآمدات کو آسان بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں بھی عارضی نرمی کی ہےعام طور پر برآمد کنندگان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے ادائیگیوں کا ریکارڈ رکھیں، لیکن ایران اور وسطی ایشیا کے لیے بعض اشیا بشمول خوراک، ادویات اور خیموں کی برآمد پر یہ شرط جون 2026 تک ختم کر دی گئی ہے اس اقدام کا مقصد بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کرنا ہے تاکہ تاجر جلد از جلد اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔

    ازبکستان پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات کی ایک بہت بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔مالی سال 2025 کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان کی گوشت کی مجموعی برآمدات میں ازبکستان کا حصہ 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات (26 فیصد) سے بھی زیادہ ہے اسی اہمیت کے پیشِ نظر ایران کے ذریعے متبادل راستہ بنانا پاکستان کی معاشی ضرورت بن گیا تھا۔

  • روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 2 روزہ سرکاری دورے پر منگل کو چین پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔

    روس اور چین نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے عالمی و علاقائی امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مغرب پر بیجنگ اور ماسکو کو محدود کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

    ماسکو کے مطابق ان مذاکرات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران سمیت متعدد اہم عالمی و علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، جی 20 اور ایپیک جیسے عالمی فورمز میں مشترکہ تعاون کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔

    ملاقات کے ابتدائی مرحلے میں دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں عالمی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ لاطینی امریکا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بحرانوں کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی پالیسیاں ہیں۔

    انہوں نے یوکرین جنگ کو ’مصنوعی طور پر پیدا کردہ تنازع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کا مقصد روس کو اسٹریٹجک طور پر کمزور کرنا ہے یورپی ممالک اس تنازع کو استعمال کرتے ہوئے یوریشیا کے مغربی حصے میں ایک نیا جارحانہ اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں یوریشیا کے مشرقی حصے میں بھی تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور جزیرہ نما کوریا کے گرد ’خطرناک کھیل‘ کھیلے جا رہے ہیں، جن کا مقصد چین اور روس کو محدود کرنا ہے۔

    چین نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر امریکی پابندیوں کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جلد بحال کی جائے۔

    روسی اور چینی وزرائے خارجہ نے 2026 کے لیے باہمی سفارتی رابطوں کا روڈ میپ بھی طے کیا، جسے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ممکنہ دورۂ چین کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے لاوروف نے عندیہ دیا کہ رواں سال دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مزید ملاقاتوں کے مواقع موجود ہیں اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔

  • ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ ، ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ ، ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    ڈیرہ مراد جمالی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ کے واقعے میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعہ ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے ٹی این ٹی کالونی میں اُس وقت پیش آیا جب پولیو ٹیم معمول کے فرائض سرانجام دے رہی تھی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا،واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق شہید اہلکار کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی شناخت فرمان بشیر بہرانی کے نام سے ہوئی ہے سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت، پیمرا نے ایکشن لےلیا

    لائیو شو میں فضا علی کی غیر اخلاقی حرکت پر ایکشن لیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹیلی ویژن چینل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لائیو شو کے دوران میزبان فضا علی کے شوہر نے انہیں کندھوں پر اٹھا لیاتھا اس منظر کے بعد سے رہنما ن لیگ حنا پرویز ٹ اور صحافی روؤف کلاسرا سمیت سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی تھی اور پیمرا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    اس کے بعد پیمرا نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ چینل سے وضاحت طلب کر لی ہے پیمرا کا کہنا ہے کہ براڈکاسٹرز کو مواد کی نشریات کے دوران پیشہ ورانہ معیار اور اخلاقی ضابطوں کی مکمل پابندی یقینی بنانی چاہیے۔

    فضا علی نے اس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا لمحہ بغیر کسی سیاق و سباق کے وائرل کیا گیا، جبکہ یہ محض ایک ہلکا پھلکا اور بے ساختہ اشارہ تھا جس کا کوئی منفی مطلب نہیں لیا جانا چاہیے، وہ ہمیشہ اپنے کام اور ناظرین کا احترام کرتی آئی ہیں اور آئندہ بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اسی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ نبھاتی رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات کسی بات کی جتنی بھی وضاحت کی جائے، اسے غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے اسی لیے وہ ایسے معاملات میں خاموشی کو بہتر حکمتِ عملی سمجھتی ہیں وہ اس وقت اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات اور ذاتی زندگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور سب کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہیں۔